ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی انتخاب 2024ء میں جیت کے امکانات


جناب ٹرمپ 2016 ء سے 2020ء تک امریکہ کے 45 ویں صدر رہ چکے ہیں۔ صدارتی انتخاب ( 2016 ء) میں ان کا مقابلہ ہیلری کلنٹن سے ہوا جس میں مقبول ووٹنگ میں وہ ہار گئے جبکہ الیکٹوریل کالج سے حتمی طور پر جیت گئے۔ ہیلری کلنٹن جیسی مقبول خاتون سے ان کا انتخاب جیتنا ایک معجزہ سے کم نہ تھا۔ ملکہ ایلزبتھ اور لیڈی ڈیانا کے بعد شاید ہیلری کلنٹن دنیا کی معروف ترین اور با اثر خاتون ہونے کا اعزاز رکھتی تھیں۔ انتخابات سے قبل دنیا بھر میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ وہ ہار جائیں گی۔

تمام میڈیا رپورٹس، سروے رپورٹس وغیرہ ان کی جیت کے حق میں تھیں مگر انہونی ہونی تھی سو ہو گئی۔ جناب ٹرمپ کے صدر ہو جانے کے بعد دنیا اور امریکہ میں غالب خیالات یہ تھے کہ وہ دنیا میں نئی جنگوں کا آغاز کریں گے اور جاری شدہ جنگوں میں تیزی لائیں گے مگر معاملہ اس کے الٹ ہو گیا اور جناب صدر نے جاری امریکی جنگوں کی بساط کو بھی لپیٹنا شروع کر دیا۔

ماضی میں امریکہ کی روایت رہی ہے کہ وہ جس ملک کو کسی بات سے منع کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی انہیں معاشی پیکج یا امداد کی بھی آفر کرتے ہیں مثال کے طور پر امریکہ نے پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے باز رکھنے کے لیے خاصی بڑی رقم کی آفر کی تھی مگر پاکستان نے ان کی آفر قبول نہ کی اور دھماکے کر دیے۔ صدر ٹرمپ اس روایت یا طریقہ کار کے انتہائی خلاف تھے اس ضمن میں وہ اکثر افسوس کے ساتھ کہا کرتے کہ دنیا نے امریکہ کو ملک اور قوم سمجھنے کی بجائے بینک سمجھ رکھا ہے وہ شاید سمجھتے تھے کہ اگر امریکہ اسی طرح ڈالر بانٹتا رہا تو ایک دن امریکہ غریب ہو جائے گا۔

انہوں نے امریکہ کے اندر معاشی حالات کو بہتر کرنے کی کوششیں کیں جو خاصی بارآور بھی ہوئیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ جناب ٹرمپ کا غیر سنجیدہ رویہ، کرونا کی وبا کے خلاف ان کی ناکام پالیسی، جارج فلائیڈ کا پولیس کے ہاتھوں قتل اور ردعمل میں ہونے والے پرتشدد عوامی مظاہرے ان کی جڑوں میں بیٹھ گئے اور آئندہ انتخاب میں ان کی شکست کا سبب بنے۔

2020 ء کے صدارتی انتخاب میں ان کا مقابلہ امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن سے ہوا۔ اس وقت کے انتخابی اور میڈیا سرویز کے مطابق معاملہ ففٹی ففٹی کا تھا یعنی ٹرمپ انتخاب جیت بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی۔ اس وقت کا کوئی فیصلہ کن سیاسی تجزیہ کم از کم ہماری نظروں سے نہیں گزرا اور محض خواہشات یا نعرہ بازی کو تجزیہ مانا نہیں جا سکتا۔ جناب جو بائیڈن جو کہ سیاست اور حکمرانی کا وسیع تجربہ رکھتے تھے ایک سنجیدہ اور مدبر شخصیت کے طور پر مد مقابل آئے مگر جناب ٹرمپ نے انہیں کبھی بھی سنجیدہ نہ لیا۔

گو کہ انتخاب میں جناب ٹرمپ نے ماضی کی نسبت زیادہ مقبول ووٹ حاصل کیے مگر جناب جو بائیڈن نے الیكٹورل مقبول (عوامی) ووٹوں کی اکثریت حاصل کر کے میدان مار لیا۔ جناب ٹرمپ نے انتخابی نتائج ماننے سے انکار کر دیا، انتخابی دھاندلی کا شورو غوغا اور بالآخر جناب ٹرمپ کی دعوت پر 6 جنوری 2021 ء کو کیپیٹل ہل پر عوامی جتھوں کے پرتشدد حملے، قبضے اور لوٹ مار وغیرہ۔ اس عوامی ”احتجاج“ کے دوران 170 پولیس اہل کار زخمی جبکہ 9 مظاہرین جان بحق ہوئے۔

حالیہ صدر جناب جو بائیڈن کے تمام دور اقتدار میں جناب ٹرمپ سکون سے نہیں بیٹھے اور جناب جو بائیڈن پر مسلسل تنقید اور طنز کے نشتر چلاتے رہے ہیں اور انہیں صدارتی انتخاب 2024 ء میں ہرانے کے دعوے کا اعادہ بھی کرتے رہے ہیں۔ امریکہ میں خاص طور پر صدارتی انتخاب میں امیدوار بننا خاصا مشکل کام ہے۔ بڑی سیاسی پارٹیاں ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے عہدے داروں اور ممبران کا اعتماد حاصل کرنا اپنی جگہ معانی رکھتا ہے۔ اب جناب ٹرمپ ان مراحل کو کامیابی سے طے کر چکے ہیں۔ اگلا مرحلہ انتخاب کے میدان میں ہی طے ہونا باقی ہے۔ مگر ہمارا سوال کہ جناب ٹرمپ انتخاب جیت پائیں گے یا نہیں ابھی تک برقرار ہے۔ اس کے جواب کے لیے ہمیں امریکہ اور ”طاقتور دنیا“ کی سیاسی بساط اور چالوں کا مزید جائزہ لینا ہو گا۔

امریکی صدارتی تاریخ میں اس وقت تک 46 صدور ہو گزرے ہیں جن میں بعض نے دو دو بار صدارتی مدت پوری کی اور کچھ نے ایک ٹرم پر ہی اکتفا کیا یا کرنا پڑا۔ امریکی جمہوری کلچر میں کچھ روایات خاصی مضبوط رہی ہیں۔ مثال کے طور اگر کوئی امیدوار ایک دفعہ انتخاب ہار جاتا ہے تو سمجھ لیں کہ وہ سیاسی بساط یا کم از کم صدارتی دوڑ سے باہر ہو جاتا ہے۔ امریکی صدارتی تاریخ میں محض ایک واقعہ ملتا ہے جس میں ہارا ہو امیدوار اگلے انتخاب میں دوبارہ سے انتخاب جیت کر پھر سے صدر بن جاتا ہے۔

صدر جناب گرور کلیو لینڈ (Grover Cleveland) اس کی واحد مثال ہیں۔ موصوف ( 1585۔ 1589 ) تک صدر رہے۔ اس کے بعد کے انتخاب میں ہار گئے۔ دوبارہ سے تیاری پکڑی پھر سے انتخاب جیت کر ( 1893۔ 1897 ) تک صدر رہے۔ ہار کر دوبارہ سے انتخاب جیتنے کی ضد یا شوق کو امریکی جمہوریت میں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ہیلری کلنٹن انتخاب ہارنے کے بعد دوبارہ شاید منظر عام پر ہی نہیں آئیں۔ ٹرمپ صاحب نے انتخاب ہارنے کے بعد روز اول ہی سے ضد پکڑی ہوئی ہے کہ انہوں انتخاب پھر سے جیتنا ہے، ہر قیمت پر جیتنا ہے اور جناب جو بائیڈن کو شکست کا مزہ ضرور چکھانا ہے۔ ہر امریکی صدر کم از کم چار سال کے لیے پوری دنیا کی لائم لائیٹ میں رہتا ہے جس سے اس کی خوبیاں، خامیاں، نا اہلیاں، ترجیحات، پسند اور ناپسند، سوچ، نفسیات، پالیسیاں وغیرہ پوری طرح سے دنیا کے سامنے عیاں ہو جاتی ہیں۔ اس معاملے میں بھی جناب ٹرمپ کا گراف کچھ بہتر نہیں۔

عام طور پر سیاست میں چیزیں یک طرفہ نہیں ہوتیں بلکہ دوطرفہ ہوتی ہیں امریکہ دنیا کے ہر ملک کی سیاست میں دخیل رہتا ہے اس کا صاف مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا بھی امریکی معاملات میں اتنی ہی دخیل ہے اور کسی نہ کسی طور اپنا اثر بھی ضرور دکھاتی ہے۔ امریکہ کی اصل طاقت اس کا سرمایہ ہے جس متعلق دو طرح کی رائے موجود ہے پہلی یہ کہ مذکورہ سرمایہ کا مالک و خالق امریکہ ہی ہے اور اس پر فیصلوں کے تمام طرح کے حقوق بھی امریکہ کے پاس ہیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ امریکی سرمایہ گلوبل ہے اور تمام دنیا کو اس کے استعمال کرنے کا حق ہے۔ جناب ٹرمپ کا موقف رہا ہے کہ امریکی سرمائے پر پہلا اور آخری حق امریکی عوام کا ہے، دوسرے ملکوں سے زبردستی کام کروایا جائے بدلے میں کچھ سہولیات ضرور دی جائیں لیکن پیسے تو بالکل نہ دیے جائیں۔ اسی چکر میں انہوں نے انڈیا کے سات بلین ڈالر افغانستان میں انوسٹ (ڈیم وغیرہ میں ) کروا دیے۔ طالبان حکومت کے آتے ہی انڈیا کی سرمایہ کاری ڈوب گئی جس پر جناب مودی کو خاصی خفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک اور طاقت ور حلقے امریکہ کے اندر ایسا صدر چاہتے ہیں جو کام کم کروائے، پیسے زیادہ سے زیادہ دے بلکہ ایڈوانس میں دے اور گوشمالی تو بالکل نہ کرے۔ اس طرح کے بین الاقوامی معاملات میں جناب ٹرمپ کا گراف خاصا نیچے ہے جبکہ مد مقابل جناب بائیڈن اسی پرانی ”مل بیٹھ کر“ والی پالیسی پر گامزن ہیں اور دنیا ان سے خوش ہے۔

2016 ء کا انتخاب جو کہ جناب ٹرمپ نے جیتا تھا ان انتخابات میں روس یا صدر پیوٹن نے ان کی حد سے زیادہ حمایت کی تھی۔ اور اس وقت امریکہ کے اندر اس بات کا برا نہیں منایا گیا تھا کیونکہ پیوٹن امریکہ کے اتحادی اور وفادار تسلیم کیے جاتے تھے۔ روس یوکرائن جنگ کی صورت میں بلی تھیلے سے باہر آ چکی ہے اور جناب پیوٹن امریکہ کے نمبر ون دشمن قرار پا چکے ہیں۔ حالیہ انتخاب میں وہ جناب ٹرمپ کی حمایت کریں یا نہ کریں ان کی ماضی کی دوستی بھی جناب ٹرمپ کے آڑے ضرور آئے گی۔

ابھی حال ہی میں ان کے اس بیان کہ وہ اقتدار میں آ کر جناب زلنسکی کی مالی اور فوجی امداد بند کر دیں گے۔ اس بیان سے یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ روس سے دوستی کی چنگاری ابھی تک نہیں بجھی۔ عالمی رائے عامہ اور با اثر امریکی اور غیر امریکی حلقوں کی رائے آخر کار عوامی رائے کو متاثر کرنے میں کامیاب ہو جایا کرتی ہے۔

آج کا امریکہ جو کہ ایک ملک بھی ہے اور سامراج بھی۔ دنیا بھر کے سامراجیوں اور سامراجی ذہنیت رکھنے والی ریاستوں کا واحد نمائندہ ملک امریکہ کو ہی تسلیم کیا جاتا ہے۔ جس طرح اسرائیل کو صیہونی یہودیوں نے تعمیر یا قبضہ کیا بالکل اسی طرح سامراجی ذہنیت رکھنے والے سیٹھوں اور جاگیرداروں نے امریکہ کو ایک ملک سے سامراج بنایا۔ ہمارے بعض دوستوں کا خیال ہے کہ امریکہ کی تعمیر میں خواتین، مزدوروں اور کسانوں کا اہم کردار ہے اور یہ بات درست ہے مگر اس اہم کردار پر قبضہ سامراجیوں کا ہی ہے۔ گزشتہ تمام عرصہ میں جناب ٹرمپ نے اپنے آپ کو سامراجی کردار سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں افریقی نسل سے تعلق رکھنے والے صدر تو برداشت کیا جا سکتا ہے مگر غیر سامراجی یا حد سے بہت ہی زیادہ سامراجی سوچ رکھنے والا صدر ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

Facebook Comments HS