افسانہ خود کشی


کائنات کی زندگی میں کل کا دن بہت ہی اہم دن تھا کیوں کہ کل کے دن اس کی ایک نئی زندگی شروع ہونے جا رہی تھی۔ ایک ایسی زندگی جس کی بہتری کی دعائیں وہ سب سے لیتی رہی ہیں۔ گویا دعاؤں کی قبولیت کی گھڑی آن پہنچی تھی۔ اس دن اس کے دل میں خوشی اور غم کے احساسات بہ یک وقت ابھر رہے تھی۔ ابھی وہ اپنے نئے گھر، اپنے ہم سفر کے بارے میں سوچ کر من ہی من میں خوش ہوئی تھی کہ اچانک اسے اپنے گھر کو چھوڑ جانے اور سب گھر والوں سے دور ہونے کا دکھ ستانے لگا۔

اسے اپنی گزشتہ زندگی ایک لمحہ معلوم ہو رہی تھی۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ وہ اس گھر میں اپنی امی اور اپنی پانچ بہنوں کے ساتھ ہنستی کھیلتی تھی۔ دن کو وہ اپنی بہنوں کے ساتھ مدرسے میں سی پارہ پڑھنے جاتی۔ مدرسے سے واپسی پر جب انھیں پتہ چلتا کہ ان کے ابو گھر پر نہیں ہیں تو ساری بہنیں مل کر اپنے پرانے اور خستہ گھر کو سر پر اٹھاتیں، امی کو خوب تنگ کرتیں اور پھر دور سے ابو کو گھر کی طرف آتا دیکھ کر سب بہنیں ایسے خاموش ہو جاتیں جیسے کہ وہ گھر میں موجود ہی نہ ہوں۔ ابو کی طرف سے انھیں وہ پیار تو نہیں ملا جو بیٹیوں کا اولین حق ہوتا ہے البتہ ایک فکر اور انجانا سا خوف ہمیشہ ابو کی آنکھوں میں نظر آتا تھا۔ اس کے علاوہ ان کی زندگی بہت سیدھی سادھی اور خوشیوں بھری چل رہی تھی۔ مگر کل سب کچھ پہلے کے بر عکس تھا۔

کچھ دن قبل ہی کائنات کی امی نے اسے بتایا تھا کہ اس کا رشتہ شمس الدین کے ساتھ طے ہو گیا ہے، عنقریب ان کا نکاح ہونے والا ہے۔ اس نے سن کر کچھ کہا تو نہیں تھا لیکن دل ہی دل میں اس نے شمس الدین کے بارے کئی سارے سپنے سجا لیے تھے۔ شمس الدین نام سن کر ہی اسے لگا تھا کہ وہ بالکل اس کے خوابوں کے شہزادے کے جیسے ہی ہوں گے۔ اس کی امی نے بھی تو کہا تھا کہ شمس الدین بہت اچھے انسان ہیں اور ناہید بھی بہت نیک خاتون ہیں، وہ اس کا خیال ماں کی طرح ہی رکھیں گی۔ اپنی شادی والے دن بھی کائنات نے کئی مرتبہ شمس الدین کے بارے میں سوچا کبھی وہ اس کی صورت کے بارے سوچ کر ایک پیارا سا چہرہ تصور میں لاتی اور کبھی اس کی سیرت بارے سوچ کر اسے اپنا خیال رکھتا ہوا پاتی۔

آخر کار وہ وقت آ گیا جب دلہا میاں اپنی بارات لے کر پہنچ گئے اور ان کے نکاح کی رسم ہو گئی ادا ہو گئی۔ نکاح کے وقت جب کائنات سے پوچھا گیا کہ ”کیا وہ شمس الدین ولد اسلام شاہ کے ساتھ نکاح کے لیے راضی ہے“ تو اس کے دل نے چاہا کہ وہ ایک نظر شمس الدین کی طرف دیکھ لے مگر یہ بات نامناسب سی لگ رہی تھی اور نہ ہی اس کی تربیت اس چیز کی اجازت دے رہی تھی۔ اس نے چپ چاپ اپنا سر ہاں میں ہلا دیا۔ یوں ان کے نکاح کی رسم ادا ہو گئی۔

اسی رات کو جب وہ اپنے بستر پر لیٹی ہوئی تھی تو اس کے دل میں طرح طرح کے خیالات آرہے تھے۔ سب سے زیادہ جس احساس نے اس کے دل میں گھر کیا ہوا تھا وہ اپنے گھر سے نکلنے کا دکھ تھا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ جی بھر کر روئے اور اپنا دکھ ہلکا کرے۔ ایسے موقع پر کتنا اچھا ہوتا کہ اس کا حسین اور شفیق ہم سفر اس کی دل جوئی کرتا، ڈھیر ساری پیار بھری باتیں کر کے اس کا غم ہلکا کرتا اور پھر پیار سے اسے اپنے باہوں میں سلاتا۔

اس کی امی نے نکاح سے کچھ دن قبل ہی اسے بتایا تھا کہ نکاح کے بعد کیا ہونے والا ہے اور شوہر کے حقوق کیا کیا ہیں۔ مگر اس کا دل اس وقت وہ ساری باتیں بھول کر صرف رونے کو کرتا۔ اسی دوراں زور سے کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک ادھیڑ عمر شخص کمرے میں داخل ہوا۔ اسے دیکھ کر کائنات حیران سی ہوئی اور اسے لگا کہ شاید وہ شمس کے والد ہوں گے یا کوئی اور رشتے دار، مگر وہ صاحب تو سیدھے سیدھے آ کر بستر میں گھس گئے اور وہ ڈر کے مارے بستر سے باہر نکل گئی۔ اس آدمی نے پوچھا کہ ”کیا ہوا آپ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہیں؟“

آپ؟ آپ؟ کائنات نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔
جی میں شمس الدین۔ آپ نے شاید پہچانا نہیں۔ اس آدمی نے جواب دیا۔
شمس الدین۔ وہ بہت ہی حیرانی سے اس کی طرف دیکھنے لگی، جیسے اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسک گئی ہو۔

شمس الدین نے ہنستے ہوئے کہا ”ارے بیگم یہاں آؤ ہم آپ کے شوہر ہیں کوئی غیر نہیں“ ۔ اور پھر اٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ بستر پر لیٹا دیا۔ مگر وہ تو ایسے سن پڑی تھی جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہ ہو۔ وہ خاموش رہی اور کچھ نہ کہا اور شمس الدین نے اپنا شرعی حق حاصل کیا۔ اور کچھ دیر بعد سو گیا۔ مگر وہ تھی کہ نہ مردہ نہ زندہ نیم لاش کی طرح کچھ دیر یوں ہی لیٹی رہی اور پھر اٹھ کر کپڑے بدلے اور کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھول کر باہر نکل گئی۔

سامنے سیڑھیوں کی طرف اس کی نظر پڑی اور وہ بغیر کچھ سوچے چھت کی طرف سیڑھی چڑھنے لگی۔ اچانک اسے پیچھے سے کسی نے آواز دیا ”بیگم صاحبہ آپ کہاں جا رہی ہیں؟“ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کی ماں کی عمر کی ایک خاتون کھڑی تھی جس نے اپنا نام ناہید بتایا۔ مزید پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہ شمس الدین کی پہلی بیوی اور ان کی چار بیٹیوں کی والدہ ہیں مگر بد قسمت کو خدا نے بیٹا پیدا کرنے کا ہنر نہیں بخشا اسی لیے اب قسمت نے یہ فریضہ انجام دینے کے لیے کائنات کا انتخاب کیا ہے۔

یہ باتیں کرتے ہوئے ناہید بیگم اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور روتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چلی گئیں۔ دوسری طرف کائنات آہستہ آہستہ چلتے ہوئے شمس الدین کے بڑے بنگلے کے چھت پر پہنچ گئی۔ وہ ایک عجیب مخمصے کا شکار تھی۔ سب سے پہلا خیال اس وقت جو اس کے دل میں آیا یہ تھا کہ وہ خود کشی کر لے مگر رہ رہ کر اسے اپنے مدرسے کے استاد کی بات یاد آ رہی تھی کہ خود کشی حرام ہے اور خودکشی کرنے والا دوزخ میں چلا جائے گا اور دوزخ کے عذاب بارے بھی استاد نے تفصیلاً بتایا تھا۔

مگر پھر بھی نہ جانے کیوں اس کے دل میں اک امید سی تھی کہ دوزخ کا عذاب اس دنیاوی عذاب سے کم ہی ہو گا۔ اس نے اپنے گھر والوں کے بارے میں بالخصوص ماں اور بہنوں کے بارے میں سوچا کہ اس کے بعد ان کا کیا ہو گا مگر یہاں بھی اس کے دل میں اک امید سی تھی کہ شاید اس کے اس عمل سے ڈر کر اس کے والدین اس کی باقی بہنوں کا رشتہ کرتے ہوشیار رہیں۔ یوں سوچتے سوچتے وہ پتہ نہیں کب چھت کے آخری کونے تک پہنچ گئی، وہ بے خیالی میں آگے ہی آگے کی طرف جا رہی تھی کہ اچانک اس کا پاؤں پھسل گیا اور وہ سیدھے نیچے حویلی میں جا گری۔ اس وقت تو گھر میں کسی کو پتہ تک نہیں چلا مگر صبح سب گھر والے اس کی لاش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے رو رہے تھے۔ پورے محلے میں خبر پہنچ چکی تھی، سب لوگ افسوس کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ خود کشی کو ہمارے مذہب نے حرام قرار دیا ہے اور ایسا کرنے والے کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔

Facebook Comments HS