ایک دن تہران میں (1)


آوارہ مزاج، حساس طبیعت، شوقِ آوارگی، کتابوں سے انسیت، دست قدرت کی دستکاریوں، شاہ کاریوں کو دیکھنے کی لگن نے مجھے تہران کے سفر پر آمادہ کیا۔ جب ہم پرائمری سکول میں پڑھتے تھے۔ اردو کی کتاب میں اک سبق ”ریل کا سفر“ پڑھایا جاتا تھا۔ صفحے پر نقش ریل کی تصویر میں قطار در قطار لوگ ریل میں سوار ہونے کے لیے تیار، قلیوں کے ہجوم سامان اٹھانے کے لیے موجود، کوئی ریل کی کھڑکی سے باہر ہاتھ ہلاتے ہوئے، اس وقت وہی تصویر اور چند سطر ”ریل کے سفر“ کے بارے پڑھ کر سوچتا تھا کہ کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو ریل کا سفر کرتے ہیں۔

پھر گردش ایام نے ہمیں بھی ریل میں سفر کرنے کا موقع فراہم کیا۔ جب سے ادب و شاعری کا مطالعہ شروع کیا تب سے ریل کے ساتھ اک رومانوی، اُداسی، جدائی سے مربوط خیالات کے بہاؤ قائم ہے۔ ریل کی سیٹی، ریل کی کھڑکی سے کسی کی جدائی کا منظر، اک انجان اسٹیشن پر کسی شخص کا انتظار، کتابوں میں پڑھ کر ہی اُداس ہو جایا کرتا ہوں۔ صبح چار بجے ہم ”راہ آہن“ قم المقدس ”ایران کے ریل سٹیشن پر موجود تھے۔ پینتالیس منٹ بعد ریل نے تہران کی طرف چلنا تھا۔ فضا نیم تاریک تھی۔ سوچتا رہا کہ کراچی سے کبھی ریل میں سفر کر کے راولپنڈی جایا کرتا تھا۔ دھول، مٹی سے اٹی ہوئی اسٹیشن، نہ پینے کا پانی، نہ کوئی بیت الخلاء کا نظام، نہ انتظار میں بیٹھنے کے لیے کوئی لاونج، نہ کوئی بینچ، نہ کوئی کرسی۔

لیکن یہاں ایران قم میں موجود ریل کا سٹیشن نہایت صاف ستھرا، پینے کے لیے پانی کا کولر لگی ہوئی ہے۔ خواتین و حضرات کے لیے جدا جدا بیت الخلاء، نماز خانہ، انتظار میں بیٹھنے کے لیے بہترین لاونج، بہترین کرسیاں۔ کیا خوب نظام ہے۔ صبح تقریباً 7:30  بجے ہم تہران ریلوے سٹیشن پر اترے۔ بالکل ریلوے سٹیشن سے ہی متصل، کچھ قدم کے فاصلے پر اندرون تہران میں چلنے والی میٹرو بس کی ایستگاہ تھی۔ ہم ٹکٹ لینے کے لیے لائن میں کھڑے ہو گئے جب ٹکٹ لینے کا وقت آیا تو ہمارے پاس نقد پیسے تھے اور قم میں زیر استعمال کارڈ تھی جو تہران میں قابل استعمال نہیں تھی۔ نقد پیسے ان کے لیے قابل قبول نہیں تھے۔ اتنے میں ایک فیشن ایبل خاتون آئی، وضع و قطع میں فرنگی خاتون لگتی تھی۔ ہمارے ٹکٹ بھی اس نے اپنے کارڈ سے ہی ڈن کیے۔ ہمارے اصرار کے باوجود ہم سے پیسے قبول نہیں کیے۔ میٹرو بس اندرون تہران میں سفر کے لیے نہایت آرام دہ ہیں۔ تہران دنیا کے انتہائی مصروف ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ یہاں موٹر کاروں، گاڑیوں کی تعداد حد سے زیادہ ہے۔ ٹریفک نہایت ہی گمبھیر ہے۔ ایسے میں عمومی وسائل نقل و حمل ٹریفک کی درد سری اور ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کا بہترین طریقہ ہے۔

ہم تہران کے کتابوں کی مارکیٹ میں پہنچے ”انتشارات مولی“ جو عرفان و تصوف کی کتابوں کے حوالے سے معروف ہیں۔ ہم دکان میں داخل ہوئے اور عرفان و تصوف بالخصوص سلسلہ کبرویہ و زہبیہ، نوربخشیہ کے بزرگان دین کی کتابوں کو ڈھونڈ رہے تھے۔ اتنے میں ایک شوخ و چنچل نوعمر لڑکی، لباس و وضع و قطع میں فرنگی لگ رہی تھی۔ زلفِ پریشاں شانوں تلے دراز، آنکھوں میں شوخی، لب پر مختصر سی مسکراہٹ لیے ہم جس سمت کھڑے تھے۔ وہیں آ کر رک گئی اور کتاب فروش سے پوچھنے لگی نور بخش کی کتابیں کون سی شیلف میں ہے۔ دکان دار نے ہماری طرف اشارہ کیا کہ یہ لوگ بھی نور بخش کی کتابیں ڈھونڈ رہے ہیں۔

لڑکی نے شیلف سے جمشید جلالی کی شاہ سید محمد نور بخش رح کی حالات و افکار پر لکھی ہوئی کتاب ”آئینہ جمال افکار و میراث معنوی شاہ سید محمد نور بخش“ کو اٹھایا اور اوراق پلٹانے لگی۔ میں سوچتا رہا شاید اس لڑکی کا تعلق بھی کہیں سلسلہ ذھب سے تو نہیں۔ میں سوچ ہی رہا تھا اتنے میں لڑکی نے کتاب شیلف میں دوبارہ رکھنے کی کوشش کی پر بلندی پر ہونے کی وجہ سے کامیابی نہیں ملی ہمارے دوست حضرت حافظی نے کتاب اٹھا کر شیلف میں رکھ دی۔

لیکن ہمارے درمیاں گفتگو کا سلسلہ چل نکلا۔ میں نے اس لڑکی سے پوچھا آپ نوربخشیہ کے بارے جانتی ہو؟ بلا توقف اس نے مجھ پر سوال داغ دیا کہ ”شما نعمت اللہی ہستید“ یعنی آپ کا تعلق سلسلہ نعمت الہی سے ہے؟ میں نے اپنا تعارف پیش کیا تو لڑکی نے ہلکی سی تبسم کر کے کہنے لگی کہ میں اور میری کچھ سہیلیوں کا تعلق سلسلہ نعمت اللہی سے ہے۔

باتوں باتوں میں میری حیرت و استعجاب میں اضافہ ہو رہی تھی۔ اک طرف اتنی فیشن ایبل، فرنگیانہ لڑکی، اک طرف عرفان و تصوف کے بارے میں مطالعہ کی سنجیدگی۔ یہاں سے آپ ایرانی قوم کی فکری و تعلیمی سطح کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ظاہری وضع و قطع سے کافرانہ لڑکی دل میں بزرگان دین کی محبت لیے دکانوں کے خاک چھان رہی تھی۔ ظاہری حال دیکھ کر کیا فیصلہ کرنا کون بشر ہے اللہ ہی جانے۔ اک طرف ٹرین کی روانگی کا وقت ہونے والا تھا اک طرف نرم و گداز لہجے میں ببخشید کی صدا ابھر رہی تھی۔ نہیں معلوم اک انجان لڑکی سے اتنی سنجیدہ باتیں دل کی تاریں ہلنے، دھڑکن تیز ہونے کا باعث بن رہی تھی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments