کراچی یاترا قسط نمبر۔ ایک
ماسی چپراسی کلچر سے آ گاہی
ماسی چپراسی کلچر سے ذاتی طور پر آگاہی ہو رہی ہے۔ اپ کو کھانے کی میز پر بیٹھنا ہے، کھانا ہے اور کھا کر اٹھ جانا ہے۔ آپ پلیٹیں وغیرہ خود سے کچن سینک میں رکھیں گے تو اپ کو ٹوکا جائے گا اور طعنہ بھی مل سکتا ہے کہ یہ کینیڈا نہیں ہے۔
ناشتے میں پراٹھے بہت زبردست تھے۔ بالکل ایسے پراٹھے جو میں بچپن سے اپنے گھر میں پکتے اور کھاتے آیا تھا۔ طبیعت خوش ہو گئی اور ماضی یاد آ گیا۔ پتہ چلا کوئی خاتون اپنے گھر سے پراٹھوں کا یہ بزنس کرتی ہیں۔ یہ ان کی سپیشلٹی ہے اور ان کا کام بہت اچھا چل رہا ہے۔
آج بازار سے روٹی آئے گی کہ آج روٹی پکانے والی آئی نہیں ہے۔ اس نے واٹس اپ پر خاتون خانہ کو میسج کر دیا ہے۔ خاتون خانہ بل کھا رہی ہیں، غصہ کر رہی ہیں، لیکن کچھ کر نہیں سکتیں۔ ماسی مافیا کے اگے وہ بھی بے بس ہیں
کلوا مجھے بھائے نہ کلوا بنا چین نہ آئے
اپ کو کپڑے دھلوانے ہیں تو ٹوکری میں ڈال دیں۔ کپڑے دھونے والی ایک روز چھوڑ کر آتی ہے، استری کرنے والی الگ ہے، روٹی پکانے والی الگ ہے، جھاڑو پوچے والی الگ ہے۔ بلے بلے۔ میں اپنی طبیعت اور سوچ میں انقلابی تبدیلیاں محسوس کر رہا ہوں۔ میں اگر خود سے کام نہ کروں تو میری اس کاہلی یا ”نوابی“ سے کتنے لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ ثواب بھی ہے، کمیونٹی کی خدمت بھی ہے اور کمیونٹی کی خدمت تو ہمارا اولین فریضہ ہے۔ ایک اور بلے بلے
آج صبح ایک دو جگہ لوگوں سے ملنے جانا تھا، ملاقات کا وقت اور جگہ سب طے تھی لیکن پروگرام منسوخ کرنا پڑا کہ ڈرائیور صاحب بیمار ہیں۔ لو کر لو گل۔
جن سے ملنا تھا، ان کو فون کر کے معذرت کرنی پڑی۔ بہت کوفت ہوئی لیکن کیا کیا جائے۔ یہ کوفت دوسرے دن کافی حد تک دور ہو گئی جب اگلے دن پروگرام کے مطابق دوسری پارٹی نہ تو ملنے آئی اور نہ ہی اطلاع دی۔ بعد میں بتایا ”میں بھول گیا تھا“ ۔ اللہ اللہ خیر صلا
مسئلہ چائے کا
صبح کا وقت ہے۔ چائے بننا مشکل ہے کہ گیس کا پریشر کم ہے۔ گیس پریشر یہاں کی زندگی کا اٹوٹ انگ لگ رہا ہے۔ گیس پریشر نہیں تو گیزر بند ہو جائے گا اور اس کے اثرات دوسری صبح پتہ چلیں گے اور دیر تک پتہ چلتے رہیں گے (برائے مہربانی اس گیس پریشر کو معدہ کے گیس پریشر اور پیناڈول سے کنفیوز نہ کریں، معدہ کے گیس پریشر کی اہمیت اپنی جگہ ہے اور یونیورسل ہے، جس کا زماں و مکاں سے کوئی تعلق نہیں ہے ) ۔
یہ پریشر کب بحال ہو گا یا بحال بھی ہو گا، کچھ پتہ نہیں۔ جیسے نئے الیکشن کا پتہ نہیں، آئی ایم ایف کی قسط کا پتہ نہیں، نئے انتخابی اتحاد کا پتہ نہیں، خانصاحب نا اہل قرار پائیں گے یا نہیں، توشہ خانہ۔ وغیرہ وغیرہ۔ سب غیب میں ہے اور غیب پر یقین ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ گیس پریشر کے مزید اثرات دوسری صبح نمودار ہوئے جب باتھ روم میں گرم پانی کی فراہمی معطل ہو گئی۔
۔ کسی کو کسی چیز کا پتہ نہیں ہے لیکن جب بات کرے گا تو آس طرح کہ موصوف اس شعبہ کے چیمپیئن ہیں۔ ماشاءاللہ، الحمدللہ لیکن حقیقتاً انا للہ۔
کوئی مہنگائی سی مہنگائی ہے۔ ایک ننھا سا انار۔ 119 روپے کا۔ ایک انار اور سو بیمار والا محاورہ صحیح معلوم ہو رہا ہے۔ دل ہی دل میں توبہ کی کہ آئندہ بازار میں چیزوں کے دام پتہ نہیں کروں گا انشاءاللہ کہ بلڈ پریشر میں فوری اضافہ ہوتا ہے۔ بلڈ پریشر میں کسی نہ کسی بات پر ہر روز مہنگائی کا طرح اضافہ ہوجاتا ہے ۔
گزشتہ شام ایک شادی کی تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا۔ تقریب کا وقت 8 بجے تھا، ہم اپنے حساب سے دیر سے یعنی ساڑھے 8 بجے پہنچے۔ تاخیر کی وجہ سے دل میں شرمندہ تھے۔ لیکن وہاں پہنچ کر دیکھا کہ ہال خالی ہے۔ دولہا میاں ابھی فوٹو شوٹ سے فارغ ہو کر گھر تیار ہونے گئے ہیں۔ وقت گزرتا رہا، ہم خود کو بہلاتے رہے، ادھر ادھر کا جائزہ لیتے رہے، جو آ گئے ان کی گفتگو سنتے رہے۔ خواتین و حضرات کی تیاری۔ دولہا کے دوستوں کے ایک جیسے شلوار سوٹ، جیکٹیں، خواتین کے بھڑکیلے لباس (زیادہ تر ڈیزائنر کے تیار کردہ) بیوٹی پارلر سے تیاری، شادی ہال کی آرائش، قمقمے، تازہ پھولوں سے آراستہ سٹیج اور بعد میں پر تکلف کھانا۔
مجھے بہت اطمینان ہوا کہ پاکستان میں نہ تو غریبی ہے اور نہ ہی ملک کسی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ یہ میڈیا وغیرہ سب بکواس کرتے ہیں۔ خدا خدا کر کے 11 بجے کھانا لگا۔ 12 بجے کے بعد فراغت ہوئی۔ کوئی جلدی نہیں ہے۔ صبح سویرے اٹھنے کا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ ماسی بھی 12 بجے کے بعد آتی ہے۔ فجر کے بعد نیند کی ایک اور شفٹ آرام سے لگ سکتی ہے۔
ذاتی، خاندانی اور سماجی تعلقات
دو چار دن میں ہی اندازہ ہو گیا کہ ذاتی، خاندانی اور سماجی تعلقات قریب قریب ختم ہو کر رہ گئے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے سے ملنے کے رودار نہیں۔ ہر ایک کو ہر ایک سے شکایت ہے۔ شکایات کیا ہیں؟ وہ ملنا نہیں پسند کرتے، فون نہیں کرتے، خیر خیریت نہیں پو چھتے۔ بچے کی شادی پر نہیں بلایا، میں عمرہ سے آیا تو مبارکباد تک نہیں دی، دولت کا غرور ہو گیا، بچے اچھی جگہ پڑھ رہے ہیں مزاج ہی نہیں ملتے وغیرہ وغیرہ
جب پوچھا کہ بھائی وہ اگر ملنے سے یا بات کرنے سے کترا رہے ہیں تو آپ خود رابطہ کر لیں تو کہا کہ ہم کوئی گرے پڑے ہیں کہ مان نہ مان میں تیرا مہمان۔ اس کے ساتھ ہی جناب نے اپنی مصروفیات کی ایک لمبی چوڑی فہرست پیش کر دی۔ لو کر لو گل
ہر لمحہ ایک تازہ شکایت ہے اپ سے
واللہ مجھ کو کتنی محبت ہے اپ سے
کچھ ایسا لگ رہا ہے کہ لوگ بے حس ہوتے جا رہے ہیں۔ دلوں میں گنجائش اور محبت کم بلکہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ پہلے ہر خاندان میں ایک دو بزرگ ہوتے تھے۔ عید، بقرعید اور دوسرے مواقع پر بزرگوں کے پاس حاضری ضروری سمجھی جاتی تھی۔ زمانہ بدل گیا ہے۔ جہاں ایک آدھ جگہ بزرگ باقی ہیں بھی تو وہ اپنی جگہ رل رہے ہیں، کوئی پو چھنے والا نہی۔
پہلے گھروں میں میلاد، افطاری، روزہ کشاء اور بچے کی بسم اللہ وغیرہ کی تقاریب ہوتی تھیں اب وہ سلسلہ ختم ہو گیا۔ اس کی ایک وجہ مہنگائی بھی ہے، لیکن دیکھا جائے تو اب مادیت پرستی غالب ہے سوشل میڈیا نے لوگوں کو تنہا کر دیا ہے۔ ماسی چپراسی کلچر میں ہر شخص اپنی جگہ حکمراں ہے۔ شو بازی پر وقت اور پیسے کے زیاں بے دریغ ہو رہا ہے۔ ہر شخص ایک دوسرے سے اگے نکلنے کے چکر میں لگا ہوا ہے۔
کراچی، ایک جادوئی شہر
کسی سیانے کا کہنا ہے کہ کسی شہر کا ٹریفک اس کی سماجی زندگی کا عکاس ہوتا ہے۔ یہ بات سو فیصد دل کو لگی جب اس دفعہ مجھے کراچی کے ٹریفک کا تجربہ ہوا۔ گاڑیوں، بسوں، رکشوں اور خاص طور سے موٹر سائیکل والوں کا ہجوم جو ہر طرف سے چلا آ رہا ہے۔ ون وے کی بھی کوئی پابندی نہیں ہے، جس طرف جس کو موقعہ ملتا ہے اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل گھسا دیتا ہے۔ گاڑیوں میس سوار لوگ شیشے کھول کر ایک دوسرے کو لعنتیں دکھا رہے ہیں۔ لیکن کسی کو ایک دوسرے کی پرواہ نہیں ہے۔ جگہ جگہ ٹریفک جام۔ آدھے گھنٹے کا سفر میں دو دو گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ بے تحاشا پیٹرول ضائع ہوتا ہے جب کہ پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
ایک چھوٹی سے موٹرسائیکل پر 5 لوگوں کی فیملی سوار ہے میاں بیوی اور تین بچے۔ یہ ایک عام بات ہے۔ ظاہر ہے خوشی سے نہیں، مجبوری کا سودا ہے۔ میں تو صرف یہ سوچتا رہا کہ یہ تین بچے جب بڑے ہوں گے تو کس قسم کے شہری بنیں گے؟ نڈر، لاپرواہ، قانون شکن؟ کیا انہیں اپنی جان یا کسی اور جان کی پرواہ ہو گی۔
صفائی نصف ایمان ہے۔ شہر کراچی کی صفائی کی دیکھ کر تو نصف ایمان وہیں داؤ پر لگ گیا۔ باقی نصف ایمان اس وقت داؤ پر لگ گیا جب ایک جاننے والے کے ساتھ سرکاری دفتر جانا ہوا۔ انہیں اپنے فلیٹ کے کاغذات اپنے نام پر رجسٹر کرانے تھے۔ سرکار کا سٹامپ پیپر ڈھائی ہزار روپے۔ 25 ہزار روپے ”غیر سرکاری فیس“ ۔ لو کر لو گل۔
مجھے اطمینان تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے۔ یہ 2 ٹکے کے بے ایمان سرکاری اہلکار اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ویسے بھی ایک دو کو چھوڑ کر ساری مسلم امہ ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔ ہمیں صرف انڈیا کو قابو کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔ کیا خیال ہے؟
کراچی بہت کچھ ہے اور بہت کچھ نہیں ہے لیکن میرے حساب سے ایک جادوئی شہر ہے۔ جیسے جیسے شام کے سائے پھیلتے ہیں، شہر کی گندگی غائب ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ پورا شہر ایک فوڈ کورٹ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ہر فٹ پاتھ پر اور جہاں فٹ پاتھ بھی نہیں، سڑک کے کنارے کرسیاں لگنا شروع ہوجاتی ہیں۔ کہیں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہے۔ نہ کہیں مہنگائی ہے، نہ لوگوں کے مسائل ہے۔ خوش گپیاں چل رہی ہیں۔

