پاکستان فلاحی جمہوری ریاست یا سیکورٹی ریاست؟

پاکستان 14 اگست 1947 سے جمہوریت اور ملٹری حکومت کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔ کبھی ہمارے ملک کو ملٹری آمروں کے سایوں نے اپنے گھیرے میں لیے رکھا تو کبھی جمہوریت کو پھلنے پھولنے کا بھرپور موقع ملا۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کو ایک جدید اسلامی اور فلاحی ریاست کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ کیونکہ قائد اعظم محمد علی جناح جمہوریت پر یقین رکھتے تھے اور ان کی خواہش تھی۔ کہ پاکستان ایک رول ماڈل کے طور پر ابھرے۔
مگر زندگی نے ساتھ نہیں دیا۔ بلکہ یہ بھی ایک الگ بحث ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو منظر عام سے ہٹایا گیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد وزیراعظم لیاقت علی خان نے قرارداد مقاصد کو اسمبلی سے منظور کیا۔ قرار داد مقاصد ایک متنازع دستاویز ہے۔ جس نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان نفرت کی بیج ڈالی۔ پاکستان کو ایک فلاحی جمہوری ریاست بنانے کے بجائے ایک ملٹری طرزِ ریاست کی طرف لے جانے کی کوششیں شروع ہوئی۔
یہی وہ وقت تھا جب پاکستان ایک نوزائیدہ ریاست کے طور پر مختلف مسائل کا سامنا کر رہا تھا جن میں معاشی مسائل سر فہرست تھے۔ ملک کا پہلا دستور نو سال تک نہیں بن سکا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان میں خلیج بڑھتی گئی۔ 23 مارچ 1956 ء کو پاکستان کا پہلا آئین نافذ ہوا جس کے تحت ملک کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا۔ نو سال تک ملک کو برطانوی آئین 1935 کے مطابق چلاتے رہے۔ ان نو برسوں میں اداروں کی تشکیل نو نہیں ہو سکی۔
تمام ادارے برطانوی آئین اور قوانین کے تحت چلتے رہے۔ وہ نظریہ جس کے تحت پاکستان کو حاصل کیا گیا تھا۔ جس کے تحت پاکستان ایک آزاد، خودمختار، فلاحی ریاست ہوئی۔ اس نظریہ کو زنگ لگ گیا۔ کیونکہ نو برس تک نظریہ کو نافذ ہی نہیں کیا گیا۔ پہلے آئین پاکستان کو محض دو سال بعد 1958 میں معطل کر دیا گیا۔ پہلی مارشل لا حکومت نافذ کردی گئی۔ اسی دوران فوج کی عملداری حکومتی امور میں کافی حد تک بڑھ چکی تھی۔ کیونکہ 1935 کا آئین ایک غلام ملک کے امور ریاست کو چلانے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔
اس آئین کے تحت اداروں کو بالادستی حاصل تھی۔ مقامی لوگوں پر انحصار کم اور آقاؤں پر زیادہ انحصار سے ہی وہ ریاستی امور چلا رہے تھے۔ اسی تناظر میں سیاست دانوں پر انحصار اور اعتبار کم رکھا گیا۔ اس لیے پاکستان کی پہلی اسمبلی کو فوقیت نہیں دی گئی۔ جس کی وجہ سے جمہوریت کو فروغ نہیں مل سکا۔ بلکہ ملٹری کو سُپرمیسی حاصل ہوئی۔ کیونکہ 1935 کا آئین ایک کالونی کے امور ریاست کو چلانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ ایوب خان بطور فوجی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر 1969 تک حکومت کرتے رہے۔
ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے چند ہی ماہ کے بعد مارشل لا کے ضابطے کے ذریعے ایک قانون نافذ کیا جسے ایلیکٹو باڈیز ڈس کوالیفیکیشن آرڈر کا نام دیا گیا جو اپنے مخفف ایبڈو کے نام سے معروف ہوا۔ اس قانون کے تحت 5 سے 6 ہزار سیاست دانوں کو نااہل کر دیا گیا۔ جو کہ جمہوریت پر حملہ تھا۔ تحریک پاکستان میں حصہ لے کر ایک نئے ملک کے تصور کو حقیقت بنا دینے والی نسل اس وقت تک نہ صرف موجود تھی بلکہ میدان سیاست کی بہاریں بھی اسی کے دم سے تھیں۔
لوگوں میں سے صرف چند افراد ایسے تھے جنھوں نے اس قانون کے تحت لگائے جانے والے الزامات کا سامنا کیا اور نااہل کر دیے گئے۔ ان میں سے نمایاں حسین شہید سہروردی وغیرہ شامل تھے۔ ان چند افراد کے علاوہ سیاست دانوں کی ایک بڑی تعداد نے اس قانون کا سامنا کرنے کے بجائے رضاکارانہ طور پر نا اہلی قبول کر لی۔ یوں تحریک پاکستان کے سیاستدانوں کو سیاست سے آؤٹ کر دیا گیا۔ مارچ 1969 ء میں ایوب خان نے استعفیٰ دے دیا اور اقتدار جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر دیا۔
جنرل یحییٰ خان نے پاکستان کو ایک پارلیمانی جمہوریت بنانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے 1962 ء کے آئین کو معطل کرتے ہوئے اپوزیشن کی جماعتوں سے نئے آئین پر کام شروع کرنے کے لیے کہا۔ اس کے لیے انہوں نے بالغ حقِ رائے دہی کی بنیاد پر پہلے انتخابات منعقد کروانے کا اعلان کیا۔ ملک میں پہلے پارلیمانی انتخابات 1970 میں منعقد ہوئے۔ جو پاکستانی سیاسی تاریخ کے شفاف انتخابات قرار دیے جاتے ہے۔ ان انتخابات میں عوامی لیگ کو اکثریت ملی مگر ان کو حکومت نہیں بننے دی جس کی وجہ سے سقوط ڈھاکہ ہوا۔
قوم کو ملک میں سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کو بھی دیکھنا نصیب ہوا۔ جمہوریت کی طرف ایک نئے سفر کا آغاز ہو گیا۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ مشاورت سے طے ہونے والا پہلا متفقہ آئین پاکستان کا مسودہ نافذالعمل ہوا۔ 1973 ء کا آئین آج بھی پاکستان میں نافذ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بطور ایک جمہوری وزیراعظم ملک میں کئی اہم اقدامات اٹھائے۔ جو کہ قابل ستائش ہیں۔ اور ملک کو جمہوریت کے راستے پر گامزن کرنے میں کامیابی بھی حاصل ہوئی لیکن جلد ہی ایک اور فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
جمہوریت کے نظام کو ایک دفعہ پھر پٹڑی سے اتارا گیا۔ ضیا الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ ملک کے امن و امان اور سیاسی استحکام کی صورتحال کو جواز بنا کر ضیاالحق نے 3 ماہ میں انتخابات منعقد کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ لیکن وہ اس عزم کو گیارہ برسوں میں پایا تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ جرنیل ضیاء الحق کا دور جمہوریت کے لیے سیاہ ترین دور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ طلبہ، مزدوروں، صحافیوں، سیاست دانوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں، عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کو عوامی مجمعے کے سامنے کوڑے مارے جاتے تھے۔
جمہوریت سے عوام کو مایوس کر دیا گیا۔ مذہبی طاقتوں کو پروان چڑھایا گیا۔ افغان جہاد کے نام پر امریکی ڈالروں کی خوب تجارت ہوئی۔ معمولی درجے کے مولویوں نے بنگلے اور محلات بنائے۔ سیاست دانوں کی خوب تذلیل ہوئی۔ پاکستان کے جمہوری حکمران ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت دی۔ 1988 ء میں ضیا الحق کا طیارہ ایک مبینہ بم حملے سے تباہ ہونے کے بعد پاکستان میں جمہوریت دوبارہ لوٹ آئی۔ 1988 ء کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی اور وہ پہلی مسلمان خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں۔
اپنی حکومت کی زبردست نا اہلی کے ساتھ ان کا پہلا دور حکومت تباہ کن ثابت ہوا۔ 1993 ء میں دوبارہ منتخب ہونی تھیں اور ایک بار پھر 1996 ء میں ان کی حکومت ختم ہونی تھی۔ 1990 میں مسلم لیگ کو حکومت ملی اور نواز شریف کو وزیراعظم بنا دیا گیا۔ انہوں نے جنرل ضیا الحق کے مشن کو جاری رکھنے کا عہد کیا۔ یعنی ملک میں جمہوریت کے بجائے ملٹری طرزِ حکمرانی کو فروغ دینا۔ اس سلسلے میں نواز شریف نے امیر المومنین ماڈل پر کوشش بھی کی مگر ان کی حکومت برطرف ہو گئی۔ 1997 ء میں وہ دوبارہ منتخب ہوئے مگر 1999 ء میں ان کی حکومت پھر ختم کر دی گئی۔ اگرچہ 1989 سے 1999 تک ملک میں جمہوریت رہی لیکن یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے کمزور ترین دور رہا۔ اس دور میں پاکستان میں کرپشن کو حیرت انگیز طور پر پذیرائی ملی۔ اس دور میں ملک میں لسانی، مذہبی فسادات، بد عنوانی اور کرپشن خوب پھلی پھولی۔ 1999 میں پرویز مشرف نے نواز شریف کی دوسری حکومت کا تختہ الٹ دیا۔
یوں ایک دفعہ پھر ملٹری چیف ایگزیکٹو بن گئے۔ 1990 کی دہائی میں کمزور اور بدعنوان جمہوری حکومتوں سے تنگ عوام نے پرویز مشرف کو مسیحا کے روپ میں قبول کیا۔ جمہوریت اور آئین پر کئی حملے ہوئے۔ ملک میں دہشت گردی کے نام پر ملٹری کو خوب پذیرائی ملی۔ بلکہ ملٹری کو ملک کی ضرورت بنا دیا گیا۔ کیونکہ جس طرح حالات بنائے گئے۔ تاثر یہ پیش کیا گیا کہ فوج کے علاوہ کوئی طاقت ملک کو نہیں بچا سکتی ہے۔ تعلیمی شرط کے نام پر کئی سیاست دانوں کو الیکشن سے باہر کر دیا گیا۔
سیاسی جماعتوں کے لیے قانون بنا دیا۔ پولیٹیکل پارٹی ایکٹ 2002 کے تحت سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن کا عمل کیا گیا۔ سیاسی جماعتوں کے لیے لائحہ عمل بھی بنا دیا گیا۔ 2008 ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی برسراقتدار آئی۔ ایک دفعہ پھر جمہوریت کے راستے پر ملک چل پڑا۔ ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوئی جس کے بعد نواز شریف تیسری بار ملک کے وزیراعظم بنے۔ جولائی 2018 ء کو ملک میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا جس کے نتیجے میں عمران خان کی تحریک انصاف کی حکومت بنی جبکہ عمران خان ملک کے 22 ویں وزیراعظم بنے۔
10 اپریل 2022 کو تحریک انصاف کی حکومت کو رجیم چینج کے نام پر تحریک عدم اعتماد سے برطرف کیا گیا۔ اس دوران ملک کی مضبوط ترین اسٹیبلشمنٹ کا کردار کافی زیر بحث رہا۔ کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا اتحادِ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل رہی۔ تاریخ میں پہلی بار آئی ایس آئی کے سربراہ نے پریس کانفرنس کی۔ جس نے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ ملک بھر میں 8 فروری 2024 ء کو عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔
موبائل فون سروس بند اور نتائج میں تاخیر کے باعث انتخابات کی ساکھ پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انتخابی نشان نہ ملنے کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کی بڑی تعداد نے قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کیں۔ پارلیمنٹ کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہونے کے باوجود مخصوص نشستوں سے محروم رکھی گئی۔ یہ جمہوریت اور عدلیہ کے لیے سوالیہ نشان ہے۔ کہ کس طرح کسی سیاسی جماعت کو ان کی بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ ملک میں جمہوریت کا فروغ نہیں ہو پا رہا ہے۔ کیونکہ انتخابات کے نتائج پر ملکی اسٹیبلشمنٹ کا خاصا اثر و رسوخ ہیں۔ جس طرح فروری 2024 کے انتخابات میں فارم 47 کی بنیاد پر تیسری اور چوتھی نمبر کے اُمیدواروں کو جتوایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج بھی جمہوریت اور سیکورٹی سٹیٹ کے درمیان پھنسا ہوا ہے

