آدم خور قبائلیوں کے علاقہ غیر میں


یہ ان دنوں کی بات ہے جب آتش جوان تھا۔ ایجوکیشن کالج لاہور سے ابھی فارغ ہوئے ہی تھے اور نیا علی گڑھ پبلک سکول مانگا منڈی میں بطور سائنس ٹیچر جاب کر رہے تھے جو کہ ایک اقامتی ادارہ تھا اور ہماری رہائش بھی یہیں ہوسٹل میں تھی۔ ایک شام والی بال کھیل کر کمرے میں واپس آئے تو وہاں پر ارشد کو موجود پایا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ محکمہ تعلیم پنجاب نے ہماری تعلیمی قابلیت اور تدریسی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر ہماری تقرری گورنمنٹ ہائی سکول روجھان میں بطور سائنس ٹیچر کر دی ہے اور ہمیں فی الفور وہاں پہنچ کر جوائن کرنے اور وطن عزیز کے نونہالوں کو علم کی دولت سے مالا مال کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔

ارشد کی زبانی روجھان کا محل وقوع معلوم ہوا کہ ڈیرہ غازی خان سے تقریباً ایک سو پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر روہی کے باسی اور اس پر لافانی شاعری کرنے والے بزرگ صوفی شاعر خواجہ غلام فرید کا دربار کوٹ مٹھن شریف میں واقع ہے اور اس سے آگے تقریباً پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر روجھان پنجاب کا آخری قصبہ ہے۔ ساتھ ہی سے صوبہ سندھ بلکہ صوبہ بلوچستان بھی شروع ہو جاتے ہیں کیونکہ یہاں پر تینوں صوبوں کا سنگم بنتا ہے۔ مزاریوں کا علاقہ ہے جو روایتی جاگیر دارانہ صفات کے مالک اور یہاں کے سب سے بڑے زمیندار ہیں بلخ شیر مزاری یہاں کی معروف شخصیت ہیں۔

سندھی اور بلوچی زبان کے باہمی ملاپ سے وجود میں آنے والی بلوچکی زبان بولی جاتی ہے۔ ماحول یہاں کا نیم قبائلی بلکہ پورا قبائلی ہی ہے۔ اغوا برائے تاوان اور قتل و غارت گری مقامی ثقافت کا جزو لاینفک ہیں۔ ارشد کی فراہم کی گئی معلومات کی روشنی میں روجھان کی تصویر ایک ایسے پس ماندہ ترین افریقی ملک کی بن رہی تھی۔ جس میں آدم خور جنگلی بس رہے ہوں اور مجھے ایک پرانا قصّہ بھی یاد آ رہا تھا۔ جو کچھ یوں ہے۔ براعظم افریقہ میں چھوٹے چھوٹے ملک دریافت ہو رہے تھے اور مہذب ممالک ان سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے پہلے ہم جیسی کیفیت میں خوب پھرتیاں اور تیزیاں دکھا رہے تھے۔

اسی طرح جب ایک چھوٹا سا افریقی ملک دریافت ہوا تو جاپان نے سب سے پہلے اپنے سفیر کو وہاں بھجوا دیا۔ سفیر وہاں پہنچا تو وہاں پر ابھی حکومتی گرفت بہت کمزور حالت میں تھی۔ مقامی لوگوں نے جاپانی سفیر کو پکڑا اور اسے بھون کر کھا گئے۔ اب تو ساری دنیا میں شورو غوغا مچ گیا۔ جاپان نے اپنی بے عزتی محسوس کی۔ حکومت جاپان نے اس افریقی ملک کو ایک خط لکھا۔ جس میں اس بہیمانہ فعل پر اس کی خوب سرزنش کی اور اس سے دس ملین ڈالر قصاص کے طلب کر لیے۔

اب اس ملک نے جواب دیا۔ حضور ہم تو بہت غریب ہیں۔ آپ ڈالروں کی بات کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کی تو اپنی کرنسی ابھی تک پورے طور سے فعال نہیں ہو پائی۔ بہرحال بہت لے دے ہوئی۔ اس جھگڑے کو نمٹانے کے لیے کچھ دوسرے ممالک بھی میدان میں آ گئے۔ لیکن سب بے سود کیوں کہ ان کے پاس تو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک ایسی ہی میٹنگ میں ان سے پوچھا گیا۔ آخر اس مسئلے کا حل کیسے نکلے گا۔ تم اپنے اتنے بڑے جرم کی کس طرح تلافی کرو گے۔

تو اس ملک کے سربراہ نے اپنی آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز کے ساتھ کہا، کہ ہمارے پاس تو اس کا ایک ہی حل ہے۔ لوگوں نے بڑے تجسس سے پوچھا۔ کہ وہ کیا تو اس نے کہا کہ ہم نے جاپانی سفیر کو یہاں بھون کر کھا لیا ہے۔ ہمارا بھی ایک سفیر جاپان میں موجود ہے وہ اُسے بھون کر وہاں کھالیں۔ بس حساب برابر۔ اس کے علاوہ جاپانیوں کو دینے کے لیے ہمارے پاس اور کچھ نہیں ہے۔

میں روجھان جانے یا نہ جانے کے سلسلہ میں گومگو کی کیفیت میں تھا۔ ایک طرف تو سر کار کا نوکر بن جانے کی خوشی تھی اور دوسری طرف آدم خور اور بھون کر کھا جانے والے تند خو اور سخت گیر لوگوں پر مشتمل قبائلی علاقہ جات میں جاکر نوکری جائن کرنے میں جان کو شدید خطرات لاحق تھے۔ میں ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھا۔ کہ ارشد بولا۔ ہاں مجھے یاد نہیں رہا۔ ابا جی کہہ رہے تھے کہ دوری سے نہ گھبرائے۔ گورنمنٹ کی نوکری ہے ایک با ر جا کر جائن کر لے۔

اس کے بعد یہیں کہیں قریب ہی تبادلہ کروا لیں گے۔ اب میرے پاس روجھان جانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں تھا۔ اگلے دن صبح سویرے سکول ٹائم سے پندرہ منٹ پہلے ہی سکول پہنچ گیا۔ اور پرنسپل کا انتظار کر نے لگا۔ ہمارے پرنسپل نذیر صاحب سنٹرل ماڈل ہائی سکول کے ریٹائرڈ پرنسپل تھے۔ غالباً بلڈ پریشر کے مریض تھے۔ ہر وقت ہی غصے میں رہتے۔ یا شاید وہ سکول کے انتظامی امور کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے اس کو بھی ایک حربے کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے۔

وہاں پر میرا قیام پانچ چھ ماہ کا ہی تھا۔ لیکن ان کے ساتھ تعلقات ایسے خوشگوار کبھی بھی نہیں رہے۔ بلکہ پچھلے دنوں تو ان میں تھوڑی سی کشیدگی بھی آ گئی تھی۔ احوال اس کا کچھ یوں ہے۔ کہ سکول میں ایک نیا ٹیچر آنے پر انہوں نے مجھ سے دہم جماعت کا ٹائم ٹیبل لے کر نووارد کو دے دیا۔ جب کلاس کو ٹائم ٹیبل کی تبدیلی کے متعلق علم ہوا تو وہ سب کے سب من حیث الجماعت پرنسپل کے پاس یہ مطالبہ لے کر پہنچ گئے۔ کہ ان کا پیریڈ تبدیل نہ کیا جائے۔

پرنسپل نے لڑکوں کا مطالبہ تو تسلیم کر لیا۔ لیکن میری جواب طلبی کرلی۔ بہر حال پرنسپل کے تشریف لانے پر میں دفتر میں ان سے ملنے چلا گیا۔ اور انہیں صورت حال سے آگاہ کیا۔ حسب ِ معمول لال پیلے ہو گئے۔ اور مجھے دھمکی بھی لگا دی۔ کہ اگر میں نے سکول چھوڑ کر جانے کا ارادہ تبدیل نہ کیا۔ تو وہ محکمہ تعلیم حکومت پنجاب کو خط لکھ کر میری تعیناتی منسوخ کروا دیں گے۔ میں نے نہایت ہی دھیمے لہجے میں انہیں بتایا کہ آپ کو بتانے کا واحد مقصد یہ تھا کہ آپ میری جگہ نئے ٹیچر کا بندوبست کر لیں۔ تاکہ بچوں کی پڑھائی کا حرج نہ ہو۔ ورنہ میں آپ سے پوچھے بغیر بھی جا سکتا ہوں۔ جیسے کہ اب جا رہا ہوں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments