ایک تھا ایمرسن کالج کا پروفیسر، شاہ جی۔


سگریٹ اور شاہ جی کا ”چولے“ دامن کا ساتھ ہے۔ ایک زمانہ تھا ہمارے یہاں دیہات میں عام رواج تھا کہ لڑکا سکول میں تب داخل کرایا جاتا جب وہ دو کپڑوں میں آ جاتا۔ اگر کبھی کوئی سنگدل باپ اصرار کرتا کہ بچہ بڑا ہو گیا ہے اسے سکول بھیجا جائے تو ماں اپنے لختِ جگر کو سینے سے لگا لیتی اور کہتی ہائے میرے لعل پر یہ ظلم نہ کریں ابھی تو ایک ”چولے“ میں ہے۔

شاہ جی ابھی ایک چولے میں ہی تھے کہ سگریٹ نوشی کی لت پڑ گئی۔ روپیہ دو جو بھی میسر آتا سگریٹ میں اڑا دیتے۔ اس لئے قد کاٹھ وہیں رک گیا اور بلوغت کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ محلے کے چند لڑکوں سے دوستی ہوئی تو والی بال، تاش اور فلم بینی پر بھی لگ گئے۔ عشرہ محرم کے جلوسوں میں شریک ہوتے اور سینہ کوبی بھی کرتے البتہ برچھی مارنے سے گریز کرتے کیونکہ اس کے لئے چولا اتارنا پڑتا تھا۔

شاہ جی کے آبا و اجداد نے بخارا مصغّر (چھوٹا بخارا) سے حصولِ رزق اور اشاعتِ دین کی غرض سے ہجرت کی اور ضلع لودھراں کے قصبہ دھنوٹ میں آ بسے۔ بخارا مصغّر دراصل ڈیرہ غازی خان کا ایک نواحی علاقہ ہے جہاں گوپانگ بلوچوں کی اکثریت آباد ہے۔ شاہ جی کے خاندان کی یہ دوسری ہجرت تھی۔ پہلی ہجرت انہوں نے محض اشاعتِ دین کے لئے روس کے شہر بخارا سے کی۔ اسی منا سبت سے بلوچوں کی سر زمین کے اس مخصوص خطے کو بخارا مصغر کہا جانے لگا۔ شاہ جی کی شخصیت میں روسی اشتراکیت اور بلوچوں کی حمیت کے مشترک آثار ملتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ موصوف نے ڈرائینگ روم میں، اپنی جو تصویر آویزاں کر رکھی ہے اس میں ایک ہاتھ میں نوک دار کلہاڑی اور دوسرے ہاتھ میں داس کیپیٹل کا نسخہ اٹھائے ہوئے ہیں۔

شاہ جی سے میری پہلی ملاقات ایمرسن کالج ملتان میں ہوئی جب وہ تقریبَا جوانی کی دہلیز کی پر قدم رکھتے ہی انٹرمیڈیٹ کے لئے کالج آ گئے۔ دو کپڑوں میں ملبوس، گھٹا ہوا قد، سڈول، بھرا بھرا جسم، تقریبَا مردانہ چال کے حامل اور مطلق بے ریش تھے۔ آنے والے چند سالوں تک ان کے مکمل جوان ہونے کا اندیشہ تو تھا مگر داڑھی کے مکمل ہونے کا معاملہ خارج از امکان تھا۔ لاہوری کٌلچے کی طرح ابھرا ابھرا گول چہرہ جس پر بیٹھی ہوئی معصوم ناک پھنکارتی تھی۔

طوطے کی آنکھوں جیسی چھوٹی چھوٹی گول آنکھیں جو طوطے کے لئے تو باعثِ ننگ اور شرمندگی ہیں ہی، شاہ جی نے بھی ان سے ہمیشہ کوتاہ نگاہی کا کام ہی لیا۔ ابن الوقت اور زمانہ ساز اسی زمانے سے تھے۔ انگریزی زبان اور صحتِ تلفظ پر جان چھڑکتے تھے۔ ایسے اساتذہ اور طلباء پر فریفتہ ہو جاتے جو انگریزی بولتے۔ مستنیر افضل لودھی جو انگریزی تو بولتے تھے مگر ساتھ ساتھ چہرے پر عجیب طنزیہ مسکراہٹ کے نقوش بھی بناتے تھے، شاہ جی ان سے مرعوب ہو گئے۔

مگر لودھی صاحب طلباء سے زیادہ جرمن شیپرڈ کتوں سے پیار کرتے تھے۔ وہ تدریس سے زیادہ شکار کرتے اور بہت سی نا آسودہ خواہشات میں غلطاں و پیچاں رہتے تھے۔ شکار، فوج، یونی ورسٹی کا سراب، بچھڑی سہیلیاں، اور افسر شاہی کی خواہشِ ناتمام وغیرہ ان کا روزمرہ تھا اور شاید آج تک ہے۔ وہ آج بھی کسی ایک راستے کے راہی ہوئے اور نہ آسودگی پائی۔

انہی دنوں عاجز نے ایک بار کلاس میں، رٹا ہوا انگریزی کا ایک جملہ کچھ ایسے فرنگی آہنگ میں بولا کہ شاہ جی میرے بھی معتقد ہو گئے۔ اگرچہ شاہ جی کے اعتقادات وقت کی روانی کے ساتھ مسلسل بدلتے رہے ہیں اور ایک واقعہ یوں بھی ہے کہ دوستوں کی صحبتِ صالح کے زیرِ اثر پنپنے والے ان کے سارے روشن نظریات اور انقلابی افکار ایک ہی تبادلے اور ایمرسن کالج میں پوسٹنگ کے نشے میں ہوا ہو گئے۔ مزید برآں اگلے ہی سال کالج اساتذہ کی ٹریڈ یونین کا نہ صرف الیکشن لڑا بلکہ ”لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے“ وغیرہ جیسی کئی دوسری نظموں کی سی۔ ڈیز جلا ڈالیں، سگریٹ نوشی سے توبہ کی اور ہاف بالشت داڑھی بڑھانے کا غیبی وعدہ بھی کیا۔

کالج کے دنوں میں وہ کتابیں چرانے میں بھی طاق تھے۔ ایک بار بیکن بکس سے ایک لغت بڑے ہی لغو انداز سے چھپا کر لے آئے اور سارا دن ہاسٹل کے لڑکوں کو ان کے ناموں کے کئی کئی مطلب بتاتے رہے۔ اسی طرح ایک دن کسی دوست کو ملنے اس کے ہاسٹل گئے تو وہ کمرے میں موجود نہ تھا، ملے بغیر ہی لوٹ آئے لیکن خالی ہاتھ بالکل نہ نکلے، آتے ہوئے دوست کی نشانی ایک ملتانی لنگی اٹھا لائے۔ میں نے عرض کی آپ کی کتب بینی تو سمجھ آتی ہے یہ لنگی پوشی کا کیا شوق ہے؟ کہنے لگے کپڑا تو موسم کی مناسبت سے ہی بھلا لگتا ہے۔ تم نے شاید یونانی فلسفیوں کا یہ قول نہیں سنا کہ سردیوں میں کپڑا بڑھاؤ اور گرمیوں میں گھٹاؤ۔ میں لاجواب ہو گیا۔

اگلے دن صبح میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ موصوف فقط لنگی اوڑھے گہری نیند سو رہے ہیں۔ ستر پوشی صرف تیس فیصد تھی باقی گرمجوشی تھی۔ میں سیّد زادے کی دیدہ و دانستہ کرامت کا قائل ہو گیا۔

ایف۔ اے کے بعد شاہ جی دھنوٹ واپس چلے گئے اور بی۔ اے بہاولپور سے کیا۔ ان دنوں جب بھی شاہ جی سے بات ہوئی انہوں نے اپنے مالی حالات کا رونا رویا۔ مثل مشہور ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے مگر ملتان میں آ کر پڑھنے اور نوکری پیشہ ہو کر یہیں بس جانے والے ہر نوجوان کے پیچھے احمد شاہ ابدالی کا ہاتھ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جو طالبعلم ابدالی روڈ پر واقع احمد شاہ ابدالی کی جائے پیدائش پر آنسو بہائے اور یہیں ایک رات بھوکا سو جائے وہ کبھی بھوکا نہیں مرتا۔ اکبر استرا نام کے شاہ جی کے ایک دوست تو اس ابدالی کرامت کے اس درجہ قائل تھے کہ اپنا واقعہ سناتے ہوئے ان پر رقت طاری ہوجاتی۔ غالباً ان کی پوری زندگی کا نچوڑ یہی ایک رات تھی۔

تھی ایک رات کی یہ زندگی نچوڑ چلے

شاہ جی نے ایم اے کی غرض سے دوبارہ ملتان کا سفر کیا تو اسی دوست کے بتائے ہوئے طریقے کے عین مطابق شب بسری کے لئے سیدھے یاد گارِ ابدالی پہنچے۔ شاہ جی کو تو نہ رونا آیا نہ نیند اوپر سے سگریٹ کی اشتہا بھی بڑھنے لگی۔ قریب بیٹھے ایک ملتانی ملنگ، جو کٌتیوں والے بابا کے نام سے مشہور تھے اور ان کے ساتھ ہمیشہ کتیوں اور ان کے مادہ بچوں کا ایک غول رہتا تھا، انہوں نے شاہ جی کو اپنا لباب لگا کر ایک سربمہر سگریٹ عطا کی جسے پی کر شاہ جی خوب روئے اور خوب سوئے۔ بعد میں جب بھی شاہ جی نے اپنے دن پھرنے کا واقعہ سنایا، تو انکے اعتقاد کے ترازو کا جھکاؤ شاہ ابدالی کی بجائے کتیوں والے بابے کی طرف رہا۔

ایمرسن کالج میں ایم اے کے دوران ان کی ایک کلاس فیلو نے، جو خاصی پختہ عمر اور تجربے کی مالک تھی، تین چار لڑکیوں کو اپنے پروں تلے چھپا کر ایک گروپ تشکیل دیا۔ شاہ جی اس گروپ کا حصہ بن گئے۔ اس خاتون نے اپنے گھونسلے کی ایک ایک فاختہ کو گروپ میں موجود ہر ایک لڑکے کے لئے اپنے ذوق کے مطابق مخصوص کر دیا۔ شاہ جی اپنی مخصوص کلاس فیلو کے ساتھ عجز و انکساری سے پیش آئے اور اپنے خاص ملائم نسوانی لہجے کے تلفظات کی مار دی۔

مگر وہ مائی مرد قسم کی عورت تھی، شاہ جی کی زبان دانی اسے قائل نہ کر سکی اور چند روز بعد شاہ جی نے دیکھا کہ ایک مشکی اس فاختہ پر کنڈلی مارے بیٹھا ہے۔ مشکی شاہ جی کا کلاس فیلو اور گروپ فیلو تھا۔ شاہ جی نے یہ نام اسے اس سانحہ کے بعد عطا کیا اور کہا کرتے تھے کہ ایک تو اس کا رنگ کالا ہے اوپر سے کرتوت کا بھی کالا نکلا۔

اس واقعے نے شاہ جی کے دل پر گہرا اثر ڈالا۔ ان کی تو دنیا ہی لٹ گئی۔ ابھی ایم۔ اے فائنل ائر میں ہی تھے کہ ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھانا شروع کر دیا۔ انہی دنوں انہیں معلوم ہوا کہ ان کے مردانہ سینے میں ابھار پیدا ہونے لگے ہیں۔ شاید کوئی گلٹیاں نمودار ہونے لگی تھیں۔ انہوں نے ذکر کیا کہ سرجری کرانا چاہتا ہوں۔ میں نے سرجری سے منع کیا اور سمجھایا کہ شاہ جی آج کل تو رواج ہے۔ اور اس پوسٹ ماڈرن ورلڈ میں لوگ مرد عورت کے اس روایتی تصور سے اکتا چکے ہیں۔

آپ ٹیوشن سے زیادہ تو شادی بیاہ کے فنکشنز اور رقص کی محافل سے کما لیں گے۔ گرائمر کی کتاب لکھ کر کوئی پروفیسر اتنا مشہور نہیں ہوتا جتنا آپ اپنے رقص کی سی۔ ڈی نکلوا کر ہو سکتے ہیں۔ مگر انہوں نے میری ایک نہ مانی اور اپنے ایک کولیگ کے بھائی کی خفیہ کلینک سے جو کسی پوش دیہات میں تھا آپریشن کرا لیا۔ مجھے تو خبر بھی تب دی جب گلٹیوں کا سیمپل لاہور کی کسی لیبارٹری کو بھجوا چکے۔

اس سرجری کے بعد شاہ جی خاصے مردانہ مردانہ ہو گئے۔ پھر ان کی کالج میں نوکری ہو گئی اور تبدیل ہو کر شہر کے بڑے کالج میں آ گئے۔ انہی دنوں انہیں یہاں ایک پرانا کولیگ مل گیا جو اب اس کالج میں اردو پڑھاتا تھا۔ دوستی پختہ ہونے لگی اور اس کے گھر آنا جانا ہو گیا۔ بزبانِ خود ایک واقعہ انہوں نے مجھے سنایا جس کی صحت پر شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن وہ پروفیسر صاحب کے گھر موجود تھے اور دونوں اکیلے تھے، کہ پروفیسر کی حا لت غیر ہو گئی۔ اس کی آنکھوں میں سرخی تیرنے لگی، گال تمتمانے لگے اور سانسیں اکھڑ گئیں۔ دل کی دھڑکن اتنی تیز تھی کہ شاہ جی پلنگ پر بیٹھے بیٹھے ہی سن رہے تھے اور وہ موا فرش پہ بچھے قالین پر بلک رہا تھا۔ شاہ جی نے اس زضمن میں اپنی معذوری پیش کی اور یہ شعر پڑھا۔

”دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں،
ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں، ”کیوں“ سلگائیں تمہیں۔ ”

سگریٹ سلگانے کا شاہ جی کا اپنا ہی انداز تھا، اس میں شاہانہ تمکنت، باغیانہ روش اور رئیسانہ بانکپں سبھی یکجان تھا۔ انہی دنوں گول باغ میں انہوں نے مجھے سگریٹ ان ہیل کرنا سکھایا۔

انہوں نے ایک ہاتھ میں سگریٹ اور دوسرے ہاتھ میں چائے کا کپ تھام رکھا تھا۔ ادھر سگریٹ کا گہرا کش کھینچتے اور ادھر چائے کی چسکی لگاتے۔ اور مجھے فرمایا ایسے ایسے دھراؤ۔ میں نے جب سگریٹ کا ایک گہرا کش کھینچا تو ترتیب یاد نہ رہی اور آج تک بھی سمجھ نہیں آتا کہ اگلی باری کس کی ہے چسکی کی یا کش کی۔ ایک عجیب بے اعتمادی نے جڑ پکڑ لی۔ اس لئے اب بھی جب سگریٹ پیؤں تو سگریٹ کپکپاتی ہے، اور چائے پیؤں تو پیالی تھرتھرانے لگتی ہے۔ یہ تو کئی سال بعد نیئر مصطفیٰ کے منہ سے سگریٹ کی بے حرمتی ہوتی دیکھی تو میرا بھی اعتماد بحال ہوا لیکن اب ہاتھ کثرتِ سگریٹ نوشی سے ویسے ہی کانپتے ہیں۔

ایم اے کے دوران شاہ جی کا اساتذہ اور کلاس فیلوز کو سلام کرنے کا انداز بڑا ہی مؤدبانہ تھا، نظر پڑتے ہی جھک کر اصحاب کے گھٹنوں کو اچھی طرح چھوتے اور پھر ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو جاتے۔ گندھارا اور وادیٔ سندھ کی تہذیبی اقدار میں شاید ان کی کوئی معنویت ہو لیکن اکیسویں صدی کے اس ملتانی پس منظر میں یوں گماں ہوتا جیسے سامنے والا اولادِ نرینہ کا مرتکب ہوا ہے اور شاہ جی ختنہ سازی کی صنعت سے وابستہ ہیں۔ لیکن یہ زمانہ طالبعلمی کی باتیں تھیں، اب شاہ جی ایک محنتی اور قابل استاد ہیں، کسی بھی کلاس کو پڑھانے میں عار محسوس نہیں کرتے، البتہ علمِ نافع کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک علمِ نافع وہی علم ہے جو ٹیوشن فیس کی مد میں نفع بخش ہو۔ شاہ جی بڑے ہی ٹیکنیکل آدمی ہیں انہیں یہ بہت جلد معلوم ہو گیا کہ حضرت مبشر مہدی کی طرح مارک ٹوین کے ناول پڑھ کر سرد راتوں میں موٹر سائیکل پر گھومنے سے کہیں بہتر ہے کہ ورکنگ نالج کے زور پر گاڑی پہ سفر کیا جائے۔

ایک عرصہ تک شاہ جی کا یہ طریق رہا کہ کہیں سے بھی کچھ خریدتے تو بدترین حد تک رعایت ضرور طلب کرتے۔ سیلز مین سے اس کا نام، پتا، سکونت، ولدیت، زبان، قومیت، تنخواہ غرض کہ سونے جاگنے کے اوقات تک معلوم کرتے۔ پھر اسے کہتے اگر یہاں ایک اور سیلز مین کی ضرورت ہو تو مجھے کام پر لگوا دو ۔ جب اس سے اس درجہ بے تکلفّی پیدا کر لیتے تو آخری حد تک رعایت طلب کرتے۔ یہاں تک کہ وہ سیلز مین اپنے مالک کی نمک حرامی پر اتر کر ممکن الوجود رعایت کر چکتا تو کاؤنٹر پر بیٹھے دکان کے مالک کا اسی زاویے پر روزمرہ درست کرتے۔ یوں سمجھئیے شاہ جی کو مطلوبہ چیز مفت پڑتی۔

شاہ جی اعلیٰ شاپنگ کرنے کے بھی تمام رموز جانتے تھے۔ حسین آگاہی بازار کی لنڈا مارکیٹ زمانہ طالبعلمی میں ہم سب دوستوں کا نقطٰؑہ اتصال تھا سوائے عدنان صہیب کے۔ وہ کہا کرتا تھا کی میری نانی کہتی ہے لوگوں کو بے شک پتہ نہ چلے کہ یہ کوٹ یا جرسی لنڈے کی ہے مگر تم تو حقیقت جانتے ہو، اس لئے خوداعتمادی نہیں آتی۔ مگر شاہ جی میں خود اعتمادی کوٹ کوٹ بھری ہوئی تھی۔ ابھی کل ہی کی بات ہے یونی ورسٹی روڈ پر مل گئے۔ اپنی نئی ماڈل کی وٹز گاڑی سے اتر رہے تھے مجھے دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔

گلے لگ کر ملے تو میں نے شکوہ کیا کہ شاہ جی اب تو آپ کے دن پھر گئے ہیں اب تو آپ وہ مارکیٹ چھوڑ دیں۔ شاہ جی کے لب تھرتھرائے، پلکوں جھپکیں اور آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ کہنے لگے جب دھنوٹ سے چلے تھے تو قرض داروں نے ہمارے مکان کے دروازے پر اپنے اپنے حصے کا تالا ڈال دیا تھا۔ بگے میاں کہتے تھے کہ آٹھ تالے تو انہوں نے اپنی گنہ گار آنکھوں سے خود گنے تھے۔ گھر کے ہر فرد کے پاس ایک ایک تسبیح اور کھیس کے سوا کچھ نہ تھا۔

جاڑے کے دن تھے ملتان میں تو سوتی کھیس سردی جذب کر کے الٹا بدن کے درجہ حرارت کو بھی ڈاؤن کر دیتا تھا۔ آج اوپر والے کا کرم ہے۔ مہمان خانے میں بھی بھاپ والے حمام ہیں۔ سردیوں کے آتے ہی میں اسی مارکیٹ سے ہر سال ایک کوٹ خریدتا ہوں۔ یہ کوٹ مجھے وہ آٹھ تالے بھولنے نہیں دیتا۔ اماں نے وہ کھیس بھی سنبھال کر رکھے ہیں۔ آپ کبھی تشریف لائیں ناں میرے غریب خانے۔ ہاں ضرور کبھی۔ یہ کہہ کر میں رخصت ہوا تو ذہن کا ملٹی میڈیا آن ہوا، اور بمبے ٹاکیز۔ ایک پرانا صندوق، چمڑے کا خستہ جوتا، پھٹے ہوئے میلے کپڑوں کا ایک جوڑا، اور صندوق پر جلی حروف میں لکھا تھا، ”قدرِ ایاز“ ۔ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اور ایک اونچے منچ پر شاہ جی شاندار تلفظ اور فرنگی آھنگ میں با آوازِ بلند کچھ پڑھ رہے تھے، جو جملے سمجھ آئے وہ کچھ یوں تھے۔

To-morrow, and to-morrow, and to-morrow
Creeps in this petty pace from day to day
…Life is but a walking shadow…
It is a tale told by an idiot, full of sound and fury

Facebook Comments HS