ورلڈ کپ 2024 اور پاکستانی کرکٹ ٹیم


ورلڈ کپ 2024 کے افتتاحی میچ میں پاکستان کے ”شاہین“ امریکہ کی کلب لیول ٹیم سے ذلت آمیز شکست کے بعد اسی شام ڈیلس میں ایک مقامی مذہبی تنظیم ایسٹ پلانو اسلامک سینٹر کی منعقد تقریب A Journey of Inspiration میں پچیس ڈالر فی کس ڈنر میں شریک ہوئے جس میں رضوان نے ایمان افروز خطاب بھی کیا۔ تقریب میں رضوان کے علاوہ بابر اور کئی دوسرے کھلاڑیوں نے محض پچیس ڈالر کے عوض شرکاء کے ساتھ سیلفیاں بھی بنوائیں۔

نیویارک میں 9 جون کے دن پاکستانی ٹیم اپنے روایتی حریف بھارت سے جس طرح ہاری اس نے ہر پاکستانی کو رلا دیا اور دنیائے کرکٹ کے تبصرہ نگاروں کو بھی حیرت زدہ کر دیا کہ کوئی ٹیم اس قدر بری پرفارمنس بھی دے سکتی ہے۔ ”قومی ٹیم“ محض ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور ہمارے نام نہاد شاہین تاش کے پتوں کی طرح بکھرتے چلے گئے۔ داد دینی پڑے گی بھارتی کھلاڑیوں کو جنہوں نے اتنے چھوٹے اسکور کا دفاع کیا اور کسی پینک کا شکار نہیں ہوئے ان کی باڈی لینگوئج شروع سے آخری بال تک مثبت رہی جو ان کی جیت کا سبب بنی۔

مجھے قطعی حیرت نہ ہوتی اگر پوری ٹیم ہارنے کے بعد مولوی ثقلین مشتاق کے داماد شاداب یا رضوان کی امامت میں گراؤنڈ میں سجدہ شکر ادا کرتی نظر آتی کہ یہی اللہ کی مرضی تھی اس شکست میں کھلاڑیوں کا کیا قصور۔ عین ممکن ہے کہ اگلے جمعہ مولانا رضوان نیویارک کی کسی مسجد میں ”شکست اور مشیت الہی“ پر خطبہ بھی دیں۔

اس شکست کے بعد اب ایک بار پھر اگر مگر اور انشاءاللہ ماشاءاللہ کا کھیل شروع ہو گا اور بظاہر لگتا نہیں کہ ہم سپر ایٹ کے مرحلے تک بھی پہنچ سکیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم اس کے اہل ہی نہیں۔

اس شکست پر مجھے کوئی تعجب نہیں ہوا کیونکہ میرا ماننا ہے کہ جو پوری قوم کی حالت ہے وہی کرکٹ کی بھی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ قوموں کا عروج اور زوال کلیت میں ہوتا ہے۔ جب قوموں پر زوال یا عروج آتا ہے تو وہ زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم ہر طرح سے زوال پذیر ہیں تو اس کا اثر کرکٹ پر بھی لازمی پڑے گا۔ آپ ان گیارہ لڑکوں کو الگ تو نہیں کر سکتے ان کھلاڑیوں کا مزاج بھی وہی شکست خوردہ، منتشر اور کنفیوزڈ ہے جیسا باقی ”قوم“ کا۔

قومی کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی میں۔ غلط سلیکشن۔ نا اہلیت اور فیورٹ ازم کے علاوہ ان کی غلط ترجیحات بھی شامل ہیں۔

پچھلے کئی برسوں سے ماضی کے بہترین کرکٹر انضمام الحق۔ مشتاق اور ثقلین مشتاق ٹیم کی ٹریننگ اور رہنمائی کر رہے ہیں۔ اگر ان کا محور کھیل تک ہی رہتا تو بہت اچھا ہوتا۔ لیکن یہ سابقہ کرکٹر جو اپنی کرکٹ ختم ہونے کے بعد مولوی بن چکے ہیں یہی ٹیم کے اتالیق بھی ہیں وہ کھیل کو بھی آخرت کا حصہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں ان کی تقلید میں کھلاڑی فیلڈ میں سجدہ کرنے اور اللہ کے فضل و کرم اور تائید ایزدی پر زیادہ زور دے رہے ہیں بنسبت بہتر کھیل پیش کرنے کے۔

میں خدانخواستہ عبادات کا منکر نہیں۔ سجدے بھی یقیناً اہم ہیں اور اپنی کامیابی پر اللہ کا شکر بجا لانا بھی انتہائی ضروری ہے لیکن اس کے لیے گراؤنڈ میں اس قسم کے مظاہرے کو میں ”غلو“ کی ایک قسم سمجھتا ہوں۔ کھیل سے پہلے اور بعد میں آپ چاہیں تو ساری رات رکوع و سجود میں پڑے رہیں لیکن یہ نہ بھولیں کہ قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ ان کھلاڑیوں کو ہم اپنے سر اور آنکھوں پر بٹھاتے ہیں لیکن آپ نے بدلے میں کیا دیا۔ آپ پروفیشنل کھلاڑی ہیں بھاری معاوضے وصول کرتے ہیں کیا قوم حق بجانب نہیں کہ آپ سے بہترین مقابلے کی توقع رکھے اور آپ کا فرض نہیں کہ اپنا بہترین کھیل پیش کریں۔ بصورت دیگر آپ بددیانتی اور بے ایمانی کے مرتکب ہوں گے ۔

میری نظر میں ہاشم آملہ ایک بہترین مسلمان ہے اور اتنا ہی اچھا کھلاڑی بھی تھا وہ ہر دوسری تیسری اننگ میں سنچری داغ دیتا تھا لیکن اس نے کبھی گراؤنڈ میں سجدہ نہیں کیا جبکہ وہ اپنی باری سے پہلے پیڈ کرنے کے بعد جیبی قرآن کی تلاوت کر رہا ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ انگلینڈ کی ٹیم میں معین علی۔ عادل رشید اور دیگر ٹیموں میں بھی باعمل مسلمان لڑکے کھیل رہے ہیں اور پھر بنگلہ دیشی اور افغانی کھلاڑی کیا ہم سے کم مسلمان ہیں؟

لیکن کیا کیا جائے ہمارے رویوں میں خودنمائی اتنی زیادہ آ گئی ہے کہ ہم اصل مقصد بھول گئے۔

ماضی میں ہمارے عظیم کھلاڑی حنیف محمد۔ عمران خان۔ ظہیر عباس۔ جاوید میانداد اور دوسرے بہت سوں نے کرکٹ کی دنیا پر راج کیا اسی طرح ہاکی میں اصلاح الدین۔ سمیع اللہ۔ حنیف خان اور اسکواش کے بے تاج بادشاہ جہانگیر خان نے بھی کبھی کسی قسم کی خودنمائی کا مظاہرہ کیا مجھے یقین ہے وہ تنہائی میں اپنے رب کے آگے اپنی کارکردگی پر سربسجود ضرور ہوتے ہوں گے ۔ میں سمجھتا ہوں جہانگیر خان سے بڑا اسپورٹس مین پیدا ہی نہیں ہوا جس نے بغیر ہارے ساڑھے پانچ سو سے زیادہ میچ جیتے اور ہر قسم کے تکبر اور اسکینڈل سے دور رہا۔ اور نہ کبھی اسے اسکواش کورٹ میں سجدہ کرتے دیکھا گیا۔ وہ یقیناً ہر کامیابی کے بعد تنہائی میں اپنے رب کے آگے ضرور شکر بجا لاتا ہو گا۔

دوسرے کھیلوں کی طرح کرکٹ اب کھیل سے زیادہ سائنس اور کیلکولیشن کا کھیل ہے۔ لیکن ہمارے ”جون سے“ کھلاڑی ہیں ان کی تعلیم اور ذہنی معیار انتہائی پست ہے وہ بیچارے تو جن سیون اسٹار ہوٹلز میں قیام کرتے ہوں گے وہاں کی سہولیات استعمال کرنے میں بڑی مشکل پیش آتی ہوگی چہ جائیکہ پریس کانفرنس، امپائرز اور لوکل کراؤڈ کو ہینڈل کرنا اس کے لیے تعلیم اور خود اعتمادی کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمارے کسی کھلاڑی میں نظر نہیں آتی۔

سابق کرکٹر ماجد خان نے کہا تھا کہ ”غریب گھروں کے بچے جب کرکٹ ہیرو بنتے ہیں تو انتہائی گھٹیا حرکات کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ دولت دیکھ کر اوقات بھول جاتے ہیں۔ اور اس ٹیم میں اکثریت کا تعلق پنجاب اور کے پی کے دیہات سے ہوتا ہے۔ “ مجھے ماجد خان کے اس بیان سے کسی حد تک اختلاف ہے۔ ماضی میں بھی بہت سے غریب اور متوسط طبقے کے کھلاڑیوں نے بہت اعلی کارکردگی دکھائی اور ملک و قوم کا نام روشن کیا۔ ماجد خان اگر لفظ ”غریب بچوں“ کے بجائے کھلاڑیوں کی علم سے دوری اور جہالت کہتے تو زیادہ مناسب ہوتا۔

اب سے چند سال پہلے کرکٹ اتنی بڑی نہیں تھی اور ہمارے ماضی کے پلیئرز اپنے اعلی معیار اور کھیل کی وجہ سے غیر ممالک میں جانے جاتے تھے۔ یہی حال ہاکی اور اسکواش کا تھا۔ اتنے بڑے نام اور کیسے کیسے لوگ جنہوں نے دنیا میں اپنا لوہا منوایا اور امر ہو گئے۔

اب کرکٹ کا کھیل صرف انگریزوں اور ان کی نو آبادیوں ہی تک محدود نہیں رہا بلکہ یورپی ممالک۔ امریکہ اور کینیڈا تک جا چکا ہے۔ عرب اور خلیجی ممالک میں کرکٹ ایک مقبول کھیل ہے جو عبد الرحمان البخاطر اور ہمارے مایہ ناز کرکٹر آصف اقبال کی مرہون منت ہے جن کی کوششوں سے صحرا میں کرکٹ میلہ ایسا سجا کہ شارجہ ایک استعارہ بن گیا اور کرکٹ ایک کھیل سے زیادہ کاروبار بن گیا شاید وہیں سے کرکٹ میں جوا اور سٹہ بھی متعارف ہوا جس میں بڑے بڑے کھلاڑی ملوث پائے گئے۔ کرکٹر سلیبریٹی بن گئے۔ دولت کی ریل پیل کی وجہ سے کھیل سے زیادہ کھلاڑیوں کے وارے نیارے ہو گئے۔

ہم جن کرکٹ کے کھلاڑیوں کو سر پر بٹھاتے ہیں۔ ان کے لیے مصلے بچھا کر دعائیں کرتے ہیں وہ میچ فکسنگ اور سٹہ کھل کر کروڑوں کمانے میں لگے تھے ان کو آپ کے جذبات کی کوئی پرواہ نہیں۔ کئی کھلاڑی مال بناتے رہے اور جب ان کی کرکٹ ختم ہوئی تو ان میں سے کئی تبلیغی ہو گئے۔ کرکٹ کے کھلاڑیوں کے میچ فکسنگ اور سٹہ بازی میں ملوث ہونے کی انکوائری سپریم کورٹ کے جج جسٹس نسیم شاہ نے کی جس میں ماضی کے کئی نامور کھلاڑیوں کا نام آیا اور ان کو سزائیں بھی ہوئیں۔

کرکٹ میں دین کی تبلیغ مولانا طارق جمیل کی عطا ہے ان کا ٹارگٹ خاص طور پر کرکٹ کے کھلاڑی اور شوبز سے متعلق افراد ہوتے ہیں یا پھر وہ سرکاری اہلکاروں۔ جرنیلوں اور وزرا کی روح پرور محفلوں میں رقت آمیز بیان دیتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم میں جوں جوں تبلیغ کا رجحان بڑھتا گیا کھلاڑیوں کی کارکردگی کا معیار گرتا چلا گیا۔ کھلاڑیوں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری جس کے لیے وہ بھاری میچ فیس لیتے ہیں کو پس پشت ڈال کر تبلیغ کرنا شروع کر دی۔

2007 میں انضمام الحق کو ویسٹ انڈیز میں ہونے والے ورلڈ کپ کے ایک میچ میں آئرلینڈ سے شکست کے بعد روتے ہوئے میدان چھوڑ کر سٹیڈیم سے باہر آنا پڑا۔ مولوی انضمام الحق ورلڈ کپ سے قبل وہاں مسلم کمیونٹی کو تبلیغ کر کے بتا رہے تھے کہ دنیا کی ہر کامیابی نماز میں ہے۔ کوئی بتائے کہ کھلاڑی کرکٹ کھیلنے کے لئے گھر سے ویسٹ انڈیز گئے تھے یا تبلیغی دورے پر تھے ان کی میچ فیس ٹکٹ اور ویسٹ انڈیز میں قیام پر آنے والے اخراجات جو قوم نے ادا کئیے، کیا ان کے لیے جائز تھے۔

کرکٹ ٹیم میں تبلیغ کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ اور اب یہ ذمہ داری محمد رضوان نے سنبھالی ہوئی ہے۔ رضوان سے پہلے سعید انور، محمد یوسف، مشتاق احمد، ثقلین مشتاق اور شاہد آفریدی جیسے کرکٹرز رائے ونڈ کے اجتماعات میں کھلاڑیوں کو شرکت کی ترغیب کرتے نظر آئے۔

مولانا طارق جمیل بھی خوب ہیں کبھی وینا ملک کو حج و عمرے پر لے جا کر توبہ و استغفار کراتے ہیں تو کبھی کسی خواجہ سرا کو تبلیغی دوروں پر لے جاتے ہیں اور کبھی فلمسٹار نرگس کی عاقبت سنوارنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان سے پہلے مرحوم جنید جمشید بھی طارق جمیل صاحب کی تقلید میں گلوکاری کو ترک کر کے تبلیغی بن گئے۔ مجھے ذاتی طور پر کسی کے اعمال سے کوئی سروکار نہیں ہر ایک کو آزادی ہے کہ وہ اپنے طور پر زندگی گزارے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنے رزق اور خدمات کے عوض ملنے والے معاوضے سے انصاف کریں اور ان توقعات کو بھی پورا کریں جو قوم آپ سے لگائے بیٹھی ہے۔

رضوان اور کئی دوسرے کھلاڑیوں نے کرکٹ ٹیم میں تبلیغ کی ایسی بنیاد رکھی ہے کہ کھلاڑی یہ سمجھنے لگے ہیں کہ پرفارمنس نہیں بلکہ دین کی اشاعت زیادہ ضروری ہے۔ چنانچہ اس فلسفے پر عمل کرتے ہوئے وہ انگلینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی مسجدوں میں تبلیغ کرتے دکھائی دیے۔ قوم نے آپ غیر ملکی دوروں پر تبلیغ کے لئے نہیں بلکہ کرکٹ کھیلنے کے لئے بھیجا ہے اور اس کا بھاری معاوضہ بھی آپ وصول کرتے ہیں۔ کیا آپ اپنے اولین فرض سے غفلت نہیں برت رہے؟ وہ رقم جو آپ میچ فیس کے طور پر لیتے ہیں اور فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام کرتے ہیں کیا آپ اس سے انصاف بھی کرتے ہیں لیکن کون ہے جو اس مسئلے پر بات کرے؟

بابر اعظم انفرادی طور ایک اچھا کھلاڑی ضرور ہے لیکن وہ میچ ونر نہیں اور نہ ہی اس نے کبھی کوئی میچ جتوایا اس کا مقابلہ ویرات کوہلی سے کرنا مناسب نہیں۔ بابر قطعی طور پر کیپٹن مٹیریل ہے ہی نہیں وہ نہ تو پریس کو ہینڈل کر سکتا ہے اور نہ ہی اپنے کھلاڑیوں میں کوئی موٹیویشن پیدا کرنے کا اہل ہے۔ اس کی شکل پر ہوائیاں اڑ رہی ہوتی ہیں اور لگتا ہے کہ خوفزدہ بھی ہے۔ بقول سابق چیرمین بی سی پی نجم سیٹھی ٹیم بری طرح گروپ بندی کا شکار ہے ایک گروہ پختون کھلاڑیوں کا ہے جس کی قیادت شاہین اور دوسرا پنجابی ہے جس کے امام بابر ہیں۔

شنید ہے کہ کھلاڑیوں کے مابین تلخ کلامی بھی ہوتی رہتی ہے۔ افسوس یہ کہ یہ ٹیم نہ تو کسی ٹارگٹ کو چیز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور نہ اپنے ہی بنائے اسکور کا دفاع کرنے کی اہل ہے۔ ڈسپلن اور پلاننگ کا بھی فقدان نظر آتا ہے اس صورتحال میں ان سے کیا امید کی جائے۔ شاید اگلے چند دنوں میں ”دم کٹے شاہین“ رسوائی کا ٹوکرا سر پر اٹھائے واپسی کا سفر کر رہے ہوں گے یا اپنی پھر جفت مٹانے اور عوامی ردعمل سے بچنے کے لیے ٹیم کے ساتھ وطن واپس ہی نہ آئیں۔

پاکستان سے ہاکی۔ اسکواش تو پہلے ہی ختم ہوچکے تھے اب کرکٹ کا بھی دیہانت ہوا چاہتا ہے جس کی ایک وجہ ”قومی“ ٹیم کے سلیکشن میں ذاتی پسند نا پسند اور صوبائیت بھی ہے۔ موجودہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو فوراً استعفی دینا چاہیے اور سلیکشن کمیٹی کو ختم کر کے نئی کمیٹی بنائے جائے۔ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کو بحال کیا جائے اور کرکٹ کی زونل کمیٹیوں کو فعال کیا جائے۔ بھارت کے نامور کرکٹر راہول ڈراوڈ نے ریٹائرمنٹ کے بعد جس طرح نوجوان کھلاڑیوں کی کوچنگ کی اسی طرز پر کیا ہمارے ماضی کے اسٹارز میں سے کوئی سامنے آ کر یہ قومی خدمت انجام نہیں دے سکتا؟

میری اطلاع کے مطابق چند سابقہ کھلاڑی پوش آبادیوں میں کرکٹ کوچنگ کلب چلا رہے ہیں۔ کراچی میں معین خان اکیڈمی نوجوانوں کی کوچنگ کر تو رہے ہیں لیکن اس کلب کی فیس اتنی ہے کہ عام بچہ ادا نہیں کر سکتا بس یہ بھی ایک الیٹ کلاس کلب ہے جس سے مال کمایا جا رہا ہے اور نہ ہی آج تک ان کلب سے کوئی نوجوان ابھر کر سامنے آیا۔

جیسا کہ میں نے اوپر لکھا قوموں پر عروج اور زوال کلیت میں آتا ہے اور آج ہم ہر میدان میں زوال پذیر ہیں۔ مقام افسوس ہے اور سوچنے کا مقام ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور اقوام عالم میں ہمارا کیا مقام ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments