پاکستان سندھ طاس معاہدہ کرنے پر کیوں مجبور ہوا؟


حال ہی میں بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے راوی پر ”شاہ پور کنڈی ڈیم تعمیر کر لیا ہے، جس کی تعمیر سے دریائے راوی میں آنے والے پانی کی معمولی مقدار بھی پاکستان کی طرف آنا بند ہو گئی ہے۔ ہمیں ان حالات و واقعات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے، جن کی وجہ سے پاکستان بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا، لیاقت علی خان کے دور کے آخر سے ہی بھارت مادھو پور سے نکلنے والی نہریں، بھارت میں واقع ہیڈ ورکس سے بند کر کے پاکستان کے لیے مشکل صورتحال پیدا کر دیا کرتا تھا، ایسا اس نے بار بار کیا، اور دیگر کئی نہروں کو بھی بوقت ضرورت بند کر کے ہمیں مشکل سے دوچار کر دیا، کیونکہ ان کے ہیڈ ورکس بھارت میں قائم تھے، یہی نہیں بلکہ پاکستان کی طرف بہنے والے پانی کو مکمل طور پر روک کر پاکستان کو بنجر بنا دینے کی دھمکیاں بھی بھارت کی قیادت کی طرف سے دی جانے لگیں۔

پاکستان ظاہری بلند و بانگ نعروں کے باوجود بھارت سے جنگ کی پوزیشن میں بالکل بھی نہ تھا، لہذا اس کو اس مجبوری اور کمزوری کے عالم میں امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں سے اس معاملے میں مدد اور مداخلت کی درخواست کرنی پڑی، اس پر امریکہ نے ہی ورلڈ بینک کو اس معاملے میں ثالث مقرر کیا، پھر بھی ان سب حالات اور کمزوریوں کے باوجود اگر پاکستان میں اس وقت ایوب خان کے بجائے کوئی با اعتماد جمہوری، محب وطن سیاسی حکومت اور قیادت ہوتی، تو وہ لازما پاکستان کے لیے اس سے بہت بہتر حاصل کرنے میں کامیاب رہتے، جو کچھ ہمیں ملا۔

اسی لیے اعتماد کا شدید فقدان ہمیں ان مذاکرات کے دوران فوجی آمر ایوب خان کی طرف سے نظر آیا۔ سازشوں سے اقتدار پر قابض ہوئے ایوب خان کے اعتماد کے فقدان اور عالمی طاقتوں کے سامنے کمزور اخلاقی پوزیشن کی وجہ سے ہمیں اس معاہدے کی اس صورت کو قبول کرنا پڑا، جو آج ہمارے لیے طرح طرح سے مشکلات اور نقصان کا باعث بن رہی ہے۔ حالانکہ جس طرح سندھ طاس معاہدے میں جہلم، چناب اور سندھ پر بھارت کا“ حق استعمال ”تسلیم کیا گیا تھا، اسی طرح ان جنوبی دریاؤں راوی بیاس اور ستلج پر بھی پاکستان کا“ حق استعمال ”کا مضبوط قانونی اور اخلاقی جواز موجود ہے۔

کیونکہ ثالث کی نگرانی اور ضمانت پر ہوا کوئی بھی معاہدہ فریقین کے لیے یکساں نوعیت کی سہولیات اور اختیارات پر ہی منحصر ہونا لازمی ہوتا ہے، اور تب ہی اس معاہدے کو منصفانہ معاہدہ کہا جا سکتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان عالمی بینک کی نگرانی اور گارنٹی پر ہوا یہ آبی معاہدہ جو سندھ طاس معاہدہ کہلاتا ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی جنگوں کے باوجود بدستور قائم رہا، یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ معاہدہ ہماری نسبت بھارت کے مفاد میں زیادہ جھکاؤ رکھتا ہے۔

جہاں ہر جنگ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ہوئے سابقہ دیگر تمام معاہدے ختم ہو کر نئے معاہدے کئیے جاتے رہے، جیسے معاہدہ شملہ نے معاہدہ تاشقند کی جگہ لے لی، دیگر کئی امور پر ہوئے باہمی معاہدے بھی اپنی شکل اور نوعیت تبدیل کرتے رہے، جیسا کہ دونوں ملکوں کے شہریوں کو ایک دوسرے کے ممالک میں آنے جانے کی سہولت دینے کے لیے کئیے گئے معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان چلنے والی“ سمجھوتہ ایکسپریس ”کی بھارت کی طرف سے بندش کا معاملہ ہے۔

ہر معاہدہ دو طرفہ نوعیت کا ہی ہوتا ہے، اسی طرح سندھ طاس معاہدہ میں بھارت نے جس طرح پاکستان کے حصے میں آنے والے شمالی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب پر اپنے“ حق استعمال ”کی گنجائش رکھوائی اور فریقین نے تسلیم کی تھی، اسی طرح اسی معاہدے کی یکسانیت، برابری اور انصاف کے اصول کے تحت بھارت اپنے حصے میں آنے والے تین جنوبی دریاؤں ستلج، راوی اور بیاس میں بھی کم از کم بیس فی صد پانی چھوڑنے کا پابند ہے، کیونکہ ان دریاؤں کی بھارت کی طرف سے مکمل بندش کی وجہ سے ان دریاؤں کے زیریں علاقوں میں آباد باشندوں پر شدید منفی اور تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں، جو خود اپنی جگہ ایک انسانی اور تہذیبی المیہ ہے۔

بھارت“ اپ سٹریم ”پر واقع ہونے اور اپنی طاقت کے بل پر اس اصول اور معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتا آیا ہے۔ بلکہ اب وہ نیمو باز ڈیم کی تعمیر اور ٹنل کے ذریعے دریائے سندھ کا رخ سپتی ہماچل کی طرف موڑ دینے کے پراجیکٹ پر بھی کام کر رہا ہے، اس کے علاوہ اس کی طرف سے دریائے چناب اور دریائے جہلم پر بھی مختلف قسم کے کئی“ ریور ٹریننگ ورکس پر مشتمل منصوبوں پر کام ہو رہا ہے، جن کی تکمیل سے بھارت کی ان دریاؤں کے پانی پر کنٹرول کرنے کی صلاحیت میں بھی ہمارے لیے تباہ کن قسم کا اضافہ عمل میں آ جائے گا۔

ہماری طرف ایک تو قومی اور حکومتی سطح پر اس مسئلے کی، اہمیت، شدت اور سنجیدگی کا احساس نہیں کیا جا رہا، دوسرے ہماری طرف سے ان مذاکرات میں حصہ لینے والے عہدیدار اور انجنیئرز واضح طور پر ”نالائق اور نا اہل ہیں، کہ وہ مذاکرات کے دوران پاکستان کے مفاد کے مطابق موقف تشکیل دینے اس کے لیے تکنیکی دلائل تیار کرنے میں بھارتی انجنیئرز کے مقابلے میں ہمیشہ بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں، بلکہ کبھی کبھی تو حیرت انگیز طور پر میڈیا میں بھارتی موقف کی ہی تصدیق کرتے دکھائی دیے ہیں۔

اس کا عملی ثبوت عالمی بینک کے زیر نگرانی ہوئے بگلیار اور نیلم جہلم منصوبے کے علاوہ، دریائے جہلم پر تعمیر کئیے جانے والے تلبل نیویگیشن پراجیکٹ پر مذاکرات کے دوران دیکھنے میں آیا، جب ہر بار عالمی بینک نے بھارت کے ہی موقف کو پذیرائی بخشی۔ بھارت ہمارے وفود کو ہر بار انتہائی عیاری سے، بھارت کے کسی خاص قدم یا خلاف ورزی پر ہی بحث تک محدود رکھنے میں کامیاب رہتا ہے، یعنی یہ صرف“ رد عمل ”کے طور پر ہی صرف اسی معاملے پر ہی اپنا موقف پیش کرنے کو ہی اپنی کوئی کامیابی سمجھ لیتے ہیں، اور بھارتی حکام دل ہی دل میں ان کی بے وقوفی پر ہنستے ہوں گے، وہ ان وفود کی“ پرتعیش مہمان داری ”کو بھی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں، کبھی صرف اسی معاملے کی تحقیقات ہو جائیں تو کئی“ رنگین و مخمور داستانیں ”سامنے آئیں گی۔ افسوس ہوتا ہے کہ بھارت اپنے مقاصد اور مفاد کے لیے غلط موقف کے اپنے بدصورت چہرے کو بھی کیسے سنوار دیتا ہے، اور ایک بدنصیب ہم ہیں، جو اپنے درست اور حق پر مبنی“ خوبصورت چہرے ”کو بھی بگاڑ بیٹھے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments