لندن تا برمنگھم ( 3 ):  وہ ایک شخص دلربا سا


”کچھ ہی دیر میں آپ برمنگھم شہر پہنچنے والے ہیں، اگلے چوراہے پر سیکنڈ رائٹ لیں، پانچ میل سیدھے چلیں، ساٹھ میٹر بعد لیفٹ لیں۔“ سیٹلائٹ نیوی گیشن پر ہدایات دینے والی ’خاتونِ سوم‘ کی دِل نشیں آواز ابھی کانوں میں رَس گھولنے لگتی ہے کہ بیچ میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہمارے میزبان رحیم شاہ ’بھئی صیب‘ کی ریڈ اِلرٹ بھی ہماری سماعت سے ٹکراتی ہے۔ ”ہم آدھے گھنٹے میں اپنے میزبان کے گھر پہنچنے والے ہیں، تیاری پکڑیں۔“

غنودگی کی سُریلی کیفیت سے نکل کر ہم یکایک ہڑبڑا اُٹھتے ہیں، آس پاس دیکھتے ہیں، ہر طرف سے رواں دواں ٹریفک دیکھ کر لگتا ہے گویا آج تمام راستے ہماری منزل کی طرف ہی جا رہے ہیں۔ اپنے سراپے پہ سرسری سا نظرِ خطا ڈالتے ہیں۔ فرینکلی سپیکنگ، ہم خود سوٹڈ بوٹڈ لگنے والے تمام عوامل کو سخت ناپسند کرتے ہیں، جو ظاہر ہے بزرگوانہ مرتبے کا ’استعارہ‘ ہے، لیکن اس وقت ہم ’علاقہ غیر‘ میں ہیں اور پھر مہمان بھی ہیں تو مجبوری کا نام شکریہ۔

سو، ہاتھوں کو اِستری کا درجہ دے کر کپڑوں کی سِلوٹیں ہموار کرتے ہیں، امّا بعد بائیں ہاتھ کی انگلیوں کو کنگھی بنا کر گنتی کے چند بال، بلکہ مانگ سنوارتے ہیں، امّا بعد پیروں کو بے جان شوُز کے اندر دھکیلتے ہیں، ان کے تسمے باندھتے ہیں اور جسمانی بوجھ کو تختۂ مشق بناتے ہیں۔ عین اِن اعمال کے دوران میں اِسی میزبان کے ساتھ گزرے اوقات کے مناظر آنکھوں کے سامنے نمودار ہو کر دماغ کی بالکونی میں جاگنگ کرنے دوڑ پڑتے ہیں۔

دسمبر دو ہزار سات کے کسی روزِ روشن کا صفحہ کھلتا ہے۔ وادیٔ سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے ایک پرائیویٹ سکول میں اِس بے چین و بے قرار ’اپنی ذات میں پرنسپل‘ لڑکے سے پہلی ملاقات ہوتی ہے، بد امنی کے پے درپے واقعات اور اِس کے جواب میں سرکار کی بے انتہا بے حسی پر بات ہوتی ہے۔ طے پاتا ہے کہ ہم ہر قیمت پر اپنی مٹی کی حفاظت کے لئے مشترکہ جدوجہد کریں گے۔ اپنا مقدمہ ہر محاذ پر لڑیں گے اور اِس کٹھن راستے میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار رہیں گے۔

یہ تگ و دَو مختلف پلیٹ فارمز جیسے سوات قومی جرگہ، گلوبل پیس کونسل، امن تحریک، آریانہ انسٹی ٹیوٹ فار ریجنل ریسرچ اینڈ ایڈووکیسی جیسے پلیٹ فارمز سے آٹھ اکتوبر دو ہزار بارہ تک بلا کسی توقف کے جاری رہتا ہے۔ اگلے دِن یعنی نو اکتوبر کو ایک قیامت ٹوٹ پڑتی ہے جس کے نتیجے میں اس کو ایک صدمہ کی کیفیت میں وطن چھوڑ کر بال بچوں سمیت برطانیہ منتقل ہونا پڑتا ہے۔ لوجی، ہم اسی سوچ میں غلطاں ہیں اور گاڑی مین روڈ سے اچانک ہی بائیں طرف مُڑ کر ایک گھر کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔

کیا دیکھتے ہیں کہ میزبان بھابھی محترمہ سمیت، پھولوں کا گل دستہ ہاتھ میں لئے سامنے کھڑے ہیں۔ گاڑی سے اُتر کر وہ ہمارے ساتھ بے تابانہ بغل گیر ہوتے ہیں۔ دیر تک ایک دوسرے کے کندھے پر سر رکھے، فرط جذبات سے ہماری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ کچھ بولے سُنے بغیر۔ فقط آنسو ہیں جو اِس صورتِ حال کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ لاغر زبان کی اتنی اوقات کہاں کہ ایسے میں لب کشائی کی ہمت کرے۔ سچ کہا ہے کسی نے کہ دیکھنے کو آنسو محض پانی کا قطرہ ہے، اس کے پس منظر میں دکھ، سُکھ اور غمی و خوشی کی کیفیات کا جو اظہار ہے، اس کے سامنے بات کی قدر و قیمت ہیچ ہو جاتی ہے۔ وہ کیفیت ان قطروں کو مقدس بنا دیتی ہے۔ آنکھوں میں آنسو، نظروں میں چمک، چہروں پر مسکراہٹ، دلوں میں اپنائیت اور سوچ و فکر کی رو میں خوش گوار حیرت۔ اِجازت ہو تو امجد اسلام امجد کی یہ غزل اپنی سمجھ کر اُن کیفیات کا اظہار کروں؟ زہ مڑہ سوکئے تپوس کئی:

حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارہ ہے، تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارا ہے
کسی چراغ میں ہم ہیں کسی کنول میں ہو تم، کہیں جمال ہمارا کہیں تمہارا ہے
وہ کیا وصال کا لمحہ تھا جس کے نشے میں، تمام عمر کی فرقت ہمیں گوارا ہے
عجب اصول ہیں اس کاروبارِ دُنیا کے، کسی کا قرض کسی اور نے اُتارا ہے
کہیں پہ ہے کوئی خُوش بو کہ جس کے ہونے کا، تمام عالمِ موجود استعارہ ہے
نہ جانے کب تھا! کہاں تھا مگر یہ لگتا ہے، یہ وقت پہلے بھی ہم نے کبھی گزارا ہے
یہ دو کنارے تو دریا کے ہو گئے ہم تم، مگر وہ کون ہے جو تیسرا کنارا ہے

اِسی حال میں ٹکٹکی باندھ کر اِس شخص کے سراپے پر طائرانہ سا نظر ڈالتے ہیں۔ ہیں تو پچپنے کے پیٹے میں لیکن لگتے ’بچپنے‘ کے کھاتے میں ہیں۔ چہرے پر وہی گندمی تڑکا سوچوں کے سائے میں گھرا ہوا، برلبِ ناک وہ سرسوں کے تیل کی طلب گار مونچھ، ہونٹوں کے اطراف میں بریکٹ اور مُکھڑے میں رعب و دبدبہ کے فوکل پوائنٹ بنے ہوئے، جس کے اوپر عمود و افق میں پھیلی دراز قد ناک کا بسیرا ہے۔ رنگ سیاہ میں روپوش گھنے بال، اندازِ گفت گو میں وہی والہانہ پن، چال ڈھال میں وہی سادگی اور بانکپن، لیکن وہ پرانی مستی کافور، وہ تازگی مفقود۔

اب تو وہ جینا آسان بنانے کے چکر میں بہت کچھ ’اِگنور‘ کرتے ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ زندگی کو جینا آسان نہیں ہوتا، زندگی کو جینا آسان بنانا پڑتا ہے۔ کچھ صبر کر کے، کچھ برداشت کر کے اور بہت کچھ نظر انداز کر کے۔ وہ اسی قول کے تناظر میں بہت کچھ نظرانداز کر کے زندگی گزارنے کا فن جان گئے ہیں۔ آگے منظر بدلتا ہے، اندر جا کر ہم ڈرائنگ روم میں ڈیرہ ڈالتے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں مسکراہٹیں اور قہقہے بکھر جاتے ہیں۔

ماحول میں جل ترنگ سا بج اُٹھتا ہے۔ ماضی کے قصے کہانیاں ’رپیٹ ٹیلی کاسٹ‘ ہوتے ہیں۔ وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا، لگتا ہے جیسے رُک گیا ہو۔ سچ ہے، دوستی وقت اور فاصلوں کی قید سے آزاد ہوتی ہے۔ منظر پھر بدلتا ہے، میزبان اٹھتا ہے کچھ دیر بھابھی کے کان میں کھسر پھسر کرتا ہے، ضروری اجازت اور ہدایات پلے باندھتا ہے۔ لباس کے اوپر نیپکن چڑھاتا ہے، رنگ بھیس اور انداز بدل کر اجنبی سا بن جاتا ہے۔ ہمارے ساتھ آنکھیں ملائے بغیر یک دم باورچی خانے کی راہ لیتا ہے۔

برتنوں کے ساتھ دھینگا مشتی کی شدید آواز باہر آنے لگتی ہے تو ہم از روئے اظہار یک جہتی و ہم دردی، باورچی خانے میں داخل ہوتے ہیں۔ وہ ہماری آمد کا نوٹس لیتے ہیں اور نہ ہی کوئی بات کرتے ہیں۔ بس کام کام اور صرف کام کرتے ہیں۔ ہم اس کی طرف دیکھتے ہیں اور گہری سوچ میں ڈوب جاتے ہیں۔ باورچی خانے کے سینک کے سامنے کھڑے، نیپکن پہنے، پتیلے دھونے والے اور حقِ میزبانی ادا کرنے کے جذبے سے سرشار یہ شخص، اس دنیا کے عظیم اور حوصلہ مند والد ہیں، جنہوں نے اپنے بچوں کو اڑان کے لئے پَر دیے اور پرواز کے لئے وسیع و عریض میدان۔

یہ شخص جسمانی طور پر ہے تو پردیس میں مگر روحانی طور پر اپنے وطن میں بستے ہیں۔ وہ وطن کی باتیں سوچتے ہوئے جاگتے ہیں اور وطن کی باتیں سوچتے ہوئے سوتے ہیں۔ ان کے دماغ کی ہارڈ ڈیسک میں اب بھی وہی پاکستانی اوقات فِٹ ہیں۔ وہ اب بھی مینگورہ، سوات کے خوشحال پبلک اسکول کے وہی ’اپنی ذات میں پرنسپل‘ کے درجے پر فائز ہیں۔ وہ اسی طرح تابع فرمان شوہر ہیں، جس طرح دلہا بننے کے وقت تھے۔ وہ ایک حوصلہ مند اور بیدار سماجی کارکن، شاعر، استاد، سپیکر، ماہر باورچی، غیر مستند مالی اور مہربان دوست ہیں۔

اگر کوئی کمی ہے تو سکول کے زمانے کی اُس خصوصی وفادار کوٹ کی ہے جس کو وہ گرمیوں میں بھی پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ والا شعر گن گنا کر کندھے کا زیور بنانے کے واسطے زیب تن کرتے تھے۔ ان کی ڈکشنری میں نفرت اور تعصب کے الفاظ ناپید ہیں۔ ہم نے پڑھا کہ انسانی ذہانت کا آخری درجہ سادگی ہے یعنی سادگی ذہانت کی پیک (چوٹی) ہوتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام سائنس دان محقق اور بین الاقوامی رہنما بہت سادہ تھے اور عام افراد کی طرح زندگی گزارتے تھے۔

فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کھانا کھانے والے عبدالستار ایدھی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ہمارے یہ میزبان بھی اسی طرح سادہ بادہ اور کائنات کے ساتھ محبت کرنے والے انسان ہیں۔ مولانا روم لکھتے ہیں کہ اپنی ذات کی نفی کرو تو وہ سب کچھ مل جائے گا جو تُو چاہتا ہے۔ ان کا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے۔ ان شخص کے بارے میں ایک نشست میں بات کرنا کافی نہیں۔ خیر ابھی تو ہمارے دو دِن ہیں یہاں ٹھہرنے کے۔

ہم اس شہرِ بے مثال کے نظارے کریں گے، شیکسپیئر کے خاموش شہر کا دیدار کریں گے، آکسفورڈ یونیورسٹی جائیں گے اور میزبان سے چوری چُپکے، آوارگی کے سیشن کریں گے۔ نائٹ لائف کے نظاروں سے نظروں کو مسرور کریں گے۔ خاطر جمع رکھیں، حد سے گزر جانے کی نوبت نہیں آئے گی، پتہ ہے کہ ان تلوں میں تیل نہیں۔ بس اپنے اکبر اِلٰہ آبادی کے کہے کی اطاعت کریں گے اور اپنے حال پر قناعت۔

سدھاریں شیخ کعبہ کو ہم انگلستان دیکھیں گے
وہ دیکھیں گھر خدا کا ہم خدا کی شان دیکھیں گے
(سفرنامہ جاری ہے، مزید دل چسپ واقعات کے لئے اگلی قسط کا انتظار کیجئے )


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments