بجلی بھری ہے میرے انگ انگ میں
ایک عام پاکستانی کی تنخواہ کے برابر بجلی کا بل آ رہا ہے۔ لوگوں کی چس ختم اور بس شروع ہو گئی ہے۔ ہر کوئی شارٹ کٹ ڈھونڈ کر ملک سے باہر از خود جلا وطن ہونے کو تیار ہے۔
یہاں کینیڈا میں موجود ہر پاکستانی اب اپنی جاب اور کاروبار کے ساتھ ایک ماہر امیگریشن کنسلٹنٹ بن چکا ہے۔ جس کا جس پر داؤ لگ رہا ہے وہ اس پہ چوکے چھکے لگا رہا ہے۔ ادھر غریب پاکستانی پچیس، پچاس لاکھ اور امیر کروڑ دو کروڑ ہاتھ میں لئے ان ”ماہرین“ کے ہاتھوں لٹ رہا ہے۔
ایل ایم آئی اے کا دھندا عروج پر ہے، صوبائی نامینیشن اور نارمل پوائنٹ سسٹم کا دور دورہ ہے۔ پتہ کسی کو ککھ نہیں ہے۔ سارے منا بھائی لگے پڑے ہیں اور اس بھیڑ چال میں بے چارے اصلی لائسنس والے امیگریشن کنسلٹنٹ ان سب کا منہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔
ادھر غربت کے ہاتھوں ستائے ہوئے لوگ ہاتھ میں اصلی نقلی پستول لئے ایک دوسرے کو نوچ کھسوٹ اور لُوٹ رہے ہیں۔ کل جس نے کسی کو لُوٹا تھا آج سوشل میڈیا پر اپنے لٹنے کا غم بتا رہا ہوتا ہے۔
ملک میں بظاہر جمہوریت ہے لیکن ایسی جمہوریت جس میں سب کو کھل کر سیاست کا حق بھی نہیں اور زخم کھانے کے بعد رفو کرنے کی اجازت بھی نہیں۔ نیا پاکستان اور پرانا پاکستان کہیں اصل پاکستان کو نگل گیا ہے۔
مولانا چیخ رہا ہے، نواز کو چپ لگی ہے، عمران مفاد پرستوں میں گھر چکا ہے اور سنا ہے زرداری کی طبیعت ناساز ہے۔ میڈیا نے گرگٹ کی طرح ابھی رنگ بدلا ہوا ہے اور سوشل میڈیا لگے ہاتھوں اپنی رنگے ہاتھوں پکڑائی دے رہا ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کو اسٹیبلشمنٹ چلا رہی ہے، کوئی سمجھتا ہے کہ اللہ میاں چلا رہے ہیں کوئی سمجھتا ہے کہ بابا شف شف کی بدولت چل رہا ہے لیکن حقیقت میں آئی ایم ایف کا حکم چل رہا ہے اور لگتا ہے یونہی چلتا رہے گا۔
پاکستانیوں کی پچھتر سالہ قسمت میں۔ مسجد زیر تعمیر ہے۔ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ اور کوئی نہ کوئی پاپولر لیڈر جیل میں ہے۔ امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے، جشنِ آزادی نزدیک ہے سوچا یاد دلاتا چلوں کیونکہ مراعات یافتہ طبقے کے گھروں میں غریبوں کے لہو سے بجلی مفت میں بھری ہے ان کے انگ انگ میں۔


