تین برس پر محیط روز عاشورہ


وہ دسویں محرم کا اداس دن تھا، فضا میں نازبو اور اگربتیوں کی سوگوار مہک تھی، رہ رہ کے گلیوں سے سلام یا حسین کی صدائیں بلند ہو رہی تھی، وہ مذاہب کے گورکھ دھندے سے تو ناواقف تھی مگر کربلا کے صحرا میں قتل ہوئے قافلے سے عقیدت اسے ورثے میں ملی تھی،

اس روز اس نے اپنی گڑیا کو بھی سوگ کا لباس پہنایا تھا، پیاسے قتل ہوئے امامِ انقلاب کو پرسا دینے کے لئے اس نے اپنے باپ سے مل کر سبیل بنائی، وہ ایک ہندو لڑکی تھی جو مسلمانوں کے رسول کے نواسے کا سوگ منانے والوں کو سبیل پلانے گھر سے نکلی تھی، مگر پھر وہ اپنے گھر کبھی واپس نہیں لوٹی،
وقت رخصت اس کی ماں نے اس کے سوگدار دوپٹے کے پلو میں کچھ دعائیں بھی باندھی تھی، جن دعاؤں کا دم گھٹتا ہے اب، اس دن سے اس کے گھر میں صفِ ماتم بچھی ہے، تین سال پہ محیط عاشورے کا ایک طویل دن ہے جو ختم نہیں ہوتا، اس کی گُڑیا نے ابھی تک وہ سیاہ لباس پہنا ہے جو اس نے دسویں محرم کے دن اسے پہنایا تھا، اب اس کی گڑیا کو اس سے بچھڑنے کا بھی دکھ ہے۔

رواں سال وسط مارچ میں سوشل میڈیا پر ایک ماں کی وڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں وہ ہاتھ جوڑے سر جھکائے روتے کہہ رہی تھی، ”میں سوشل میڈیا پر نہیں ہوں تو کیا میں ماں نہیں ہوں، میں اپنی بیٹی کے لئے دو سال سے رو رہی ہوں، میں ہاتھ جوڑتی ہوں میری بیٹی مجھے آزاد کروا دیں“

یہ سسکیاں لیتی وڈیو ضلع سکھر کے چھوٹے سے گاؤں سنگرار سے 19 اگست 2021 عاشورے کے دن عزاداروں کو سبیل پلاتے لاپتا ہوئی سات سالہ ہندو بچی پریا کماری کی والدہ مینا کماری کی تھی۔ اس وڈیو نے پریا کماری اغوا کیس کی بجھی ہوئی راکھ میں چنگاری بھڑکا دی، ایک ہی دن میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پریا کماری کی آزادی کے لئے اسٹیٹس لگائے۔ ہزاروں افراد نے پریا کی تصویر کو اپنی پروفائل ڈی پی بنایا، سندھ کے ہر چھوٹے بڑے شہر گاؤں قصبے میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، ہزاروں لوگوں نے پریا کماری کی آزادی کے لئے دھرنے دیے۔ پریا کماری اغوا کیس ہائی پروفائل کیس بن گیا، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ جس گاؤں سے پریا اغوا ہوئی تھی وہاں کوئی احتجاج نہیں ہوا۔

سوشل میڈیا پر پریا کماری کے نام سے چلنے والے ٹرینڈ کے دنوں، سوشل میڈیا پہ پریا کماری کیس سے متعلق ایک یہ بات بھی سامنے آئی کہ پریا کماری سنگرار کے ایک با اثر سردار کی حویلی میں قید ہے، کچھ لوگ کھل کر اس سردار کا نام بھی لکھنے لگے جو مضبوط سیاسی پس منظر رکھتا ہے۔ پریا کماری اغوا کیس کے سلسلے میں اچھی ساکھ رکھنے والے سندھی صحافی، سندھی اخبار روزانہ کوشش کے ایڈیٹر نعمت کھہڑو (نعمت کھہڑو کو 7 جون پہ روزانہ کوشش کی ایڈیٹر شپ سے فارغ کر دیا گیا ہے) نے اپنے ایک وی لاگ میں وہ انکشافات کیے جو پہلے کبھی اِس کیس میں سامنے نہیں آئے تھے۔

24 اور 25 مارچ کے اپنے وی لاگ میں نعمت کھہڑو نے کہا ”زاہد شاہ نامی مقامی سردار نے پریا کماری کی والدہ مینا کماری کو دوستی رکھنے کو کہا مگر مینا کماری نے انکار کر دیا، زاہد شاہ مسلسل دوستی کے لئے اصرار کرتا رہا اور مینا کماری مسلسل شاہ کی دوستی کی پیشکش کو مسترد کرتی رہی، جس پر زاہد شاہ نے مینا کماری کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی تھی، نعمت کھہڑو نے زاہد شاہ کا نام لے کر کہا پریا کماری زاہد شاہ کی حویلی میں قید ہے، سنگرار کے سارے لوگوں بشمول پریا کماری کی والدہ مینا کماری اور والد راج کمار کو بھی اس بات کا علم ہے‘‘۔

اس وی لاگ کے بعد 2 اپریل کو سکھر پریس کلب میں سنگرار، سکھر، روہڑی کے ہندو پنچایت کے مکھیوں نے ایک پریس کانفرنس کی جس پریس کانفرنس میں پریا کے والد راج کمار بھی مکھیوں کے بیچ میں بیٹھے تھے، ڈرے سہمے سر جھکائے بیٹھے راج کمار نے اس پریس کانفرنس میں زیادہ بات نہیں کی، یا اس کو بات کرنے نہیں دی گئی۔

مکھیوں نے زاہد شاہ پر لگنے والے الزامات کو مسترد کیا، اور کہا ”مینا کماری اور زاہد شاہ پہ الزام لگا کے انہیں بدنام کیا جا رہا ہے، الزامی تراشی کرنے والوں کے خلاف ہم قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ ایک صحافی کی طرف سے پوچھے گئے سوال ”پریا کماری کی والدہ مینا کماری اس پریس کانفرنس میں شریک کیوں نہیں ہے“۔ پریا کماری اغوا کیس مینا کماری کی وائرل وڈیو کی وجہ سے ہی ہائی پروفائل کیس بنا تھا اور زاہد شاہ کی مبینہ دوستی کی پیشکش کی بات بھی انہی سے وابستہ تھی۔

سوال کے جواب میں مکھیوں نے کہا ”ہم پردے دار لوگ ہیں پریا کی والدہ پر بے بنیاد الزام لگ رہے ہیں جن کی وجہ سے اُس نے میڈیا کے سامنے آنے سے معذرت کی ہے۔“

جب کے سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ مینا کماری کو میڈیا سے بات کرنے نہیں دی جا رہی۔ پریا کماری کی بازیابی کے لئے لگنے والے دھرنوں اور مظاہروں پر طنز کرتے مکھی نے کہا ”تین لوگ آتے ہیں قومی شاہراہ بند کرتے ہیں چوتھا بندہ تک ان کے ساتھ نہیں ہوتا“

اس پریس کانفرنس میں پریا کماری کے والد راج کمار نے صرف اتنا کہا ”ہم سائیں کے گاؤں میں بیٹھے ہیں، ہمیں شاہوں پہ کوئی شک نہیں، شاہوں نے پہلے بھی ہماری مدد کی ہے اب بھی کر رہے ہیں“۔ سکھر میں کی گئی مکھیوں کی پریس کانفرنس کے دو دن بعد پریا کماری اغوا کے الزام میں آئے ہوئے زاہد شاہ کے چھوٹے بھائی شاہد شاہ نے سنگرار کی ہندو پنچایت کی موجودگی میں اپنی اوطاق پہ ایک پریس کانفرنس کی جس میں ایک ہی صوفا پہ شاہد شاہ کے دائیں جانب پریا کماری کے والد راج کمار اور بائیں جانب سنگرار کا مکھی واسو مل بیٹھے تھے۔

شاہد شاہ نے اس پریس کانفرنس میں کہا ”پریا ہماری بچی ہے، یہ ظلم پریا کے ساتھ نہیں ہمارے ساتھ ہوا ہے، پریا کی والدہ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جو الزام لگائے جا رہے ہیں وہ بے بنیاد ہیں، جھوٹ ہیں، وہ خاتون پہلے بھی ہماری بہن تھی اب بھی ہماری بہن ہے“

شاہد شاہ کی پریس کانفرنس میں راج کمار نے اپنی وہ ہی رٹی ہوئی بات دہرائی جو وہ دو دن پہلے سکھر میں کر چکے تھے،

مکھی نے کہا ”سنگرار کے سید ہمارا سائباں ہیں ہمارے بڑے ہیں“

مکھی نے شک ظاہر کرتے کہا ”ہر سال ہمارے گاؤں میں ایک خانہ بدوش قبیلہ آتا تھا جو کچھ ماہ قیام کے بعد چلا جاتا تھا، جن دنوں پریا اغوا ہوئی ان دنوں وہ خانہ بدوش قبیلہ سنگرار میں موجود تھا، جس دن پریا اغوا ہوئی اسی رات وہ خانہ بدوش قبیلہ راتوں رات سنگرار چھوڑ کر چلا گیا، جو تین سال گزرنے کے بعد بھی واپس نہیں آیا“

پریا کماری کیس کو باریکی سے دیکھنے اور فالو کرنے والے لوگوں کا خیال ہے مکھی کا بیان کیس کا رخ اصل حقائق سے موڑنے کے لئے دلوایا گیا ہے۔ راج کمار اور سنگرار کے ہندو دباؤ میں ہیں۔ جب کے راج کمار اور سنگرار کے ہندؤں کی طرف سے دباؤ کی نفی کی گئی ہے۔ پریا کماری اغوا کیس پہ سارا سندھ سراپا احتجاج تھا مگر سنگرار میں ایک مظاہرہ تک نہیں ہوا، نا ہی پریا کماری کی بازیابی کے لئے ہونے والی جدوجہد میں ہندو کونسل کبھی نظر آئی ہے۔ پریا کماری اغوا کیس کی حیران کن بات یہ بھی ہے کہ پریا کے والدین کو کبھی بھی تاوان کے لئے نا کوئی فون آیا نہ ہی کسی نے کوئی رابطہ کیا ہے

سندھ ہائی کورٹ نے پریا اغوا معاملے کا سو موٹو لیا تھا۔ دو جے آئی ٹیز بنیں۔ دوسری جے آئی ٹی کے سربراہ ڈی آئی جی جاوید جس کا نی نے پہلے میڈیا کو بتایا ”پریا کیس میں کچھ کلوز ملے ہیں، پہلی جے آئی ٹی نے اپنا کام ٹھیک سے نہیں کیا تھا“

4 اپریل کی اپنی پریس کانفرنس میں جے آئی ٹی سربراہ ڈی آئی جی جاوید جس کا نی نے کہا ”دعا کریں کہ بچی زندہ ہو، اور ہمیں بھی دعا کریں اس کیس میں کامیابی ملے“

دعاؤں کی درخواست کے بعد جے آئی ٹی خاموش ہو گئی ہے، دعاؤں سے اگر انصاف مل جاتا تو دنیا میں آج کوئی مظلوم نہیں ہوتا۔ پریا کیس اب بھی وہیں ہے سوشل میڈیا کے ٹرینڈ میکرز اور ٹرینڈ فالوورز خاموش ہو گئے ہیں۔ انصاف خاموش ہے، حاکم خاموش ہیں، اس گہرے سناٹے میں ایک بے بس ماں کی آہوں کی آواز ہے جو مسلسل سسک رہی ہے، جس کی بچی پچھلے تین سال سے لاپتا ہے، مگر اتنا سناٹا ہے کہ اس سناٹے میں ایک مجبور ماں کی سسکیوں کی بازگشت کسی کو سنائی نہیں دیتی۔

اس کے گھر میں تین سال سے طاری دسویں محرم کا طویل دن ڈھلتا ہی نہیں ہے۔ سندھ کے اہل علم سمجھتے ہیں پریا اپنی ماں کی زبان میں قید ہے، وہ ماں جو اپنی بیٹی کے لئے روتی سسکتی ہے مگر زبان کی گرہ نہیں کھول سکتی۔

 

Facebook Comments HS