خاتون کا جسم شوہر کی مرضی


مردوں کی برتری یا اجارہ داری کے اس منافق سماج میں مردوں کو کھلی چھٹی ہے کہ وہ خاتون کے ساتھ جو سلوک بھی روا رکھنا چاہیں رکھ سکتے ہیں، کوئی قدغن یا رکاوٹ نہیں ہے۔ کھڑے کھڑے طلاق کا حکم سنا دیں کوئی پوچھنے والا نہیں، خاتون میں بدچلنی کی جھلک دکھ جائے سزا کے طور پر جو بھی سلوک کرنا چاہے کر سکتا ہے کوئی سوال کرنے والا نہیں۔ حتی کہ طبیعت کی ناسازی یا تھکاوٹ کی وجہ سے خاتون اپنے مرد کے ساتھ نا سونا چاہے تب بھی وہی گنہگار ٹھہرتی ہے۔

اسے نا کہنے کا کوئی حق ہی نہیں ہے، وہ تو پیدا ہی مرد کو لبھانے اور اس کی جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے ہوئی ہے۔

اسی لیے تو نا صرف اسے اپنی پاکیزگی کو سلامت رکھنا ہوتا ہے بلکہ اپنے مرد کی غیرت کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہوتا ہے۔

مرد تو مجسمہ سیرت اور باکردار ہوتے ہیں لیکن ایک خاتون کو یہ سب ثابت کرنا پڑتا ہے۔

فطرت نے شاید اسے پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ اسے ہر حال میں اپنے ”گارڈیننز“ جو وقتاً فوقتاً بدلتے رہتے ہیں کا حکم بجا لاتے رہنا ہوتا ہے، اس فرض میں کوتاہی کا خمیازہ جو ایک خاتون کو بھگتنا پڑتا ہے وہ سماج میں اس پر ہونے والے ظلم اور تشدد کی کہانیوں کی صورت میں بکھرے پڑے ہیں۔

مرد نے خاتون کی پاک دامنی یا کردار کی پاکیزگی کو ماپنے کے پیمانے تو گھڑ لیے ہیں لیکن خود پر چیک اینڈ بیلنس کا کوئی نظام وضع نہیں کر پایا۔

ہمیشہ مرد نے غیرت کے نام پر اور اپنی جھوٹی انا کی تسکین یا بھرم کو برقرار رکھنے کے لیے خاتون پر تشدد کیا ہے بلکہ کئی تو جان سے ہی مار ڈالتے ہیں۔ کیا کبھی کسی خاتون نے مرد کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا؟

کیا مرد دودھ کے دھلے ہوتے ہیں یا گناہ و غلطی پروف ہوتے ہیں؟ بلکہ اگر برا نا لگے تو یہ کہنا تو بنتا ہے کہ ایک مرد کو اچھے سے ایک خاتون کے سوا بھلا کون جان سکتا ہے؟

اسے سب پتا ہوتا ہے، بس اسے اپنے خاندان اور بچوں کی فکر لاحق رہتی ہے جسے بچانے اور تحفظ دینے کے لیے نجانے اسے کتنے اذیت ناک مراحل سے گزرنا پڑتا ہے؟

گیس لائٹنگ کا عمل تو اس منافق سماج کا طرہ امتیاز ہے، جو شادی سے پہلے تو ہوتا ہی ہے لیکن شادی کے بعد اس عمل کی شدت اور حدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

معروف اینکر عائشہ جہانزیب کے ساتھ جو ہوا ہے وہ گیس لائٹنگ کی ہی ایک مثال ہے۔ مطلب خاتون کا اس قدر نفسیاتی و جسمانی استحصال کرو کہ وہ اف تک نہ کرے، اپنی اوقات اور حد میں رہے، اینکر بن کر یا کسی اعلیٰ عہدے پر پہنچ کر بھی اسے پتا ہو کہ مرد ہی حاکم ہوتا ہے اور وہی حق پر ہوتا ہے۔

وہ جو چاہے کر سکتا ہے اور اس نے کر بھی دیا، جو اس نے اپنی مردانگی کے زعم میں کیا ہے وہ سب عائشہ کے جسم اور چہرے پر نقش ہے، جس کی تصاویر انہوں نے سوشل میڈیا پر شیئر بھی کی ہیں۔

روح اور ذہن پر کتنے انمٹ نقوش ثبت ہو چکے ہیں کون جانے؟

روح کے زخموں اور اندرونی تباہ کاریوں کو ماپنے کا شاید پیمانہ ہی معرض وجود میں نہیں آیا، جو یہ بتا سکے کہ سامنے والا انسان اندر سے کس قدر چھلنی ہو چکا ہے، جسم پر لگے زخم تو بھر جاتے ہیں لیکن من کے زخموں کا مداوا کون کرے؟

جسے مداوا کرنا ہوتا ہے وہ تو خود کہیں باہر اٹکا ہوتا ہے۔

ایک انٹرویو کے مطابق عائشہ جہانزیب کا کہنا ہے کہ میرا شوہر کئی بار مجھے زد و کوب کر چکا ہے اور میں نے ہر بار یہ سوچ کر کمپرومائز کی راہ اختیار کی کہ شاید وہ سلجھ جائے۔

عائشہ کے مطابق اس کا جرم بس اتنا سا ہے کہ انہوں نے اپنے شوہر سے اس کے خفیہ نکاح کے متعلق پوچھ لیا تھا، جس کا خمیازہ اسے اس حالت میں بھگتنا پڑا ہے اور ایسا ایک بار نہیں کئی بار ہو چکا ہے۔

کیا کسی خاتون پر ہاتھ اٹھانا مردانگی کہلاتا ہے؟

اگر کسی رشتے کے بیچ کوئی شک یا بداعتمادی کا بیج پنپ رہا ہو جو اس بندھن کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہو تو اس الجھن کو سلجھانے میں کیا حرج ہے؟

بس شرط یہ ہے کہ اس عمل کی شروعات خاتون سے نا ہو بلکہ اسے تو سوال کرنا ہی نہیں چاہیے وضاحت یا تصدیق تو بہت دور کی بات ہے۔

وہاں تک کہانی تو کوئی بھی مرد کبھی پہنچنے ہی نہیں دیتا۔

کیسا منافق سماج ہے جسے اپنی رفیق حیات کے کریکٹر کی تو بہت فکر لاحق رہتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کا پارٹنر اس کے ساتھ مخلص رہے اور کسی دوسرے مرد سے اپنا بستر شیئر نہ کرے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ غیرت اس وقت کہاں دفن ہو جاتی ہے جب ایک مرد خفیہ طور پر نجانے کتنوں کے ساتھ اپنی راتیں رنگین کرتا ہے اور گھر میں اپنی خاتون پر غیرت کے کوڑے برساتا رہتا ہے؟

کیا رشتے کے تقدس یا پاکیزگی کو برقرار رکھنے کا ٹھیکہ صرف خاتون نے اٹھا رکھا ہے یا مرد کی بھی کوئی ذمہ داری ہوتی ہے؟ حالانکہ سماج کی ہر خاتون کو بڑے اچھے سے پتا ہوتا ہے کہ اس کا شوہر کتنا مرد ہے؟

بس وہ زبان نہیں کھولتی ورنہ تو وہ چند سیکنڈ میں مرد کی مردانگی کو ادھیڑ کے رکھ سکتی ہے۔

عورت مارچ پر ہمارے سماجی غیرت بریگیڈ کو خواتین کے اس قسم کے نعروں پر بہت اعتراض ہوتا ہے۔

میرا جسم میری مرضی۔
اپنا کھانا خود گرم کرو۔
اپنا بستر خود گرم کرو۔

یہ ایک رد عمل ہے اس سماجی جبر اور پابندیوں کا جو اس منافق سماج نے غیرت کے نام پر نجانے کب سے خواتین پر عائد کر رکھی ہیں۔

ہمارے سماجی جوکروں کے نزدیک تو 95 پرسنٹ خواتین جاہل اور اجڈ ہیں لیکن یہ کبھی نہیں بتاتے کہ انہیں جاہل کس نے رکھا ہوا ہے؟

 

Facebook Comments HS

One thought on “خاتون کا جسم شوہر کی مرضی

  • 15/07/2024 at 2:07 صبح
    Permalink

    تریا چلتر ایک پوری نفسیاتی دنیا ہے۔ جس سے عزت دار مردوں کو ڈرنا چاہئے۔
    می ٹو اور خواتین کے حقوق کے لئے آوازیں اٹھنے کے بعد اب حال یہ ہے مردوں کو ڈر ڈر کر رہنا چاہئے
    کون جانے کب کوئی آپ پر انگلی اٹھادے ۔
    عائشہ جہانزیب ہوں یا 14 اگست کو مینار پاکستان پر ٹک تاکر نے جو ڈرامہ کیا اور متعدد خواتین جو دوسروں پر ہراسگی اور زیادتی کا الزام لگادیں ضروری نہیں تحقیقات مکمل ہونے کا انتطار کونا چاہئے اور دوسری پارٹی کا مکمل بیان بھی سامنے رکھنا چاہئے۔ کیونکہ معاملہ کبھی بھی پلٹ سکتا ہے۔ اور حقیقت کچھ اور بھی ہوسکتی ہے۔

Comments are closed.