”خوشبو میں بسے خط“ اور سماج کا گند


”عدیلہ یہ عورتیں کون ہوتی ہیں، جن کے ساتھ تم مجھے منسوب کرتی ہو؟ مجھ پہ الزام لگاتی ہو۔ کون ہوتی ہیں یہ عورتیں؟ یہ بچاری زمانے کی ٹھکرائی ہوئی لاچار عورتیں ہوتی ہیں۔ محبت کے لفظ کی بھوکی۔ انہیں میں، احمد زریاب، اپنی محبت سے بناتا ہوں، سنوارتا ہوں، سجاتا ہوں، نکھارتا ہوں۔ میں اپنی محبت کے اوکسیجن سے ان کے مردہ وجود میں جان ڈالتا ہوں۔ انہیں زندہ رکھتا ہوں۔ اور تم کیا تھیں۔ تم بھی تو یہی تھیں، ایک معمولی سی شکل کی بے ڈھنگی عورت جو صرف رٹے لگا کر صرف اور صرف نمبر حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ احمد زریاب کا قد بہت بلند ہے کیونکہ تم جیسی معمولی شکل کی عورت سے میں نے شادی کی۔“

”ہم ٹی وی“ پہ آمنہ مفتی کے لکھے ڈرامہ سیریل ”خوشبو میں بسے خط“ میں یہ جملے اس کے مرکزی کردار اور رومانوی شاعری کرنے والے پختہ عمر کے ہینڈسم اور مقبول شاعر احمد زریاب نے اپنی بیوی عدیلہ سے بہت رعونت بھرے لہجہ میں ادا کیے۔ باوجود اس کے کہ وہ اپنے چنگل میں پھنسی شاعرہ ”مس پینی“ کی لاش دیکھ کر لوٹا تھا۔ جس کو زریاب نے شادی سے نکل کر آزاد ہونے اور اپنی جھوٹی محبت کے جال میں پھنسایا۔ وہ زریاب کی رومانوی رویے کی جال میں پھنسی، یہ سوچے بغیر کہ زریاب کی عقابی نگاہیں خوب سے خوب تر کی تلاش میں دو کم عمر اور خوبصورت لڑکیوں پہ ہیں۔ بے وفائی کے درد سے نجات کے لیے پینی کو خودکشی کا راستہ آسان لگا۔

عدیلہ ایک کامیاب ڈاکٹر ہے جو اپنی آمدنی سے گھر کے اخراجات اٹھا رہی ہے۔ وہ اپنے عاشق مزاج، چالاک اور دھوکہ باز مرد یہ جملے سن کر ندامت سے یوں گڑگڑا رہی ہے، جیسے پینی کی موت کی وہ ہی ذمہ دار ہے۔

احمد زریاب ایک وقت میں کئی خوبصورت، کم سن، ناتجربہ کار، اور بطور شاعرہ شہرت کی متمنی لڑکیوں سے تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے شاعری کی دنیا میں اپنی خاص پہچان رکھتا ہے۔ اس کا طریقہ اپنی رومانوی شاعری، جھوٹی محبت کی خوشبو میں بسی شاعری اور متاثر کن گفتگو سے خاص کر ان لڑکیوں کو رجھانا اور جھوٹی محبت کا یقین دلا نا ہے، جن میں نہ خود وقعتی ہے نہ اپنی ذات پہ اعتماد۔

غور کریں تو اپنے اطراف کئی احمد زریاب جیسے نرگسیت کے مارے افراد نظر آئیں گے۔ جو دراصل خود عدم تحفظ کا شکار ہے۔ نفسیات کی رو سے اس قسم کے لوگ جو دوسرے لوگوں کے اعتماد کو اپنے احساس برتری سے مجروح کرتے ہیں دراصل خود عدم تحفظ اور احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں۔

آخر ایسا کیوں ہے کہ وہ خواتین جو اپنے شعبہ میں خواہ کتنی ہی کامیاب کیوں نہ ہوں اپنی وقعت کے پیالے کو بھرنے اور اپنی ذات پہ یقین اور اعتماد کے لیے کسی مرد کی نظر میں قبولیت کی طالب رہتی ہیں؟ یہ مرد بچپن میں باپ، بھائی تو جوانی میں شوہر یا محبوب ہوتے ہیں؟

میرا تعلق سماجی علوم سے ہے۔ میری نظر میں یہ موضوع اہم ہونے کے ساتھ بہت پیچیدہ ہے۔

کسی فرد کے رویے کے کئی محرکات ہوتے ہیں۔ مثلاً سماجی رتبہ، اطراف کا ماحول، معیشت، نفسیات، بیالوجی وغیرہ۔ سماجی رویہ کا تعین یہ سارے عوامل مل کر کرتے ہیں۔ لہٰذا محض مردوں کو گالیاں دینے سے بات نہیں بنے گی۔ مسئلہ کی جڑ پہ بھی اسی شد و مد سے بات ہونی چاہیے۔

مردانہ بالادستی کے مسئلہ کی جڑ ایک بیمار معاشرہ ہے۔ کہ جس نے مرد کو عورتوں پہ کنٹرول کرنے کی طاقت دی ہے۔ یہاں بات پاور اور کنٹرول کے اس گھناؤنے کھیل کی ہے جو ہمارے اور ہم جیسے بہت سے بیمار سماجوں میں رائج ہے۔

یہ سطریں لکھتے ہوئے میری نظر میں ایسی خواتین قلمکار بھی ہیں جن کی مقبولیت کی دکان محض مردوں کو گالیاں دینے سے چل رہی ہے۔ لیکن اگر ان کی گالیوں کی زد میں خود ان کے اپنے باپ، شوہر، بیٹے اور بھائی نہیں آتے تو معاملہ یقیناً سارے مردوں کا نہیں بلکہ سماجی تربیت کا ہے جو ایسے لڑکے پروان چڑھاتا ہے جہاں عورتیں اپنی ذات کے بجائے مردوں کی ذات پہ اعتماد کرتی ہیں۔

اگر خوشبو میں بسے خطوط کی بدبو دار اصلیت کو چاک کرنا اور معاشرے کو حقیقت میں مہکانا ہے تو بات گہرائی میں ہونی چاہیے جو سماجی تبدیلی کا باعث بنے۔ اور اس کے لیے مردوں کو دشمن سمجھنے کے بجائے اسے ساتھ لے کے چلنا ہو گا۔ مردوں میں عورتوں کے لیے حساسیت پیدا کرنے اور عزت دینے کی تربیت دینی ہوگی۔ اور عورتوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ خود اعتمادی پیدا کرنی ہوگی، ایک ایسی معطر اور مکمل شخصیت جسے اپنی تکمیل کے لیے کسی مرد کے ”خوشبو میں بسے خط“ کی ضرورت نہ رہے۔

Facebook Comments HS