سیاسی جماعتیں اور نظریاتی کارکن

پاکستان میں اس وقت سیاسی میدان میں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے۔ اس سیاسی اتھل پتھل میں سیاسی جماعتوں کا سارا زور سوشل میڈیا کے ذریعے بیانیہ بنانے پہ مرکوز ہے۔ جبکہ روایتی سیاسی جماعتیں جو سیاسی کارکنان پہ انحصار کرتی رہی ہیں وہ بھی سوشل میڈیا کو ہی اپنی جنگ کا محور بنائے ہوئے ہیں۔
اس سیاسی لڑائی میں تمام جماعتیں اپنے ان نظریاتی کارکنان کو بالکل فراموش کر بیٹھی ہیں جو ان کی تحاریک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی جگہ ایسے لوگوں نے لے لی ہے جن کا نظریات، فلسفے اور پارٹی مفادات سے کوئی معاملات سے کوئی تعلق نہیں مگر وہ جھوٹ بولنے اور پھیلانے کے فن کے ماہر یعنی دورِ حاضر کے جوزف گوئبلز ہیں۔
گو کہ یہ روایت پاکستان کی موجودہ سیاست میں تحریک انصاف اور اس کے بانی نے ڈالی مگر ان کی دیکھا دیکھی ملک کی تجربہ کار سیاسی جماعتوں نے بھی اب ان کی پیروی کرنا شروع کر دی ہے۔ تحریک انصاف کا کوئی نظریہ کوئی سیاسی فلسفہ اور کوئی سیاسی سوچ تو ہے نہیں، ان کے پاس مختلف سیاسی جماعتوں کو داغِ مفارقت دے جانے والے کارکنان اور سیاسی عمائدین کا ایک منتشر الخیال جتھا ہے جن کے تال میل میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
تحریک انصاف نے اپنے کئی بانی اراکین اور کارکنان کا وہ حشر کیا جو شاید ہی کسی جماعت نے کیا ہو۔ اس کی مثال اکبر ایس بابر سے لیکر، مرحوم نعیم الحق، جسٹس وجیہہ الدین سمیت کئی لوگ اور کارکنان ہیں۔ اب تحریک انصاف کی روش کو پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، ایم کیو ایم اور کچھ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اپنا رہی ہیں۔
اس جدید ہائبرڈ سیاسی دور میں جہاں عوام کو اب تقریباً یہ یقین ہو چلا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی وقعت نہیں، وہ ووٹ ایک جماعت کو ڈالتے ہیں اور نکلتا دوسری کو ہے۔ ایسے حالات میں اب سیاسی جماعتوں کے نزدیک بھی ان کے قربانیاں دینے والے نظریاتی کارکنوں کی حیثیت اب اس ریڑھ کی ہڈی جیسی نہیں رہی جس کے بل بوتے پہ سیاسی جماعتوں کا وجود کھڑا ہوتا تھا
ایسے ہی مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان سے جب گفتگو ہوئی تو تقریباً سب کا شکوہ ایک جیسا ہی تھا کہ ان کی قیادت ان سے لاتعلق ہو گئی ہے۔ وہ اپنے آپ کو بے یار و مددگار اور لاوارث محسوس کرتے ہیں۔ قیادت کارکنان کی فلاح و بہبود ان کے روزگار کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھا رہی۔ یہاں تک کہ اب ان کی حیثیت صرف جلسوں میں شرکت کر کے میدان بھرنے کے لیے یا پھر مظاہروں دھرنوں میں زیادہ تعداد دکھانے کے لیے رہ گئی ہے۔
تحریک انصاف میں بھی بانی اور ان کی بیگم کی رہائی کی کوششیں زور و شور سے جاری ہیں مگر اپنی قیادت کے اشتعال دلانے پہ ملک میں افراتفری اور شرانگیزی پھیلانے والے ان سیکڑوں مرد و خواتین کارکنان کا کوئی پر سانِ حال نہیں جو پچھلے ایک سال سے مختلف جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔
مسلم لیگ نون کے کئی کارکنان جو سندھ اور پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں، شکوہ کرتے نظر آئے کہ صرف منظور نظر کارکن ہی خوش ہے چاہے وہ پرانے ہوں یا نو وارد۔ سندھ مسلم لیگ نون کے کارکنوں کا شکوہ تھا کہ مسلم لیگ نون کی سندھ میں قیادت تبدیل کر کے ایک ایسے شخص کو صدر بنا دیا گیا جس کی مسلم لیگ نون کے نظریات سے زندگی میں کبھی ہم آہنگی رہی نہیں، نہ ہی وہ مسلم لیگ کے نظریات اور فلسفے سے آگاہ تھے۔ وہ مسلم لیگ کے پیدائشی نظریاتی کارکنوں کو جانتے ہی نہیں مگر قیادت نے انہیں سندھ کے لیگی کارکنوں سے رائے لیے بغیر ان پہ مسلط کر دیا۔
متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن موجودہ قیادت کو قیادت تسلیم کرنے کے لیے ہی تیار نہیں ہیں۔ وہ موجودہ قیادت کو بانی ایم کیو ایم کے غدار اور انہیں مشکلات میں ڈال کر اپنے ذاتی مالی اور سیاسی مفادات کا غلام قرار دیتے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کا معاملہ کچھ اور ہے۔ پیپلز پارٹی میں آج بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کے خیالات، نظریات اور فکر و فلسفے سے جڑے ہزاروں نظریاتی لوگ موجود ہیں، جو آج بھی پارٹی کا علم اٹھائے مختلف سیاسی محاذوں پر پارٹی کی جنگ لڑتے، شہداء کے بیانیے کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے نظریاتی کارکنوں کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ ان کی قیادت آج بھی کارکنان کو اہمیت دیتی ہے، مگر پچھلی حکومت اور اب نئی حکومت کے دوران قیادت اپنے نظریاتی اساس سے دور ہوتی اور مفادات کو ترجیح دیتی نظر آتی ہے۔
پیپلز پارٹی میں اب اہمیت قربانیوں اور نظریات پہ زندگی بھر کاربند رہنے والے مخلص و محنتی کارکنوں کے بجائے پچھلے پندرہ سترہ سالوں کے دوران پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے یا پھر پارٹی میں سرگرم ہونے والے ان افراد کی ہے جو دوسروں کو شیشے میں اتارنے کا فن جانتے ہیں۔ یہاں ان کی قسمت کا بھی بڑا عمل دخل رہا، جس کی وجہ سے ان مالیاتی مفادات کے غلاموں کو آج پارٹی کی نظریاتی اساس پہ ترجیح حاصل ہے۔
اس وقت معاملات اس طرح ہیں کہ چند وزیر مشیر اور اراکینِ پارلیمان اتنے طاقتور اور منہ زور ہیں کہ وہ کسی کارکن، کسی تنظیمی ذمے دار کو اہمیت دینے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔ اکثر صوبائی و زراء بے لگام ہو چکے ہیں، طاقت و اختیار کے نشے میں چُور و زراء کسی ذمے دار کا فون اٹھانے یا ان کے کسی بھی قسم کے پیغام کا جواب دینا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ کارکنان و پارٹی کے بیشتر اہم ذمے داران کی اکثریت سے بات کریں تو یہ شکوہ کرتے نظر آئیں گے کہ فلاں وزیر فون ہی نہیں اٹھاتا، فلاں ہمیں جانتا ہی نہیں ہے۔ وزراء میں بھی ایک گروپ ایسا ہے جو پارٹی چیئرمین کی ہدایات کو بھی کوئی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں۔ اب ان کو اتنی جرات اور حوصلہ کہاں سے مل رہا ہے، کون سی غیر مرئی طاقت انہیں جِلا بخش رہی ہے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے مگر پیپلز پارٹی کے کارکن، تنظیمی عہدیدار سراپا احتجاج ہیں اور کوئی سننے والا نہیں ہے۔
پارٹی کے کارکنان قیادت کو بھی ان سارے حالات سے آگاہی دیتے رہتے ہیں مگر قیادت کی جانب سے کوئی نوٹس نہ لینے پہ اب یہ معاملات سوشل میڈیا کی زینت بنتے جا رہے ہیں۔ پولیس، عدلیہ سمیت تقریباً تمام محکموں میں رشوت نصب العین بن چکی ہے۔ صوبائی و زرا صرف اپنے قریبی لوگوں اور کماؤ پوتوں کے وزیر بن کر کام کرتے ہیں، جبکہ عام آدمی، کارکن اور ووٹر دھکے کھانے یا پھر رشوت دے کر اپنی مشکلات کا حل نکالنے پہ مجبور ہیں۔
اس وقت پاکستان کی کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں کی صورتحال ایک جیسی ہی ہے۔ اقربا پروری عروج پہ ہے۔ نظریات اور نظریاتی اساس اپنی اہمیت و افادیت تقریباً کھو چکی ہے۔ درباری، خوشامدی، چمچے، نوکر چاکر اور جی حضوری کرنے والوں کی چاندی ہے۔ جمہوری جماعتیں اپنے آمرانہ رویوں اور عوام و کارکنان سے دوریوں کے باعث اپنے ووٹروں، چاہنے والوں اور بے لوث کارکنوں کی حمایت سے محروم ہوتی جا رہی ہیں۔

