کیا ایوب، جنرل افتخار کو مار کر آرمی چیف بنے تھے؟ (2)


آج بھی بہت سے پاکستانی وقت ملے تو اس بات پر ماتم کناں ہوتے ہیں کہ اگر لیاقت علی خان کے دور میں نامزد ہونے والے پہلے پاکستانی آرمی چیف کا طیارہ پراسرار طور پر نہ گرا ہوتا تو پاکستان کی سیاسی تاریخ ویسی نہ ہوتی جیسی آج ہے۔ بہت سارے بزرجمہر 75 سال بعد اس حادثے کو لے کر ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے ایوب خان کا اس حادثے سے کوئی تعلق تھا۔ یہ یاد رکھے بغیر کہ اس وقت کمانڈر انچیف جنرل گریسی تھے اور میجر جنرل ایوب جی ایچ کیو میں تازہ تازہ پوسٹنگ پر آئے تھے جس کا فیلڈ یا انٹیلی جنس کے کام سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

پہلے تو اس انتہائی اہم حادثے سے جڑی کچھ یادیں اور باتیں۔

جون 1949 میں وزیر اعظم لیاقت علی خان کے حکم سے ایک اعلی سطحی فوجی وفد امریکہ گیا جس کا مقصد امریکہ سے فوجی امداد اور اسلحہ خریداری کے لئے ابتدائی معاملات کا جائزہ لینا تھا اور ساتھ لیاقت علی خان کے مستقبل میں امریکہ دورے کے لئے راہ ہموار کرنا تھا۔ بیوروکریسی اور وفد کی نمائندگی سیکریٹری دفاع سکندر مرزا نے کی جب کہ فوج کی طرف سے نمائندگی لاہور ڈویژن (شاید 10 انفنٹری ڈویژن) کے جی او سی میجر جنرل افتخار علی خان نے کی۔ اس دورے سے ایک تاثر یہ ابھرا کہ گریسی کے بعد ممکنہ اگلا پاکستان آرمی کا چیف چالیس سالہ میجر جنرل افتخار علی خان ہوسکتے ہیں۔

دسمبر 1949 کے پہلے ہفتے میں جنرل افتخار نے لاہور ڈویژن کی عارضی کمان بریگیڈیئر رودھم کے حوالے کی اور ایک سال کے دفاعی کورس کے لئے لاہور سے برطانیہ براستہ کراچی، روانہ ہو گئے۔ یہ ایک سالہ کورس مستقبل کے کمانڈر انچیف بننے کے لئے ممکنہ اہم قدم تھا۔ جنرل افتخار کی اگلے دن کراچی سے لندن کے لئے فیملی سمیت فلائٹ پر سیٹیں بک تھیں۔

یہ فلائٹ جس کی تباہی آج تک شک کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے مگر اس سے جڑی چند انتہائی اہم باتیں لوگوں کے علم میں نہیں۔ اور ایسا تاثر دیا جاتا ہے جیسے اس کی تباہی میں فوج یا ایوب کا کوئی ہاتھ تھا۔

جنرل افتخار نے لاہور سے ”پاک ائر“ کے ڈگلس کمپنی کے بنے جس ڈکوٹا سی 53 (مختصراً ڈی سی 3 بھی کہا جاتا ہے ) جہاز پر کراچی کا سفر کیا اس میں مرنے والے 22 مسافر اور عملے کے چار ارکان یعنی چھبیس مسافروں میں متعدد انتہائی اہم اور افراد بھی شامل تھے۔

اسی جہاز میں جی ایچ کیو سے تعلق رکھنے والا ایک اور اہم فوجی بریگیڈیئر بھی سفر کر رہا تھا جو کوئی اور نہیں بلکہ وہ شخص تھا جس نے 1948 میں قبائل کو اسلحہ اور رسد فراہم کر کے پاکستانی کشمیر اور گلگت بلتستان کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا یعنی اس وقت کے ڈائرکٹر ملٹری آپریشنز بریگیڈیئر شیر علی خان۔ جنرل افتخار کے ساتھ بریگیڈیئر شیر علی خان کو بھی اگلے سال سے میجر جنرل کے عہدے پر ترقی کے لئے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ یہ اور بات کہ وہ بھی میجر جنرل کا رینک پہننے سے پہلے اس حادثے میں ہلاک ہو گئے۔

جنرل گریسی نے خصوصی طور پر بریگیڈیئر شیر علی کو پہلے اپنے ساتھ ڈائرکٹر ملٹری انٹیلی جنس رکھا۔ اور بعد میں کشمیر کے معاملات کو سنبھالنے کے لئے ڈائرکٹر ملٹری آپریشنز بنا دیا۔ مشہور زمانہ بریگیڈیئر اکبر خاں جو پنڈی سازش میں گرفتار ہوئے آرمی ہیڈکوارٹرز میں بریگیڈیئر شیر علی کی ماتحتی میں ہی فیلڈ کے معاملات دیکھتے تھے اور قبائلی انہیں جنرل طارق (بن زیاد) کی عرفیت سے جانتے تھے۔ بریگیڈیئر شیر علی نے ہی قبائلیوں کو مختلف اوقات میں اسلحہ، امداد اور ٹیکنیکل امداد فراہم کی تھی۔ لیکن ان کا فیلڈ میں ہونے والے معاملات سے تعلق کم ہی ہوتا تھا۔

ان دنوں لاہور سے کراچی کا ہوائی سفر ساڑھے تین سے چار گھنٹے کا ہوتا تھا۔ کرایہ لگ بھگ ڈیڑھ سو روپے۔ اور پاک ائر کی روزانہ فلائٹ شام سوا چار بجے تک لاہور سے روانہ ہوجاتی تھی۔ 13 دسمبر سے پہلے، پچھلے دو ہفتوں میں پاک ائر کے دو جہاز تباہ ہوچکے تھے وجہ وہی کبھی ٹیکنیکل مسائل اور کبھی پائلٹ یا عملے کی کوتاہیاں۔ ایک طیارہ ملتان کے پاس ”وہاڑی“ میں گر کر 21 لوگوں کی ہلاکت کا سبب بنا تھا اور دوسرا، بصرہ میں (پاکستان آتے ہوئے ) ۔ جب کہ پاک ائر کے جہازوں کا خراب ہونا، غیر معمولی تاخیر یا سفر میں مشکلات عام بات تھی۔

بریگیڈیئر شیر خان پنڈی سے بذریعہ ٹرین خصوصی طور پر لاہور، جنرل افتخار سے ملنے آئے تھے کیوں کہ جون 1949 میں جنرل افتخار نے امریکہ کا جو دورہ (اسکندر مرزا کے ساتھ) کیا تھا۔ شیر علی خان اب اسی دورے کے دوسرے حصے میں معاملات پر پیش رفت دیکھنے اور مزید معاملات طے کرنے امریکہ جا رہے تھے (یعنی جنرل افتخار کی جگہ) ۔ اس کے ساتھ ان ہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کشمیر سے متعلق ایک کارروائی میں شمولیت کرنی تھی جو بریگیڈیئر شیر علی خان سے زیادہ کون سمجھ سکتا تھا۔ یہ دورہ کشمیر کے علاوہ اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ پنڈت نہرو کچھ ہفتے پہلے ہی امریکہ کا دورہ کرچکے تھے اور پاکستان شدت سے ایسا ہی ایک دورہ لیاقت علی خان کے لئے چاہتا تھا۔ شیر علی خان کشمیر اور اس کام کے لئے انتہائی موضوع شخص تھے۔

اسی لئے ان اہم امور پر اپنے سینیئر (اور پچھلے وفد کے فوجی سربراہ) سے احکامات لینے بریگیڈیئر شیر علی پنڈی سے لاہور آئے تھے۔ شیر علی خان کا پلان تھا کہ لاہور سے کراچی براستہ ٹرین سفر کیا جائے اور بعد میں کراچی سے نیویارک بذریعہ جہاز۔ لیکن جنرل افتخار کے کہنے پر وہ بھی ٹرین کی بجائے جہاز پر سوار ہو گئے۔ (یعنی حقیقت اس کہ برعکس تھی جو عام طور پر سازش ثابت کرنے کے لئے بتائی جاتی ہے)۔

جس طرح جون 1949 میں اسکندر مرزا کے وفد میں جنرل افتخار اور دوسرے لوگ شامل تھے۔ شیر علی خان کے وفد میں بھی پانچ چھ لوگ ہم رکاب تھے لیکن زیادہ تر کشمیر سے متعلق۔

بریگیڈیئر شیر علی خان کی قیادت میں جانے والے اس وفد میں بھی متعدد سرکاری لوگ شامل تھے۔ کیبنٹ کے سیکریٹری جنرل محمد علی، امور کشمیر کی وزارت سے دین محمد اور انڈر سیکریٹری محمد نیاز، جب کہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (اس وقت کی آئی ایس پی آر) سے ڈپٹی ڈائرکٹر مشتاق احمد بھی اس وفد کا حصہ تھے یہ سب لوگ بھی حادثہ میں لقمہ اجل ہونے والے 22 مسافروں میں شامل تھے۔ مسافروں میں ایک شخص موسی بھی تھا۔ کچھ مقامات پر مسلم لیگی راہ نما قاضی عیسی کے بڑے بھائی قاضی موسی (یعنی چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے تایا اور بیوروکریٹ اشرف جہانگیر قاضی کے والد) کو بھی اسی فلائٹ میں ہلاک ہونے کا لکھا گیا ہے، جو غلط ہے۔ قاضی موسی کا انتقال 1956 میں ایک کار حادثے میں ہوا تھا۔

اس دن جہاز نے شام سوا چار بجے لاہور سے اڑ کر رات آٹھ بجے کراچی پہنچنا تھا۔ مگر جہاز کراچی سے لاہور ہی تاخیر سے پہنچا اور مزید اس میں خرابی کی وجہ سے یہ فلائٹ رات سات بجے کے بعد لاہور سے روانہ ہوئی جب کہ سردی کی ان اندھیری راتوں میں ایسے جہازوں کو اڑانا اور نیوی گیشن آلات کی غیرموجودگی میں راستے کا خیال رکھنا انتہائی مشکل کام ہوتا تھا۔ نیوی گیشن آلات کی غیر موجودگی میں دن میں تو پھر بھی نیچے زمین پر موجود دریا، سڑکیں، عمارات کو دیکھ کر علاقے کا اندازہ ہوجاتا ہے مگر رات کو ایسا کچھ بھی ناممکن ہوتا ہے۔ یاد رہے یہ 1949 ہے اور اس وقت تک روس کا پہلا سیٹلائٹ اسپتنک بھی فضا میں نہیں گیا تھا تو کون سا ”جی پی ایس“ ۔

اس زمانے میں کراچی کے پاس پہنچ کر جہازوں نے منوڑہ کے لائٹ ہاؤس کی طرح ائرپورٹ یا ائر فورس کے ملیر ائر اسٹیشن (اب پی اے ایف بیس ملیر) میں موجود ایک ”لائٹ ہاؤس کی روشنی“ سے خود کو ایڈجسٹ کر کے لینڈنگ سے پہلے جہاز کو 2500 فٹ پر لانا ہوتا تھا۔ اس زمانے میں ملیر ائر اسٹیشن پر دو رن وے ہوتے تھے۔ ایک کے آثار گوگل میپ پر اب بھی نظر آ جائیں گے۔ جب کہ دوسرا موجودہ یونیورسٹی روڈ کے آخر میں تھا جہاں اب ملیر کینٹ کی حدود شروع ہوتی ہیں۔

میں نے بچپن میں ایک عرصے تک اس لائٹ ہاؤس کی گھومتی روشنی اپنے علاقے میں دیکھی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب جامعہ ملیہ ملیر کی چھت سے ہمیں حبیب بنک پلازہ بھی صاف نظر آ جاتا تھا۔

اس رات پونے دس بجے پائلٹ نے کراچی ٹاور کو پیغام دیا کہ اس نے ائرپورٹ کے لائٹ ہاؤس کی روشنی دیکھ لی ہے اور 2500 فٹ کے بعد لینڈنگ کے لئے مزید نیچے آ رہا ہے۔ حقیقت یہ تھی کہ خدا جانے وہ کون سی روشنی تھی جسے پائلٹ کراچی ائر پورٹ کا لائٹ ہاؤس سمجھ بیٹھا تھا اور اس نے آج کے کراچی سے لگ بھگ سو کلومیٹر پہلے ہی اندھیرے میں جہاز کو نیچے لانا شروع کر دیا۔ (ممکن ہے یہ دریائے سندھ پر کوئی پرانا لائٹ ہاؤس ہو کیوں کہ دریائے سندھ میں ایک عرصے تک جہاز رانی اور اسٹیمر چلتے رہے ہیں ) ۔ بدقسمتی سے ٹھٹھہ میں جنگ شاہی کے پاس 1200 فٹ پر ”کارو جبل“ پہاڑ تھا جس سے ٹکرا کر یہ جہاز کریش کر گیا۔ حادثے کا مقام آج کے ڈی ایچ اے سٹی اور نوری آباد کے عین وسط میں ہے اور یہاں آج بھی موجود پہاڑوں کو بہ آسانی ذہن میں لا کر حادثے کا سبب سمجھا جا سکتا ہے۔ آج ہم اس میں شوق سے سازش کا پہلو ڈھونڈتے رہیں۔

2022 کے دوران میں نے پاکستان ٹیلی ویژن کے لئے پی آئی اے سے ریٹائر ہونے والے ایک 95 سالہ بزرگ انجینیئر مرتضی صاحب کا انٹرویو کیا جو الحمدللہ ڈیفنس کراچی میں مقیم ہیں۔ ان سے کی گئی گفتگو میں متعدد باتیں کم از کم میرے لئے بڑی اہم تھیں۔

پہلی جب وہ 1946 میں ”بھوج“ میں ٹیکنیشن متعین تھے تو ایک دن قائد اعظم کا جہاز کراچی سے دہلی جاتے بھوج میں تیل کی تبدیلی کے لئے رکا۔ اور وہاں نوجوان کارپورل مرتضی اور دوسرے مسلمان عملے نے قائد کا استقبال کیا، باتیں کیں اور گروپ فوٹو بھی بنوائی۔ یہ اور بات کہ بعد میں ان سب کا ایک سیاست دان سے ملاقات کرنے پر کورٹ مارشل بھی ہوا اور سزا کے طور پر بھوج سے پوسٹنگ ہو گئی۔ آزادی کے بعد وہ پاکستان آ گئے اور ڈرگ روڈ کراچی پر متعین ہوئے۔

دوسری میں نے ان سے 1948 میں جونا گڑھ/حیدرآباد دکن کو دی جانے والی پاک فضائیہ کی طرف سے سپورٹ پر بات کی۔ جس دوران آسٹریلوی پائلٹ لنکاسٹر جہاز میں اسلحہ لے جاتے تھے اور واپسی میں ان ریاستوں کا قیمتی سامان سر بمہر بکسوں میں لاتے تھے۔

تیسری جنرل افتخار کے طیارہ حادثے اور لیاقت علی خان کی انکوائری رپورٹ لے جانے والے آئی جی مغربی پاکستان کی طیارہ حادثے میں ہلاکت پر ان کی رائے تھی۔ جنرل افتخار کے حادثے کے وقت وہ بدستور فضائیہ میں تھے جب کہ آئی جی والے حادثے کے وقت ائرلائن کو جوائن کر لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دنوں جہازوں کی مینٹیننس ایک عذاب تھا۔ نہ اوزار موجود تھے نا پارٹس اور نہ کوئی ریکارڈ رکھا جاتا تھا۔ بل کہ ہمیں یہی علم نہیں ہوتا تھا کہ کسی خرابی کے نتیجے میں جہاز کی مرمت کیسے کرنی ہے کیوں کہ کوئی باقاعدہ ٹریننگ یا مینٹیننس مینوئل ہی موجود نہ تھے۔

بقول ان کے نہ صرف دونوں نجی ائر لائن بل کہ پاک فضائیہ کا بھی اس وقت یہی حال تھا۔ ان کے مطابق پاک فضائیہ کے جہازوں کے حادثے بھی عام تھے اور کوئی ہمارے اس دکھ کو نہیں سمجھ سکتا کہ ہمارے منع کرنے کے باوجود پائلٹ اللہ کا نام لے کر جہاز اڑا لے جاتے تھے اور حادثے کے بعد ہم خود بھی ایک ٹراما یا کرب سے گزرتے تھے اور خود کو ان کی ہلاکت کا کسی حد تک ذمہ دار بھی سمجھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں حادثات یقینی طور پر یا تو ٹیکنیکل خرابی سے ہوئے یا پائلٹ کی غلطی سے۔ سازش کر کے کوئی کیوں بیس پچیس اموات کا گناہ سر لے گا۔ ان کے مطابق ویسے بھی یہ فوجی یا سرکاری جہاز نہیں تھے اور ان دنوں دنیا بھر میں ڈکوٹا جہازوں کے کریش ایک عام بات تھی۔

ڈکوٹا سی 53 کا ایک کریش تو امریکہ میں اسی دن ہوا، جب جنگ شاہی میں جنرل افتخار کا جہاز کریش ہوا جب کہ اس سے چند سال پہلے 1946 میں سوئٹزرلینڈ میں الپس کی برفانی پہاڑیوں پر ایک ڈکوٹا مسافر طیارے نے کریش کیا۔ معجزانہ طور پر بعد میں اس میں موجود تمام لوگ زندہ بچا لیے گئے۔ 72 سال بعد 2018 میں جب الپس کی برف پگھلی تو اس جہاز کا ملبہ تحقیق کے لئے ڈھونڈ کر نکال لیا گیا۔ ویسے پی آئی اے اور ائر فورس کے کم از کم تین جہاز آج بھی اپنے مسافروں سمیت گلگت اسکردو کے گلیشیئروں میں چھپے برف پگھلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

بہرحال میجر جنرل افتخار اور میجر جنرل شیر علی خان (حادثے کے بعد حکومت پاکستان نے بعد از مرگ شیر علی خان کو ترقی دے دی تھی اور ان کے اہل خانہ کو میجر جنرل کے حساب سے پنشن ملی) کی ہلاکت کے بعد وزارت دفاع نے یکم اگست 1948 سے شروع ہونے والی پاک ائر کی پروازوں پر 14 دسمبر 1949 کو پابندی لگادی جو بعد ازاں 1954 میں پی آئی اے کے قائم ہونا کا سبب بنی۔ دوسری ائر لائن اورینٹ ائرویز اس دوران بدستور کام کرتی رہی اور 1955 میں پی آئی اے میں ضم ہو گئی۔ متحدہ قومی موومنٹ کی محترمہ نسرین جلیل کے والد ”ظفر الاحسن لاری“ سرکاری ائرلائن پی آئی اے کے پہلے سربراہ بنے۔

شیر علی خان کے چھوٹے بھائی ”بہادر شیر“ بھی آرمی میں تھے۔ مشرقی پاکستان میں صاحب زادہ یعقوب کے استعفی کے بعد لیفٹننٹ جنرل بہادر شیر اور لیفٹننٹ جنرل گل حسن کو یحیی خان نے مشرقی پاکستان کے لئے نامزد کیا مگر دونوں نے ہی وہاں جانے سے انکار کر دیا اور یوں جنرل نیازی ڈھاکہ پہنچ گئے تھے۔ واضح رہے گل حسن اس سے پہلے پاکستان آرمی کی طرف سے قائد اعظم کے پہلے اے ڈی سی بھی رہ چکے تھے۔

میجر جنرل شیر علی خان کی تین بیٹیوں میں سے ایک کی شادی لیفٹننٹ جنرل حبیب اللہ خٹک (المعروف بیبو) کے بیٹے اور ائر فورس کے پائلٹ رضا قلی سے ہوئی۔ دوسری کی شادی عمران خان اور ماجد خان کے کزن ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان جاوید برکی سے ہوئی (جو خود بھی لیفٹننٹ جنرل ڈاکٹر واجد علی برکی کے بیٹے تھے ) ۔

جنرل شیر خان کے اکلوتے بیٹے آفتاب احمد خان اس وقت پاکستان ملٹری اکیڈمی میں تھے اور وہاں سے سندھرسٹ برطانیہ جاکر پاس آؤٹ ہوئے اس وقت تک یہ ایک انوکھا اعزاز تھا کہ باپ بیٹے دونوں نے سندھرسٹ سے پاس آؤٹ کیا ہو۔ ایوب خان کے دور میں کیپٹن آفتاب احمد خان نے فوج سے ریٹائرمنٹ لے کر سول سروس جوائن کرلی اور بعد ازاں فیڈرل سیکریٹری کے اعلی ترین عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

جنرل حبیب اللہ خٹک ایوب سے ناراض رہتے تھے کیوں کہ ایوب نے ان کو سینیئر ہونے کے باوجود جنرل موسی کو آرمی چیف بنا دیا تھا۔ لیکن دوسری طرف ایوب کے بیٹے کیپٹن گوہر ایوب کی شادی بھی ان ہی حبیب اللہ خٹک کی بیٹی سے ہوئی تھی۔

برسبیل تذکرہ ایوب خان کے کم از کم تین اے ڈی سی بڑے مشہور ہوئے۔

ایک کیپٹن میاں گل اورنگ زیب (والی سوات میاں جہاں زیب کے بیٹے ) جو 1955 میں اپنے باس جنرل ایوب خان کی بیٹی نسیم ایوب خاں سے شادی کر کے مزید مشہور ہوئے (یہ شادی مریم اور صفدر کی کہانی کا پہلا حصہ بھی کہلا سکتی ہے ) ۔ کہتے ہیں والی سوات کئی شادیاں کرتے تھے اور اسی کو روکنے کے لئے ایوب خان نے 1962 میں عائلی قوانین جاری کیے تھے تاکہ پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر شوہر دوسری شادی نہ کرسکے۔

ایوب دور میں بیگم ایوب سرکاری دوروں سے دور رہتی تھیں اور ان کی جگہ یہی اعلی تعلیم یافتہ ”نسیم اورنگ زیب“ باپ کے ہمراہ جاتی تھیں۔ 1961 میں امریکہ کا دورہ ایوب ہو، مسجد اقصی کی زیارت یا بیگم کینیڈی کا دورہ پاکستان۔ نسیم اورنگ زیب باپ کے شانہ بشانہ ہر جگہ موجود ہوتی تھیں۔ درحقیقت ایوب کی اسی عادت کو بھٹو نے بھی کاپی کیا (جو ایوب کو ڈیڈی کہتے تھے ) اور جن ہوں نے متعدد غیر ملکی دوروں پر بیٹوں کی بجائے اپنی بیٹی بے نظیر کو ساتھ رکھا۔

صدر بننے کے بعد ایوب خان نے اپنے ہی بیٹے کیپٹن گوہر ایوب کو اے ڈی سی بنا کر مشہور کیا۔ بعد میں فوج میں ترقی کی بجائے جب نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں پر گوہر ایوب کے خلاف متعدد انکوائریاں ہو رہی تھیں تو ایوب خان نے چپ چاپ بیٹے کو فوج سے ریٹائر کروا لیا۔ اس کے بعد گوہر ایوب اپنے سسر جنرل حبیب اللہ کی نئی نئی قائم کردہ گندھارا انڈسٹریز کے روح رواں بن گئے۔

آج قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے لیڈر عمر ایوب کے نانا لیفٹننٹ جنرل حبیب اللہ خٹک تھے۔

ماموں لیفٹننٹ جنرل علی قلی خان، جب کہ دادا فیلڈ مارشل ایوب اور والد گرامی گوہر ایوب تو کپتان تھے ہی۔

اور اسی پر کیا بس، دیکھا جائے تو یہ سب دور پرے سے عمران خان کے بھی رشتے دار ہیں۔ اور شاید عمر ایوب کے آگے آنے کی ایک وجہ بھی۔

جنگ 65 کے بعد بننے والے تیسرے اے ڈی سی کو بیگم ایوب خان نے اپنا منہ بولا بیٹا بنالیا تھا۔ تعلق پاک فضائیہ سے تھا اور یہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتا تھا جو افغانستان کے شاہی خاندان سے بغاوت کر کے پاکستان آیا تھا۔ وہی لیاقت علی خان کے نام نہاد قاتل سید اکبر زدران والا معاملہ۔

1965 کی جنگ میں ستارہ جرات حاصل کیا اور نام تھا اسکواڈرن لیڈر ارشد سمیع خان یعنی افغان النسل عدنان سمیع خان کے والد اور زیبا بختیار کے سسر۔ عدنان سمیع خان نے بعد میں پاکستان کی شہریت کو منسوخ کر کے انڈیا کی شہریت لے لی تھی۔ ارشد سمیع خان نے بھی اے ڈی سی ہونے کا فائدہ اٹھایا اور ائر فورس سے سول سروس میں چلے گئے اور دنیا کے اہم ممالک میں پاکستان کے سفیر رہنے کے ساتھ وزارت خارجہ کے اعلی ترین عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ قدرت کی ستم ظریفی کہ پاکستان کی طرف سے جس ملک کے خلاف لڑ کر ستارہ جرات حاصل کیا موت پاکستان کی بجائے اسی دشمن ملک انڈیا (ممبئی) کہ ایک اسپتال میں ہوئی۔

مضمون ”کہاں گیا پاکستان“ میں ویسے تو لیاقت علی خان کے قتل میں ایوب کے ممکنہ کردار، ان کے پیچش کے علاج اور بھولے بادشاہ اسکندر مرزا کے ایوب پر کیے گئے تبرا کو لے کر طنز کرنے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔ اگر کبھی فرصت ملی تو میں اپنی تحقیق کی روشنی میں قاری کو آگاہ کروں گا کہ:

میں کیوں سو فی صد اس بات کو مانتا ہوں کہ لیاقت علی خان کا قتل ”سید اکبر“ نے نہیں کیا تھا۔
پاکستانی فوج، امریکہ اور برطانیہ کسی کا بھی اس قتل میں براہ راست کوئی ہاتھ نہیں تھا۔

وہ کون سے دو افراد تھے جن ہوں نے براہ راست اس قتل سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا اور ممکنہ کون اس قتل کا ماسٹر مائنڈ تھا۔

اشارہ : وہی شخص جس نے راول پنڈی سازش کیس میں اپنے نمبر ٹانکنے کے لئے رائی کا پہاڑ کھڑا کیا تھا۔

(خصوصی شکریہ : ارشد سمیع خان اور ایوب خان سے متعلق تصاویر کے لئے ڈاکٹر غلام نبی قاضی کا۔ جنرل افتخار سے متعلق تصاویر بشکریہ میجر جنرل سید علی حامد (ریٹائرڈ) اور فرائڈے ٹائمز۔)

پہلا حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

https://www.humsub.com.pk/554401/razi-uddin-ahmad-25/

Facebook Comments HS

5 thoughts on “کیا ایوب، جنرل افتخار کو مار کر آرمی چیف بنے تھے؟ (2)

  • 28/06/2024 at 5:51 شام
    Permalink

    On FB comments someone asked about family background of Mrs Arshad Sami (Mrs Naureen Asrshad). I delibrately avoided that she is probably niece of Gen Rani and cousin of Aroosa Alam. One of her sister is said to be married in Khar family. So Hina Rabbani, Adnan and Fakhre Alam all are some cousins

    اگر آپ نے سلمان اور قطرینہ کیف کا گانا سنا ہو
    دل دیاں گلاں کراں گے نال نال بیٹھ کے

    کہا جاتا ہے اس میں قطرینہ نے مسز عالم کی زندگی کا کردار نبھایا ہے۔

    • 28/06/2024 at 6:09 شام
      Permalink

      لیکن کہنے والے کہتے ہیں کہ جب کبھی کوئی بیگم ارشد سے ان کی خالہ اقلیم یا عروسہ کے بارے میں بات کرے تو وہ معصومیت سے پوچھتیں ہیں کہ یہ کون خاتون تھیں؟

      برسبیل تذکرہ بیگم اختر کا کہنا تھا کہ یحیی تو خوامخواہ بدنام ہوا۔ بھٹو اور کھر مجھ سے زیادہ نزدیک تھے اور ان کا میرے گھر آنا اور گھنٹوں رہنا اور اصرار کہ ہماری جنرل صاحب سے ملاقات کروادیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ خالہ اقلیم کی کوئی بھانجی کھر کے خاندان میں نہ بیاہی ہو۔ دروغ بہ گردن انٹرنیٹ۔

      اگر آپ نے سلمان اور قطرینہ کیف کا گانا سنا ہو
      دل دیاں گلاں کراں گے نال نال بیٹھ کے

      کہا جاتا ہے اس میں قطرینہ نے مسز عالم کی زندگی کا کردار نبھایا ہے۔ باقی کہانی خود گوگل کرلیں۔

  • 29/06/2024 at 12:08 صبح
    Permalink

    یہاں دو باتوں کا تذکرہ رہ گیا وہ ہے مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والوں اور آج کے بنگالیوں کے دعوی۔
    انٹرنیٹ پر متعدد جگہ یہ پروپیگنڈا ملے گا کہ فلاں بنگالی کیڈٹ نے کاکول یا رسالپور میں ٹاپ کیا تھا اور اعزای شمشیر کا مستحق تھا مگر اسے بنگالی ہونے کی وجہ سے محروم رکھا گیا۔ اسی طرح فلاں شہید کو ستارہ جرات اس لئے نہیں ملا کیوں کہ بنگالی تھا۔

    اسی رونے پیٹنے میں ایک رونا اور ملے گا اور وہ ہے

    میجر جنرل اشفاق المجید جو لیاقت علی خان کو بھجوائے جانے والی فہرست میں تیسرے نمبر پر تھے اور بنگالی تھے ساتھ حسین شہید سہروردی کے برادرنسبتی بھی۔

    بنگالیوں کا کہنا تھا کہ جنرل افتخار کے بعد ظاہر ہے اکبر خان کو تو پہلے ہی مسترد کردیا گیا تھا تو یوں افتخار کی موت کے بعد یہ اشفاق المجید کا حق تھا کہ آرمی چیف بنتے۔

    دل چسپ بات یہ بھی ہے کہ ایوب کے آرمی چیف بننے میں جس کو سب سے زیادہ کریڈٹ دیا جاتا ہے وہ وزیر دفاع اسکندر مرزا تھے جو خود بھی مراد آباد کے بنگالی تھے۔

    دوسری بات اگر اس طیارے کے حادثے میں ہلاک ہونے سے پاکستان کوسب سے زیادہ نقصان ہوا وہ جنرل افتخار نہیں تھے بلکہ بریگیڈیئر شیر علی خان تھے جن کی موت سے کشمیر کے آپریشنز اور تحریک آزادی کو سخت نقصان پہنچا تھا۔

  • 29/06/2024 at 1:25 شام
    Permalink

    پاکستان میں بکواسیات میں پی ایچ ڈی کرنے والوں کو ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ کسی بھی فوج میں ضروری نہیں کہ سپریم کورٹ کی طرح جو بھی سینیئر موسٹ ہے اسے چیف جسٹس لگادیا جائے۔
    یہ دونوں موازنے بالکل احمقانہ ہیں۔

    ممکن ہے سینیئر ترین شخص میڈیکلی ان فٹ یا بیمار ہو۔ ظاہر ہے اس کا علاج ہورہا ہوگا اسے نکالا تو نہیں جاسکتا لیکن ترقی بھی نہیں دی جاسکتی۔ متعدد لوگ بلڈ پریشر اور ہائپر ٹینشن میں مبتلا ہوچکے ہوتے ہیں۔

    متعدد سینیئر ترین لوگ فیلڈ ملٹری سے تعلق نہیں رکھتے ممکن ہے ڈاکٹر ہو یا انجینئر یا آرمی ایوی ایشن کا پائلٹ تو کیا ان کو آرمی چیف بغیر سوچے لگادیا جائے جیسے نواز شریف نے انجینئر ضیا الدین بٹ کو لگایا تھا۔

    متعدد سینیئر موسٹ کسی واقعہ میں ملوث یا نااہلی کی وجہ سے ترقی کے لئے نااہل ہوچکے ہوتے ہیں اور یہ تمام معاملات عام لوگوں کے سامنے نہیں آسکتے۔

    اس لئے جس شخص کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ان میں سے بہترین شخص کو سپہ سالار یا ایئر چیف منتخب کرے یہ کام اسی پر چھوڑ دینا چاہئے۔

    جہاں تک سیاسی پارٹی کے ٹر ٹر کرنے والے لوگوں کی بات ہے یہ کبھی اپنی پارٹی کے لیڈروں سے کیوں نہیں پوچھتے کہ وہاں نہ تو جمہوریت ہوتی ہے نا میرٹ اور نہ سینیئر ترین شخص کو وزیر اعظم یا صدر بنایا جاتا ہے تو صرف فوج کی پروموشن میں ہی لوگوں کو کیوں تکلیف ہوتی ہے۔

  • 30/06/2024 at 1:26 شام
    Permalink

    قارئین سے مشورہ
    کس تاریخی موضوع پر پڑھنا چاہیں گے

    پاکستان میں فوجی افسروں کی ایکسٹینشنز : ایک دلچسپ روداد
    کیا میر جعفر واقعی غدار تھا
    ایوب نے مارشل لا لگا کر کوئی گناہ نہیں کیا تھا
    لیاقت علی خان کا قاتل "سید اکبر” نہیں تھا !
    حاجی رچرڈ برٹن

Comments are closed.