کائنات : 11 کیا فنا ناگزیر ہے؟


ہر ملین سال یا اس سے زیادہ میں، زمین پر کہیں ایک بہت ہی بڑا آتش فشاں پھٹتا ہے۔ آخری بار ایسا اکہتر سے چوہتر ہزار سال کی درمیانی مدت میں سماٹرا کے جزیرے پر ٹوبا نامی آتش فشاں سے ہوا تھا، جو اب انڈونیشیا ہے۔ اس نے جانی مانی تاریخ میں کسی ایک آتش فشاں سے سینکڑوں گنا زیادہ چٹان، راکھ اور زہریلی گیس فضا میں خارج کی۔ زمین کی پرت سے پھوٹنے والی پگھلی ہوئی چٹان نے ایک سو کلومیٹر لمبا قوس نما گڑھا چھوڑ دیا، جو اب ایک جھیل سے بھرا ہوا ہے۔

ٹوبا آتش فشاں نے چھ سو کیوبک میل سے زیادہ پسی ہوئی چٹانیں آسمان کی طرف پھینکیں۔ مغرب کی طرف چلنے والی ہوا آتش فشاں کی راکھ کو ہندوستان کے اوپر لے گئی، جہاں یہ برصغیر کے اوپر سانس روک دینے والے کمبل کی طرح بچھ گئی۔ اس کے پھٹنے سے اوپری فضا سلفر گیسوں سے بھر گئی۔ نتیجہ ایک عالمی کہرا تھا جس نے زیادہ تر سورج کی روشنی کو کم از کم پانچ سال تک سطح تک پہنچنے سے روک دیا۔ یہ ایک پانچ سالہ طویل ابر آلود دن کی طرح تھا۔

یہ نام نہاد ”آتش فشانی موسم سرما“ ”جوہری موسم سرما“ سے مشابہت رکھتا تھا، لیکن تابکاری کے بغیر۔ ہر طرف درجہ حرارت گر گیا۔ پودے اور جانور گرم علاقوں میں بھی جم گئے اور بہت زیادہ تعداد میں مر گئے۔ لیکن زندگی بہت سخت جان واقع ہوئی ہے۔ صرف چند انواع ہی معدومیت کی طرف جا سکیں۔ وسطی ہندوستان میں ہمارے آبا و اجداد میں سے ایک نے ٹوبا کے پھٹنے سے پہلے کے سالوں میں اس پتھر کے بلیڈ کو تیز کیا تھا۔ اور یہ بلیڈ ان درجنوں میں سے ایک تھا جو آتش فشاں سے گرنے والی مٹی کی اوپر والی تہہ میں پائے گئے تھے۔

یہ ہمیں بتاتا ہے کہ کچھ اوزار بنانے والے، یہاں تک کہ آتش فشاں سے براہ راست متاثر ہونے والے علاقے میں بھی، تباہی سے بچنے میں کامیاب رہے تھے۔ لیکن عالمی انسانی آبادی میں پلٹنے سے پہلے کمی واقع ہوئی ہوگی۔ اگر کل اس طرح کا آتش فشاں پھٹے تو ہماری تہذیب گھٹنوں کے بل گر جائے گی، حالانکہ انسانی نسلیں زندہ رہیں گی۔

میں تصور کر سکتا ہوں کہ اب سے چند سو سال کی ہماری ٹیکنالوجی ہمیں ایک خطرناک بڑے آتش فشاں کے پھٹنے سے پہلے اس کی توانائی کو ختم کرنے کی صلاحیت دیدے گی۔ پھر ہم اس توانائی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکیں گے۔ ہر ملین سال میں تقریباً ایک بار، ایک چھوٹا سیارچہ زمین سے ٹکراتا ہے، جس سے اتنی ہی تباہی ہوتی ہے۔ ہم موجودہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے، پہلے ہی سے جان سکتے ہیں کہ سیارچہ کی پیدا کردہ تباہی کے اثرات کو کیسے روکا جائے۔

ہم اسے برسوں پہلے آتے ہوئے دیکھ سکیں گے اور اسے بے ضرر مدار میں موڑنے کے لیے وہاں ایک خلائی جہاز بھیج سکیں گے۔ اب سے ایک ہزار سال بعد کی ٹیکنالوجی کے ساتھ، ہم زمین کے ماحول پر قریبی سپرنووا کے مہلک اثرات کو کم کرنے کے قابل بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن جب تہذیب کو خطرہ پوشیدہ ہو تو کیا ہوتا ہے؟ جب کوئی اسے آتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا؟

کولمبس سے شروع ہونے والے، امریکہ کے یورپی حملہ آوروں کے پاس ایک خفیہ ہتھیار تھا جس کے بارے میں وہ خود بھی کچھ نہیں جانتے تھے۔ وہ چیچک جیسی مہلک بیماریوں کے لیے بیکٹیریا اور وائرس لے کر جا رہے تھے، جن کا اصل امریکیوں نے کبھی سامنا نہیں کیا تھا۔ یورپی یہ ماننا پسند کرتے ہیں کہ یہ ان کی بہادری اور اعلیٰ ہتھیار اور ثقافت تھی جس نے انہیں نئی دنیا کو فتح کرنے کا اعزاز بخشا تھا۔ اصل فاتح بیماری پھیلانے والے جراثیموں کی فوجیں تھیں جنہوں نے آگے بڑھ کر شمالی، وسطی اور جنوبی امریکہ کے دس میں سے نو انڈینز کو متاثر کر کے مار ڈالا۔ نئی دنیا کی عظیم تہذیبیں حملہ آور جرثوموں کے حملے کی زد میں آ گئیں۔ اس پوشیدہ فوج کے بغیر، حملہ آوروں اور اس کے بعد آنے والوں کو شاید کبھی موقع نہ مل پاتا۔

لیکن ان تہذیبوں کا کیا ہو گا جو خود کو تباہ کر لیتی ہیں؟ ہمارے سارے معاشی نظام اس وقت قائم ہوئے تھے جب زمین اور اس کی ہوا، دریا، سمندر، زمینیں، سب لامحدود ”لگ“ رہے تھے۔ وہ اس سے بہت پہلے تیار ہوئے جب ہم نے پہلی بار زمین کو ایک چھوٹے جاندار کے طور پر دیکھا جو وہ حقیقت میں ہے۔ وہ سب ایک لحاظ سے ایک جیسے ہیں کہ وہ سب منافع پر مبنی ہیں، اور اس وجہ سے، مختصر مدت کے فائدے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ مروجہ معاشی نظام، چاہے ان کے نظریات کچھ بھی ہوں، اب سے ہماری ایک سو سال بعد کی اولادوں کی حفاظت کے لیے کوئی اندرونی میکانیت نہیں رکھتے، ایک لاکھ سال کو تو جانے دیں۔

ایک لحاظ سے، ہم قدیم میسوپوٹیمیا کے لوگوں سے آگے ہیں۔ ان کے برعکس، ہم یہ سمجھتے تو ہیں کہ ہماری دنیا کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر، ہم گرین ہاؤس گیسوں کو اپنے ماحول میں اس شرح سے بھر رہے ہیں جو زمین پر دس لاکھ سالوں سے نہیں ہوا۔ اور سائنسی اتفاق رائے ہے کہ ہم اپنی آب و ہوا کو غیر مستحکم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر بھی ہماری تہذیب انکاری کیفیت کی گرفت میں نظر آتی ہے۔ یہ ایک قسم کا فالج ہے۔ ہم جو کچھ جانتے ہیں اور جو کچھ ہم کرتے ہیں، اس میں ایک تضاد ہے۔ اپنے رویے کو چیلنجوں کے مطابق ڈھالنے کے قابل ہونا ذہانت کی اتنی ہی اچھی تعریف ہے جتنی میں جانتا ہوں۔

اگر ہماری زیادہ ذہانت ہماری انواع کی پہچان ہے، تو ہمیں اسے استعمال کرنا چاہیے، کیونکہ باقی تمام مخلوقات اپنے مخصوص فوائد کو اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کے لیے استعمال کرتی ہیں کہ ان کی اولادوں کی ترقی ہو، اور ان کی وراثت کو آگے بڑھایا جائے، اور یہ کہ فطرت کے تانے بانے جو ہمیں برقرار رکھتے ہیں، محفوظ ہوں۔ انسانی ذہانت نامکمل ہے، یقیناً، اور نئی نئی پیدا ہوئی ہے۔ جس آسانی کے ساتھ اس سے میٹھی باتیں کی جا سکتی ہیں، متاثر کیا جاسکتا ہے یا دوسرے پر تشدد رجحانات سے متاثر ہو سکتی ہے، بعض اوقات خود ہی عقل کی روشنی کے بھیس بدل لیتی ہے، وہ سب انتہائی تشویشناک ہے۔

لیکن اگر ہماری ذہانت ہی واحد برتری ہے تو ہمیں اسے بہتر طریقے سے استعمال کرنا سیکھنا چاہیے۔ اسے تیز کرنے کے لئے۔ اس کی حدود اور کمیوں کو سمجھنے کے لیے۔ جیسے بلیاں جھپٹنے سے پہلے چالاکی کا استعمال کرتی ہیں۔ ہمیں اپنی ذہانت کو ہماری بقا کا آلہ بنانا ہو گا۔ اگر ہم ایسا کر پاتے ہیں، تو ہم تقریباً کسی بھی مسئلے کو حل کر سکتے ہیں جس کا ہم اگلے ایک لاکھ سالوں میں سامنا کر سکتے ہیں۔

اور اب ہم اس جگہ پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمارے لافانی ہونے کے قدیم خواب اور جدید فلکی طبیعیات آپس میں ملتے ہیں۔ دیوہیکل بیضوی کہکشائیں، جہاں کائنات کے قدیم ترین ستارے مل سکتے ہیں۔ یہ ایک سرخ بونا ستارہ ہے، جو ہمارے سورج سے چھوٹا اور دھندلا ہے۔ سرخ بونے کائنات میں سب سے زیادہ پائے جانے والے ستارے ہیں۔ سورج کے برعکس، جو اپنی دس بلین سالہ زندگی کے آدھے راستے پر ہے، سرخ بونے اپنے سیاروں کو کھربوں سالوں تک روشنی اور گرمی فراہم کرتے رہیں گے۔

یہ کائنات کی موجودہ عمر سے سینکڑوں گنا زیادہ ہے۔ ایک ذہین مخلوق کیا کرے گی اگر ان کے پاس کائنات کے بارے میں اپنی سمجھ پیدا کرنے کے لیے ابدیت ہو؟ شاید وہ یہ سیکھیں گے کہ خلائی وقت کے تانے بانے میں چھوٹا راستہ کیسے ڈھونڈنا ہے، تاکہ کہکشاؤں کے درمیان روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے سفر کیا جا سکے۔ شاید وہ فنی یا سائنسی تجربات کے طور پر پوری نئی کائناتیں تخلیق کریں گے۔ یقیناً کوئی بھی، یا کم از کم زمین پر کوئی بھی نہیں جانتا کہ لافانی لوگ کیا کر سکتے ہیں۔

لیکن ہمارے بارے میں کیا خیال ہے؟
ہمارا مستقبل کیا ہے؟
اگلے چودہ ارب سالوں کا کائناتی کیلنڈر کیسا نظر آئے گا؟

اگر اصل کائناتی کیلنڈر میں کائنات کی پیدائش سے لے کر اسی لمحے تک کا سارا وقت شامل ہو تو اگلے چودہ ارب سالوں تک کائناتی کیلنڈر کیسا نظر آئے گا؟

بالکل اسی طرح جیسے ماضی کا کائناتی کیلنڈر تھا، مستقبل کے کیلنڈر کا ہر مہینہ تقریباً ایک ارب سال کے برابر ہو گا۔ ہر روز، تقریباً چالیس ملین سال۔ سائنس ہمارے لیے ناقابل تصور دور مستقبل میں بعض فلکیاتی واقعات کی پیشین گوئی کرنا ممکن بناتی ہے۔ مثال کے طور پر سورج کی موت۔ تقریباً پانچ ارب سالوں میں، ہمارا ستارہ، سورج اپنا وہ ہائیڈروجن اور جوہری ایندھن ختم کر دے گا جو اسے سرخ دیو بننے کی طاقت دیتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ افسردہ کن لگتا ہے، لیکن اگر ہم اپنی ذہانت کا اطلاق کریں، تو اس دور مستقبل میں ہماری اولادیں بہت پہلے سورج کی کھوئی اور اجڑی ہوئی دنیا سے دور نکل چکی ہوں گی۔ کون جانتا ہے؟

ہمارے مستقبل کے بارے میں سائنسی بیانات دینے کے لیے انسانی واقعات میں بہت زیادہ متغیرات، بہت زیادہ غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔ لیکن ہم اب بھی خواب دیکھ سکتے ہیں۔ انسانی کامیابیوں کا اگلا سنہری دور یہاں سے اور ابھی سے شروع ہوتا ہے، اگلے کائناتی سال کے نئے سال کا دن۔ ایک سیکنڈ کے پہلے دسویں حصے میں، ہم ہلکے نیلے نقطے کے تصور کو دل میں بسا لیتے ہیں، اور سیکھتے ہیں کہ اس چھوٹی سی دنیا کو ایک دوسرے کے ساتھ کیسے بانٹنا ہے۔

آخری اندرونی آگ کے انجن کو میوزیم میں رکھ دیا گیا ہے، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات الٹ اور کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس مستقبل کے ایک سیکنڈ کے پانچویں حصہ میں غربت کے اثرات سے مرنا ختم ہو چکا ہے۔ سیارہ اب مکمل طور پر خود کو برقرار رکھنے والا بن چکا ہے جو باہم بات چیت کرنے والا جاندار ہے۔ اب سے آدھے سیکنڈ کے بعد ، قطبی برفانی چوٹیاں اسی طرح بحال ہو گئی ہیں جس طرح وہ انیسویں صدی میں تھیں، اور اگلے ڈیڑھ منٹ یا چالیس ہزار سالواں کے بارے میں پیشن گوئی ہلکی اور خوشگوار ہے۔

جب تک ہم قریب ترین دوسرے سیاروں کے نظاموں کو بھی آباد کرنے کے لیے تیار ہوں گے، ہم بدل چکے ہوں گے۔ بہت سی نسلوں کی سادہ زندگی نے ہمیں بدل دیا ہو گا۔ ضرورت ہمیں بدل دیتی ہے۔ ہم ایک قابل مطابقت نوع ہیں۔ یہ ہم نہیں ہوں گے جو ہماری کائناتی کشتی پر الفا سینٹوری اور دیگر قریبی ستاروں کے نظاموں تک پہنچیں گے۔ یہ ہماری طرح کی ایک نوع ہوگی، لیکن ہماری زیادہ طاقتوں اور کم کمزوریوں کے ساتھ۔ زیادہ پراعتماد، دور دیکھنے والی، قابل اور عقلمند۔ ہماری تمام ناکامیوں کے باوجود، ہماری خامیوں اور حدود کے باوجود، ہم انسان عظمت کے قابل ہیں۔

ہمارے زمانے میں کون سے نئے عجائبات تھے، جن کا خواب ہم نے نہیں دیکھا تھا، کیا ہم اسے اگلی نسل اور اس سے بھی اگلی نسل میں پورا کر سکیں گے؟ اگلی صدی کے آخر اور اگلی ہزاریے تک ہماری خانہ بدوش نسلیں کس حد تک اور کہاں تک گھومیں گی؟ ہماری دور دراز کی اولادیں، جو پورے نظام شمسی اور اس سے بہت باہر کی دنیاؤں پر محفوظ طریقے سے کھڑی ہو سکیں گی، اپنے مشترکہ ورثے، اپنے آبائی سیارے کی عزت کے حوالے سے، اور ان کے اس علم سے کہ، سامنے جو بھی دوسری زندگی ہو، اس پوری کائنات میں واحد انسان ہوں گے جو زمین سے آئے ہیں۔ وہ اپنے آسمانوں میں نیلے نقطے کو تلاش کرنے کے لیے اپنی نظریں اٹھائیں گے۔ وہ حیران ہوں گے کہ ہماری تمام صلاحیتوں کا ذخیرہ کبھی کتنا کمزور تھا، ہمارا بچپن کتنا خطرناک تھا، ہماری شروعات کتنی عاجز تھی، ہمیں اپنا راستہ تلاش کرنے سے پہلے کتنے دریا عبور کرنے پڑے تھے۔

(نیل ڈی گراس ٹائسن، ایسٹرو فیزیسیسٹ، مصنف اور سائنسی رابطہ کار، کی مشہور دستاویزی فلم ”کوسموس“ کی گیارہویں قسط کا ترجمہ جاوید صدیق نے کیا ہے۔ )

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2