شکست تخت پہلوی (5) ۔ آیت اللہ خمینی


روح اللہ خمینی 24 ستمبر 1902 میں ایران کے ایک چھوٹے سے گائوں خمین میں متولد ہوئے۔ ان کی پرورش ایک اونچی دیواروں والے کمپاونڈ میں گارڈز اور ملازموں کے درمیان ہوئی۔ ان کے خاندان کا یہ ماننا تھا کہ ان کا شجرہ پیغمبر محمد کے سلسلے کے ساتویں امام سے ملتا ہے اس لیئے انہیں ’سید’ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ سید علما سیاہ عمامے پہنتے تھے اور معاشرے میں ان کی تکریم تھی۔

سترہ صدی عیسوی میں خمینی کا خاندان پرشیا سے ہجرت کر کے انڈیا چلا گیا جہاں اس وقت برطانوی راج تھا۔ وہ لکنھنو کے پاس ایک چھوٹے سے شہر کے ایک شیعہ محلے میں رہنے لگے۔ ان کے اجداد میں سے ایک احمد خمینی 1834 میں واپس پرشیا آ گئے۔ ان کے ایک بیٹے مصطفے کے چھے بچوں میں سے ایک روح اللہ تھے وہ صرف چار ماہ کے تھے جب ان کے والد کو وحشیانہ طور پر ایک مقامی جنگجو نے حملہ کر کے ہلاک کر دیا۔ ان کا بچپن ملک میں آئینی بحران، خانہ جنگی اور غیر ملکی تسلط میں گذرا۔ پرشیا کے دیہاتی علاقے غیر محفوط اور لا قانون تھے۔ روح اللہ نے کمسنی میں ہی ان حالات کو پرکھنا شروع کر دیا تھا۔

مذہبی تعلیم شہر’قم’ میں حاصل کی اور ’مجتہد’ بن گئے۔ پندرہ سالہ خدیجہ المعرقف قدسی سے شای کی جو تہران کے ایک معروف عالم حاجی مرزا تہرانی کی بیٹی تھیں۔

چالیس برس کی عمر میں امام خمینی کی شہرت شاہ کے سیکیولر ریاست کے نقاد کی بن گئی لیکن وہ شہنشاہیت کے حامی رہے۔ وہ اپنی تحاریر میں مذہب کے ریاست اور عمومی زندگی میں دخل کی بات کرتے۔ وہ آیت اللہ کاشانی کے پیرو بن گئے جو شیعہ تنظیم ’فدایان اسلام’ سے تعلق رکھتے تھے اور جنہوں نے وزیراعظم مصدق سے بے وفائی کی۔

1950 کے اواخر میں خمینی نے اپنی تقاریر اور وعظ سے اپنی شناخت بنا لی۔ وہ شاہ اور ان کے اختیارت پر کھل کر تنقید کر رہے تھے۔ دوسرے علما ذرا احتیاط سے بات کرتے لیکن خمینی اپنی بات ببانگ دہل کرتے۔ جلد ہی وہ سیکیورٹی کی نظر میں آ گئے اور ان کے ساتھ آیت اللہ سید حسین بوروجردی جو عراق کے شہر نجف میں مقیم تھے پر بھی سیکیورٹی نے توجہ دی۔ نجف شیعہ مذہب کے لیئے مقدس ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ قم کی طرح یہاں بھی مذہب کی تعلیم کا انتظام تھا۔ ایران سے مذہب اور فقہ کی تعلیم کے لیئے طالب علم نجف جاتے۔

Young Khomeini

شہر قم نئی دنیا کو اپنانے کو تیار نہیں تھا۔ وہاں قدامت پرستی تھی۔ وہاں فارسی کے بجائے قدیمی عربی بولنے کو ترجیح دی جاتی جو قران کی زبان تھی۔ چار سال کی بچیاں چادر پہنتیں۔ شہر میں کوئی شراب خانہ نہیں تھا۔ کوئی سنیما گھر نہیں تھا۔ ایک سنیما بنایا جا رہا تھا لیکن ایک مشتعل ہجوم نے اسے آگ لگا دی۔ ٹیلیویژن اور سوئمنگ پولز کو ناپسند کیا جاتا تھا۔ موسیقی اور ساز بھی بند تھے۔ کتابوں کی دوکانوں پر صرف مذہبی کتب ملتیں۔ شہر کی دوکانوں پر شاہ کے بجائے ’امام غائب’ کی شبیہ آویزاں تھیں۔ وہاں غیر ملکیوں کا آنا سخت ناپسند کیا جاتا اور بے حجاب خواتین پر پتھر برسائے جاتے۔ تہران کے لوگ اس پر مذاق کرتے کہ وہاں سب چلتا ہے۔ واڈکا، پوکر اور افیون بھی۔ ایک مخفی سنیما بھی ہے اور جسم فروشی بھی ہے۔

آیت اللہ عظیم بوروجردی کی وفات 1961 میں ہوئی اور شاہ کو امید ہوئی کہ اب کوئی وفادار عالم اس جگہ کو پر کرے گا۔ لیکن علما کا رہبر چننے کا اپنا جمہوری نظام تھا۔ اعلی مقام پر پہنچنے کے لیئے جس کا انتخاب کیا جاتا تھا اس کے لیئے ’مرجع’ ہونا بھی ضروری تھا۔ بہت کم علما اس درجے تک پہنچتے ہیں۔ مرجع کے معنی ہیں وہ ذریعہ جس سے مذہبی معاملات میں رجوع کیا جائے یا رہنمائی لی جائے۔

شاہ اپنے بچپن سے ہی خواب دیکھتے آ رہے تھے کہ وہ اپنے ملک میں انصاف پر مبنی معاشرہ بناuیں جیسا کہ شیعہ اماموں کے دور میں تھا۔ اپنی گورنس مادام ارفا کے الفاظ وہ بھولے نہیں تھے کہ بادشاہ بھی انقلابی ہو سکتے ہیں۔

’’اگر ملک میں کوئی انقلاب آئے گا تو اسے میں لے کر آوں گا۔ مجھے احساس ہے کہ میرا مشن خدا کے احکام پر ہے اور مجھے یہ جاری رکھنا چاہیئے’’۔

شاہ کو اپنی زندگی کی بھی فکر تھی۔ انہیں عراق کے شاہ فیصل دوم کا انجام یاد تھا جنہیں ان کے اپنے فوجیوں نے بے دردی سے قتل کردیا تھا۔

’’میں یہ بات ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ غریبوں اور بے کس عوام کی بہتری کا انقلاب بادشاہ کے ذریعہ بھی ہو سکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ مارکسٹ اور شوشلسٹ ہی یہ کام کریں۔ میں زیادہ تیزی سے کام کر سکتا ہوں’’ْ

اپنی اصلاحات کو منظم کرنے کے لیئے شاہ نے اپنے ایک پرانے اور قابل اعتماد دوست اسداللہ علم کی مدد لی جو ایک جاگیردار اور بورژا طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ 1962 میں وہ سیستان اور بلوچستان کے گورنر بھی رہ چکے تھے۔ پانچ سال بعد شاہ نے انہیں کابینہ میں لے لیا۔ مصدق کی وزارت عظمی کے دور میں وہ شاہ کے وفادار رہے اور جلد ہی وہ خود وزیراعظم بن گئے۔ شاہ اور علم نے سمجھ لیاتھا کہ ان کا انقلاب سفید کامیاب نہیں ہوگا کیونکہ بنیاد پرست اس کے مخالف تھے۔ انہوں نے مجلس کی قانونی حثیت کو نظرانداز کر کے اس کا اجرا کردیا۔ حکومت نے جنوری 1963 میں اس کے بارے میں ایک ریفرنڈم بھی کروایا۔ قم میں کچھ ہلچل مچی لیکن باقاعدہ شورش نہیں ہوئی نجف کے علما بھی خاموش رہے لیکن روح اللہ خمینی نے اپنا فرض سمجھا کہ اس فیصلے پر پرزور احتجاج کریں۔ ان کی نظر میں یہ فیصلہ اور عورتوں کے حقوق پر بات ان کی روایت اور ورثے کے خلاف تھا۔ انہوں نے گرج کر کہا۔

‘‘رضا خان کا بیٹا ایران میں اسلام کے اصولوں کے منافی اقدام اٹھا رہا ہے۔ میری رگوں میں جب تک خون دوڑ رہا ہے میں اس کی مخالفت کرتا رہوں گا’’۔

ayatollah khomeini with wife Khadija

آیت اللہ خمینی کی سیاست میں آمد ہو چکی ۔ متمول تاجر طبقہ نے جو پہلے ہی شاہ کی اصلاحات سے نالاں تھا دل کھول کر خمینی کی حمایت کی اور مالی مدد بھی کی۔ بائیں بازو کے طالب علم اور دانشور بھی مصدق کے حامی تھے اور شاہ کے مخالف۔ بجائے اس کے کہ شاہ کے ان اقدامات کو جو وہ غریب عوام کی بہتری کے لیئے کر رہے تھے سراہا جانا ،آیت اللہ ان کے ہیرو بن گئے جنہیں ایک دہائی پہلے جلا وطن کر دیا گیا تھا اور اب وہ ایک بار پھر فعال ہوگئے۔ سیاسی طبقہ سحر زدہ رہ گیا۔ خمینی کے حامیوں نے سڑکوں پر آ کر مظاہرے کیے۔ وہ ان سے دیوانہ وار عقیدت رکھتے تھے۔ ایک مقامی تاجر نے آیت اللہ سے کہا’’اگر آپ حکم کریں تو ہم اپنے بدن پر بم باندھ لیں گے اور شاہ کی گاڑی سے ٹکرا جائیں گے اور اسے اڑا دیں گے’’۔ خمینی نے جواب دیا’’ اس کی نوبت نہیں آئے گی’’۔

مذہبی گروہوں کی جانب سے حکمت عملی بنائی گئی کہ شاہ کو بے دین ثابت کیا جائے۔ ان کے ایمان پر شک کیا جائے۔ لیکن یہ ایک بے ہودہ کوشش تھی۔ سب جانتے تھے کہ شاہ کافی حد تک مذہبی ہیں۔ ان کے دوست اور خانوادہ کے افراد جانتے تھے کہ شاہ اپنے کوٹ کی جیب میں قران رکھتے ہیں۔ اپنی تقاریر اور انٹرویوز میں وہ قران کے حوالے دیتے ہیں۔ بچپن میں امام کی شبیہ دیکھنا بھی سب جانتے تھے۔ جب بھی ملک سے باہر سفر پر جاتے ایک مسلم عالم ایرپورٹ تک ان کے ساتھ جاتا اور سفر کی آیت پڑھتا اور سفر بخیر کی دعا کرتا۔ لیکن کم عمری میں سویئٹزر لینڈ میں زمانہ طالب علمی میں ان کی سوچ میں وسعت آئی۔ مذہب اور ریاست کو الگ رکھنے کا تصور مناسب لگا۔ شاہ نے سیکولر آیئن کو اہمیت دی اور مذہبی طبقے کی اجارہ داری کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔

شاہ کا شرمیلا پن اور الگ تھلگ رہنے والا رویہ عوام سے ان کی دوری کا باعث بنا۔ وہ عوامی اجتماعات میں بولنے سے گھبراتے تھے۔ شہروں کےہر محلے میں مساجد موجود تھیں شاہ نے کبھی وہاں جا کر جمعہ کی نماز ادا نہیں کی نہ ہی کبھی رمضان کا اہتمام کیا۔ اپنے 38 سالہ دور اقتدار میں ان کی مشہد کی سالانہ زیارت کو پبلسٹی ملتی۔ اور یوم عاشورہ کے موقعے پر تہران کی مسجد میں جانا۔ نیاوران میں اپنی کوئی عبادت گاہ نہیں تھی۔ شاہ عوام سے دور تھے۔ ان کے برعکس دنیائے عرب کے حکمران جو سنی فرقے سے تھے عوام سے کسی حد تک رابطے میں تھے۔ اردن، مراکش اور سعودی عرب کے شاہان شاید خود بھی بہت مذہبی نہیں تھے لیکن وہ ہر جمعہ نماز میں شریک ہوتے ان کے نام کے خطبے پڑھے جاتے اور وہ لوگوں کے درمیان نظر آتے۔ ان کے برادر ملک ایران کا حاکم ان سب سے بے نیاز تھا۔

انقلاب سفید کے ریفرنڈم کے نتائج 99 فیصد اس کے حق میں آئے اور شاہ کو واضح کامیابی ہوئی۔ امریکہ کے وائٹ ہائوس سے بھی مباکباد کا پیغام آیا۔ لیکن ان نتائج کو دھاندلی کے الزامات نے دھندلا دیا۔ اور مرجع کی جانب سے اس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان ہوا۔ خمینی اور ان کے حامی کسی صورت اپنی شکست قبول کرنے کو تیار نہیں تھے ان کی طرف سے شاہ پر شدید الزامات لگائے گئے اور توہین آمیز کلمات ادا کیئے گئے۔

1963 کے موسم بہار میں خمینی کے حامیوں اور سیکیوریٹی فورسز کے درمیان قم میں جھڑپیں ہوتی رہیں۔ تمام مذہبی طبقہ شاہ سے اور بھی ناراض ہو گیا۔ یہ کھینچاو بڑھ گیا جب ’فیضیہ’ کے مقدس مقام پر حملہ ہوا اور اسے نذر آتش کردیا گیا۔ ایک ہلاکت ہوئی۔ قم میں صف ماتم بیچھ گئی۔ خمینی نے سخت الفاظ میں مذمت کی۔

’’اس رژیم نے چنگیز خان کی یاد تازہ کردی۔ رضا شاہ کے بیٹے نے اپنی قبر خود کھودی ہے۔ میں دس لاکھ لوگوں کو بلا سکتا ہوں جو شہادت کے لیئے تیار ہیں’’

شاہ اور ان کی حکومت کو یقین تھا کہ وہ یہ شورش دبا لیں گے۔ ملک کے مڈل کلاس لوگ، مزدور، کسان اور طالب علم انقلاب سفید کے وعدوں پر یقین کیئے ہوئے تھے جس کی بدولت انہیں تعلیم اور صحت سہولتیں ملیں گیں۔ وہ اب بھی شاہ کے ساتھ تھے۔ پرویز ثابتی خفیہ ایجنسی کے سربراہ تھے ان کا کہنا تھا ’’ہمیں فوری طور پر کسی ردعمل کی توقع نہیں۔ لیکن مسلئہ یہ ہے کہ شاہ علما کے خلاف سخت لہجے میں بات تو کرتے ہیں لیکن انہیں دبانے کے لیئےکوئی عملی قدم نہیں اٹھاتے’’۔

3 جون 1963 جو قمری کلینڈر کے مطابق محرم کی دس تاریخ یعنی یوم عاشورہ تھا۔ خفیہ ایجنسی کو پتہ چل گیا کہ خمینی اس دن فیضیہ میں کوئی تقریر کرنے والے ہیں اور شاہ کو تنقید کا نشانہ بنائیں گے۔ قم کو گھیر لیا گیا لیکن جب خمینی تقریر کے لیئے آئے اس وقت تک ہزاروں کا مجمع جمع ہو چکا تھا۔ خمینی نے ایک زوردار تقریر کی

’’ جناب شاہ میں آپ کو رائے دے رہا ہوں کہ اپنی پالیسیاں بدلیں۔ میں نہیں چاہتا کہ لوگ ان بیرونی آقاوں کا شکریہ ادا کریں جو آپ کو یہاں سے نکال کر لے جائیں گے۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ کا انجام بھی آپ کے والد جیسا ہو’’۔

خمینی نے امریکہ کو بھی تنبیہ کی۔ ملک میں ایک آگ سی لگ گئی اور سڑکوں پر ’’ڈکٹیٹر مردہ باد’’ کے نعرے لگنے لگے۔ شاہی محل میں بھی ہلچل مچی۔ ملکہ فرح اور ان کے دو بچوں شہزادہ رضا اور شہزادی فرح ناز کو جو نومولد تھی ایک محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا۔

4 جون کی شام وزیراعظم علم نے میٹنگ بلائی۔ ’’کل کا دن بہت اہم ہوگا۔ ملک کی قسمت ہم پر منحصر ہے۔’’ سب سمجھ گئے کہ بادشاہت کو خطرہ ہے۔ ’’وزیراعظم صاحب کیا آپ ہمیں لوگوں کو گولیوں کا ناشانہ بنانے کو کہہ رہے ہیں’’ لفٹینینٹ جنرل مظفر مالک نے پوچھا۔ سب ہی پریشان تھے۔ ملک میں انتشار کا خطرہ تھا افواہیں پھیل گئیں کہ شاہ نے سامان باندھ لیا۔ جنرل پاک رواں نے کہا ’’باتیں ہو رہی تھیں کہ شاہ جا رہے ہیں لیکن وہ جانا نہیں چاہتے تھے۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کریں کیونکہ وہ عوام پر گولیاں برسانا نہیں چاہتے تھے۔ ’’علم نے چارج اپنے ہاتھ میں لے لیا اور آرمی کو ہدایت کی کہ وہ انقلاب کو روکنے کے لیئےطاقت کا استعمال کرے۔ ’’ مجھے یہ احکام دینے پڑے کیونکہ اعلی حضرت بہت نرم دل تھے وہ خون بہتا نہیں دیکھ سکتے تھے’’

طاقت کا استعمال ہوا۔ ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔ فوجی دستے سڑکوں اور گلیوں میں گھومنے لگے۔ گولیوں کی آوازیں ساری رات اور اگلے دن تک گونجتی رہیں۔ مرنے والوں کی تعداد میں تضاد رہا۔ کسی نے کہا یہ تعداد ہزاروں میں تھی۔ شاہ اور ان کے مشیروں کو بتایا گیا کہ 120 لوگ مرے جبکہ اسلامی ریپبلک کی جانب سے صرف 32 لوگوں کی موت کی خبر آئی۔ وزیراعظم علم کی جانب سے بروقت اور صحیح اقدام لینے سے مشکل ٹل گئی۔

ملک میں قانون اور انتظام بحال ہو گیا۔ شاہ کو اب ایک بڑا مسئلہ درپیش تھا کہ اپنے حریف کے ساتھ کیا کیا جائے؟ آیت اللہ جس بہادری سے شاہ کی رژیم کے سامنے ڈٹے رہے اس سے انہیں ایک مستقل خطرہ سمجھا جا رہا تھا۔ سوچا جا رہا تھا کہ ان کے ساتھ اب کیا جائے؟ چند امکانات تھے، انہیں ہلاک کر دیا جائے، قید میں ڈال دیا جائے، جلا وطن کر دیا جائے یا غیر مشروط آزادی ۔ وہ آزاد ہو گئے اور امید کی جا رہی تھی کہ وہ اب خاموش رہیں گے۔ لیکن چپ رہنا خمینی کی سرشت میں نہیں تھا۔ 28 اکتوبر 1964 کو انہوں نے اپنے گھر کے باہر ایک تقریر کی اور ایک بار پھر شاہ اور پہلوی خاندان کو نشانہ بنایا۔ اس بار حکومت نے دیر نہیں کی اور ایک ہفتے کے اندر خمینی کو ایرانی رائل ایرفورس کے جہاز پر سوار کردیا گیا۔ جس کی منزل ترکیہ تھی جہاں وہ پانچ ماہ تک ترک اینٹلیجنس افسر کرنل علی جیتینر کی فیملی کے ساتھ رہے۔ پھر ایرانی حکومت کی منظوری سے انہیں عراق کے شہر نجف بھیج دیا گیا۔ ترک کرنل علی نے حیرت ظاہر کی کہ جب خمینی ترکیہ آئے تو ان کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں تھے لیکن جب نومبر 1965 میں وہ وہاں سے گئے تو لکھ پتی بن چکے تھے۔ اس وقت کے لحاط سے یہ بہت بڑی رقم تھی یہ رقم انہیں ان کے ایران سے آنے والے مہمانوں نے دی۔ خمینی اپنی دولت کے ساتھ عراق روانہ ہو گئے۔ خیال تھا کہ اس بار یہ جلا وطنی مستقل ہے۔ (جاری ہے)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments