لاہور کہاں ہے؟
سوچتا ہوں کہ پانچ برس تو ہو ہی گئے ہوں گے میرے شہر لاہور کو یونیسکو کی جانب سے ”شہرِ ادب“ کا اعزاز پائے ہوئے۔ مجھے یاد ہے اس اعزاز کے اعلان سے اگلے روز ہی لاہور سے تخلیق کار دوست راجا نیر کا پیغام موصول ہوا تھا کہ ایک مقامی اخبار کے لیے انھیں میرے تاثرات درکار ہیں۔ میں نے قلم برداشتہ چند سطور رقم کیں اور انھیں بھیج دیں۔ وہ سطور کچھ یوں تھیں :
لاہور کی حسین فضاؤں سے دُور ہوں
لگتا ہے جیسے ماں کی دعاؤں سے دُور ہوں
کہنے کو تو یہ شعر میں نے 1990 میں قیامِ جرمنی کے دوران کہا تھا اور وہاں مشاعروں میں میری پہچان بن گیا تھا مگر سچ یہ ہے کہ اس شہرِ شفیق کی محبت کا احساس ہمیشہ مجھ میں دھڑکتا رہا۔ یورپ گردی کے بعد کینیڈا آتے ہوئے بھی رخت ِسفر میں سب سے بڑا سوٹ کیس لاہور ہی کی یادوں سے بھرا تھا جو میری شفق رنگ تخلیقی فضا میں جگنووں کی طرح ٹمٹماتی رہتی ہیں۔
یونیسکو نے تو لاہور کے ”شہرِ ادب“ ہونے کا اعتراف اب کیا ہے حالانکہ اس کی یہ حیثیت تو عہد در عہد اور دل در دل مسلمّہ چلی آ رہی ہے۔ اس کی ادبی فضا کبھی بھی کسی حکمران کی سرپرستی کی مرہونِ منت نہیں رہی۔ دلِ ہر قیس میں بسا یہ لیلائی شہر من موجی اور من چلا سا نوجوان لگتا ہے جو اپنی خود رفتگی میں مست اپنی ہی شرائط پر زندہ رہا، ہے اور رہے گا۔ ہاں، میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ حالیہ عالمی اعزاز کے تناظر میں اب اس خوش رنگ ثقافتی مرکز کی خوشبو کو آوارگی کے لیے کچھ اور کوچے میسر آ جائیں گے۔ اہلِ لاہور کو مبارک باد۔ ”۔
اور اس کے بعد اِدھر کینیڈا میں بیٹھے لاہور کے ادبی میلے کی رنگا رنگ تصویریں بھی نظر سے گزرتی رہیں۔ یہ بھی سنا کہ پاک ٹی ہاؤس اُجڑ کے پھر سے بس گیا؛ نئے رنگ و روغن اور فرنیچر کے ساتھ اور پھر حلقہ اربابِ ذوق کے اجلاسوں کی خبریں بھی دل چسپی کا باعث ہوئیں اور متصادم ادبی دوستوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی اطلاعات بھی کہ ہمارا حلقہ اربابِ ذوق ہی اصل حلقہ ہے۔ یہ خبریں پڑھ کر میں نے دُور بیٹھے یہ بھی سوچا کہ یہ لاہور بھی اصلی ہے یا نہیں؟ اس کا مقدمہ کس عدالت میں لے جاؤں؟ وقت کی عدالت میں؟ زمانے کی عدالت میں؟ مگر کیا کروں حلقہ کے ہی ایک سیکرٹری جنرل مبارک احمد یہ کہہ گئے ہیں
زمانہ عدالت نہیں ہے
میں اب کرہ ارض کے ایک دوسرے کنارے پہ بیٹھا وقت کے دوش پر آتی جاتی، پل پل لہراتی، اداس کرتی، ہنساتی یادوں کی لہریں گِنا کرتا ہوں اور لاہور میں سے وہ لاہور تلاش کرنے کی سعی کیا کرتا ہوں جو میں نے والدِ گرامی یزدانی جالندھری صاحب کی باتوں میں اور اپنے بچپن اور لڑکپن کی آنکھوں سے دیکھا۔ وہ لاہور کہاں ہے؟
بہت دن ہوئے یہی سوچتے سوچتے ذہن میں منظر منظر مختلف موسم اترنے لگے۔ ذہن اور قلم نے ان میں سے کچھ مناظر کو مصرعوں کی صورت دی تو پانچ حصوں پر مشتمل ایک شعری کو لاژ سا ترتیب پا گیا جسے نظم قرار دے کر میں آج ”ہم سب“ کی وساطت سے آپ سب کی نذر کر رہا ہوں :
۔ ۔
میرا لاہور۔ ایک کو لاژ
………
(1)
مِرے لاہور
تم کب اپنے بوجھل کندھے اْچکاؤ گے
یکسر بے خیالی میں۔
کرو گے بات اس ناراض ٹیلی فون سے
بتلاؤ گے، اُس پار سے آئے صحافی کو
کہ آخر لوگ کیوں اِتنے خفا ہیں
خوش نما بحران سے
کیوں ملگجے مزدور بچّوں کی ہنسی
سیلاب بھر بہتی ہوئی ندّی
ابھی پکّی سڑک کی خام وحشت میں بھٹکتی ہے
ادھورے امتحاں اسکول کے ٹاٹوں پہ بکھرے ہیں
وہ چوبی تختیوں سے جھولتی کالی دواتیں
سولہ کا اُلٹا پہاڑہ
میز کے نیچے جھجکتے، کسمساتے حرف و معنی کے نئے رشتے
! جہالت کا سبق ازبر نہیں ہوتا
سویرا دھیرے دھیرے چھپ رہا ہے
جون کے پہلو میں
پبلک لائبریری کے احاطے میں
فضا میں آکسیجن کھوجتی چڑیا کی حیرانی
کہ لارنس گارڈن کے ڈھلتے پیڑوں کو چڑاتی
گورنمنٹ کالج کے اوول پر چمکتی دھوپ
! آخر ایک سی کیوں ہے
(2)
دہکتی چھاؤں میں دیوار روتی ہے
کسی اخبار کے دفتر میں دبکا لاتعلق سا پہر
ٹوٹے ہوئے سگنل، ربڑ جیسا سپاہی
کاغذی بندوق، مسروقہ خبر
رہ گیر جانے کیوں ہراساں ہیں!
چہکتا، تائیوان کا نوکیا
پھر دن دیہاڑے چوک چوبرجی میں لٹ جاتا ہے
وہ تنخواہ گنتے ہیں
مسلسل گنتے جاتے ہیں
چٹختی انگلیاں جھڑنے لگی ہیں
ریز گاری کی طرح
روداد جاری ہے
اسی پس ماندہ چینی کی
شکرداں سے سفر ہے، ڈاک کے خالی لفافے تک
اڑھائی سو روپے، ماہانہ اخراجات کے گنجھل
کہ اک عددی کتھک
اب اک غزل کے تیس، ماہِ نو سے ملتے ہیں
سنا ہے، ریڈیو تو ساٹھ دیتا ہے
تو جیتا کون؟
ساغرِ خود رفتہ یا اقبال ساجد؟
چھوڑیئے، یہ بعد میں سوچیں گے
پہلے، چینی والے اس لفافے کو تو تھیلے میں ذرا رکھ لیں
وہ دیکھیں! چیونٹیاں آنے لگی
(3)
منتخب ایوان کی چکنی سیڑھیوں سے لے کے
سیکریٹیریٹ کی سرد راہداری تلک
بیروزگاری کی چپکتی بھنبھناہٹ
فائلوں میں رینگتے کچھ ملتجی سے سائلوں میں ڈھل رہی ہے
خواہشوں کے موڑ مڑتی غیر ملکی گاڑیوں کی روشنی میں
شام عریاں ہے
سٹاک ایکسچینج کی لپٹیں معاشی پالیسی کو بوسہ دیتی ہیں
حقارت سے
اکہتر اور پینسٹھ کے زمانے لد گئے۔ پھر بھی
اندھیرا کیوں نہیں جاتا؟
یہاں میلے تو ہوتے ہیں چراغاں کیوں نہیں ہوتا
شکستہ پٹڑیاں، رفتہ صدی کا زنگ
گورے، نِیم گورے صاحب اور پس خوردہ آزادی کے نعرے
کسل مندی یا تھکن؟
پامال سانسیں نیلے پیلے قمقمے سے
شیر شہ سُوری کے رستے میں دراڑیں اْگ رہی ہیں
جنگِ آزادی سے رنگِ خواب تک
بس ایک نارنجی دِیا سا، بڑبڑاتا، سوئے اسٹیشن کے پیچھے
گاڑیوں کی تیزگامی سے پرے
کچھ تار بجلی کے
سڑک کے دونوں جانب، آر پار
جمع ہوتے، ضرب کھاتے، بھورے کوے
شہر بھر کی بے لباسی گِن رہے ہیں
چاہ میراں سے نفیر آباد تک
زندہ دلوں کی یاد۔
یعنی تاجورؔ، اقبالؔ، عابدؔ، فیضؔ، یزدانیؔ، ظہیرؔ
صوفیؔ صاحب اور ندیمؔ
امروز، محفل، ریڈیو، مجلس، بیاض، امروز، مشرق اور فنون
جھلملاتے عکس سارے
عشق کے مارے، وہ پیارے، کیا ہوئے؟
اب بالزاک ؔچپ ہے
ادب چوپال میں سمٹا ہے یا بیٹھک کی زینت ہے
! سعادتؔ جی
منیرؔ، اشفاقؔ، انجم اور جالبؔ کی نشستیں اب بھی خالی ہیں
سراجؔ، ارشادؔ، خالدؔ اور ضیاؔ،
جاویدؔ، تابشؔ اؔصغرؔ و امجدؔ، وسیم و طارقؔ و مختارؔ
سارے یار
باہر منتظر ہیں۔ گیلی ریلنگ پر
نتیجہ آنے والا ہے
! سراسیمہ سا ٹی ہاؤس، چائے۔
چائے کا کیا ہے؟
سٹوڈنٹس اون چوائس سے بھی پی لیں گے
مگر شیزان کے ملبے کو ڈھونڈیں کس کی بستی میں
خجستہ مال کو شہ رہ کا طعنہ کھائے جاتا ہے
ترانہ خطۂ لاہور کا کس پان کے کھوکھے پہ بجتا ہے
دْھنیں، سردی کی راتیں بن گئی ہیں
پیالیوں میں کھنکھناتی ایک آہٹ
یا کہیں نصرت علی کی گنگناہٹ
( 4 )
نیشنل سنٹر، عجائب گھر، نمائش
چھت کی رنگینی میں الجھے صادقینی عکس کیا جانیں
کہ ضلعی ناظمین بہتر رہیں گے یا مئیر؟
ان کو بھلا کیا فرق پڑتا ہے
زیادہ کون چلتا ہے؟
ظفرؔ اقبال کی غزلیں کہ کالم خالدؔ احمد کا ؟
نیا قانون، برقعہ۔ اور ادب
ہر ایک منٹوؔ آن لائن ہے
! ابھی تک سائبر کیفے میں کتنی بھیڑ ہے
چیٹنگ کے رسیا پوچھتے ہیں
سالِ نو کا ریٹ کتنا ہے؟
بھٹکتے حرف اور کیبل کا کیا جھگڑا ہے
معلومات کا اندھا خزانہ لْٹ رہا ہے
پر لٹیرا کون ہے؟
ابکائی، بَدرو سے بجٹ تک پھیل جاتی ہے
سی این این اور بی بی سی کہاں ہیں اب؟
تھیٹر بند ہے
لیکن مسلسل کھیل جاری ہے
کہانی اپنا راوی ڈھونڈتی ہے
ریت سے لپٹی پتنگوں کو ہوا ملتی نہیں
دیکھو، یہ آندھی کی دعائیں کون کرتا ہے؟
کہ کھڑکی میں پڑے کاغذ اْڑانے کو تو ٹیبل فین کافی ہے
نشستِ شاعری برپا ہے قلعے میں
سیاسی قیدیوں کی سسکیاں بھی داد دیتی ہیں
(5)
خبر کی کھوڑ بھرتی میڈیا کوریج
کچہری کی طرح کیوں لال ہے مسجد؟
اذانیں ایک جیسی مختلف ہیں
داتا صاحب سے سمن آباد تک
! بہرے سپیکر ہانپتے ہیں فرقہ ورانہ دھماکے یا دھمال
یہ آخر کون ہیں جو خانہ جنگی چھانتے ہیں جنگ سے
اور کیش کرواتے ہیں چیک اب بھی
لٹے قومی خزانے سے
قیامِ امن کے، قومی ثقافت اور شرافت کے اثاثے
عسکری کھاتوں میں پس انداز کرتے ہیں
شمالی گھاٹیوں کی آتشیں بازی مِری گلیوں تک آ پہنچی
کہ زیریں راستوں سے لے کے ان بالائی سڑکوں تک
مسلسل پھیلتا یہ ڈر ہے یا کہرا؟ دھواں؟ شاید
مزنگ اڈے سے ماڈل ٹاؤن، نسبت روڈ سے شہ راہِ قائدؔ تک
شناسا دھند کا ڈیرا
درانتی سے ستاروں تک وہی چہرہ
کبھی اے کاش ناگی یہ بھی منّو ؔبھائی سے پوچھے
کہ آخر حزن کب اِس شہر کے موسم کو چھوڑے گا؟
سیاسی پوسٹر
اور جھنڈیاں بھی جل چکیں کب کی
سوالی ہڈیاں بھی گل چکیں کب کی
مگر یہ کیا ضیافت ہے
! کہ اب تک ختم ہونے میں نہیں آئی


