شری بھگوان بالمیک جی کا مندر، نیلا گنبد لاہور
چند روز قبل عجائب گھر لاہور کی جانب سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا جس میں بتایا گیا تھا کہ لاہور عجائب گھر اور ادارہ عالمی و تاریخی علوم، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور دونوں باہمی اشتراک سے ایک ورکشاپ کروا رہے ہیں۔ جس کا مقصد سامراجی دور کو عکس بندی کے پیش نظر کیسے سمجھا جائے؟ تھا۔
یہ ورکشاپ 8 جون کو لاہور میوزیم میں منعقد کی گئی تھی جس میں ڈپارٹمنٹ آف آرکائیوز سٹڈیز کی لیکچرر محترمہ رجا سلیم صاحبہ نے اور عجائب گھر کے عملے کی ایک مادام نے کافی اچھا لیکچر دیا تھا۔ جس سے بہت فائدہ ہوا اور ہم اس قابل ہو گئے کہ ہم سامراجی دور کو فوٹوگراف کی مدد سے سمجھ سکیں۔
ورکشاپ سے فراغت کے بعد ہمارے ایک ایم فل اسکالر کے توسط سے لاہور میں موجود والمیکی مندر جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ مندر ویسے تو نیلا گنبد کے پاس موجود ہے، اگر آپ پاک ٹی ہاؤس سے نیلے گنبد والے روڈ پر چلیں تو کوئی ایک فرلانگ کے فاصلے پر ایک گلی کے باہر ایک بورڈ پر بالمیکی مندر نیلا گنبد لاہور لکھا ہوا ہے۔ اور اسی گلی ایک دو دکانیں چھوڑ کر مندر کا ایک چھوٹا سا دروازہ نظریہ آ جاتا ہے۔
ہم بھی گلی میں داخل ہوئے تو ایک صاحب سے مندر کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ یہ سامنے والا دروازہ مندر کا ہی ہے۔
راقم الحروف کا کسی بھی مندر میں جانے کا یہ پہلا تجربہ تھا البتہ اس سے پہلے سوشل میڈیا اور کتابوں میں مدر کی تصویریں ضرور دیکھی تھی ان کے برعکس یہ ایک بالکل چھوٹا سا دروازہ تھا جسے دیکھ کے کافی حیرت ہوئی جس پر سرخ رنگ کا روغن کیا گیا تھا۔ دروازہ اندر سے بند تھا ایک دو دستک دینے کے بعد ایک صاحب نے اندر سے دروازہ کھولا اور استفسار کیا؟ تو ہم نے کہا کہ ہم صرف مندر دیکھنا چاہتے ہیں اگر اپ اجازت دیں تو مگر صاحب نے بتایا کہ مندر کے اندر تعمیرات کا کام جاری ہے جس وجہ سے عارضی طور پر مندر کو بند کیا گیا ہے جس وجہ سے ہم کسی کو بھی اندر آنے کی اجازت نہیں دے سکتے لیکن میرے ساتھ موجود ایم فل سکالرز اصرار پر انہوں نے ہمیں مندر کے اندر جانے کی اجازت دے دی
اندر جانے کے بعد دیکھا کہ ایک طرف ہندو طرز تعمیر پر ایک نیا مندر تعمیر کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف دو کمرے اور ان کے سامنے برآمدہ تھا جس میں عارضی طور پر بھگوان سری بالمیک جی کی مورتی رکھی ہوئی تھی جس کمرے میں مورتی موجود تھی اس کے دروازے پر لکڑی ایک تختی پر دیوناگری میں اوم کا لفظ درج تھا اور اس کے نیچے لکھا ہوا تھا کہ یہ انصاف کا مندر ہے یہ بھگوان کا گھر ہے وہاں پر اس مندر کے پنڈت و پجاری دلشاد والمیکی جی موجود تھے جنہوں نے ہمیں مورتی کے درشن کروائے۔
کمرے کے اندر ایک طرف دیوار پر بابا گرو نانک کی تصویر کا پوسٹر لگا ہوا تھا دوسری دیوار پر بھگوان شری بالمیک جی کی کنول کے پھول پر بیٹھے ہوئے کی تصویر تھی۔ اور درمیان میں ایک مورتی رکھی ہوئی تھی کمرے کے عین وسط میں چھت سے گھنٹی لٹک رہی تھی اور مورتی کے سامنے دیے جل رہے تھے، ساتھی ہی ترشول رکھا ہوا تھا تھوڑی دیر مشاہدہ کر دے کے بعد پنڈت جی نے سے کافی اچھی ایک طویل گفتگو ہوئی جس میں انہوں نے بالمی کی مذہب اس مندر کی تعمیر اور لاہور میں ہندو دھرم کے بارے میں کافی معلومات فراہم کیں۔
دلشاد والمیکی جی کا کہنا تھا
والمیکی مندر ایک ہندو مندر ہے جو لاہور، میں والمیکی کے لیے وقف ہے۔ مندر کا انتظام اور دیکھ بھال پاکستان ہندو کونسل اورمتروکہ وقف املاک بورڈ کرتا ہے۔ عصری دور میں، کرشن مندر اور والمیکی مندر لاہور میں صرف دو فعال ہندو مندر ہیں۔
انھوں نے اپنے مذہب کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارا دھرم کا بنیادی مقصد شکشاہ کا پرچار یعنی تعلیم کا پھیلاؤ ہے اس کے ساتھ انہوں نے بتایا کہ علم و شانتی اور امن قائم رکھنا بھی ہمارے اصولوں میں شامل ہے
ہمارے استفسار کرنے پر انہوں نے بتایا کہ یہ مندر تقریباً 12 سو سال پرانا ہے اور ہم نسل در نسل اس مندر کی سیوا کرتے آ رہے ہیں اب میں پچھلے دو سال سے اس مندر کی سیوا کر رہا ہوں مزید انہوں نے اضافہ کیا کہ لاہور میں اس وقت چار ایسے مندر ہیں جن کے اندر اپنی پوجا پاٹ کر سکتے ہیں ان میں ایک مندر یہ نیلا گنبد والا ہے ایک کرشنا مندر راوی روڈ لاہور پر واقع ہے ایک موچی دروازہ کے اندر اور ایک ٹکسالی گیٹ کے اندر موجود ہے
مزید جب ہم نے ان سے استفسار کیا کہ حکومت پاکستان اپ کو بطور اقلیت کس قدر حقوق دے رہی ہے تو وہ کافی حد تک مطمئن نظر آئے اور انہوں نے بتایا کہ محکمہ اوقاف نے اس مندر کو اپنی تحویل میں لے کر اس پر مرمت اور تعمیر کا کام شروع کروایا ہے جو کہ بہت جلد ہی مکمل ہو جائے گا مزید انہوں نے بتایا کہ ہمیں یہاں لاہور میں مذہبی آزادی حاصل ہے۔ ساتھ ہی وہ مقامی لوگوں کے رویے سے نالا بھی نظر آئے۔ انھوں نے بتایا کہ زمانہ طالبعلمی میں ان کے ساتھ کافی امتیازی سلوک کیا جاتا تھا۔
مزید روز مرہ زندگی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اکثر لوگ جو ہمیں دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیا اپ ہندوستان سے ہیں تو ہمیں وضاحت کرنا پڑتی ہے کہ نہیں ہم ہندوستان سے نہیں بلکہ ہم صدیوں سے یہاں کے رہنے والے ہیں ہم کوئی کہیں سے ہجرت کر کے نہیں آئے بلکہ ہم نسل در نسل یہاں پہ رہ رہے ہیں اور رام کی سیوا کر رہے ہیں۔ مزید انہوں نے بتایا کہ ہر اتوار کی شام کو ہم یہاں پر خصوصی پوجا پاٹ کرتے ہیں اس میں پرشاد اور امرت بھی دیا جاتا ہے اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ سال میں ایک بار پوری چاند کی رات شیو بالمیکی جی کا دن منایا جاتا ہے اس سال یہ تہوار 14 اکتوبر کو منایا جائے گا مزید انہوں نے بتایا کہ اس مندر اور کرشنا مند ( راوی روڈ) میں ہولی دیوالی اور بیساکھی کے تہوار منائے جاتے ہیں
ہمارے استفسار پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر اس وقت بالمیکی ہندو دھرم کے چار سے چھ لاکھ لوگ موجود ہیں جنہیں ہم ادھ واسی کہتے ہیں لاہور کے اندر یہ تعداد سینکڑوں میں موجود ہے
مندر میں بیٹھے ہوئے مجھے کافی حیرت ہوئی کہ جب یہ مندر میں اذان کی آواز سنائی دی اور مجھے یہ سوچنے مجبور ہو گیا کہ شدت پسندی اور تشدد کے بغیر بھی ایک اچھی اور پر سکون زندگی گزاری جا سکتی ہے۔
اسی طرح بیٹھے ہوئے انہوں نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ہے گیان جو کہ چھ سے سات ظہور صفحات پر مشتمل تھا پڑھ کر سنایا اور مزید بتایا کہ ہماری مقدس کتاب کا نام رامائن ہے جو کہ اندر موجود ہے جسے سنسکرت میں لکھا گیا ہے کافی دیر گفتگو کرنے کے بعد ہزاروں خیالات اور سوچوں کو اپنے من میں سمیٹے وہاں سے رخصت ہوئے اور اسی طرح ایک مندر ایک خوش گوار دورہ مکمل ہوا
اب اس تحریر کو لکھتے ہوئے میرے ذہن میں کئی خیالات آ رہے ہیں کہ مذہب دھرم یا عقیدہ ہر انسان کا ذاتی مسئلہ ہے اسے کسی کی معاشرتی زندگی کے ساتھ منسوب کر کے اس کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا انسانیت کے خلاف امر ہے ہمیں تمام مذاہب کی قدر عزت کرنی چاہیے تاکہ دنیا امن شانتی اور پیار محبت کا گہوارہ بن سکے۔




