کیا ایوب، جنرل افتخار کو مروا کر آرمی چیف بنے تھے؟ (1)
بہت سارے لوگ آج بھی وقت ملے تو اس بات پر ماتم کناں ہوتے ہیں کہ اگر لیاقت علی خان کے دور میں نامزد ہونے والے پہلے پاکستانی آرمی چیف کا طیارہ پراسرار طور پر نہ گرا ہوتا تو پاکستان کی سیاسی تاریخ ویسی نہ ہوتی جیسی آج ہے۔ اس مضمون کا موضوع سخن اسی دکھڑے کی جراحی ہے۔
ہم سب پر ایک مضمون شائع ہوا جس میں صاحب تحریر نے اپنی طرف سے انکشاف اور سنسنی پھیلاتے لکھا کہ ایوب سے پہلے جنرل افتخار کو پاکستان کا آرمی چیف منتخب کیا گیا تھا جو ایک پراسرار فضائی حادثے میں اپنی بیوی بچی سمیت (کراچی کے پاس) ہلاک ہو گئے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم ہر بات میں سازش کا پہلو ڈھونڈتے ہیں۔ سانحے، حادثے اور المیے کو محض اتنا نہیں سمجھتے جتنا ضروری ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ”وکی پیڈیا“ میں لکھے لفظ بدلتے رہتے ہیں۔ اور متعدد چیزوں یا الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یا یہ آدھا سچ ہوتے ہیں۔
پہلے تو اس انتہائی اہم حادثے سے جڑی کچھ یادیں اور باتیں۔
وسط 1949 میں پاکستان اور انڈیا، دونوں ممالک ہی روس اور امریکہ دونوں کو دانہ ڈال رہے تھا لیکن کہیں بھی دونوں کی دال نہیں گل رہی تھی۔ انڈیا کو پاکستان پر برتری اس طرح حاصل تھی کہ سویت یونین کا سفارت خانہ انڈیا میں موجود تھا، پاکستان میں نہیں۔ اور پاکستان کو روس سے جو بھی ویزا یا پیغام رسانی کرنی ہو انڈیا میں قائم روسی سفارت خانے کی معرفت کرنا پڑتی تھی۔ اس بھاگ دوڑ کا پہلا نتیجہ اس وقت نکلا جب امریکہ نے پنڈت نہرو کو اکتوبر 1949 میں سرکاری دورہ پر بلا لیا۔
دوسری طرف پاکستان کے ایک سفیر نے ایران میں موجود روسی سفارت خانے میں ایسا جادو چلایا کہ روسی صدر نے 15 اگست 1949 کے آس پاس لیاقت علی خان کو سرکاری وزٹ پر بلا لیا۔ پاکستان نے تاریخ تبدیل کرنے کو کہا تو عرصے بعد 1950 میں جواب ملا۔ اب ہمارے پاس ٹائم نہیں ہے۔ یہ اور بات کہ روسی دعوت نامے اور نہرو نے چونکہ امریکہ کو ہاتھ نہیں پکڑنے دیا تو پاکستان امریکہ کو یہی تاثر دیتا رہا کہ ہم اب روس گئے کہ تب۔ اور یوں امریکہ نے مئی 1950 میں لیاقت علی خان کو امریکہ سرکاری دورے کے لئے بلا لیا۔ لیکن اس سے پہلے بہت کچھ کام کرنا پڑا تھا۔ روس کا ٹائم نہیں ہے والا جواب بھی اس وقت ملا جب لیاقت امریکہ کا دورہ کر کے، سر تسلیم خم کرچکے تھے۔
بہرحال جون 1949 میں وزیر اعظم لیاقت علی خان کے حکم سے ایک اعلی سطحی فوجی وفد امریکہ گیا جس کا مقصد امریکہ سے فوجی امداد اور اسلحہ خریداری کے لئے ابتدائی معاملات کا جائزہ لینا تھا اور ساتھ لیاقت علی خان کے مستقبل میں امریکہ دورے کے لئے راہ ہموار کرنا تھا۔
بیوروکریسی اور وفد کی نمائندگی سیکریٹری دفاع سکندر مرزا نے کی۔ فوج کی طرف سے نمائندگی لاہور ڈویژن (شاید 10 انفنٹری ڈویژن) کے جی او سی میجر جنرل افتخار علی خان نے کی۔ ملٹری فنانس کی نمائندگی فنانشل ایڈوائزر غلام عباس، جبکہ اسلحے کے دو ماہر کرنل سیف الرحمن اور میجر فاروقی وفد میں شامل تھے۔
اس دورے کے وقت پاک آرمی کے چیف برطانوی جنرل گریسی تھے لیکن افتخار علی خان کو بھیجنے سے فوج میں ایک تاثر ابھرا کہ گریسی کے بعد ممکنہ اگلا پاکستان آرمی کا چیف چالیس سالہ میجر جنرل افتخار علی خان ہوسکتے ہیں۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے فور اسٹار جنرل گریسی کے ساتھ ویسے بھی ریاست پاکستان کے معاملات کچھ اچھے نہیں تھے۔ کیوں کہ سرحد کے پار، انڈیا کا گورنر جنرل برطانیہ کے شاہی خاندان سے ہی تعلق رکھنے والا ایک فائیو اسٹار فوجی ماؤنٹ بیٹن تھا۔ اس لئے گریسی کی ہر ”ناں“ کو ریاست پاکستان ان کی ایک مجبوری سمجھتی تھی۔ اور جلد از جلد کسی مقامی افسر کو پاکستانی فوج کی باگ ڈور دینا چاہتی تھی۔ اس وقت تک پاکستان میں ”کور“ کی بجائے فوج کے محض چند ڈویژن تھے۔ جن میں سب سے اہم ایک کی قیادت میجر جنرل افتخار علی خان کر رہے تھے۔ یاد رہے 1949 میں اس وقت محض چند پاکستانی فوجی ہی میجر جنرل تھے، شاید چھ۔
کہا جاتا ہے کہ نومبر 1949 میں وزیراعظم نے آرمی ہیڈکوارٹرز سے ممکنہ چار سب سے سینیئر مقامی افسروں کی فہرست طلب کی جن کو پہلا آرمی چیف مقرر کیا جا سکے۔ لیکن اس میں سب سے سینیئر میجر جنرل افتخار خاں نہیں تھے۔
پہلا نام سب سے سینیئر 52 سالہ میجر جنرل محمد اکبر خان المعروف رنگروٹ کا تھا (ان کا راول پنڈی سازش والے یا کشمیر کے جنرل طارق والے ہم نام اکبر خان سے کوئی تعلق نہیں تھا جو اس وقت محض بریگیڈیئر اکبر تھے)۔ جنرل اکبر کی عمر، تجربہ اور فیلڈ سے زیادہ آفس ورک کا تجربہ ہونا، ساتھ کچھ میڈیکل وجوہات تھیں جو ان کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی تھیں۔ یہ کراچی میں موجود ڈویژن کے سربراہ تھے اور وزیراعظم ان سے اچھی طرح واقف تھے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ محمد اکبر خان، میجر جنرل افتخار کے ہی بڑے بھائی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ 9 بھائی تھے جن میں چھ فوجی بھائیوں میں سے تین میجر جنرل اور تین ہی بریگیڈیئر بنے۔
فہرست میں دوسرے نمبر پر لاہور ڈویژن کے سربراہ چالیس سالہ میجر جنرل افتخار علی خان تھے۔ یعنی محمد اکبر خاں کے برعکس چیف بننے کی صورت میں ان کے چھوٹے بھائی ایک لمبی مدت تک فوج کی نوک پلک سنوارنے میں اہم کردار ادا کر سکتے تھے۔ (ویسے فوج میں جہاں دو اکبر خاں مشہور ہوئے وہیں دو افتخار علی خاں بھی مشہور ہوئے۔ دوسرے افتخار سیاست داں چوہدری نثار علی خاں کے بڑے بھائی لیفٹننٹ جنرل افتخار علی خاں تھے اور ان کی وجہ سے ہی چوہدری نثار کو فوج کے قریب سمجھا جاتا رہا ہے ) ۔
تیسرے نمبر پر میجر جنرل اشفاق المجید تھے، جو بنگالی سیاست داں حسین شہید سہروردی کے ہم زلف بھی تھے یعنی دونوں کی بیگمات بہنیں تھیں۔ بعد ازاں میجر جنرل اشفاق المجید بھی راول پنڈی سازش میں گرفتار ہوئے تھے۔ ظاہر ہے 1951 مٰیں ایوب کی ترقی سے یہ بائی پاس ہو گئے تھے اور ان کا درد سمجھ میں آتا ہے۔
فہرست میں چوتھے میجر جنرل نواب زادہ آغا محمد رضا المعروف ”این اے ایم رضا“ تھے جو اس وقت آرمی ہیڈکوارٹرز میں گریسی کی ماتحتی میں ایڈجوٹنٹ جنرل کے طور پر کام کر رہے تھے۔ 1949 میں افتخار علی خاں کے حادثے سے ایک ماہ پہلے ہی گریسی نے جنرل رضا کی ہی جگہ میجر جنرل ایوب کو آرمی ہیڈکوارٹرز پنڈی میں ایڈجوٹنٹ جنرل مقرر کیا تھا۔
مختلف جرائد میں یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ اس سمری کی بنیاد پر دسمبر 1949 میں وزیراعظم لیاقت علی خان نے 40 سالہ افتخار علی خان کو مستقبل کے لئے پہلا مقامی کمانڈر ان چیف نامزد کر دیا تھا۔ جنہوں نے جنرل گریسی کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستانی فوج کی کمان (ایک سال بعد ) 1950 کے اواخر میں کہیں سنبھالنی تھی۔
فوجی معاملات جاننے والے کئی لوگوں کے مطابق، آرمی کے ریکارڈ میں یہ تو ہے کہ نومبر میں نام گئے تھے لیکن ان کا کہنا ہے کہ جی ایچ کیو کو ایسا کوئی حکم وزیر اعظم کی طرف سے نہیں ملا تھا کہ اگلا چیف کون ہو گا اور وہ بھی ایک سال بعد ۔
میرا اپنا اندازہ یہ ہے کہ برطانیہ میں دسمبر 1949 میں سینئر آرمی افسران کا ایک کورس ہونے والا تھا جو ایک سال کا تھا اور اس کے لئے پاکستان سے پہلی بار ایک نام مانگا گیا تھا۔ اور اس سمری کی بنیاد پر وزیر اعظم نے سینیئر ترین 52 سالہ میجر جنرل اکبر کی جگہ ان کے 40 سالہ چھوٹے بھائی افتخار کو اس کورس کے لئے نامزد کر دیا ہو گا جس سے یہ تاثر ابھرا ہو گا۔ تھوڑی دیر کے لئے میں یہ دعوی درست مان لیتا ہوں کہ لیاقت علی خان نے جنرل افتخار کو اگلا چیف نامزد کر دیا تھا اور گریسی یا وزیر دفاع سکندر مرزا کے کان میں یہ بات کہہ دی تھی۔
دسمبر 1949 کے پہلے ہفتے میں جنرل افتخار نے لاہور ڈویژن کی عارضی کمان بریگیڈیئر رودھم کے حوالے کی اور ایک سال کے دفاعی کورس کے لئے لاہور سے برطانیہ براستہ کراچی، روانہ ہو گئے۔ یہ ایک سالہ کورس مستقبل کے کمانڈر انچیف بننے کے لئے ممکنہ اہم قدم تھا۔ اسی مضمون میں فاضل مضمون نگار نے لکھا کہ وہ ریل سے کراچی جانا چاہتے تھے لیکن کسی اور کے مجبور کرنے پر وہ جہاز کا سفر اختیار کرنے پر مجبور ہوئے (یعنی کوئی سازش تھی) ۔
حقیقت یہ ہے کہ ان کی اگلے دن کراچی سے لندن کے لئے فیملی سمیت فلائٹ پر سیٹیں بک تھیں اور ایسے میں یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ٹرین سے کراچی پہنچنے کا تھکا دینے والا سفر کرتے جو ان دنوں ڈیڑھ سے دو دن میں مکمل ہوتا تھا۔ مزید یہ کہ لکھنے والے کو یہ علم نہیں کہ جن صاحب کا نام لیا جاتا ہے وہ ایک بریگیڈیئر تھے جو خود اور ان کے چار پانچ ساتھی بھی اسی جہاز میں لقمہ اجل بن گئے تو ایسی بات کیوں کی جائے جس کا کوئی سر پیر نہ ہو۔ کیوں کہ یہ جنرل افتخار تھے جنہوں نے ان سب کو اپنے ساتھ جہاز پر چلنے کا کہا۔
یہ فلائٹ جس کی تباہی آج تک شک کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے مگر اس سے جڑی چند انتہائی اہم باتیں لوگوں کے علم میں نہیں۔ اور ایسا تاثر دیا جاتا ہے جیسے اس کی تباہی میں فوج یا ایوب کا کوئی ہاتھ تھا۔
دسمبر 1949 میں، اس وقت پاکستان میں دو ائرلائن نجی سفر کی سہولت فراہم کر رہی تھیں۔ پاک ائر اور اورینٹ ائر ویز۔ ان دونوں کے پاس دوسری جنگ عظیم میں استعمال ہونے والے زیادہ تر ڈکوٹا جہاز تھے۔ جو جنگ میں ٹھیک ٹھاک استعمال ہونے کے بعد کوڑیوں کے مول بیچ دیے گئے تھے۔ یہ دونوں ائر لائنز زیادہ تر ان ہی جہازوں کو استعمال کر رہی تھیں مقامی طور پر جن کے نہ تو پارٹس مہیا تھے اور نہ ان جہازوں کی مرمت کا تجربہ رکھنے والے ماہر ٹیکنیشن۔ پاک ائر کے مقابلے میں اورینٹ ائر ویز کی حالت پھر بھی بہتر تھی اور اس کے پاس دوسرے جہاز بھی تھے۔
جنرل افتخار نے لاہور سے ”پاک ائر“ کے ڈگلس کمپنی کے بنے جس ڈکوٹا سی 53 (مختصراً ڈی سی 3 بھی کہا جاتا ہے ) جہاز پر کراچی کا سفر کیا اس میں مرنے والے 22 مسافر اور عملے کے چار ارکان یعنی چھبیس مسافروں میں متعدد انتہائی اہم اور افراد بھی شامل تھے۔
جرمن بزنس مین پلوسین کے علاوہ شام سے فائز لالاتی، مصر سے شفیق الخطیب (جو مصری قونصلر کے بھائی بھی تھے ) ، محمد بن عبود (مراکش)، عبداللہ الحمانی (الجزائر)، تیونس سے عابد تھامری اور ترکی کا اعلی عہدیدار، محمد یکتار۔ مسلمان ممالک کے یہ تمام افراد کراچی میں منعقد اسلامی اکنامکس کانفرنس اٹینڈ کرنے پاکستان آئے تھے۔ اور اس سفر میں ہلاک ہو گئے تھے۔
اس وقت کی پاکستان میں سب سے بڑی، لائل پور ٹیکسٹائل اینڈ کاٹن مل کے مالک لالہ مرلی دھر اور ان کی دھرم پتنی کا دیہانت بھی اسی جہاز میں ہوا۔
ان سب سے بھی شاید زیادہ اہم، لاہور کے پاس رینالہ خورد میں قائم پھلوں سے جوس اور جیم، جیلی، مارملیڈ بنانے والی برطانوی کمپنی کے دو بزنس مین بھائیوں میں سے ایک ”لین مچل“ بھی جہاز پر تھے۔ جی ہاں ”مچلز کمپنی“ کے مالک، لیونارڈ مچل بھی اسی جہاز میں ہلاک ہوئے تھے۔
1933 میں والد ”فرانسس مچل“ کی قائم کردہ کمپنی کو بعد ازاں پہلے باپ اور دسمبر 1949 میں بھائی کے انتقال کے بعد 1958 میں فرانسس مچل کے اکلوتے بچ رہنے والے بیٹے اور برطانوی شہری ”رچرڈ مچل“ نے ایک پاکستانی بزنس مین ”سید مراتب علی“ کو فروخت کر دیا۔ مراتب علی کے تین بیٹے بہت مشہور ہوئے۔
سید بابر علی (لمز اور نیسلے والے ) ، سید امجد علی (جو شعیب سے پہلے پاکستان کے تیسرے وزیر خزانہ رہے) اور تیسرے بڑی بڑی مونچھوں والے صدر پاکستان اولمپک ”سید واجد علی“ ۔
لیکن یہ تینوں اتنے مصروف تھے کہ مچلز کے لئے ان کے پاس وقت نہ تھا۔ یوں مراتب علی نے کمپنی اپنے داماد ایس ایم محسن کے حوالے کردی۔ جو بعد میں ان کے ساتھ ان کے بیٹے مہدی محسن سنبھالتے رہے۔ اب اس کمپنی میں لگ بھگ 61 فی صد حصص مہدی محسن اور ان کی دو بیٹیوں مونی محسن (مصنفہ) اور جگنو محسن (صحافی، ایم پی اے اور پسوڑی گانے کے علی سیٹھی کی والدہ) کے پاس ہیں۔ یوں نومبر 2022 سے اسی ”مچلز“ کے روح رواں ہمارے نجم سیٹھی المعروف چڑیا والی سرکار ہیں۔
(جاری ہے )



https://www.humsub.com.pk/554509/razi-uddin-ahmad-26/
دوسرا حصہ