اناؤں کا روگ


حد نگاہ پھیلی زرخیز زمین پر سرسوں نے اپنی زرد رنگ کی چادر بچھا دی تھی، جسے دیکھ کر بڑا چودھری سینہ پھلائے فخریہ انداز میں اپنے کامے ٫ گامے سے کہہ رہا تھا۔

”گامے دیکھ اتنے مربعوں کا مالک ہے کوئی اس علاقے میں؟ یہ زمین شان ہوتی ہے چودھری کی۔ یہ سارا علاقہ میرے ماتحت ہے۔ کسی کی جراءت ہے میرا حکم نہ مانے؟“

ہاتھ باندھے گردن جھکائے گامے نے سر ہلایا۔
چودھری نے پورے علاقے کو اپنا غلام بنا رکھا تھا۔ کسی کی ذرہ سی غلطی بھی معافی کے قابل نہ تھی۔

گاؤں میں بہت بڑا ڈیرا بھی بنایا ہوا تھا، جہاں باہر سے کوئی بھی مہمان آتا تو چودھری ان کی مہمان نوازی میں کسر نہ چھوڑتا۔ چودھری کو، نسل اور اصل کی بھی بڑی پہچان تھی۔

حسب روایت وہ کتے بھی رکھتا تو اصلی نسل کے رکھتا تھا۔ ان کتوں کی خوراک کا بھی خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مقابلے میں چودھری کے کتے مقابلہ جیتتے تھے۔ اگر کہیں کوئی ہار جاتا تو اسے زندگی سے بھی ہارنا پڑتا تھا۔ چودھری کا بڑا بیٹا چودھری سکندر بھی باپ سے کم نہ تھا وہ بھی غرور سے گردن اکڑا کر چلتا جیسے آسمانی مخلوق ہو۔ کسی کی بات برداشت نہ کرتا تھا۔ وہ بھی اپنے خاندان کو اعلیٰ و افضل گردانتا اور اپنے مزارعوں کو حقیر تصور کرتا تھا۔ لیکن چودھری کا چھوٹا بیٹا چودھری امانت ان کے الٹ تھا وہ کام کرنے والوں کی قدر کرتا ان کی ضروریات کو پوری کرتا تھا۔ ہمدردانہ رویہ رکھتا تھا۔ سب کمی، مزارعین اس کی دل سے عزت کرتے اور اپنے مسائل انھیں بتاتے تھے۔

”چودھری صاحب، چودھری صاحب میرے بابا کو بچا لیں۔ وہ اسے مار دے گا“ نوراں نے چودھری امانت کے پاؤں پر گرتے ہوئے، ہانپتے ہوئے کہا جو ڈیرے کے صحن میں بیٹھا ہوا تھا۔

” کون ہو تم؟ کون مار دے گا تیرے باپ کو؟ اٹھو مجھے بتاؤ“ چودھری امانت نے نوراں کو بازؤں سے پکڑ کر اٹھایا۔ جیسے ہی نوراں اٹھی چودھری اس کی سادگی اور حسن میں کھو گیا۔

”میں کامے گامے کی بیٹی نوراں ہوں اور بڑا چودھری جی، میرے باپ کو مار دے گا! وہ کہتے ہیں میرے بابا کی لا پروائی کی وجہ سے کتا ہار گیا ہے۔ بھلا میرے بابا کی کیا گلتی جی!“ نوراں نے روتے ہوئے بتایا۔

چودھری امانت دیکھتے ہی نوراں کے حسن کی حسین وادی میں پہنچ چکا تھا مگر نوراں کی سسکیوں کی آواز پر چونک کر واپس آتے ہوئے نوراں کو غور سے دیکھا تو نوراں گھبراتے پھر چلائی۔

”چودھری جی! چھیتی کریں جی، وہ مار دے گا۔ آپ ہی اسے بچا سکتے ہیں“ نوراں کی اونچی آواز سنتے ہی چودھری امانت نے کہا۔

”کچھ نہیں ہو گا تیرے بابا کو میں ہوں نا، تو چل اپنے گھر چلی جا“ نوراں خوف زدہ تھی وہ سہمی، ڈری سی، واپس چلی گئی تھی۔ چودھری امانت اپنے والد کا احترام کرتا تھا لیکن اس کی نا جائز کارروائیوں کو دل سے برا جانتا تھا۔ اس دن بھی امانت نے اپنی حکمت عملی سے نوراں کے بابا کی جان چھڑوا دی تھی لیکن خود اس کی بیٹی کو اپنا بنانے کی ٹھان لی تھی۔ بہانے بہانے سے نوراں کے گھر کے چکر لگانے لگا تھا اور اس کے باپ گامے سے ملتا تھا۔ کچھ دن ایسے ہی گزرتے رہے۔ جب درختوں پر آم پکنے لگے تھے۔ گاؤں کی جوان لڑکیاں آموں کے درختوں پر چڑھ کر آم توڑتیں اور اس کے مزے لیتیں۔ جھولے جھولتیں جیسے ہی بڑا چودھری آتا سب ایسے غائب ہوتیں جیسے ”گدھے کے سر سے سینگ“

چودھری امانت کا بھی کھیتوں اور آموں کے باغ میں روز ہی چکر لگنے لگا تھا۔ وہ نوراں کو دور سے دیکھتا رہتا اور اس کے خیالوں میں کھویا رہتا تھا۔

”نوراں! چودھری امانت نے ایک دن نوراں کو اکیلے دیکھ کر پیار سے پکارا۔

”جی، جی چودھری جی“ نوراں گھبرا کر بولی، اس کی سانسیں بے ترتیب ہونے لگیں تھیں، وہ چودھری کے انداز سے بھانپ گئی تھی۔

”نوراں، تو کتنی خوبصورت ہے۔ کسی جل پری جیسی ہو تم۔ تیرا یہ حسن محلوں کے قابل ہے، یوں اتنی تیز دھوپ میں جھلس جاؤ گی، نہ نکلا کر باہر“ چودھری امانت نے کہا تھا۔

”چودھری جی! جس کے مقدر میں دھوپ لکھی ہو وہ کیسے جھلس سکتی ہے؟ وہ جو اوپر والا ہے نا وہ نا انصافی نہیں کرتا جی!“

نوراں نے جواب دیا اور چل پڑی تھی۔

دور جاتی نوراں کو دیکھ کر چودھری امانت فیصلہ کر کے چلا ”تیرے مقدر میں چھاؤں میں لے کر آؤں گا نوراں! “ چودھری نے درخت سے ایک ٹہنی توڑی اور ہوا میں اچھالی۔ چودھری امانت نے سوچا تھا کہ بڑے بھائی اور والد آڑے آئیں گے۔ مگر بڑبڑاتے کہا تھا ”لیکن کچھ بھی ہو میں انھیں منا لوں گا“ خود کلامی کرتے ہوئے کہا اور باپ کی طرف چل پڑا۔

باپ کے پاس آتے کہا، ”ابا جی! ایک بہت ضروری بات کرنی ہے آپ سے اور وہ آپ کو ماننی ہو گی“ امانت نے کہا۔

”ہاں پتر کہہ کیا بات ہے تیری بات نہیں مانوں گا تو کس کی مانوں گا؟ کیا چاہیے؟ بول پتر“
بڑے چودھری نے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
”ابا جی، میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔“

”ارے! ماشاءاللہ، میرا پتر جوان ہو گیا ہے۔ اب پتہ چلا۔“ اور قہقہہ لگاتے پھر بولا ”آج ہی اپنے خاندان سے لڑکی دیکھتے ہیں“

بڑے چودھری نے خوش ہو کر کہا
”ابا جی، میں خاندان میں شادی نہیں کرنا چاہتا“ امانت نے سر جھکا کر کہا۔

”تو پھر خاندان سے باہر کس سے کرنی ہے تمھیں پتہ ہے۔ میرے گھر میں خاندان سے باہر کا خون شامل نہیں ہو سکتا“ پڑے چودھری نے غصے سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔

”لیکن ابا جی! دنیا کے کسی کونے میں جاؤ خون کا رنگ ایک ہی ملے گا“
”ہاں پر نسل کا فرق ہوتا ہے پتر امانت!“ بڑے چودھری نے سمجھاتے کہا۔

” مگر ابا جی میں فیصلہ کر چکا ہوں، میں گامے کی بیٹی نوراں سے ہی شادی کروں گا“ امانت نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔

” نوراں، وہ گامے کی دھی جو جدی پشتی ہمارے کامے ہیں۔ وہ جو ہمارے ٹکڑوں پر پلی ہے۔ اسے تو میری نسل خراب کرنے کے لیے لائے گا۔ تو جانتا ہے میں کتا بھی نسل دیکھ کر خریدتا ہوں۔ تو جانتا ہے میرے دو ہی بیٹے ہیں انھی سے آگے نسل چلنی ہے۔ میں ہر گز اس میں کسی کمی کمین کا خون شامل نہیں کر سکتا۔“ بڑے چودھری نے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔

”ابا جی! سب انسان برابر ہیں۔ میں نوراں کے بنا نہیں رہ سکتا۔ اس میں کیا کمی ہے؟ خوبصورت ہے سلیقہ شعار ہے۔“ چودھری امانت جواب دے کر باہر نکل گیا تھا۔ بڑے بھائی کو ساتھ ملانے کی کوشش کی تو وہ والد سے بھی زیادہ سخت نکلا۔

شام کا وقت تھا۔ امانت نوراں کو گلی میں سے گزرتے دیکھ کر بڑھا اور آ کر کہا، ”نوراں! میں تجھ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔“ نوراں کا وجود ہل گیا۔ کانپتے کہا ”ایک بات تو یوں گلی میں ملا نہ کر چودھری جی، ہم دونوں کے لیے ٹھیک نہیں اور دوسری بات کہ چودھری جی! آپ کا میرا جوڑ نہیں ہے جی! بڑے چودھری میرے بابا کو مار دیں گے جی!“ نوراں نے چودھری امانت کو سمجھاتے ہوئے کہا تھا۔

”تو فکر نہ کر میں تجھ سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔“ چودھری نے نوراں کو حوصلہ دیا۔
کچھ دن گزرے ہی تھے کہ بڑے چودھری نے نوراں کے والد کو راتوں رات علاقہ چھوڑنے کے لیے کہا۔
”چودھری صاحب، میں کہاں جاؤں گا جوان بیٹی کو لے کر؟“ نوراں کے والد نے گڑ گڑا کر منت کی۔
”کہیں بھی جاؤ لیکن کل مجھے علاقے میں نظر نہ آنا۔ یہ میرا حکم ہے۔“

نوراں کا باپ بے بسی کے عالم میں سورج ڈھلتے ہی نوراں کو لے کر گاؤں سے نکل پڑا۔ بے نام راستوں اور نا معلوم منزل کی جانب! جوان بیٹی کا ساتھ اسے ہلکان کیے جا رہا تھا۔ گاؤں سے باہر نکلے ہی تھے کہ چودھری امانت کو کسی کامے نے ان کے بارے بتا دیا۔ وہ جیپ لے کر ان کے پیچھے گیا۔

امانت نے پہنچتے ہی کہا، ”نوراں، بابا، تم لوگ بے سہارا نہیں ہو میں تمھارے ساتھ ہوں۔ چلو آؤ بیٹھو۔“
”نہ چودھری جی! بڑے چودھری آپ سے ناراض ہوں گے“ نوراں کے والد نے روتے ہوئے کہا۔

”بابا جی! میرے ہوتے کچھ نہیں ہو گا“ چودھری امانت ان کو لے کر شہر میں ایک گھر لے کر رہنے لگا۔ امانت نے نوراں سے شادی کر لی۔ کچھ سال گزر گئے۔ اللہ نے اسے ایک بیٹی اور بیٹا عطا کیا۔ زندگی بہت خوش گوار گزر رہی تھی۔ ابھی تک بڑے چودھری نے بہت ڈھونڈا تھا مگر اس کو ان کا پتہ نہیں چلا تھا۔

ایک دن شہر میں اچانک بڑے چودھری اور چودھری امانت کی ملاقات ہو گئی۔ باپ کی محبت نے جوش مارا اور اس کے ساتھ پیار اور محبت سے پیش آیا۔ اور اس کے گھر گیا۔ بڑے چودھری نے دل پر پتھر رکھ کر نوراں اور بچوں کو کچھ نہ کہا صرف گامے کا پوچھا جو فوت ہو چکا تھا۔ بڑا چودھری دل میں غصہ چھپا کر اپنے گاؤں لوٹ آیا تھا۔ وقت گزرتا گیا۔ بچے جوان ہو چکے تھے۔ چودھری امانت کو ہارٹ اٹیک ہوا تو وہ اللہ کو پیارا ہو گیا تھا۔ اب نوراں کا بیٹی اور بیٹا ہی سہارا تھے۔

نوراں نے بڑے چودھری کو امانت کی وفات کی اطلاع دی تھی۔ انھوں نے امانت کی تدفین اپنے گاؤں میں کی تھی۔ وہ نوراں اور اس کی اولاد کو بھی گاؤں لے آئے تھے لیکن بڑے چودھری کو اپنی نسل کی بہت فکر تھی۔ وہ ہر طریقے سے نوراں اور اس کی اولاد سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ایک دن منصوبے کے مطابق چودھری سکندر نے اپنے کامے کو ساتھ لیا اور نوراں کے بیٹے اور بیٹی کو کھیتوں کی سیر کرانے کے بہانے لے گئے تھے۔ بچے بھی خوش تھے۔ اچانک طوفان اور پھر موسلا دھار بارش شروع ہو گئی تھی۔ چودھری نے کامے کو اشارہ کیا۔ اس نے ایک فائر کیا جو سیدھا نوراں کی بیٹی کے سینے میں پیوست ہو گیا۔ بھائی نے بہن کو دیکھ کر چیخ ماری اور بہن سے لپٹ گیا۔

”نہ تایا، میری بہن کا کیا قصور ہے؟“
”تیری ماں کا قصور ہے جس کا گھٹیا خون تم دونوں کی رگوں میں دوڑ رہا ہے“

چودھری سکندر نے کامے کو اشارہ کیا تھا کہ بیٹا بھاگا اور سر پٹ دوڑا۔ تیز موسلا دھار بارش میں تایا اور دادا کی اناؤں کا روگ لے کر بیٹا اپنی اور ماں کی زندگی کی خاطر پوری قوت سے دوڑتے کہتا گیا تھا کہ، ”میری بہن میں تیرا خون رائیگاں نہیں جانے دوں گا۔ نوراں کو حویلی سے نکال کر بڑا چودھری اور اس کا بیٹا سکندر اپنی آنا کی تسکین کر چکے تھے۔“ نوراں کا بیٹا بچنا نہیں چاہیے، ادھر کامے نے نشانہ لیا لیکن اسے گھنے درختوں میں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ فائر کی آواز آسمانی بجلی کی آواز میں گھل مل گئی تھی۔ کچھ پنچھی زمین پر گرے اور دم توڑ گئے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments