پاکستانی نوجوان طلبا میں پھیلتی مایوسی
جس طرح غریب ماں باپ کو اپنے مستقبل کے بہترین ہونے اور ماضی کی تکالیف کا مرہم بننے کی امید اپنی اولاد سے ہوتی ہے، اسی طرح کسی قوم کا مستقبل بھی اس کے نوجوان طبقے پر منحصر ہوتا ہے۔ پاکستان کے نوجوان طبقے میں بڑھتی ہوئی مایوسی اہل درد اور سنجیدہ طبقے کو آنے والے وقت کے ڈراؤنے دنوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر رہی ہے۔
وطن عزیز کا نوجوان اس وقت بے شمار مسائل کا سامنا کر رہا ہے جو اس کی مایوسی کا سبب ہیں، لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ فرسودہ نظام تعلیم ہے۔ جس میں چھوٹی عمر سے ہی بچے پر کتابوں کا ایک بوجھ ڈال دیا جاتا ہے، اور ساتھ ہی نمبروں کی دوڑ میں اول آنے کی ذہن سازی اس طرح کی جاتی ہے کہ بچے کی تخلیقی صلاحیتیں اور اندر کا اصل فنکار رٹا بازی اور دیگر الجھنوں کی نظر ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے اندر کے ”پکاسو“ یا ”آئین سٹائن“ کو پہچان ہی نہیں پاتا، دوران تعلیم اس کی تمام تر توجہ کا مرکز صرف نمبروں کی طرف ہوتا ہے۔ جس مضمون میں طالب علم کا ذہنی رجحان ہے اسے نمبروں کی حد تک پڑھنے کے بعد بعض مضامین عدم دلچسپی کے باوجود وہ دن رات پڑھنے کے لیے مجبور ہے۔ ہمارے نوجوان کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ تعلیم ایک راستہ ہے جس کی منزل صرف نوکری ہے۔ یہ صورت حال ایک طالب علم کو کئی ذہنی الجھنوں کا شکار کرتی ہے۔
جب نمبروں کی دوڑ میں وہ ناکام رہ جاتا ہے، تو ساری ساری رات جاگ کر پڑھنے اور اپنے دماغ کو حاضر رکھنے کے لیے پہلے پہل تمباکو نوشی اور پھر دیگر نشہ آور اشیاء سے اعانت لینے کی کوشش کرتا ہے۔ ”بی بی سی“ کی 2021 ءکی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ستر لاکھ سے زیادہ افراد نشے کی لت میں مبتلاء ہیں، اور ان میں اکثر نوجوان طلباء اور طالبات ہیں۔ تحقیقات کے مطابق نشہ ابتداء میں تو مقصد کے حصول کے لیے کار آمد ثابت ہوتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ انسانی طبیعت کو بے چین اور یاس کی کیفیت میں مبتلا کر لیتا ہے۔
ان سب پریشانیوں کا سامنا کرنے کے بعد مشکل سے جب ہمارا نوجوان ڈگریوں کے پلندے لے کر تعلیم سے فراغت حاصل کرتا ہے، تو ہمارا کُہنہ نظام اسے روزگار دینے سے انکار کر لیتا ہے۔ گھر والوں کی احساس ذمہ داری بار بار یاد دلانے پر جب وہ اپنے مستقبل کی طرف دیکھتا ہے تو اسے تاریکی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔
اس صورت حال کے پیش نظر نوجوان طبقے کا رجحان آئن لائن شعبے سے پیسے کمانے کی طرف زیادہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے طالب علم ادب یا کسی ایسے مضمون میں دلچسپی نہیں لے رہا جس نے اس کی شخصیت کی تعمیر کرنی تھی۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اچھا ٹائپ رائٹر، گرافک ڈیزائنر یا ویب ڈیزائنر ہے اور تعلیم سے بالکل دور ہے تو اس کی شخصیت نا مکمل ہے۔ اپنے آپ سے یہ دوری غیر شعوری طور پر اسے مایوسی کی طرف دھکیلے گی۔
اس کے علاوہ دین سے دوری بھی مایوسی کا ایک اہم سبب ہے۔ جس میں ہمارے علماء حضرات کا بھی کچھ حصہ ہے، اس وقت پاکستان میں ”الحاد“ زہر کی صورت پھیل رہا ہے۔ اور ہمارا نوجوان طبقہ اس کا تیزی سے شکار ہو رہا ہے۔ جب ذہن اپنی تخلیق، اپنے روز مرہ کے معمولات کے حل کے لیے الجھن کا شکار ہو گا اور رہنمائی کرنے والے فتوے کی توپیں لے کر ہمہ وقت تیار رہیں گے، تو اضطراب، بے چینی، مایوسی کا ہونا یقینی ہے۔
اب ایک ایسا نوجوان جو اپنی ذات سے بالکل نا آشنا ہے، جسے نشے کی لت لگ چکی ہے، جس کے ماں باپ اس کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور اسے دور دور تک تاریکی کے سواء کچھ نظر نہیں آتا، تو اس کا مایوسی اور ڈپریشن جیسے مرض میں مبتلاء ہونا لازمی امر ہے۔ اس مایوس نوجوان کی پرورش میں اگر صرف اس کی ذات قصور وار ٹھہرائی جائے تو یہ سراسر زیادتی ہو گی۔ ریاست بھی اس تخلیق میں مکمل حصہ دار ہے، ریاست عام شہری سے ٹیکس لینے کو تیار ہے مگر روزگار کی فراہمی اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات ریاست اپنے دائرہ کار سے آگے کے معاملات سمجھتی ہے۔ جس ریاست میں اساتذہ کو بھی سفارش پر رکھا جائے اس ریاست کا نوجوان طالب علم مایوس ہے تو یہ اچنبے کی بات نہیں۔
ملک پاکستان کے سیاسی، سماجی، معاشرتی حالات ہر طرح سے بحران کا شکار ہیں اور اس سے رہائی ہمارے نوجوان طبقے کے ہاتھ میں ہے لیکن اس طرف دیکھ کر اس شبِ دیجور ِغم کی سحر دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔
سب سے پہلے ہمارے نظام تعلیم کو درست ہونا ہو گا تاکہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو جانا جا سکے اور ان سے صرف اسی شعبے میں ہی محنت کروائی جائے تا کہ وہ لگن اور ذہنی سکون کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ ان کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے ہوں گے ورنہ گردش فلک میں ایام نہیں بلکہ گردش فلک میں تقدیر آ جائے گی۔


