ایک تالہ اور چابی ہی مسئلے کا حل ہے!


دس سال پہلے پشاور میں بچوں کے سکول پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں نے جب پوری قوم کو دلگیر کیا تو اگلے چند روز کے اندر ہی اس وقت کی نواز حکومت نے اپنے بدترین مخالف عمران خان، ان کی حامی اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں اور ہر چھوٹی بڑی جماعت کے رہنماوں کو ایک چھت تلے جمع کر کے قومی اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کی اور اسی دن نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی گئی۔

نیشنل ایکشن پلان کیا تھا؟

اس اہم ترین پلان کو ملک و قوم کے تمام مسائل کا حل کہہ کر اس کے لئے انتہائی اہم نکات تیار کئے گئے اور لوگوں کو امید بندھ چلی کہ اگر اس پر عمل ہوگیا تو پاکستان دو بنیادی مسائل دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ دے گا۔

اس پلان کے تحت جہاں دہشت گردوں کو سزائیں دینے کے لئے خصوصی فوجی عدالتیں بنیں وہیں پر ہر قسم کی مسلح ملیشیا بنانے پر پابندی لگائی گئی۔ دہشت گردوں کو مالی مدد فراہم کرنے والے ہر راستے کو بند کرنے کی منظوری دی گئی اقلیتوں کو تحفظ دینے کے لئے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ ہوا۔ میڈیا میں دہشت گردوں کو کوریج دینے پر پابندی عائد کی گئی۔ فاٹا (موجودہ قبائلی اضلاع) میں اصلاحات کے ذریعے ایسے ماحول کو ختم کرنے کی منظوری دی گئی جس کا فائدہ دہشت گردوں کو ہو سکتا ہو۔ دہشت گردوں کے کمیونیکیشن نظام کو تباہ کرنے کا بھی فیصلہ اسی پلان کا حصہ تھا۔

اس پلان کے تحت باقی ملک کی طرح پنجاب میں بھی انتہا پسندی کو روکا جانا تھا، کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جانا تھا، بلوچستان میں سیاسی مفاہمت کو فروغ دینے کے لئے وہاں کی حکومت کو تمام فریقین کی جانب سے مکمل آزادی دی جانی تھی، فرقہ واریت کو ہوا دینے والوں کو انجام تک پہنچایا جانا تھا، پاکستان میں مقیم غیرقانونی افغانوں کو رجسٹر کرنے اور کچھ کو واپس افغانستان بھیجنے کے لئے جامع پالیسی بنائی جانی تھی۔

پلان کا نام بھی بہت اچھا تھا اور اس کے نکات بھی بڑے اعلی تھے اور اس پلان کے تشکیل دینے کی بنیاد میں پشاور کے آرمی پبلک سکول کے ایک سو پینتالیس شہدا کا خون بھی تھا اسی لئے اس سے بہت سی امیدیں وابستہ کی گئیں۔

اس پلان کے بعد ہی ضلع شمالی وزیرستان (سابقہ شمالی وزیرستان ایجنسی) میں دہشت گردوں کے پیر اکھاڑنے کے لئے آپریشن ضرب عصب کا آغاز کیا گیا جس کے نتیجے میں وہاں پر چھپے ہوئے زیادہ تر دہشت گرد افغانستان فرار ہو گئے یہ وہ وقت تھا جب افغانستان میں امریکہ اور اسکے اتحادی موجود تھے اور وہاں اشرف غنی کی حکومت تھی۔

دس سال بعد کیا صورتحال ہے؟

دس سال پہلے اس پلان کا آغاز ہوا تو اب تو یقینا اس کے کچھ بڑے ثمرات ملنے چاہیئے تھے اور یقینا بعض سیکٹرز میں ملے بھی ہونگے لیکن بعض شعبے ایسے ہیں جہاں پر معاملہ پہلے سے زیادہ دگرگوں ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ گذشتہ دو ڈھائی سالوں کے دوران اس سے زیادہ دہشت گرد واپس پاکستان میں آ کر بس چکے ہیں جتنے آپریشن ضرب عصب کے وقت بھاگنے پر مجبور ہوئے تھے اور اب وہ شمالی وزیرستان سے زیادہ تعداد میں دیگر اضلاع میں موجود ہیں۔

ان کی مالی مدد پہلے سے زیادہ جاری ہے پہلے انہیں اگر چندوں اور بیرونی فنڈنگ سے مدد ملتی تھی اب وہ پاکستان میں روزانہ اربوں روپے کی کمائی والے ایرانی پٹرول، منشیات و ٹائروں کے سمگلروں، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا کاروبار کرنے والوں، غیرقانونی تمباکو سے اربوں کمانے والوں، بجلی چوروں اور دیگر ناجائز ذرائع سے کمائی کرنے والوں کے مال میں حصہ دار ہیں اور یہ سب حرام کمانے والے اس لئے دہشت گردی میں اضافے کے لئے فنڈنگ کرتے ہیں تاکہ روزانہ اربوں روپے کمانے والوں کا راستہ صاف رہے۔

اس ساری روداد کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو یہ بتایا جا سکے کہ پاکستان میں روزانہ بارہ سے پندرہ روپے فی لیٹر سمگل ہونے والا ساٹھ لاکھ لیٹر ایرانی پٹرول سرکاری خزانے کو اسی کروڑ روپے روزانہ کا ٹیکہ لگاتا ہے اب اگر اس پٹرول کا روٹ کھلا رکھنے کے لئے اس میں کچھ کروڑ وہ دہشت گردی پر لگا دیں تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں۔ اسی فہرست میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں بھی ہیں، غیر قانونی تمباکو کا کاروبار بھی لوگوں کو اربوں پتی تو بنا رہا ہے لیکن قوم مسلسل دلدل میں پھنس رہی ہے، کراچی سے خیبر تک بجلی چوری کرنے والے ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کا روزانہ نقصان کروا رہے ہیں منشیات اور ٹائروں کی سمگلنگ کے اربوں روپے روزانہ ان کے علاوہ ہیں۔

اور اس سب سے زیادہ افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس سارے کھیل میں سرکاری، غیر سرکاری، فوجی، پولیس، کسٹم، ایکسائز، بارڈر فورسز، ایف آئی اے وغیرہ وغیرہ کون ایسا ہے جس کا نام تباہی کا باعث بننے والوں کی اس فہرست میں شامل نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کا نام تو صرف فیس سیونگ کے لئے استعمال ہو رہا ہے اصل دہشت گردی توان کو فنڈ فراہم کرنے والے سمگلر مافیا اور پاکستان کے اداروں اور اسمبلیوں میں ان کے بھیجے ہوئے لوگوں کے ہاتھوں ہو رہی ہے جو اس ملک کا نظام ہی ٹھیک نہیں کرنے دے رہے اور ملک اس حال تک پہنچ گیا ہے کہ ہزاروں نہیں دو لاکھ کمانے والا بھی اپنا گھر چلانے کے قابل نہیں رہا۔

Facebook Comments HS