چوبیس مئی، 1984


چوبیس مئی، 1984۔
ٹیکسی چلی، گھر پیچھے رہ گیا اور وہ مہربان چہرے بھی جن کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں اور چہروں پہ مسکراہٹ تھی۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ احباب کو خیال آئے کہ ہم اس جدائی پہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیے ہوں گے اور بھائی ٹیکسی میں چپ کروانے کی کوشش میں ہلکان ہوتا ہو گا۔

یقین جانیے ایسا کچھ نہیں ہوا۔ چپ کروانے کی نوبت تو تب آتی اگر ہم۔ سب گھر والے جانتے تھے کہ ہمیں رونا آتا ہی نہیں۔ لڑنا، چیخنا، دھاڑنا، پکارنا، ہنسنا سب کچھ ہی آتا تھا سوائے رونے کے۔ سو سب ہی سکون میں تھے کہ ایسا کوئی سین نہیں ہو گا۔ ہنسی خوشی ہاتھ ہلاتے ہوئے ٹیکسی میں بیٹھ جائے گی اور یہی ہوا۔

دس منٹ میں ریلوے سٹیشن پہنچ گئے۔ بھائی ٹکٹ کی کھڑکی تک گیا اور پھر الٹے پاؤں لوٹ آیا۔
نہ فرسٹ کلاس کی بکنگ ہے اور نہ سیکنڈ کلاس کی۔ کیا کریں؟

جو بھی ہے لے لو۔ پہنچنا تو ہے۔ ہم نے کندھے اچکا کر جواب دیا۔ ہم امی ابا کے ساتھ دو تین برس بعد ہی لاہور جایا کرتے تھے اور وہ بھی بس میں یا ریل کار میں۔ پشاور سے کراچی چلنے والی ٹرینوں کا صرف نام ہی سن رکھا تھا۔ تیز گام، تیز رو۔ اب یہ نہ جانے یہ کون سی تیز تھی جس پہ ہمیں ہر حال میں بیٹھنا تھا کہ اور کوئی چارہ ہی نہیں تھا۔

گاڑی کی وسل ہوئی اور گاڑی کے پہیے شور مچاتے، پٹڑیوں پر دوڑتے، ڈبوں کو اپنے اندر لادے داخل ہوئے۔ ہر ڈبہ کھچا کھچ بھرا ہوا۔ یہ دیکھ کر ہمارا دل بیٹھتا گیا۔ یا اللہ کیسے سفر کریں گے اس میں ہم؟

رات کے بارہ بج رہے تھے جب گاڑی پنڈی سٹیشن سے باہر نکلی۔ بھائی اور ہم ایک ڈبے میں چڑھ تو چکے تھے لیکن کہیں بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی۔ ڈبہ مسافروں سے اور ان کے سامان سے بری طرح ٹھنسا ہوا تھا۔ برتھ پر لوگ سو رہے تھے۔ سیٹوں پہ لوگ کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھے تھے۔ بچے گرمی کی شدت سے بلبلا رہے تھے۔ چھت پہ لگے پنکھوں سے آگ برس رہی تھی۔ سیٹوں کے درمیان بھی لوگ کھڑے تھے۔

ہم دونوں چپ کر کے ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ بھائی نے اٹیچی اور بیگ ٹانگوں کے پاس رکھ لیا۔

جب ٹرین چلتی تو ہوا کے جھونکوں کے ساتھ مٹی بھی اندر آتی، ڈبہ ائر کنڈیشنڈ تو تھا نہیں۔ جب ٹرین رکتی تو حبس کے مارے برا حال ہو جاتا۔ ہم ڈبے کے کونے میں بنی لیٹرین کے قریب کھڑے تھے۔ جب بھی کوئی امیدوار دروازہ کھولتا یا بند کرتا، ابکائیاں آنے لگتیں۔ یا اللہ ہم میڈیکل کالج جا رہے ہیں یا کالے پانی؟ ایسا ہولناک سفر۔

صبح روٹین کے مطابق اٹھ کر سکول گئے تھے لیکن اس کے بعد ایسی بھاگ دوڑ مچی تھی کہ ایک منٹ کے لیے بھی بیٹھ نہیں سکے تھے۔ اب نیند کا وقت اور چلتی ٹرین میں دو نوجوان لڑکا لڑکی، تھکاوٹ کے مارے برا حال۔ بھائی ہمیں اونگھتے دیکھتا تو کچھ دیر بعد سر تھپتھپا دیتا کہ کہیں ہم نیند میں مدہوش، لڑھک ہی نہ جائیں۔

یہ نہیں یاد کہ کب بیٹھنے کو جگہ ملی۔ لیکن یہ یاد ہے کہ ہمیں سیٹ مل جانے کے بعد بھی بہت لوگ آس پاس کھڑے ہوئے تھے، شاید بھائی بھی۔

ٹرین جہاں چاہتی، رک جاتی اور جتنا جی چاہتا، رکی رہتی۔ کبھی علم ہوتا کہ کسی اور ٹرین سے کراس ہے، کبھی اگلے سٹیشن کا پلیٹ فارم خالی نہیں۔ یہ اطلاعات ارد گرد کھڑے لوگوں کی بات چیت سے ہم تک پہنچتیں۔ ایک بار جب کھڑے کھڑے بہت دیر ہو گئی تو پتہ چلا کہ ڈرائیور سو گیا ہے۔ یہ کہہ کر لوگ ہنسے اور شاید ہم بھی۔ لیکن بعد میں سنجیدگی سے سوچا کہ اگر ڈرائیور واقعی سو جائے تو۔

جب بھی کوئی سٹیشن آتا، رات ہونے کے باوجود پھیری والے ڈبوں کے سامنے سے آوازیں لگاتے ہوئے گزرتے، کچھ ڈبے میں چڑھنے کی کوشش بھی کرتے لیکن کوئی جگہ نہ پاکر پیچھے مڑ جاتے۔

چائے پیو گی؟ ایک سٹیشن پہ بھائی نے پوچھا۔

چائے کے ساتھ ایسی محبت تھی اور ہے کہ ہم انکار کو کفر سمجھتے ہیں لیکن اس رات اس قدر طبیعت بیزار تھی کہ ہم نے نفی میں سر ہلا دیا۔

یونہی چلتے، ٹھہرتے، اونگھتے، جمائیاں لیتے، شور سنتے، گرمی اور مٹی سے بیزار، تھکاوٹ سے بے حال آخر کار ہم صبح ساڑھے سات آٹھ بجے لاہور جا پہنچے۔

یہ چوبیس مئی 1984 کا لاہور تھا۔ پانچ کروڑ کی آبادی والے صوبے پنجاب میں تقریباً تین سو لڑکیاں منتخب کی گئی تھیں جو پنجاب کے مختلف میڈیکل کالجز تک پہنچی تھیں اور جنہیں ماں باپ نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے خود سے جدا کیا تھا۔ منزل بہت دور تھی۔ ابھی تو سفر کی گھنٹی بجی تھی۔

کیا کریں؟ ہم نے بھائی سے پوچھا۔
چلتے ہیں کالج یہیں سے ہی۔ تمہیں چھوڑ کر میں واپس جاؤں گا۔
کالج؟ یہیں سے؟ اسی حلیے میں؟ ہم پریشان ہو کر کہا۔

ہمارے گھنے بال الجھ چکے تھے۔ منہ، بالوں اور کپڑوں پہ منوں مٹی پڑی تھی۔ کاسنی رنگ کا سوٹ مٹیالا ہو چکا تھا اور شکن آلود بھی۔

یہاں کوئی باتھ روم نہیں؟ میں منہ ہی دھو لوں؟ ہم نے پوچھا۔
ہوا بھی تو سٹیشنوں کے باتھ رومز کی حالت تمہیں پتہ ہی ہے۔ کیسے جاؤ گی؟
لیکن میرا حلیہ تو بہت ہی خراب ہے۔ ہم نے احتجاج کیا۔
کیا تمہیں شرم آئے گی اپنے حلیے سے؟ اس نے ہمیں چیلنج کیا۔

شرم اور ہمیں؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے ہم تو اپنے ڈھیٹ پن کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے سو کر لیا قبول چیلنج۔ ٹھیک ہے ایسے ہی۔

باتھ روم کالج میں ڈھونڈیں گے، کوئی تو مل ہی جائے گا۔
سامان کا کیا کریں؟ ہم نے کہا۔
دیکھتے ہیں چل کر۔ بھائی نے کہا۔
سٹیشن سے باہر نکلے، رکشہ لیا۔ فاطمہ جناح میڈیکل کالج۔
آؤ جی بیٹھو، بیٹھو۔ داخلہ ہوا ہے نیا؟ رکشے والا اندازے لگانے میں ماہر تھا۔

بھائی نے اٹیچی اور بیگ رکھا، ساتھ میں ہم دونوں بیٹھے اور چلی ہماری سواری فاطمہ جناح میڈیکل کالج تک۔ وہی میڈیکل کالج جس کا ذکر راجہ گدھ میں کیا گیا اور انتہائی منفی طریقے سے۔ بانو کے خیال میں وہاں پہنچنے والی ہر لڑکی کسی نہ کسی ہیجان کی شکار تھی۔ یہ ناول انیس سو اکیاسی میں چھپا تھا۔ ہم نے سوچا کیا ہوتا اگر لڑکیوں کے باپ بھائیوں نے اسے پڑھا ہوتا تو؟ کیا وہ اپنی کم عمر بیٹیوں کو بھیجتے ہوئے وسوسوں کا شکار نہ ہوتے ہوں گے؟ نہ جانے کتنی لڑکیوں کو روک دیا ہو گا؟ ہو سکتا ہے ہمارے بڑے بھائی نے بھی پڑھا ہو اور اسی لیے لڑکیوں کی پروفیشنل تعلیم ان کی نظر میں کھٹکتی ہو۔

بانو لگتی تو بھلی عورت تھیں، نہ جانے کیوں، پدرسری معاشرے میں عورت کے کردار کو داغدار کرنے والی باتیں لکھ بیٹھیں، بھلے فکشن کا تڑکا لگا کر جھوٹ ہی سہی۔ کیونکہ اگر فکشن سے لوگ اثر قبول نہ کرتے تو ان کے ناول سے کشید کردہ حرام حلال کی بحث اتنا زور نہ پکڑتی!

‏‎ ”وائی ڈبلیو سی اے کے ہوسٹل سے لے کر فاطمہ جناح تک آزاد عورتوں اور لڑکیوں کا ٹریننگ کیمپ تھا۔ گھروں سے بیزار، روزگار کی تلاش میں پریشان، ڈاکٹر بننے اور مستقبل سنوارنے کی آرزو میں بے قرار، عاشقوں سے رنجیدہ، شوہروں کی تلاش پر مصر، گھر والوں سے کٹی ہوئی، گھر والوں کی یاد میں بے قرار بہت سی عورتیں بہت سی لڑکیاں رہتی تھیں۔

‏‎فاطمہ جناح کالج سے لے کر وائی ڈبلیو سی اے کے ہوسٹل تک آہوں کا مرغولہ اس رقبے پر معلق نظر آیا۔ خاموشی ہوتی ہے تو ہلکی ہلکی سرگوشیاں اور آہیں بھی سنائی دیتی ہیں۔

وہ تمام عورتیں لڑکیاں کسی نہ کسی طرح مردوں کے نارمل نیوکلئیس سے کٹی ہوئی تھیں۔ ہو سکتا ہے ان میں بیشتر عورتوں کو مردوں کا زیادہ قرب ملتا ہو لیکن معاشرے کے رسمی طریقے کے مطابق وہ کیرئیر گرلز تھیں۔ ایسی مینڈکیاں جنہیں ہلکا ہلکا زکام ہو چکا تھا۔ وہ علانیہ سگریٹ پیتی تھیں کماؤ سپوت کی طرح گھر پیسے بھیجتی تھیں۔ ان کے بھائی چچا ماموں نہ جانے کون تھے، کہاں تھے اور اگر تھے تو کس حد تک ان کی زندگیوں پر اثر انداز ہو سکتے تھے؟ یہ سب تو چھپکلی کی کٹی ہوئی دم کی طرح پھڑک رہی تھیں، تڑپ رہی تھیں اور اپنے اصلی رسمی نیوکلئیس کی تلاش میں تھیں ”

(راجہ گدھ۔ صفحہ نمبر 133 )

کاش ہم ان اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے انہیں بتا سکتے کہ ہمارے باپ بھائی چچا اور ماموں کہاں تھے؟ اور ہم ہر گز کسی دم کٹی چھپکلی کی طرح تڑپ نہیں رہے تھے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments