ابا پیارے۔ باپ کی سوانح عمری بیٹیوں کی زبانی

عشق کے لاتعداد درجے ہیں۔ بعض لوگوں کے عادات و اطوار، گفتار و کردار، تحریروں سے، ان کی محنت سے، ان کے کام کرنے کے جذبے اور لگن سے عشق ہوجاتا ہے۔ ایسا غائبانہ اور مقدس عشق مجھے ”شمع اختر انصاری“ کی تحریروں سے ہے۔ ان سے تعارف کا سبب فیس بک بنا۔ فیس بک کے ذریعے جس نے ان کی ایک بھی تحریر پڑھ لی وہ اپنے ادبی ذوق کی تسکین کے لئے ان کی مزید تحریریں تواتر سے پڑھتا چلا جائے گا۔ ان کی زبان عالمانہ، انداز بیان جداگانہ، خیالات پاکیزہ اور جذبات شریفانہ ہیں۔ محنت اور محبت سے لکھتی ہیں جس کی گواہی ”ابا پیارے“ نامی کتاب دے رہی ہے۔ نام سے ہی ظاہر ہے کہ ایک بیٹی نے اپنے پیارے ابا جان کے شب و روز کو پیار سے حوالہ قرطاس کیا ہے۔ ابا پیارے کو دو بیٹیوں نے مل کر لکھا ہے، شمع اختر انصاری اور اسماء اختر انصاری۔ افتخار عارف کا شعر ہے کہ۔
بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں
اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں
ان بیٹیوں نے نہ صرف باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب پہچاننے بلکہ ان خوابوں کی تعبیر لکھی اور خواہش کی کہ دوسرے بھی ان خوابوں کے متعلق جاننے اور پڑھے۔ باپ کی محبت میں لکھے گئے ان جذبات سے پر واقعات اور یادوں کو قارئین پڑھ لیں وہ دونوں برا نہیں مانتیں بلکہ خوشی سے نہال ہوجاتی ہیں۔ بیٹیوں نے اپنے والد کے ساتھ جتنے خوشگوار لمحات گزاریں ان سہانے دنوں کو نوک قلم سے آب حیات پلایا، بچپن سے والد کی محنت اور شوق پر نظر رکھی، اس کے شب و روز کو غور سے دیکھا، اس کی جدائی میں روئیں، والد کی شفقت کے لئے ترستی رہیں، ان کی قربانیوں کو یاد رکھا، ان کی پریشانیوں سے پریشان اور خوشی سے خوش ہوئیں۔ بیتے دن کی یادوں، واقعات، کیفیات اور جذبات کو محبت اور شفقت کی سیاہی سے کاغذ پر خوبصورت اسلوب میں لکھ کر قارئین کے دل جیتیں۔ کتاب کے پیش لفظ میں والد کی سوانح عمری لکھنے کا سبب قسمت کو بتایا اور انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ۔
”کائنات کے سارے کام جانے انجانے طریقے سے اپنے مقررہ وقت پر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ میں نہ ادب کی طالبہ ہوں نہ بچپن سے لکھنے کا شوق رکھتی ہوں۔ بس قسمت میں لکھا تھا وقت کے اس لمحے میں میرے ابو“ اختر حسین انصاری صاحب ”پر کتاب لکھی جائے گی۔ لکھنے والی ان کی دختران شمع، اسماء ہوں گی اور پڑھنے والے ہوں گے آپ۔
لکھنے والی فرمانبردار بیٹیاں تو کارہائے نمایاں انجام دے چکی اس کتاب کا مطالعہ کرنے والے قارئین کے دامن خالی نہیں رہتے بلکہ بہترین اسلوب اور محبت کے موتیوں سے بھر جاتے ہیں۔
گلابی جاڑوں کی شام سے شروع ہونے والی اختر حسین انصاری کی سوانح عمری میں یوں تو بے شمار واقعات بیان ہوئے ہیں لیکن میں بس ایک واقع کا تذکرہ کروں گا جس سے ان کی ہمت اور قرآن مقدس سے الفت کا پتا چلتا ہے۔ بچپن میں سخت مزاج استاد نے اختر حسین انصاری کے تایا زاد بھائی سے کہا تھا کہ یہ بچہ قرآن نہیں پڑھے گا اسے آئندہ ساتھ نہ لانا۔ تایا زاد بھائی تو حافظ قرآن ہوئے لیکن اختر حسین انصاری کے دل کو یہ بات لگ گئی پھر کیا ہوا یہ بیٹیوں کی زبانی سن لیجیے۔
” 72 سال کی عمر میں ابا جی نے دوسری بار قرآن پڑھنا شروع کیا اور پھر صبح شام تلاوت کرتے پائے گئے۔ ننھے منے معصوم بچوں کی طرح بتاتے“ جو قاری صاحب ابا کو پڑھانے تشریف لاتے تھے ان کے ساتھ ایک یہودی طالب علم بھی قرآن پڑھنے آتے تھے۔ وہ اپنے خاندان سے پوشیدہ طور پر مسلمان ہو گئے تھے۔ ان کے پاس قرآن پڑھنے کی جگہ نہیں میسر نہیں تھی سو وہ ہمارے کارخانے میں قرآن پڑھتے تھے ”
شکر الحمدللہ رب العالمین ابا نے ایک سال کی قلیل مدت میں قرآن مکمل بھی کر لیا لیکن قرآن مکمل کرنے کے بعد بہت درد سے استاد اول کی بات دہراتے ”یہ بچہ قرآن نہیں پڑھے گا اسے آئندہ نہیں بھیجنا“
ابا پیارے نامی کتاب اس لئے بھی خاص ہے کہ اس پرفتن دور میں والدین کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے اس سے ہم سب واقف ہیں۔ ان کی نافرمانی عام ہے، ان کو قتل کیا جاتا ہے، ان کے مقام و مرتبے پر بچے سنگین جرائم کا ارتکاب کر کے دھبہ لگاتے ہیں لیکن ایسی خوش نصیب بیٹیاں بھی ہیں جنہوں نے والدین کے احترام کو اپنا دستور حیات بنالیا اور ان کو عزت دے کر خود بھی عزت کمائی۔ اس پرفتن دور میں ایسی شفقت اور محبت سے لکھی گئی داستان پڑھنا ضروری ہے تاکہ اس مقدس رشتے کی اہمیت اور عظمت کا سراغ ملے جو نافرمانی سے دھندلا گیا ہے۔
ابا پیارے نامی کتاب میں محبت کی شمع روشن کی گئی ہے جو نفرت کے اندھیروں کو چیر کر اس صبح کی نوید سناتی ہے جس کے طلوع ہوتے ہی والد کی قربانیوں کو اہمیت دی جائے گی، اس کی محنت کو سراہا جائے گا، بچوں کے تئیں اس کی انسیت پر زندگی نچھاور کرنے کا جذبہ ابھرے گا، والد سے محبت کرنے کا فیشن عام ہو گا اور ایسی کتابیں پڑھ کر بچے والد کی عزت اور اس سے محبت کرنے کا سلیقہ سیکھ جائیں گے۔ ابا پیارے لکھ کر شمع اختر انصاری اور اسماء اختر انصاری نے والد کی محبت میں جو باغ لگایا ہے وہ تاقیامت سرسبز رہے گا اور محبت، اخلاص، احترام، مروت کی خوشبو پھیلاتا رہے گا۔
والد کی حیثیت گھر میں نگران کی ہے۔ شمع اور اسماء نے والد کی نگرانی کی اور خلوص، محبت، اطاعت اور فرمانبرداری کی بنیاد پر کھڑے اس مقدس رشتے کی داستان کو وجود بخشا جو ہر گھر میں سنائی جائے گی۔ کتاب میں زبان و بیان کی خامیوں موجود ہیں جن سے اس لئے درگزر کرنے کی گنجائش ہے کہ کروڑوں بیٹیاں اس دنیا ناپائیدار پر سانس لے رہی ہیں لیکن کتنی ایسی بیٹیاں ہیں جنہوں نے والد پر کتاب رقم کی ہے۔ معدود چند میں جگہ پانے والی شمع اور اسماء کی اس کاوش کو عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ بقول معراج فیض آبادی۔
ہمیں پڑھاؤ نہ رشتوں کی کوئی اور کتاب
پڑھی ہے باپ کے چہرے کی جھریاں ہم نے
ان دو بہنوں نے باپ کے چہرے کی جھریاں تو خود پڑھ لی لیکن اپنے جاندار اسلوب میں ہمیں اس ہستی پر کتاب پڑھنے پر مجبور کیا جس کے بارے میں رب نے حکم دیا کہ اس کے ساتھ حسن سلوک کرو۔

