ہلاک، جاں بحق یا شہید؟


سوال آیا ہے کہ مکہ میں حبس، گرمی سے مرنے والوں کو آپ نے ”جاں بحق“ لکھا ہے۔ شہید کیوں نہیں؟

جواب حاضر ہے

اللہ کے نزدیک کون شہید ہے کون نہیں؟ اس کا فیصلہ سنانے کی اتھارٹی میرے پاس نہیں ہے۔ شریعت کے مطابق کون شہید ہے کون نہیں؟ یہ شرعی امور و علوم کے ماہرین پہ چھوڑ دیتے ہیں۔ میں نے انگریزی خبر کو اردو میں شیئر کیا۔ مرنے والوں کے لیے جاں بحق لکھا، وہ بھی سماجی دباؤ کے زیر اثر۔ وگرنہ صحافیانہ اخلاقیات و اصول کے مطابق ہر مرنے والا ہلاک ہوتا ہے۔

صحافت و ابلاغیات سے جڑے لوگوں اور طالب علموں کو خوب یاد رکھنا چاہیے کہ ”ہلاک“ کوئی گالی یا کمتر درجے پہ متمکن لفظ نہیں ہے۔ کسی جاندار کی زندگی کے خاتمے کو ہلاکت کہا جاتا ہے۔ ہلاک یعنی ایلیمینیٹ ہونا، اور صحافتی تحریر میں ہلاک لکھنا ہی قرین از حقیقت ہے، معروضیت سے موزوں تر ہے، کیونکہ آپ خبری پیرائے میں کسی کے جاں سے جانے کی اطلاع دے رہے ہوتے ہیں نہ کسی انسان کی موت کے حق یا باطل ہونے کی گواہی دینا آپ کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔

”جاں بحق“ مطلب جان کا حق کے حوالے ہونا۔ اللہ تعالیٰ کا ایک نام حق ہے۔ یعنی اللہ کی دی ہوئی جان کا اللہ کے سپرد ہونا۔ بقول غالب

جاں دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

جرنلزم کرتے ہوئے مسئلہ یہ کھڑا ہوتا ہے کہ آپ مسلمان کو تو جاں بحق کر دیتے ہیں۔ لیکن جب آپ اپنی مذہبی و مسلکی عصبیت کو خبری پیرائے میں آنے دیتے ہیں تو اپنے عقیدے سے یہ بھی سوال کرنا چاہیے کہ مرنے والا کافر کیا اللہ کے حضور پیش نہیں ہوتا؟ کیا اس کی جان نے آگے اللہ کے ہاں پیش نہیں ہونا؟ بالفاظ دیگر آپ غیر مسلم مرنے والوں کو اپنے تئیں چھوٹ دے رہے ہوتے ہیں جو آپ کے اپنے عقیدے کے برخلاف ہے۔ لہذا میرے نزدیک کسی کی موت کی اطلاع دیتے ہوئے خبر میں ”جاں بحق“ کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

شہید

عربی لفظ شہید کے لفظی معنی ہیں گواہی دینا۔ لغوی معنی کیا ہیں، کچھ آپ کو اندازہ ہے ہی۔ آسان اور مختصر الفاظ میں شہید وہ ہوتا ہے جو کسی کاز یعنی مقصد کے لیے جان دیتا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے وہ کاز ظاہر ہے اللہ کی راہ میں جان دینا۔ اب یہاں سے ”اللہ کی راہیں“ بہت کھلتی ہیں جو لوگوں نے از خود کھولی ہیں۔ ہر مسلک، ہر گروہ، ہر شخص کا اپنا شہید ہوتا ہے۔ کچھ کے نزدیک بھٹو شہید ہے اور بعض کے نزدیک بھٹو کا قاتل جنرل ضیا بھی شہید ہے۔ بینظیر بھٹو شہید ہیں اور ان کا مبینہ قاتل بیت اللہ محسود بھی شہید۔ ایران عراق جنگ میں دونوں طرف شیعہ مسلم فوجی برسر پیکار تھے۔ ایرانیوں کے لیے اپنے مرنے والے فوجی شہید اور عراق کے لیے اس کے فوجی۔ اور یہ ہے سیاسی اصطلاح میں شہید۔ انڈیا کی حکومت اور میڈیا اپنے مرنے والے فوجیوں کو شہید کہتے ہیں۔ اور یہ سب اپنے اپنے طور پہ کسی نہ کسی حد تک درست کہتے ہیں؟ کیوں؟ کیونکہ انڈیا کی ریاست کا ایک کاز ہے، فوجی نے اس کے لئے جان دے دی۔ ایرانی فوجی نے عراقی گولی سے اپنی سرزمین بچانے کی کوشش کی، مارا گیا۔ اور یہ ایرانی ریاست کے کاز کے لئے شہید ہو گیا۔ اسی طرح عراق کے فوجی نے اپنے ملک کا دفاع کیا اور شہید ہو گیا۔ اسی طرح ہندوستان کے مسلمان فوجی بھی سرحد پر پاکستان کے مسلمان فوجی کی گولی کھا کے مارے جا چکے ہیں۔ یہ انڈیا کی ریاست کے لئے تو شہید ہے مگر اسلامی نقطہ نظر سے کیا ہے؟ اور پاکستان کے جو ہندو، مسیحی فوجی ملک کے لیے لڑتے ہوئے مارے گئے ہیں وہ سیاسی طور پہ تو شہید کہلاتے ہیں مگر شرعی طور پہ ان کی شہادت کا فیصلہ کون کرے گا؟ یہ کم کم از صحافی حضرات نہیں کر سکتے۔ سو صحافتی آسانی اسی میں ہے، خبری تقاضا یہی ہے اور معروضیت کی ڈیمانڈ یہی ہے کہ خبر میں ہر مرنے والے کے لیے ہلاک لکھا جائے، چاہے کوئی مسلمان بیت اللہ میں مرا ہو یا انڈیا کا کوئی مسلمان فوجی پاکستان سے لڑتے ہوئے جان گنوا بیٹھا ہو، دونوں کو ہلاک لکھنے میں ہی بچت ہے۔ پھر عرض ہے کہ ہلاک ایک اچھا بھلا پرمعنی لفظ ہے۔ یہ کوئی منفی لفظ نہیں بلکہ عین اصل معنی دیتا ہوا زندہ لفظ ہے۔ جبکہ جاں بحق اور شہید جیسے الفاظ میں تصنع ہے، کنفیوژن ہے اور عصبیت و تعصب بھی پائے پاتے ہیں

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سکندر علی زرین

سکندر علی زرین کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ ماس کمیونیکیشن کے پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ گزشتہ دس برس سے جیو نیوز سے بطور ایسوسی ایٹ اسائنمنٹ ایڈیٹر منسلک ہیں۔ گلگت بلتستان کے اخبارات کے لیے رپورٹنگ کرتے ہیں اور کالم بھی لکھتے ہیں۔ سیاست، تاریخ، اردو ادب، ابلاغیات ان کے پسندیدہ میدان ہیں

sikander-ali-zareen has 48 posts and counting.See all posts by sikander-ali-zareen