نظر آئے اک شکل مہتاب میں : میر کا خلل دماغ۔ 2
اب آتے ہیں انزائٹی پر۔ بے چینی کہیں تو بیماری کا گماں گزرے۔ اضطراب کہیں تو تخلیقی عمل سے نسبت محسوس ہو۔ جینیاتی عوامل کے بعد بے چینی کے محرکات میں بچپن کی اٹیچمنٹس اور کچھ چیزوں سے خوف کا منسلک ہونا ہے۔ پھر یہ بے چینی دوروں کی صورت میں کبھی کبھار کسی خاص چیز کا سامنا کر کے آئے یا بغیر کسی وجہ کے آئے یا ہر وقت ہی اضطراب کا عالم طاری رہے۔ اس حالت میں دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے، ہاتھ پاؤں سن ہوتے ہیں، کسی انہونی کا احساس رہتا ہے۔
شاعروں اور اور تخلیق کاروں کے اضطراب کا فن کی صورت لے لینا ہمیشہ سے زیر بحث رہا ہے۔ ذہنی اور نفسیاتی صحت میں انزائٹی ایک دلچسپ مضمون ہے۔ انزائٹی ڈس آرڈرز کے نام سے ایک یا کئی بیماریوں کا مجموعہ، بے چینی کو کور کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام نفسیاتی بیماریاں جب پک کر رہی ہوتی ہیں تو مریض بے چین ہی ہوتا ہے یا اضطراب کا شکار رہتا ہے۔ جیسے ماں بچہ جننے سے پہلے اور تخلیق کار تخلیق کرنے سے پہلے۔ مینیا، شیزوفرینیا یا ڈپریشن میں یا باقی علامات کے ساتھ اضطرابی کیفیت بھی بہت سے مریضوں میں دیکھنے میں آتی ہے۔
آنکھوں میں اپنی رات کو خون ناب تھا سو تھا
جی دل کے اضطراب سے بے تاب تھا سو تھا
بے چینی کی یہ کیفیت، مریضوں میں بھی بہت مشکل ہوتی ہے اور معالجین ان کے ساتھ اتنی ہی مشکل محسوس کرتے ہیں علاج کے دوران۔ شاعروں اور ادیبوں کے لئے بھی تخلیق سے پہلے کا اضطراب ہو یا زندگی کے خوف اور مصائب نے اضطرابی صورت طاری کر رکھی ہو، دونوں کیفیات ہی مشکل ہوتی ہیں۔ اس بے چینی اور اضطراب کی کیفیت میں غم دوراں، غم جاناں، غم روزگار اور مسائل پیرانہ سالی شامل ہو جائیں تو شاعر ایسا شعر تخلیق کرتا ہے ہے۔
صبر کیا نہیں جاتا ہم سے، ضعف بھی ہے بے تابی ہے
سہل نہیں ہے جی کا ڈہنا کیسی خانہ خرابی ہے
اہم سوال یہ ہے کہ ہمارے کچھ یا بیشتر مریضوں میں یہ کسی سائنسی و ادبی تخلیق کا اضطراب تو نہیں ہوتا جسے ہم نفسیاتی بیماری کی چھتری دیکھ کر کم یا ختم کر ڈالتے ہیں۔ یا کئی دفعہ وہ انسان خود اس اضطراب کو تخلیق میں ڈھالنے کے بجائے نشہ آور ادویات کے ذریعے ختم کر ڈالتا ہے۔
کسی بھی انسان میں بے چینی یا بے تابی کی وجہ ڈھونڈنا بے حد ضروری ہے۔ وہ انزائٹی ڈس آرڈر ہے، کوئی لاشعوری گتھی ہے یا تخلیقی اضطراب ہے۔ اس کا ایک اور کلینیکل زاویہ بھی ہے۔ کئی دفعہ ایک گرد سی ذہن پہ چھائی ہوتی ہے۔ جس طرح مشکل لیبر میں آپریشن کے ذریعے یا انسٹرومنٹل ڈیلیوری کے ذریعے بچے کی پیدائش کو آسان، بہتر اور یقینی بنایا جاتا ہے، اسی طرح علاج (کچھ دوائیں یا سائیکو تھراپی) کے ذریعے خیال یا تخلیقی مواد کے گرد چھائی گرد کو ہٹا کر تخلیقی عمل کو آسان کیا جا سکتا ہے۔ کئی تخلیق کار شراب یا کسی اور نشہ آور چیز سے یہ کام لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
اضطرابی کیفیت کو صرف انزائٹی ڈس آرڈر یا کسی نفسیاتی بیماری کے پروڈروم سے جوڑنا درست نہیں۔ اگر کسی شخص کی انزائٹی سے میر کا سا شعر یا آئن سٹائن کی سی تھیوری نکل سکتی ہے تو سکائٹرسٹ یا تھراپسٹ کا کام اس ڈھب سے مدد کرنا ہے کہ مریض کی کوالٹی آف لائف بھی بہتر ہو، دماغ پر چھائی دھند بھی کم ہو اور اگر اس اضطراب نے تخلیق کے عمل میں کنورٹ ہونا ہے تو وہ بھی آسانی سے ہو۔ بے تحاشا ادویات یا نشہ آور اشیاء کا استعمال اس تخلیقی اضطراب کو نیست و نابود کر سکتا ہے۔ بحیثیت شاعری اور نفسیات کے طالبعلم متعدد زاویوں اور ان کے لنک کو دو ڈائمنشن میں سمجھانا بے حد مشکل ہے۔ کاش کسی تیسری ڈائمنشن کا سہارا مل سکتا تو دماغ، نفسیات، اضطراب، کیمیائی اجزا، تخلیقی عمل، نفسیاتی بیماریاں جیسے عوامل کا نیٹورک بن پاتا۔
کہیں جو تسلی ہوا ہو یہ دل
وہی بے قراری بدستور ہے
جنوں اور وحشت پر جانے سے پہلے کچھ ان عوامل کی بات کرتے ہیں جو ڈائریکٹلی یا ان ڈائریکٹلی نفسیاتی بیماریوں سے منسلک ہوتے ہیں۔ ان میں سر فہرست مے نوشی ہے۔ اس کے بعد دوسری بڑی وجہ نشہ آور اشیاء کا استعمال ہے۔ غالب کی مے نوشی تو مسلم ہے مگر میر کے متعلق معاملہ قیاس آرائیوں تک ہی محدود ہے لہذا اس ذکر کو ہم بھی یہیں لپٹے دیتے ہیں۔ اس کے بعد باری آتی ہے شخصیت کی، شخصیت ماں کے پیٹ سے قبر تک بننے بگڑنے کے عمل سے گزرتی رہتی ہے۔
زندگی کے پہلے 16 سے 18 سال اس ضمن میں بے حد اہم ہیں۔ وہی کچھ جینیاتی عوامل، کچھ ماحول کا اثر، کچھ والدین، اساتذہ اور ارد گرد کے لوگوں سے باہمی میل جول۔ زندگی کے اوائل دنوں میں جو معاشرہ آپ کو دیتا ہے وہی آپ اس کے بعد اپنی شخصیت کے مطابق معاشرے سے انٹریکشن کر کے اسے لوٹاتے ہیں۔ میر کے زمانے میں نہ فرائڈ تھا نہ ایرکسن تھا اور نہ ہی ینگ۔ شخصیت سازی اور شخصیت اور نفسیاتی بیماریوں کے تال میل پر کوئی سائنسی کام نہ ہوا تھا۔
اس کے باوجود ”کلسٹر بی“ شخصیت کے کرائیٹیریا لگتا ہے میر کی زندگی اور شعروں کو دیکھ کر ہی بنے ہیں۔ ہمارے ایک استاد نارسزم یعنی خود پسندی کو مختلف نفسیاتی بیماریوں اور شخصیت کے حساب سے کمال طریقے سے بیان کرتے تھے۔ مینیا کے مریض کی خود پسندی اور بڑھی ہوئی خود اعتمادی۔ شیزارینیا کے مریض کا خود کو توجہ کا محور سمجھنا اور اس گمان کے اردگرد شکوک و شبہات کے جال بننا۔ نارسسٹک شخصیت کی خود پرستی کی حدوں کو چھوتی خودپسندی اور اس کی وجہ۔
سے ارد گرد کا ماحول زہر آلود ہو جانا۔ شعراء کرام کی خود پسندی اور نازک مزاجی تو ازل سے مشہور ہے۔ مگر عموماً شخصیت کا یہ عنصر شعروں اور داد و تحسین میں ڈھل جاتا ہے اور ارد گرد کے ماحول کو منفی نہیں کرتا۔ میر کی نازک مزاجی کا خود ان کو بھی مکمل ادراک تھا تھا۔ اب یہ نازک مزاجی شخصیت کا حصہ تھی یا کسی نفسیاتی بیماری کی مزاج سے متعلق گڑبڑ تھی۔ 300 سال بعد اس پر تبصرہ کرنا بے حد مشکل کام ہے۔ میر کے مصائب، بچپن کے حالات، والد کا بلیک اینڈ وائٹ رویہ، شعروں پر داد کی کمک، حکام وقت کا ان کی شاعری کو سراہنا اور نازک مزاجیوں کو برداشت کرنا۔ یہ سب عوامل تھے کہ میر کو اس نہج پہ لے آئے۔ گو بیشتر حوالے ذکر میر یا ان پر کام کرنے والوں کے ہاں ملتے ہیں مگر کچھ چھاپ شاعری پر بھی ہے
سارے عالم پہ ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا
ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں
اپنے سوا کس کو موجود جانتے ہیں
لا ابالی پن اور جنون خیزی کی تراکیب کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے اپنی شاعری میں ایک کردار تخلیق کیا اور انہی عوامل کو خود پسندی میں لپیٹ کر جسٹیفائی کیا ہے اور مزہ تو یہ ہے کہ ٹھیک ہے کیا ہے۔ خدائے سخن خود کو خدائے سخن کہے تو اتنا مضائقہ نہیں۔
کی زیارت میر کی ہم نے بھی کل
لا ابالی سا ہے پر کامل ہے میاں
خوش ہیں دیوانگی میر سے سب
کیا جنوں کر گیا شعور سے وہ
شخصیت میں خود پسندی، جذباتی پن، معاشرے اور اصولوں سے بغاوت، شدت پسندی اور اس قسم کے دیگر عوامل انسان کو نفسیاتی بیماریوں کا شکار بھی کر سکتے ہیں اور نشہ اور شراب کے استعمال اور خود کو اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کا امکان بھی بڑھا سکتے ہیں۔ یہی عوامل اگر درست یا بہتر چینل سے نکلیں تو شاعری، ادب، سائنس، انسان دوستی اور لیڈرشپ کے شاہکار جنم لیتے ہیں۔ میر کے ہاں نفسیاتی بیماری کا ہونا بھی میر نے خود لکھا، شاعری ایک شاہکار کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ نازک مزاجی بھی کچھ تاریخ کا حصہ اور کچھ میر نے خود بیان کی ہے۔
اتنی بھی بد مزاجی ہر لحظہ میر تم کو
الجھاؤ ہے زمیں سے جھگڑا ہے آسماں سے
اپنے مزاج میں بھی ہے میر ضد نہایت
پھر مر کے ہی اٹھیں گے بیٹھیں گے جو اڑکے ہم
یہاں یہ بتانا اہم ہے کہ شخصیت سازی کی آگاہی سے بہت پہلے اس سے جڑے مسائل کے شاید بہتر حل موجود تھے۔ اس وقت خود پسندی، جذباتی پن، سیاہ و سفید سوچ اور نازک مزاجی کو وہ راستہ مل جاتا تھا کہ صدیوں بعد بھی نام زندہ رہ جاتا تھا۔ ان راستوں کی بندش یا معدوم ہونے سے آج کل کے جوانوں کے پاس زیادہ منفی رستے بچتے ہیں اور شخصیت کے عارضے ان کو، اردگرد کے لوگوں کو اور معاشرے کو صرف بیماری کی طرف ہی لے جاتے ہیں۔


