پاکستان۔ افغانستان کشیدہ تعلقات: تاریخی پس منظر


Syed Abdul Hasib Quetta

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے کشیدہ رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ افغانستان کی پاکستان کی یو این میں رکنیت کی مخالفت بھی تھی کیونکہ پاکستان کی ریاست زیادہ تر ان علاقوں پہ عمل میں آئی تھی جو ماضی میں افغانستان کا حصہ رہے تھے۔

جب 1974 میں ظاہر شاہ کا تختہ الٹا اور سردار داؤد نے اقتدار سنبھالا، تو پاکستان کے ساتھ افغانستان کے تعلقات خراب ہونے لگے۔ افغان حکومت نے پاکستان پر افغان مذہبی علماء گل بدین حکمت یار، برہان الدین ربانی٫یونس خالص، محمد نبی محمدی اور پروفیسر سیاف کی حمایت کا الزام لگایا۔ 1978 میں سردار داؤد کا تختہ الٹ دیا گیا۔ ایک سال بعد ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل ضیاء کے فوجی حکومت نے ہٹا دیا، جس سے دونوں ممالک ایک نازک موڑ پر آ گئے۔

1979 میں جب حفیظ اللہ امین کو ہٹا کر ببرک کارمل نے اقتدار سنبھالا اور روس نے براہ راست افغانستان میں مداخلت کی، تو پاک افغان تعلقات اپنی نوعیت کے بدترین نہج پہ آ گئے۔ زیادہ تر مجاہدین رہنما پاکستان میں پناہ گزین ہوئے اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے امریکی ہدایات پر ان کی بھرپور سرپرستی کی کیونکہ امریکہ افغانستان میں روسیوں کو پھنسانا چاہتا تھا اور ویتنام میں اپنے ساتھ جو ہوا تھا اس کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ امریکہ اور مغرب کی مداخلت نے صورتحال کو مزید خراب کیا۔

پاکستان کے فوجی صدر جنرل ضیاء الحق نے امریکی حمایت کے تحت اپنی حکمرانی کو جواز بخشنے اور اقتدار میں توسیع حاصل کرنے کے لیے جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا، جس کے پاکستان کی سیاسی اور سماجی صورتحال پر دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ پاکستان میں مجاہدین کے تربیتی کیمپ اور ان کا پاکستانی سرزمین کا استعمال دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید خراب کرنے کا سبب بنا۔ جنرل ضیاء کا بہانہ تھا کہ روس بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک پہنچنے کا منصوبہ رکھتا ہے اور پاکستان روس کی توسیع پسندانہ عزائم کے نشانے پہ ہے۔ لہذا اس کی حکومت کو افغانستان میں اس کو روکنا پڑا تاکہ وہ اس کے ممکنہ مذموم منصوبوں سے محفوظ رہ سکے۔

روس کے منصوبے جو بھی تھے اور امریکی حمایت کتنی بھی فراخدلانہ تھی، ان دو سپر پاورز کے مفادات کی جنگ نے پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کو سیاسی اور سماجی طور پر بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ افغانستان مکمل طور پر تباہ ہو گیا جبکہ پاکستان میدان جنگ بن گیا اور اس کی سرزمین پر تین ملین افغانوں کی موجودگی نے اس کے جغرافیے پر دیرپا اثرات چھوڑے۔ 1996۔ 2001 کے طالبان (جو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی اختراع کی گئی تنظیم تھی) کے دور حکومت کے پانچ سالوں کے سوا، دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے پہ مخالفین کی سرپرستی کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

طالبان کے دور حکومت کے خاتمے کے بعد ، پاکستان نے افغانستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات بحال کرنے کی پوری کوشش کی، اسے فراخدلانہ مدد فراہم کی اور اس کی تعمیر نو اور بحالی کے عمل کے لیے لاکھوں ڈالر عطیہ کیے۔ لیکن افغان حکومت میں شمالی اتحاد کی اکثریت اور غلبہ نے پاکستان کی اس گرم جوشی کو قبول نہیں کیا۔

شمالی اتحاد کا جھکاؤ بظاہر بھارت اور روس کی طرف تھا۔ اتحادی حکومت میں اس کے غلبہ نے صدر اشرف غنی کو پاکستان کے ساتھ دوستی اور خیر سگالی کا ہاتھ بڑھانے نہیں دیا

اشرف غنی دور میں افغانستان میں بھارت کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور مداخلت، عدم اعتماد اور کشیدہ تعلقات کی اہم وجہ رہی ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی توقعات کے بالکل برعکس دو ہزار اکیس میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات واپس کشیدگی کے اس نہج پہ پہنچ چکے ہیں جو کبھی نیشنلسٹ اور کمیونسٹ دور حکومت میں ہوا کرتے تھے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی طالبان کی شکل میں کی گئی ستائیس اٹھائیس سال کی سرمایہ کاری اور محنت، طالبان حکومت کی ڈیورنڈ لائن اور ان کی حکومت کی داخلی پالیسیوں میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی ماضی کی نسبت، اثر و رسوخ اور مداخلت کی مکمل بیخ کنی، عدم انحصار اور انڈیا اور رشیا کے ساتھ اپنے تئیں تعلقات بحالی کے بدلتے ہوئے روئیے اور بقول پاکستانی حکومت پاکستانی طالبان کی سرحد پار سے سرگرمیاں اور طالبان حکومت کی ان کی وہاں سے بے دخلی کے عدم تعاون نے بھی دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کی وجوہات میں اضافہ کیا پیں۔

وقت کی ضرورت ہے کہ دونوں برادر ممالک ماضی کی کدورتوں کو دفن کر کے نئے بنیادوں پر اچھے تعلقات کی بحالی کے لئے کوششیں کریں۔

Facebook Comments HS