دکھ کے دن کرب کی راتیں: یوم سوگ سے یوم تشکر تک

تیس مئی انیس سو چوہتر کو ایک دن گزر چکا تھا۔ علی الصبح گھر سے پیدل چلتے میں ریل بازار فیصل آباد کے بالکل سامنے تیس مئی کو دس گھنٹے تک جلتی رہی اپنی آٹو پارٹس کی دکان کے ٹوٹے شٹر، دھویں سے سیاہ عمارت اور سامنے اور ارد گرد مکمل جلے سامان کے ملبے پر کھڑا اپنی چیخیں روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ذرا سنبھلتے میرے منہ سے پھر وہی پکار نکلی تھی۔ ملتے جلتے الفاظ میں رب سے فریاد جو سولہ برس قبل مالی لحاظ سے بہت مشکل دور میں جھال خانوآنہ کے پل سے سائیکل چلاتے گزرتے نکلے تھے۔ ”اچھا اللہ میاں، آزما لیں جتنا آزمانا ہے۔ نہ تو تم پہ بھروسا چھوڑنا ہے، نہ امید۔ نہ ہی محنت اور کوشش کم کرنی ہے۔ کبھی تو رحمت جوش میں آئے گی اور آزمائش کا دور ختم ہو گا۔“ آج کچھ الفاظ کا اضافہ تھا ”یا ارحم الراحمین۔ ہوش، ہمت اور جان سلامت رکھیو۔ محنت میرا عہد اور آپ کے فضل کے شامل حال رہنے کی دعا کے ساتھ کہ پہلے سے آگے نکل کے دکھاؤں“ ۔ دل کو سکون سا ہو چلا تھا اور میں گھر واپس آ آئندہ کے ممکنہ حالات سے لڑنے کی منصوبہ بندی کرنے لگا تھا۔
یہ کہانی انتیس مئی کی شام شروع ہوئی جب ایک عزیز نے فون پر ربوہ ریلوے سٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلباء اور موجود افراد کے درمیان نازیبا نعروں اور حرکات کی بنا پہ جھگڑا ہونے جس میں کچھ طالبعلم زخمی بھی ہوئے، کو بنیاد بنا، ان معمولی زخموں کو بہت زیادہ مبالغے سے پیش کرتے مساجد کے لاؤڈ سپیکروں سے انتہائی اشتعال انگیز بیانات عوام کو احمدیوں کے خلاف بھڑکانے کے شروع ہیں، کی اطلاع دیتے محتاط رہنے کی استدعا کی۔
اندھیرا پھیل چکا تھا اور چند منٹ پہلے ہی اونٹ گاڑی بریک فلائڈ کی بڑی کھیپ دکان پہ اتار کر جا چکی تھی۔ کچھ کرنا ممکن نہ تھا۔ بالکل سامنے پولیس چوکی ہونے کے باعث کچھ تسلی بھی تھی۔ ضروری کاغذات ساتھ لئے گھر آ گیا۔ صبح سبزی گوشت خریدتے بازار میں لوگوں کے گروہ ہاتھوں میں اخبار لئے چہ مگوئیاں کر رہے تھے۔ نظر ڈالی تو ہر اخبار ایک سے بڑھ ایک اشتعال انگیز خبر اور بیان اور بدلہ کی دھمکی سے بھرپور دیکھ دل کی دھڑکن کچھ بتانے لگ گئی۔
دکان پہ پہنچ کار کھڑی کرتے ہی دکان کا ملازم دکان کھولنے سے منع کرتے حالات کی سنگینی سے آگاہ کر ہی رہا تھا کہ دو دکان چھوڑ پرے ایک دکاندار کی کڑک سنائی دے گئی۔ ”آج دیکھ تمہارے ساتھ ہوتا کیا ہے۔“ ملازم کو وہیں رہنے کا کہہ گھر واپس آ گیا۔ گھر پہنچتے ہی دوست احباب کے فون شروع ہو گئے کہ مساجد سے بھڑکایا جا رہا ہے سیاسی لیڈر بھی شامل ہو گئے ہیں اور جلوس نکلنا شروع ہیں۔ ساتھ ہی پہلی اطلاع حاجی آباد، لاہور روڈ پر اس ٹمبر سٹور اور آرا مشین کو آگ لگانے کی آ گئی جہاں کوئی نو ماہ قبل شدید سیلاب کے دنوں میں جماعت احمدیہ کے رضا کاروں نے، بشمول خاکسار، پورے محلہ کی آبادی کو نکلنے میں مدد دیتے سیلاب زدگان کو لا یا کھانے خوراک کا بندوبست کرتے پناہ گزین کیمپوں تک پہنچنے میں مدد دی تھی۔
ساتھ ہی گھنٹہ گھر کے گرد آٹھوں بازاروں میں احمدیوں کی دکانوں کے جزوی یا مکمل لوٹے جانے اور بعض کے سامان باہر نکال جلانے کی خبریں شروع ہوئیں کہیں ہمسایوں نے بلوائیوں کو بھگا زیادہ نقصان سے بچایا، اور شاذ شاذ پولیس نے بھی مدد کی۔ ریل بازار میں مراد کلاتھ ہاؤس کی وسیع دکان سے قیمتی کپڑے کے تھان اٹھا بھاگتے جوانوں سے دوسرے شیروں کے چھیننے کی اطلاع بھی آ گئی تو اپنی باری گویا دور نہ تھی۔ تب ملازم طالب حسین کا فون آیا کہ ہجوم نعرے لگاتا دکان کے سامنے اکٹھا ہو رہا ہے۔ پورا بازار بند ہو چکا۔ دو تین پولیس والے زبانی بلوائیوں کو منتشر ہونے کا کہہ رہے ہیں۔ باقی سامنے ٹرک اڈہ پہ سادہ لباس میں کھڑے تماشا دیکھنے میں مصروف ہیں۔ تالے توڑ کر شٹر اونچے ہو چکے تھے۔ سامان باہر پھینک ڈھیر لگایا جا چکا تھا۔ لوٹ مار شروع تھی۔ آگ لگائی جا چکی تھی۔ صرف سپیئر پارٹس کو لگی آگ تو شاید اتنا نہ پھیلتی مگر بریک آئل نے جب آگ پکڑی تو ہوا میں اڑتی بوتلیں پھٹتی پھلجھڑیاں بناتی دور تک پہنچتے ساتھ کی دکانوں کو بھی لپیٹ میں لینے لک گئیں۔
لوٹ مار کرنے والے مجاہد ہوا ہو چکے تھے۔ کچھ تھوڑا بہت جھلسے بھی۔ کوئی گھنٹہ بھر بعد ایک فرلانگ فاصلہ سے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی پہنچ گئیں۔ رات آٹھ بجے تک آگ پر قابو پا لیا گیا تھا۔ اور اب تماشائیوں کے گروہوں کے ٹھٹھ لگے مذہبی جنونیوں کا فتح کردہ مال غنیمت راکھ کے ڈھیروں اور کہیں کہیں راکھ سے نکلتی چنگاریوں کا تماشا دیکھ یا دکھ درد کا اظہار کر رہے تھے۔ اس راکھ میں کچھ حصہ ہمارے دو تین ہمسائے دکانداروں اور اوپر کی منزل میں کپڑے کے گودام بھی لے چکے تھے۔
میری انیس سال کی شبانہ روز محنت کا اندوختہ راکھ میں بدل چکا تھا۔ اور میں صبح لکھ پتی سے شام ککھ پتی کنگال اور مقروض ہونے کی اصطلاح کی سچائی کا ثبوت بن چکا تھا۔ داستانوں میں پڑھی نا قابل یقین لگتی کہانیاں حقیقت بن سامنے کھڑی تھیں مگر ہم سن تو رہے تھے، دیکھنے نہ جا سکتے تھے۔ لاہور میں بھائی کی دکان کی حفاظت ہمسایوں نے کی تھی اور ان کا گھر بھی محفوظ تھا مگر چنیوٹ والوں کی کوئی خیر خبر نہ تھی۔
ادھر پیپلز کالونی چھ سو دو بی میں ہمارے گھر کا کہرام الگ تھا۔ دوسرے شہروں میں مقیم عزیز احباب کا فکر، گھر میں والدہ، بڑی ہمشیرہ دو چھوٹی بچیاں اور سب سے بڑھ اہلیہ کی کسی بھی وقت متوقع زچگی۔ جان پر بنی تھی۔ اس صدمہ سے بیگم کی طبیعت خراب ہونے کا ڈر۔ وہ مجھے تسلی دیتیں اور میں اس کا حوصلہ بڑھاتا۔ نزدیکی تین چار گلیوں میں پندرہ بیس احمدی گھرانے بھی تھے اور رحمانیہ مسجد سے چند گھر فاصلے پر نماز سنٹر بیت الذکر بھی۔ سارے محلہ میں دکان جلائے جانے اور اب جلوسوں کا رخ گھروں کی طرف ہونے کی اطلاع تھی۔ رحمانیہ مسجد کا لاؤڈ سپیکر الحمدللہ خاموش رہا تھا۔
ہمارا کونے والا گھر تھا اور تمام ہمسائیوں اور محلہ میں سب سے تعلق تھا۔ محلہ میں صرف میرے گھر فون ہونے کی وجہ سے سب کا آنا جانا تھا۔ سب سے پہلے بالکل گھر جیسے تعلق والے ہمسائے قاضی سلیم اللہ کی بیٹی نے ان کا پیغام دیا کہ اجازت دیں ہم آپ کے گھر کا قیمتی اور آسانی سے منتقل ہونے والا سامان اپنے گھر لے جا رکھیں۔ پھر دوسرے پھر تیسرے گھر والے، اور اس طرح سڑک خالی دیکھ بچتے بچاتے اکثر سامان ان گھروں میں جا چکا تھا۔
اکثر دکانداروں اور احباب کے فون ہمدردی، اظہار افسوس یا تازہ صورت حال سے آگاہ کرنے آ رہے تھے۔ میرے ایک نوجوان گاہک ارشد، جو چک جھمرہ سے ممبر قومی اسمبلی میں احسان الحق کا بھتیجا تھا۔ کا فون آیا ”چاچا جی میں نے چچا کی منت کی ہے کہ جو جو ہو گیا سو ہو گیا، اب گھر کو کچھ نہ ہونا چاہیے۔ اور انہوں نے پوری کوشش کا وعدہ کیا ہے“ شام کو میاں صاحب کا خود فون آیا کہ چوہڑ کانہ سے ریزرو پولیس کے دستے پہنچنا شروع ہیں۔ ان میں سے کچھ جوانوں کے لئے کوشش کرتا ہوں۔ مجھے مقامی پولیس پہ اعتماد نہیں۔ بنوں سے تعلق والے دو دکاندار کزن ایک پستول معہ گولیاں مشکل وقت میں حفاظت کے لئے دینے آئے، جنہیں بڑی مشکل سے واپس لے جانے پہ راضی کیا۔ ایک اور بے تکلف دوست میاں انوارالحق آف میاں آٹوز کا فون آیا تو ان سے درخواست کی کہ میری کار لے جا اپنے گھر کھڑی کر لیں۔ دونوں بھائی آئے اور احتیاطاً صفدر نذیر بس والے بابو نذیر کے گھر نمبر پلیٹ اور جنگلہ اتار کھڑی کر آئے۔ کہ اس سے میرے ان کی ملازمت کے دنوں سے محبت تھی۔
اندھیرا ہونے سے قبل چھ پولیس والوں کا ایک دستہ حفاظت کے لئے پہنچ چکا تھا جن کا سالار فیصل آباد پولیس سے تھا اور میری درخواست پر محلہ کا ایک چکر لگا چکا تھا۔ سامنے گھر کے رہائشی، یونائٹڈ بنک برانچ کے مینیجر کی پیشکش پر نظروں سے بچا چپ چپاتے تمام گھر والوں کو ان کے پچھلے دروازے سے ان کے ہاں بھجوا دیا گیا تھا۔
فرض شناس چوہڑ کانہ والے سپاہیوں نے باری باری پہرہ کا پروگرام بنایا مگر فیصل آبادی سالار آرام سے کپڑے بدل کر چھت پہ آ سو گیا۔ مجھے تشفی ہو گئی ورنہ مجھے اس کا رویہ کچھ خوف زدہ کر رہا تھا۔ میرے پاس اب خدشے تھے، سامنے کھڑے اندھیرے تھے، سوچیں تھیں یا دعائیں۔ کچھ اور تو باقی بچا نہ تھا۔
عشاء کی نماز کے بعد ہی نعروں کی گونج سنائی دینا شروع ہو گئی۔ مخالفانہ نعروں کے ساتھ غلیظ زبان۔ ”سرخی پاؤڈر لا کے رکھو۔ سرمہ کجل لا کے رکھو۔ سو ہے جوڑے پا کے رکھو۔ اسی جنج لیاندے پئے آں“ ( ان آوازوں کی گونج آج تک ذہن سے کھرچی نہ گئی ) ۔ چھت پہ کھڑے باہر جھانکا تو ہمارے بزرگ چوہدری ظفراللہ چیمہ کے گھر سے ایک گھر پہلے کھڑے تیس چالیس مجاہدین اپنا اخلاق اور تربیت دکھا رہے تھے۔ پولیس مین چوکنے ہو سامنے کھڑے ہوئے تو وہیں سے مڑتے ایک آدھ گلی میں اپنا لہو گرماتے منتشر ہو گئے۔
دکھ کے دن کے بعد یہ کرب کی رات تھی۔ ایک دن میں کیا ہو چکا تھا۔ انیس برس کی محنت۔ سارا اندوختہ ہی نہیں جلا تھا۔ اس سے بڑھ اس قرضہ کی فکر تھی جو واجب الادا تھا۔ کیا جان بچے گی۔ کیا گھر والے محفوظ رہیں گے۔ باقی عزیز جانے کس حال میں ہیں۔ کون زندہ ہے کون نہیں۔ بچ گئے تو مستقبل کیا ہو گا۔ رات بس ان ہی خیالوں میں، ان ہی سوچوں میں روتے جاگتے رب کے آگے فریاد کرتے کٹی۔ عبادت میں گڑ گڑاتے ہوئے رب کے حضور دعائیں کرنے کے بعد دلجمعی سے مستقبل کے لائحۂ عمل سوچنے میں مصروف ہو گیا۔
کاغذات ساتھ لے آیا تھا۔ حساب کتاب کیا۔ قرضہ کی رقم تقریباً اتنی ہی تھی جتنی مالیت میرے گھر، کار، واجب الوصول ادھار کی رقوم تھی۔ کچھ حوصلہ ہوا کہ انیس سو پچپن کی طرح پھر زیرو پہ آ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس دوران عزیزو اقارب کے محفوظ رہنے اور چنیوٹ ہمشیرہ کی فیملی کو پولیس کے ( بچے ننگے پاؤں اور بچیاں بغیر برقعہ ) ربوہ پہنچا دینے کی بھی خبر بھی کچھ تسلی کا باعث بنی۔ اب میں بیگم اور والدہ کو، ان کو تسلی دینے سے زیادہ خود کو تسلی دیتے کہہ رہا تھا۔
”دعا کریں، جان اور ہوش اور ہمت سلامت رہے۔ انیس سال قبل بھی تین سو پچاس روپے سے شروع کیا تھا، اب پھر وہیں ہیں۔ اب راکھ سے شروع کریں گے۔ اور خدا نے فضل فرمایا تو اس سے آگے نکلیں گے جہاں دو دن قبل تھے۔“ اگلے چند روز میں اندازہ ہو چکا تھا کہ ”حیلے سب جاتے رہے، اک حضرت تواب ہے“ اپنے پرائے سب مکمل بائیکاٹ کر چکے تھے۔ ہر دنیاوی خدا منہ موڑ چکا تھا۔ مگر خدائے بر تر ان دنیاوی خداؤں سے چومکھی لڑتے اصلی خدا کی حاکمیت کے نظارے دکھانے کے لئے ہر دم میرے عزم کو پختہ کرتا جا رہا تھا۔
تیس مئی گزر چکا تھا۔ شہر بھر میں تیس سے زائد دکانیں تین چار پاور لوم فیکٹریاں، سفینہ پرنٹنگ اور ان گنت گھر یا ان کا سامان جزوی یا مکمل لوٹا یا جلایا جا چکا تھا۔ ایک کہانی ختم ہو چکی تھی۔ اگلی کہانی شروع تھی۔ اور یہ عزم نو کی کہانی ہے۔ اور یہ کہانی انسانوں سے توقع کے خاک میں ملنے کی کہانی ہے۔ فضل خدا کی کسی انسان سے مادی مدد ( اخلاقی مدد کے سوا ) نہ لینے دینے کی کہانی ہے۔
ان مہربانوں کے احسانوں کو ہمیشہ یاد کرتے رہنے اور ان کے لئے احسن جزاء اور اجر کے دعائیں کرتے رہنے کی کہانی ہے، جنہوں نے اخلاقی مدد کرتے حوصلہ دیا اور انسانیت کی موجودگی کا احساس دیا۔ اور جن میں سے اکثر بالکل اجنبی تھے۔ کبھی خواب میں بھی نہ سوچی نکلی راہوں کی کہانی ہے۔ اگلے نو دس ماہ تک پاکستان کی شہری زندگی میں احمدی بزنس کے طویل ترین اور سخت ترین ( سوائے ہارون آباد کی ایک آڑھت کے ) بائیکاٹ میں چومکھی لڑتے صرف ایک سال میں دوبارہ پاؤں پر کھڑے ہونے کی کہانی ہے۔
اس تمام جلے ہوئے سامان کو تمام افراد خانہ کی مل کر قابل استعمال یا کبھی بھی فروخت ہو سکنے کا امکان رکھنے والے پرزہ جات کو راکھ کے ڈھیر سے چن صاف کرتے سنبھالنے کی کہانی ہے۔ اور خدا تعالی کے اسی راکھ سے نکلے سامان کو سونا بنانے کے سامان پیدا کرنے کی کہانی ہے۔ قدم قدم پہ بہی خواہوں اور بزرگوں کی میرے حق میں کی دعاؤں اور ان کی قبولیت کے نشان دیکھنے کی کہانی ہے۔
اگلے چند روز میں سید طاہر احمد شاہ ممبر پنجاب اسمبلی آف طاہر آٹو موبائلز حفاظت کی اپنی ذاتی ضمانت پر راج مزدور شٹر اور لکڑی کا کام کرنے والے بھجوا کر ضروری مرمت اور نئے شٹر اور اور سادہ سی الماریاں بنا لگوا قابل استعمال ہونے میں مدد دے چکے تھے۔ میاں احسان کی کوششیں ٹیلیفون بحال کرانے میں کامیاب ہو چکیں تھیں اور آج کا آن لائن کاروبار میں پچاس سال قبل شروع کر چکا تھا۔ فون پر آرڈر اور دکاندار کے گھر یا بتائی جگہ پہ کار پہ سامان پہنچانا۔
دس جون کو خدا تعالی مجھے بیٹے سے نواز چکا تھا۔ اور اگلے روز میں دکان کے سامنے لگے ڈھیر میں سے چن چن کے قابل فروخت اشیاء ڈھونڈ رہا تھا کہ سامنے نیو کلاتھ مارکیٹ ایک دکاندار طنزیہ مسکراتے ”ہونہہ“ کر کے نکلا۔ تو بے ساختہ میرے منہ سے بہت اونچی آواز میں یہ الفاظ نکل گئے۔ ”یقین رکھیں بہت جلد پہلے سے آگے نکل دکھاؤں گا“
پانچ سال بعد چشم فلک دنیا کو مجھے پندرہ مرلہ کے گھر سے دو کنال کی ماڈرن کوٹھی میں منتقل ہوتے دکھا رہی تھی اور پانچ فروری چھیاسی کو رفیق اینڈ برادرز اپنے قیام کی اکتیسویں سالگرہ والے دن جنرل بس سٹینڈ کے سامنے اپنی ملکیت چار دروازوں والی دس مرلہ رقبہ کی دکان کا افتتاح کی تقریب ان بائیکاٹ کرنے والوں سے اکثریت کے شامل ہوتے مبارک باد وصول کرتے منا رہی تھی۔ اور بڑے سے سائن بورڈ کے اوپر والے دائیں کونے پر ”قائم شدہ انیس سو پچپن، عزم نو، انیس چوہتر۔“ درمیان میں ”خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ“ اور بائیں کونے میں، ”ہمارا ماٹو، حمد اور عزم“ لکھا ہوا تھا۔ ( وہی جو دکان جلنے کے بعد لگنے والے بورڈ پہ تھے )
جنرل ضیاء دور میں دوبارہ شروع ہو چکی اور بڑھتی جاتی مذہبی شدت پسندی اور جنونیت نے نوے کی دہائی میں پاکستان کے مستقبل کے متعلق سوچوں نے جنم دیا تو بھریا میلہ چھوڑ 2001 کے اواخر میں کینیڈا آ دوبارہ نئی زندگی شروع کی۔ مذہبی رواداری، برابری، قانون کی کی حکمرانی، احترام باہمی اور یگانگت کے ماحول کی زندگی۔ سکون کی زندگی۔ حاکمیت کی بجائے رعایا کی خدمت کی حکمرانی کی زندگی۔ قدم قدم پہ گڑھوں کی بجائے ہموار کارپٹ شدہ سڑک پہ چلتی کار کی طرح ہموار راہوں والی زندگی۔
اور دکان جلنے کی سالگرہ اب برسی نہیں امن اور سکون اور اطمینان کی زندگی کے لئے ایک قدرتی انتظام لگتی یوم تشکر بن چکی ہے۔
ہاں پچھلے سال سے تیس مئی اور نو مئی کو ایک دوسرے سے مشابہ دیکھتے کبھی کبھی یہ سوال ذہن میں اٹھنا شروع ہے کہ یہ ایک ہی کتاب کا دوسرا ایڈیشن تو نہیں۔ ترمیم و اضافہ کے ساتھ۔


