انسانی فطرت: مجھے آپ کی توجہ چاہیے
بچہ، نوجوان، بوڑھا، عورت ہو یا مرد، غرض کہ ہم سب بلا تخصیص کسی نہ کسی شکل میں دوسروں کی توجہ چاہتے ہیں کہ یہ انسانی فطرت ہے۔ کچھ جانوروں کے بچے پیدائش کے دو چار گھنٹے کے بعد ہی اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاتے ہیں، نہ صرف کھانا پینا شروع کر دیتے ہیں بلکہ اپنی خوراک بھی ڈھونڈنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ جانور کا بچہ ایک خاص ”پروگرام“ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے جس میں درج ہوتا ہے کہ اسے گھاس پھونس کھانی ہے، کیڑے مکوڑے یا کچھ اور کھانا ہے۔ جب کہ حضرت انسان کو پیدائش کے بعد خود سے کھانا پینا تو درکار، گردن ٹھہرانے اور خود سے بیٹھنے تک کی سٹیج تک پہنچنے میں ہی کئی مہینے لگ جاتے ہیں۔ اپنی اس بے بسی کے دور میں اس کا واحد ہتھیار رونا چلانا ہے، جس سے وہ لوگوں کو متوجہ کرتا ہے اور اپنی ضروریات پوری کرواتا ہے۔
ہم بچپن سے ہی توجہ حاصل کرتے چلے آئے ہیں۔ کبھی ماں کا پیار کہ میرا چاند تو لاکھوں میں ایک ہے، کبھی شاباشی کہ والدین چاہتے ہیں کہ بچے کا حوصلہ بڑھے، وہ زندگی کی دوڑ میں آگے نکل سکے۔ حوصلہ افزائی کی یہ مختلف شکلیں ہیں جو ہمارا اثاثہ بھی ہوتی ہیں اور ہم زندگی بھر اس اثاثہ کو ساتھ لئے پھرتے ہیں اور اکثر گمراہ بھی ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ مناسب توجہ کے حصول کے باعث بہت سے اچھے اور پیدائشی فنکار ترقی کی منزلیں طے کر لیتے ہیں۔
چاپلوسی، خوشامد، مدح سرائی وغیرہ توجہ اور حوصلہ افزائی کی منفی مثالیں ہیں لیکن ہم سب کسی نہ کسی طور اور ارباب اقتدار اور سلیبرٹی خاص طور سے اس کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔
مظلومیت ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔ مظلوم کو توجہ حاصل ہوتی ہے۔ ہم سب نے مظلومیت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور اس مظلومیت کے ناتے ہم ایک دوسرے سے توجہ بٹورنے میں لگے رہتے ہیں۔ اس سے چھٹکارا حاصل کرنا نہیں چاہتے کہ پھر ہمدردیاں حاصل نہیں ہوں گی ۔
ہم ہر وقت سیاستدانوں کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں، ان کے بخیے ادھیڑتے رہتے ہیں اور یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ ویسے بھی آج کل سیاستدانوں کو اور خاص کر ریاستی اداروں کی چھترول فیشن میں شامل ہے، کہ ہم ایسی ویسی شخصیت نہیں ہیں، ہمیں ہلکا نہ لیا جائے، ہم انسان دوست ہیں، عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ اس سے بھی ہمیں کافی توجہ ملتی ہے چنانچہ ہم سب بھی اس دوڑ میں شریک ہیں
توجہ حاصل کرنے کے اور بھی حربے ہیں جو شو بازی کے ضمن میں آتے ہیں مثلاً برانڈڈ اشیاء کا استعمال، حد سے زیادہ فیشن، شیخی، زمین و آسمان کے قلابے ملانا۔ ان سب کے پیچھے وہی نفسیاتی وجہ، توجہ چاہیے۔
ڈوپامائن۔ یہ ہارمون ہمارے دماغ میں ایک نیورو (اعصابی) ٹرانسمیٹر کے طور پر کام کرتا ہے۔ جب کسی کی تعریف ہوتی ہے تو ذہنی طور پر انعام ملنے کا احساس ہوتا ہے اور یہاں سے ڈوپامین کی کارگزاری شروع ہو جاتی ہے۔ اس عنوان سے یہ خوشی مہیا کرنے والا ایک بہت اہم ہارمون ہے۔ انسانی دماغ میں اس کی کئی گزرگاہیں ہوتی ہیں جن میں سے ایک گزرگاہ ہماری انعام حاصل کرنے کی خوشی کو مہمیز دیتی ہے۔ اس عنوان سے جب ہم دفتر یا گھر میں اپنے کام کی تعریف سنتے ہیں تو بہت اچھا محسوس کرتے ہیں کہ اس سے ڈوپامائن جاری ہوتا ہے۔
اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ زیادہ تر گھریلو خواتین کیوں ناخوش ہیں۔ وجہ؟ وہ اپنے کام کے لئے شاذ و نادر ہی تعریف سنتی ہیں اور یوں انہیں ڈوپامائین کی مناسب مقدار مہیا نہیں ہوتی۔ یہ خیال رہے کہ ایسی خواتین جن کو گھریلو کاموں میں مناسب تعریف نہ ملے وہ شاپنگ میں زیادہ دلچسپی لے سکتی ہیں۔
تجسس انسانی فطرت ہے۔ آج کے دور میں میڈیا انسانی فطرت سے بہت جائز و ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ خبریں سیدھے سادے انداز میں لوگوں تک پہنچا دی جاتی تھیں۔ آج تھمب کلپس کے ذریعے لوگوں کے تجسس کو ہوا دی جاتی ہے اور زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کی جاتی ہے۔ بعض دفعہ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے تھمب کلپس میں ایسا عنوان بھی دیا جاتا ہے جس کا اندر کہیں بھی ذکر نہیں ہوتا۔ اس معاملہ میں دینی یو ٹیوب کلپس کو بھی نہیں بخشا جاتا
اس سوشل میڈیا کے دور میں ہر شخص اپنی رائے دینے کے لئے آزاد ہے۔ لیکن اکثر لوگ اس حوالے سے جب توجہ نہیں ملتی تو وہ اپنی رائے دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں، دوستی کے رشتوں میں دراڑیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں، لیکن میں نہ مانوں۔
ایک سکالر نے کہا۔ ’انسان کی ذہنیت یہ ہے کہ جب کسی کو اپنے مقابلے میں بڑھتا دیکھتا ہے، بے چین ہو جاتا ہے۔ اس کی مختلف اشکال ہیں۔ رشک، حسد، رقابت، عداوت اور مزاحمت وغیرہ۔ اس کی نفسیاتی وجہ صرف اتنی سی ہے کہ کسی دوسرے کو توجہ مل رہی ہے، جو اس کے لئے ناقابل برداشت ہے۔
سمجھدار لوگ جو اس انسانی فطرت سے آ گاہ ہیں، خود کو روکتے اور ٹوکتے رہتے ہیں اور اس جال میں نہیں پھنستے اور لوگوں سے معافی تلافی کرتے رہتے ہیں۔

