مستند ہے اُن کا فرمایا ہوا
وہ صرف ضدی، ہٹ دھرم اور نرگسیت کا شکار ہی نہیں، اِس زعم میں بھی مبتلا ہے کہ اُس کا فرمایا مستند۔ اپنے ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت میں اُس کے ارسطوانہ خطبات و بیانات لطائف میں ڈھل چکے۔ وہ اب جیل میں ہے لیکن ’’بوئے سلطانی‘‘ اب بھی موجود۔ وجہ یہ کہ جب عدلیہ اور فوج میاں نواز شریف کو مائنس کرنے پر تُلی بیٹھی تھی تب یہی لاڈلا اُن کی آنکھ کا تارا تھا۔ 2018 ء کے عام انتخابات میں RTS بند کر کے اُسے جتوایا گیا لیکن اُسے قطعی اکثریت پھر بھی نہ ملی۔ پھر چھوٹی سیاسی جماعتوں اور آزاد ارکانِ اسمبلی کو گھیر گھار کر اُس کی حکومت بنوائی گئی۔ زور آوروں کو جلد ہی اِس غلط انتخاب کا احساس ہوگیا لیکن تب تک اُس کی نرگسیت اور لاڈلا پن اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ پھر تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے اُس کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ سانحہ 9 مئی کے بعد اُس کے خلاف کئی مقدمات درج ہوئے۔ اعلیٰ عدلیہ کے کچھ ججز کے نزدیک وہ تب بھی لاڈلا تھا اور اب بھی ہے۔
4 جولائی کو اڈیالہ جیل میں قید لاڈلے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا۔ لاڈلے نے کہا کہ اُن کے اور تحریکِ انصاف کے ہر مقدمے میں چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیسے آ جاتے ہیں۔ اُن کے و کلاء نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی ہر بنچ میں موجودگی پر اعتراض اُٹھایا۔ حقیقت یہ کہ لاڈلا اب بھی وہی ’’بندیالی کورٹ‘‘ ڈھونڈتا ہے جس نے اُسے مرسیڈیز میں اپنے کورٹ میں بلایا ’’گُڈ ٹو سی یو‘‘ کہا اور پھر یہ کہتے ہوئے اُسے پولیس ریسٹ ہاؤس میں بھیج دیا کہ وہ اگلے دن اسلام آباد ہائیکورٹ میں جاکر اپنی ضمانت کروا لے۔ یہ وہی لاڈلا ہے جسے اُن مقدمات میں بھی ضمانت دے دی گئی جو ابھی درج بھی نہیں ہوئے تھے، جس کی کورٹ میں حاضری لگوانے کے لیے ایس پی فائل لے کر اُس کی گاڑی میں دست بستہ حاضر ہوا۔ اِس کے علاوہ بھی کئی بار ایسا ہوا کہ اُسے عدالت میں 9 بجے حاضر ہونا ہوتا تھا لیکن ججز رات تک اُس کا انتظار کرتے رہتے۔ جب ایک ملزم کے ساتھ عدالتیں ایسا سلوک کریں گی تو اُس کے دماغ میں خناس تو پیدا ہونا ہی تھا۔ اُس نے چیف جسٹس صاحب پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قاضی صاحب اُن کے خلاف ہر بنچ میں کیسے آ جاتے ہیں؟۔ حقیقت یہ ہے کہ آئین و قانون سے سرِ مُو انحراف نہ کرنے والے قاضی فائزعیسیٰ کو تاریخِ عدل ہمیشہ یاد رکھے گی۔ پارلیمنٹ کے منظور کردہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے معطل کررکھا تھا جسے قاضی صاحب نے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالتے ہی بحال کردیا۔ اِس ایکٹ کے تحت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت 3سینئر ترین جسٹس صاحبان کی کمیٹی ہی تمام فیصلے کرتی ہے جس میں از خود نوٹس اور بنچوں کی تشکیل بھی شامل ہے۔ لاڈلے کا یہ اعتراض کوئی حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ عمر عطا بندیال کی طرح قاضی صاحب خود ہی کسی بنچ کی سربراہی نہیں کرتے بلکہ کمیٹی فیصلہ کرتی ہے۔ یہ قاضی فائزعیسیٰ ہی ہیں جنہوں نے فُل کورٹ بُلا کر تمام کارروائی براہِ راست دکھانے کا حکم صادر فرمایا۔ اِس سے پہلے 4 سالوں تک فُل کورٹ نہیں بلایا گیا۔ وہ قاضی صاحب ہی ہیں جنہوں نے 45 سال بعد ذوالفقار علی بھٹو کو انصاف دلایا، پرویز مشرف کی پھانسی کی سزا برقرار رکھتے ہوئے خصوصی عدالت کو کالعدم قرار دینے کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا، جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی کو 6 سال بعد غیرقانونی قرار دیا اور سب سے بڑھ کر 8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا۔ اب تک قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جتنے بھی فیصلے سامنے آئے اُن میں سے کوئی ایک بھی آئین و قانون سے ہٹ کر نہیں حالانکہ چیف جسٹس ثاقب نثار سے لے کر چیف جسٹس عمر عطا بندیال تک آنے والے اکثر فیصلے تنقید کی زَد میں ہی رہے یہاں تک کہ آئین کو ری رائٹ کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔
لاڈلے نے کہا’’ جس الیکشن کمیشن نے فراڈ الیکشن کروایا، انصاف کے لیے اُسی کے پاس بھیجا جا رہا ہے۔ اگر اِس فراڈ الیکشن کی تحقیقات ہوجاتی ہیں تو چیف الیکشن کمشنر پر آرٹیکل 6 لگ جائے گا‘‘۔ لاڈلا شائد بھول چکا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اُنہی کا انتخاب ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کوئی غیر آئینی و غیر قانونی کام کرنے کو تیار نہیں۔ لاڈلے کو پریشانی تو اُس وقت ہوئی جب اُسی کے دَورِحکومت میں ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں دھاندلی کے سب دَر بند کر دیئے گئے اور تحریکِ انصاف کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اِس کے علاوہ بھی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن نے عمران خاں کے خلاف فیصلہ دیا۔ اپنے دَورِ حکومت میں الیکشن کمیشن کے بار بار کہنے کے باوجود تحریکِ انصاف نے اپنی جماعت کے اندرونی الیکشن نہیں کروائے جس پر اُس سے ’’بَلے‘‘ کا انتخابی نشان چھین لیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ لاڈلا اور حواری ہر وقت الیکشن کمیشن کے خلاف آگ اُگلتے رہتے ہیں۔
لاڈلے نے نہ صرف حکومت سے مذاکرات کرنے سے انکار کردیا بلکہ جیل میں بھوک ہڑتال کی دھمکی بھی دے دی۔ اُس نے کہا ’’میں 3 گھنٹے اندر انتظار کرتا رہا۔ میرے پارٹی رہنما باہر کھڑے رہے۔ میں نے دونوں گروپس کو اختلافات ختم کرنے کے لیے جیل بلایا تھا۔ جب مجھ سے لوگوں کو ملنے نہیں دیا جائے گا تو اختلافات کیسے ختم ہوں گے۔ جیل میں میرے ساتھ روا سلوک پر بھوک ہڑتال پر جا رہا ہوں۔ پارٹی سے مشاورت کے بعد بھوک ہڑتال کی تاریخ کا اعلان کروں گا۔ ایک سال ہونے و الا ہے مجھے چکی میں ٹھہرایا ہوا ہے‘‘۔ جہاں تک حکومت سے مذاکرات کی بات ہے تو لاڈلا پہلے کبھی اِس کے لیے تیار تھا نہ اب ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بات تو کرتا ہے لیکن حکمرانوں کے ساتھ نہیں۔ وہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر سے مذاکرات کا خواہشمند ہے لیکن جنرل صاحب اِس کے لیے ہرگز تیار نہیں کیونکہ فوج ’’نیوٹرل‘‘ ہوچکی۔ بانی پی ٹی آئی کو غصہ اِس بات پر ہے کہ اُس نے اپنی جماعت کے 2 متحارب گروپس کو جیل میں بلا رکھا تھا تاکہ اُن کے مابین اختلافات کو ختم کروا سکے۔ سوال یہ ہے کہ ایک مجرم جو جیل میں سزا کاٹ رہا ہو کیا اُس کو اتنی سہولت میسر ہے کہ جب اُس کا جی چاہے جیل میں سیاسی میٹنگ بلا کر بیٹھ رہے۔ اگر ایسا ہی ہے اور آئین و قانون اِس کی اجازت دیتا ہے تو پھر ہر قیدی کو یہ سہولت میسر ہونی چاہیے کیونکہ جمہوری اصول تو یہی ہے۔ اُس نے کہا کہ اُسے چکی میں بند کیا ہوا ہے جہاں سخت گرمی ہے۔ حقیقت مگر یہ کہ جتنی سہولیات لاڈلے کو جیل میں میسر ہیں اُتنی کبھی کسی قیدی کو میسر نہیں ہوئیں۔ جیل کی 7 بیرکیں اُس کے استعمال میں ہیں۔ 2 بیرکوں کی درمیانی دیوار توڑ کر اُس کی رہائش کا بندوبست کیا گیا ہے۔ 2 بیرکوں میں اُس کی ورزش کا سامان ہے اور باقی جگہ چہل قدمی کے لیے ہے۔ یہ بجا کہ اِس وقت پاکستان میں شدید گرمی ہے لیکن کیا بانی پی ٹی آئی کو واشنگٹن ڈی سی کا وہ خطاب یاد ہے جب اُس نے انتہائی رعونت سے کہا تھا کہ وہ پاکستان جاکر جیل میں بند میاں نواز شریف کے گھرکا کھانا بند کروائے گا اور کمرے سے اے سی اُتروائے گا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ میاں نواز شریف دل کے مریض ہیں اور اُن کا بائی پاس بھی ہوچکا۔ آج مرکز میں میاں نواز شریف کے بھائی اور پنجاب میں اُن کی بیٹی کی حکومت ہے لیکن اُنہوں نے کبھی انتقام لینے کی بات نہیں کی۔ (امریکہ سے)


