بہتر برس کا نوجوان: ڈاکٹر خالد سہیل
آج نو جولائی انیس سو چوبیس ہے اور آج کے دن۔ ۔ ۔
مگر ٹھہریئے، آج پر بات کرنے سے پہلے اسّی کی دہائی کا ایک واقعہ سُن لیجیے۔
لاہور کے ہوٹل فلیٹیز کے کشادہ مرکزی ہال میں پاکستانی ثقافت پر ایک تقریب بپا تھی جس کی صدارت فیض احمد فیض صاحب کر رہے تھے۔ تقریب کے اختتام پر جب انھیں اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی تو انھوں نے اپنی گفت گو کا آغاز کرتے ہوئے جہاں اس تقریب میں شریک مقالہ نگاروں کی حوصلہ افزائی کی وہاں مسکرا کریہ اضافہ بھی کیا
جب مجھے یہاں بات کرنے کی دعوت دی گئی تو میں نے کہا کہ میری باتیں سُن کر آپ لوگ کیا کریں گے کہ ہمارے ہاں تو کوئی ساٹھ سے اوپر کا ہو جائے تو اسے سٹھیا جانے کا طعنہ دینے لگتے ہیں۔ اور ہم تو اب ”سترائے بترائے“ گئے ہیں۔ ہماری سُن کر کیا کریں گے۔
ان کی اس پُرلطف اور شگفتہ سماجی چوٹ پر ہال قہقہوں اور تالیوں سے گونج اُٹھا۔
یہ بات کوئی چالیس برس پرانی ہے۔ تب میری عُمر تئیس چوبیس برس رہی ہوگی۔
اب جب عالمِ خیال میں اُس تقریب کی تالیوں کی گونج دھیمی پڑتی ہیں تو نگاہ سامنے کُھلے کیلنڈر پر جا ٹھہرتی ہے۔
نو جولائی سن انیس سو چوبیس۔
اور آج کے دن مجھے عُرفِ عام میں ”سٹھیائے ہوئے“ دو سال سے اُوپر ہو چلے ہیں۔ اس سال اکتوبر میں میرے دامنِ عُمر میں تریسٹھویں گرہ لگے گی۔ ادھر ہمارے مہربان دانش ور دوست ڈاکٹر خالد سہیل آج بہتر برس کا ساحل عبور کر رہے ہیں ؛ عمرِ رواں کی سنہری لہروں کو ایک نظر پیچھے مُڑ کر دیکھتے ہوئے اور سامنے نئے امکانات کے دل کش اور بے کراں آفاق پر نگاہیں جمائے ہوئے، چہرے پر ”نمّی نِمّی“ مسکان سجائے ہوئے اور بہتّر کے عدد میں سات کو چار میں بدل کر بیالیس بناتے ہوئے۔ اپنے سال گرہ کے پیغام میں ڈاکٹر صاحب بظاہر ازرہِ تفنن اس کا ذکر کرتے ہیں :
”میں بہتّر برس کا ہو گیا ہوں مگر خود کو بیالیس کا محسوس کرتا ہوں ۔“
اور اس خوش خبری پر میری چشمِ تصور کے کسی شریر کونے میں جانے کہاں سے کتنی ہی دیکھی، ان دیکھی دُخترانِ خُوش گِل کے تمتماتے چہرے گھوم جاتے ہیں۔
تاہم اِس سطرِ تفنن سے ہٹ کر سنجیدگی سے ڈاکٹر صاحب کی زندگی یعنی اُن کی سماجی، علمی، پیشہ ورانہ اور تخلیقی سرگرمیوں کے تسلسل پر نگاہ ڈالیں تو اُن کے شب و روز کے کنارے ہمیں ایک خاص توانائی سے جگمگاتے دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی سال نہیں جاتا جب اچھوتے موضوعات پر ، نت نئے انداز و اسلوب کی حامل تصنیفات و تالیفات ہماری حیرتوں کے در پر دستک نہیں دیتیں اور پھر ویب سائٹ ”ہم سب“ پر اُن کے فکر انگیز کالم اور یہاں ٹورانٹو میں اُن کی ”فیملی آف دی ہارٹ“ کی تقریباتِ ملاقات ان سب پر مستزاد ہیں جن میں شرکت کی دعوت کے ذریعہ وہ ہم سے ”اُونگھتے“ ہووں کے سٹھیاپے کو بھی احساسِ زندگی کی ترنگوں کی جانب بلاتے رہتے ہیں۔ مگر ہم ہیں کہ
زمین جنبد نہ جنبد گُل محمد۔ گنگناتے ہوئے حال مست رہتے ہیں۔
آغازِ ہفتہ پر ہی اختتامِ ہفتہ (ویک اینڈ) کی دعائیں کرنے لگتے ہیں۔ گویا ہفتہ بعد ملنے والی چھٹی کا دن خوب یاد رکھتے ہیں مگر قابلِ رشک یادداشت کی خیر ہو کہ اپنا جنم دن ہر سال بھول جاتے ہیں۔ اب ڈاکٹر صاحب کی طرح ہمارا حلقہ اربابِ محبت اتنا وسیع نہیں کہ شرق و غرب سے آمدِ یومِ ولادت کا غلغلہ اٹھے۔ فیس بُک پر ننھی ننھی مبارک بادیوں کی لڑیاں کُھلنے لگیں اور ذرائع ابلاغ پر مفصل اور خصوصی مضامین اور بلاگ لکھے جائیں۔ یہ تو اہلِ خانہ ہیں جو غالباً کیک تناول کرنے کی آڑ میں سال گرہ کی رسم بھی نبھا دیتے ہیں۔ اور یوں یہ دن ایک سال کے لیے ”معطل“ ہوجاتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کا معاملہ ہم سے یکسر مختلف ہے۔ اُن کی دوستیوں اور محبتوں کا دائرہ قریب قریب لامتناہی ہے اور اس دائرہ میں ملک ملک اور نسل نسل کے لوگ شامل ہیں۔ عمر و صنف و رنگ و نسل کا کوئی امتیاز نہیں۔ ان کی سال گرہ منانے والوں میں لکھاری بھی شامل ہیں اور دانش ور بھی، فلسفی بھی اور فن کار بھی۔ یہ ان کی ملن سار طبیعت اور وسیع المشربی ہی کا کمال ہے کہ لوگ ان کی دعوت پر کشاں کشاں چلے آتے ہیں اور اس انسان دوست درویش سے ”سیکولر“ دعائیں حاصل کرتے ہیں۔
مجھے اس بار ان کی سال گرہ کے موقع پر ان کا ایک خصوصی انٹرویو کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ انٹرویو ہمارے ایک بہت مہربان سینئر شاعر دوست مرحوم قائم نقوی صاحب کے جاری کردہ ادبی جریدہ ”نمود“ کے لیے کیا گیا جو اپنی اگلی اشاعت میں ایک گوشہ ڈاکٹر صاحب کے لیے مختص کر رہا ہے۔
:میں نے گفت گو کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب سے پوچھ ہی لیا
: ڈاکٹر صاحب آپ کا شمار ان لکھاریوں میں ہوتا ہے جو مسلسل لکھ رہے ہیں اور متنوع اصناف میں لکھ رہے ہیں۔ اس سفر میں کہیں تکان دکھائی نہیں دیتی؟ تو وہ کیا ہے جو آپ کو سدا تحریک دیتا رہتا ہے، یوں موٹیویٹڈ رکھتا ہے؟
تو کہنے لگے : ”میں نوجوانی سے اپنے سچ کی تلاش میں ہوں اور زندگی کے خفیہ راز جاننا چاہتا ہوں۔
میں ایک طالبعلم ہوں اور کچھ سیکھنا چاہتا ہوں اور جو سچ پا لوں جو راز جان لوں اس میں دوسروں کو شریک کرنا چاہتا ہوں۔
میں ایک ایسا ادبی کچھوا ہوں جو دھیرے دھیرے اپنی منزل کی طرف چل رہا ہے۔ مجھے راستے میں کئی ادبی خرگوش ملے جو کچھ عرصہ بعد یا تو سو گئے اور یا تھک گئے۔ میں بہتر برس میں بہتر کتابیں لکھنے کے بعد آج بھی نئے خیالات نئے نظریات اور نئے تجربات کی تلاش میں ہوں۔ میرے اندر کا بچہ ابھی زندہ ہے جو زندگی کو حیرت سے دیکھتا ہے۔ یہ حیرت ہی میری زندگی اور ادب اور نفسیات اور فلسفے سے محبت کا راز ہے۔
:میں نے پوچھا کہ انسانوں کی طرح آپ اصنافِ سخن میں بھی بھید بھاؤ روا نہیں رکھتے۔ مختلف اصناف میں رغبت سے لکھتے ہیں۔ ہر سال آپ کی دو تین کتابیں تو ضرور آجاتی ہیں۔ اس تخلیقی توانائی کا سرچشمہ و راز کیا ہے؟ تو بولے
”یہ سب کمال میری محبوباؤں کا ہے۔“
:میں نے کہا
”محبوباؤں کا ؟“
:تو مسکرا کر بولے
یہ حقیقت ہے۔ چلیے آج آپ کو یہ راز بھی بتائے دیتا ہوں۔ زندگی کے مختلف ادوار میں میری مختلف ادبی محبوبائیں رہی ہیں ”
ایک محبوبہ شاعری ہے
دوسری محبوبہ افسانہ نگاری ہے
تیسری محبوبہ ناول نگاری ہے
چوتھی محبوبہ خطوط نگاری ہے
پانچویں محبوبہ ترجمہ نگاری ہے
چھٹی محبوبہ انٹرویو نگاری ہے
آج کل ساتویں محبوبہ سے عشق چل رہا ہے جو کالم نگاری ہے۔
ساتویں محبوبہ کے ساتھ زیادہ وقت گزرتا ہے۔ کبھی کبھار پرانی محبوبائیں بھی رشک میں ملنے آ جاتی ہے لیکن کم کم کیونکہ اکثر اوقات وہ حسد کی آگ میں جلتی رہتی ہیں اور میں بھی تجاہل عارفانہ سے کام لیتا ہوں۔ میرا ایک شعر ہے
مجھ کو اکثر یہ گماں ہوتا ہے
”میرے پہلو میں بہت سے دل ہیں
ڈاکٹر صاحب یہ شعر سنا رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا۔ ’بہت سے‘ کتنے ہوں گے؟ شاید ہزاروں۔ کیا ویسے ہی ہزاروں جیسے بہادر شاہ ظفر کے لیے غالب نے ہزاروں دنوں کی بات کی تھی
:اور جس سے اختلاف کرتے ہوئے شوکت تھانوی صاحب نے اپنے مضمون ”اتوار“ میں لکھا تھا
اگر بجائے بہادر شاہ ظفر کے آپ کے جناب غالب صاحب قبلہ ہم کو یہ دعا دیتے ہیں کہ
تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
تو ہم ان سے کہتے کہ قبلہ عالم یہ دعا آپ ہی کو مبارک رہے۔
لگتا ہے شوکت تھانوی صاحب بھی طویل کے بجائے صحت مند اور توانا زندگی کے خواہاں تھے۔ اور ہمارے ڈاکٹر صاحب بھی اپنی بہترویں سال گرہ پر صحت مند اور چوکس دکھائی دیے۔
انھیں یوں ہشاش بشاش دیکھ کر میں رشک سے سوچتا رہ گیا کہ ”سترائے بترائے“ لوگ ایسے ہوتے ہیں کیا؟
یہ تو بہتر برس کے نوجوان ہیں۔



