صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 9 : عشق کی بیل


بڑی سے بڑی پانی کی ندیاں محبت کو نہ بجھا سکیں گی اور نہ سیلاب اسے بہا لے جائے گا۔ اگر کوئی اپنی ساری دولت محبت کے بدلے دینا چاہے تو وہ بالکل حقیر سمجھی جائے گی۔ غزل الغزلات 8 : 7

میں نئے جوتے خریدنے کے لیے سرے گھاٹ پر ایک باٹا کی دکان پر سیلز مین سے باتیں کر رہا تھا کہ کسی نے پیچھے سے آ کر میرے کندھے پر ایک دھپ ماری۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو دانی ایل کھڑا مسکرا رہا تھا۔

”ارے یار تو کہاں غائب ہو گیا تھا؟“ میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
”بس، کمپنی کے کام سے پنڈی گیا ہوا تھا۔ وہاں ہمیں ایک پروجیکٹ مل گیا تو مجھے رُکنا پڑا۔“
”میں نے سارے دوستوں سے پتا کیا۔ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ تجھے زمین نگل گئی۔“
”بس، میں جلدی میں گیا تھا۔ سوچا تھا کہ ہفتے بھر میں واپسی ہو جائے گی مگر پورا مہینہ لگ گیا۔“
”تو واپسی کب ہوئی؟“
کل ہی لوٹا ہوں۔ گزرتے ہوئے تجھ پر نظر پڑی تو ملاقات ہو گئی۔ ”

”سر کیا حکم ہے؟ یہ جوتے پیک کردوں؟“ میں نے مڑ کر دیکھا تو سیلز مین ہاتھ میں جوتوں کا ڈبہ لیے میرا منتظر تھا۔

”سوری بھئی،“ میں نے اس کے ہاتھ سے ڈبہ لے لیا اور کاؤنٹر پر جاکر ادائیگی کردی۔
”چل یار سامنے کیفے میں بیٹھتے ہیں،“ دانی ایل نے کہا، ”چائے تو پیئے گا نا؟“
”تو پوچھے اور میں انکار کردوں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“

باہر کی تپش کے بعد کیفے میں داخل ہوتے ہی ائر کنڈیشنر کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا لگی تو کچھ فرحت محسوس ہوئی۔ سامنے ہی ایک میز خالی تھی۔

”سنا یار تیری ٹیوشن کیسی چل رہی ہے،“ دانی ایل نے کرسی پر بیٹھنے سے پہلے اسے اپنے رومال سے جھاڑتے ہوئے پوچھا۔ یہ اس کی پرانی عادت تھی۔ کہیں بیٹھتا تو پہلے کرسی کو جھاڑ لیتا۔

”ٹیوشن تو اچھی چل رہی ہے مگر اطلاعاً عرض ہے کہ آپ کی محبوبہ صاحبہ تشریف لے آئی ہیں،“ میں نے مسکرا کر کہا۔

”کیا؟ مریم آ گئی ہے؟“ ایسا لگا جیسے دانی ایل کو کرنٹ لگا ہو۔
”نہ صرف آ گئی ہے بلکہ میری ملاقات بھی ہو گئی ہے۔“
”اچھا؟ کیسی لگ رہی تھی؟ کیا پہنے ہوئے تھی؟“

”یار، یہ پہننے والی بات کہاں سے آ گئی،“ میں نے جھنجھلا کر کہا، ”یہ توُ نے عورتوں والی بات کہی ہے جنہیں تجسس ہوتا ہے کہ پارٹی میں کس نے کیا پہنا ہوا تھا۔“

” خیر چھوڑ، یہ بتا کہ اس سے کیا باتیں ہوئیں؟“ دانی ایل نے آگے جُھک کر پوچھا۔ وہ بچوں کی طرح بے صبری کا مظاہرہ کر رہا تھا۔

اتنے میں ویٹر ہمارے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اور میں نے اسے دو انگلیاں اٹھا کر چائے کا آرڈر دے دیا۔ اس کیفے میں صرف اسپیشل چائے ملتی تھی۔

” یار، میری بات مان اور مریم کا خیال دل سے نکال دے۔ وہ تیرے مطلب کی نہیں ہے،“ میں نے کہا۔
”کیوں، میرے مطلب کی کیوں نہیں ہے؟“
”وہ انٹیلیکچوئل قسم کی تیز طرّار لڑکی ہے اور تو سیدھا سادا انجینئر آدمی ہے۔ وہ تجھے بیچ کھائے گی۔“
”مگر میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ شادی کروں گا تو اسی سے۔“
یہ شادی کہاں سے آ گئی۔ بات تک تو کی نہیں ہے، ”میں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔

دانی ایل سوچ میں پڑ گیا اور اپنے بال پوائنٹ پین سے میز کو کھٹکھٹانے لگا۔ اتنے میں ویٹر چائے کی ٹرے میز پر رکھ گیا اور میں نے چائے بنانا شروع کردی۔

”کیا سوچ رہا ہے؟“ میں نے خاموشی کو توڑنے کے لیے پوچھا۔
”میں سوچ رہا ہوں کہ کہیں مریم کے معاملے میں تیری نیت تو خراب نہیں ہو گئی؟“

مجھے ایک جھٹکا سا لگا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دانی ایل کے دل میں ایسا خیال آ سکتا ہے۔ مجھ پر سکتہ سا طاری ہو گیا اور سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا جواب دوں۔ ہم خاموشی سے چائے کی چسکیاں لیتے رہے۔ آخر میں نے دبی آواز میں کہا، ”یار دانی ایل، ہم بچپن سے ایک ساتھ ہیں اور کبھی ہم نے ایک دوسرے کو دھوکا نہیں دیا۔ مجھے بڑا دکھ ہوا کہ تیرے دل میں ایسا خیال آیا۔“

دانی ایل نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ نظریں جھکائے، دونوں ہاتھوں سے چائے کی پیالی تھامے بیٹھا رہا۔ مجھے یوں لگ رہا تھا کہ بچپن کی دوستی ایک غلط فہمی پر ختم ہونے والی تھی۔

”عورت چیز ہی ایسی ہے۔ اگر اس کی خاطر بھائی بھائی کو قتل کر سکتا ہے تو سب کچھ ہو سکتا ہے،“ آخر اس نے نظریں جھکائے سرگوشی میں جواب دیا۔

میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ دانی ایل کا شک کس طرح دور کروں۔ آخر میں نے ہمت کر کے اس کا ہاتھ دبایا اور کہا، ”میں قسم کھانے کو تیار ہوں۔ میری نیت میں کوئی کھوٹ نہیں ہے۔ “

”خیر، چھوڑ یار، آئی ایم سوری کہ خواہ مخواہ، مجھے بد گمانی ہو گئی،“ اس نے مسکرا کر کہا، ”یہ بتا کہ تیری ٹیوشن کیسی چل رہی ہے؟“

”اچھی چل رہی ہے مگر میں سوچتا ہوں کہ اتنے سارے بچوں کو پالنا آسان نہیں ہے جب کہ آنٹی کی صحت بھی ٹھیک نہیں رہتی۔“

”میں انہیں زیادہ نہیں جانتا۔ شاہد صاحب سے ایک ہی بار ملاقات ہوئی تھی ایک فیملی فرینڈ کے گھر۔ وہاں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں اپنے بچوں کے لیے ایک ٹیوٹر چاہیے تو میں نے تجھے ان کا پتا دے دیا تھا۔“

”کیا مطلب؟ تو اس فیملی کو نہیں جانتا؟“
”نہیں۔“
”اُن کی فیملی چرچ نہیں جاتی؟“
”وہ دوسرے چرچ جاتے ہیں۔“
”دوسرا چرچ کون سا؟“
”سینٹ فلپس چرچ جو تلک چاڑھی پر ہے۔“
”تو پھر تُو ان کی بھتیجی پر کیسے عاشق ہو گیا؟“
”پہلی بار اس وقت دیکھا تھا جب وہ کسی کی شادی پر ہمارے چرچ آئی تھی۔“
”یعنی تو نے اسے دیکھا اور عاشق ہو گیا۔“

”ہاں، لیکن کبھی کبھار ہمارے چرچ بھی آتی تھی۔ فادر پال سے کافی متاثر تھی اور کبھی کبھی ان کی سروس اٹینڈ کرتی تھی۔“

”اس نے تجھے دیکھا؟“ میں نے جھنجھلا کر پوچھا۔
”معلوم نہیں،“ دانی ایل نے بڑی معصومیت سے کہا۔
” تو نے اس کے پاس جاکر اپنا تعارف کیوں نہیں کرایا؟“
”بس ہمت نہیں پڑی۔“

”یار، معلوم ہوتا ہے کہ تو گھاس کھا گیا ہے۔ ایک لڑکی کو دیکھا اور بلا سوچے سمجھے، بغیر بات کیے بس عاشق ہو گیا۔“

”تو پھر بتا کہ میں کیا کروں۔“
”میں تجھے اس سے ملوا دوں گا۔ پہلے اسے اپنے اوپر عاشق کروا، پھر عشق کرنا۔“
”یار، میری اس سے بات کرنے کی ہمت نہیں پڑتی۔“
”تو میری ایک بات مان۔ اپنے عشق کا آچار ڈال لے۔ مجھے تو یہ عشق کی بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی۔“

”یار، خود میری سمجھ میں نہیں آتا“ دانی ایل نے بے چارگی سے کہا، ”میں جب بھی کسی لڑکی سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں، میری زبان گنگ ہو جاتی ہے۔“

”مگر کیوں؟ تجھے اپنے آپ پر اعتماد کیوں نہیں ہے؟“
”میرا خیال ہے کہ غربت خود اعتمادی کے لیے سب سے بڑا زہر ہے۔“
”میں نہیں مانتا، غریبوں کی اولاد نے بھی دنیا میں بڑے بڑے کام کیے ہیں۔“

دانی ایل نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بڑی دیر سے اس کی انگلی چائے کی پیالی کے کُنڈے میں تھی اور اس نے ایک چُسکی بھی نہیں لی تھی۔ میری نظریں اس کی پیشانی پر تھیں، وہ جب بھی گہری سوچ میں ہوتا تو اس کی پیشانی پر سلوٹیں پڑ جاتی تھیں۔

”کیوں بھئی، کس سوچ میں پڑ گیا؟“ میں نے پوچھا۔

”میں سوچ رہا ہوں کہ ایک غریب کا بچہ بڑے بڑے کام کرتا ہے تو وہ صرف خود کو دھوکا دینے کے لیے کرتا ہے کہ اس میں خود اعتمادی ہے۔“

”کیا حرج ہے اگر اسی بہانے کچھ بڑے کام ہو جاتے ہیں۔ “
” مگر ایک بھنگی کی اولاد سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟“

میں اس کی بات سن کر سنّاٹے میں آ گیا۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا جواب دوں۔ آخر میں نے دبے الفاظ میں کہا، ”یار دانی ایل، ہم بچپن سے ہی دوست ہیں اور ہم میں ہر قسم کی باتیں ہوئی ہیں۔ ایک دوسرے کو گندے لطیفے بھی سنائے ہیں اور سنجیدہ گفتگو بھی ہوئی ہے مگر میں نے تیرے منہ سے کبھی اتنی جہالت کی بات نہیں سنی۔“

دانی ایل نے کوئی جواب نہیں دیا، جب وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہوتا تھا تو اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سلوٹ پڑ جاتی تھی۔ اُس وقت بھی اس کی یہی کیفیت تھی۔

” تُو جاوید کو تو جانتا ہے نا؟“ دانی ایل نے پوچھا۔
” کون سا جاوید؟“
” جاوید چودھری۔“
” ہان مگر یہاں جاوید چودھری کی بات کیسے نکل آئی؟“

” تو مانتا ہے کہ جب جاوید کسی محفل میں پہنچتا ہے تو ساری نظریں اس کی جانب اٹھ جاتی ہیں۔ لوگ اسے گھیر لیتے ہیں اور وہ پوری محفل کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔“

” صحیح بات ہے،“ میں نے جواب دیا، ”میں تو جاوید کو مقناطیس کہتا ہوں۔ مجھے اس کی خود اعتمادی پر رشک آتا ہے۔ “

”مگر تو صرف اس پر رشک کر سکتا ہے، اس جیسا بن نہیں سکتا۔“
”مگر کیوں؟“ میں نے جھنجھلا کر کہا۔

” اس لیے کہ تو غریب کا بیٹا ہے اور وہ اپنے منہ میں چاندی کا چمچہ لیے پیدا ہوا تھا۔ اس کی تربیت بہترین ماحول میں ہوئی اور اسے بہترین اسکولوں میں بھیجا گیا۔ اس کے باپ دادا اس ملک پر حکومت کرتے آئے ہیں اور وہ بھی کرے گا۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو نہ پِدّی نہ پِدّی کا شوربہ،“ دانی ایل کے لہجے میں بڑی تلخی تھی۔

” میں تجھ سے متفق ہوں مگر میں جانتا ہوں کہ میں جاوید کا مقابلہ کر سکتا ہوں، مگر اس کے لیے مجھے دوگنی محنت کرنی پڑے گی۔“

”چھوڑ یار، کچھ اور باتیں کرتے ہیں۔ آج میرے اوپر سخت قنوطیت طاری ہے،“ دانی ایل نے ایک بے جان مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

” قنوطیت کا علاج غصہ ہے،“ میں نے ہوا میں مُکّا تان کر کہا، ”دنیا کو گھونسا دکھا اور دانت پیس کر کہہ کہ میں تجھے دکھا دوں گا کہ میں کیا ہوں۔“

”یار تیری یہی بات مجھے اچھی لگتی ہے کہ تو ہمیشہ اچھا پہلو دیکھتا ہے۔ “
”نہیں، کبھی کبھار میرا دل بھی کسی ٹریجڈی کے ہیرو کی ایکٹنگ کرنے کو چاہتا ہے۔ “
”تھینک یو یار، میں کئی دن سے اداس تھا۔ تجھ سے بات کر کے کم از کم اداسی تو دور ہو گئی۔“

”تو پھر فیصلہ یہ ہوا کہ اتوار کو میں تجھے مریم سے ملاؤں گا،“ میں نے کہا، ”کل جب میں بچوں کو پڑھانے کے لیے جاؤں گا تو اسے بتا دوں گا۔“

اتنے میں آواز آئی، ”ہاں صاحب، کچھ اور؟“ نظر اٹھا کر دیکھا تو ویٹر کھڑا مسکرا رہا تھا۔ جب ادھر ادھر نظر ڈالی تو کوئی میز خالی نہیں تھی اور دروازے پر کچھ لوگ کوئی میز خالی ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔

”نہیں بھئی ہم چل رہے ہیں،“ میں نے کہا اور ہم اٹھ لیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).