جنت کا ایک پلاٹ (مکمل کالم)


مراکش سے لندن کی پرواز قدرے تاخیر سے روانہ ہوئی، جہاز کے کپتان نے اس کے لیے معذرت بھی کی جسے سن کر یوں لگا جیسے وہ لطیفہ سنا رہا ہو، بعد میں پتا چلا کہ وہ واقعی لطیفہ تھا۔ ہوائی جہاز میں کیے جانے والے اعلانات ایسے ہی ہوتے ہیں، کچھ سمجھ نہیں آتی کہ کپتان کیا کہہ رہا ہے، نہ جانے یہ مائک کو منہ کے بالکل ساتھ لگا کر کیوں بولتے ہیں۔ لندن اترے تو احسان شاہد نے مشورہ دیا کہ میں اپنی ٹکٹ دوبارہ ذرا دھیان سے دیکھ لوں، میں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ آپ کی پرواز مانچسٹر سے کیلگری کی ہے جو پیرس سے ہو کر جائے گی لہذا اس کے لیے آپ کو شینجن ٹرانزٹ ویزا درکار ہو گا۔ میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ احسان شاہد دنیا کے سو سے زائد ممالک گھوم چکے ہیں اِس لیے اُن کی بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ائر فرانس کی ویب سائٹ دیکھی تو وہاں بھی یہی لکھا تھا کہ اگر مسافر کا تعلق پاکستان جیسے کسی ملک سے ہو اور چاہے اس نے ہوائی اڈے کے اندر ہی کیوں نہ رہنا ہو، اس صورت میں بھی ویزا درکار ہو گا۔ لیکن جلدی میں یہ پڑھنا بھول گیا کہ اگر مسافر کے پاس امریکہ یا کینیڈا کا ویزا ہو تو پھر شینجن ٹرانزٹ ویزے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ احسان شاہد اپنی جگہ ٹھیک تھے کیونکہ ماضی میں لوگ کسی غیر شنجن ملک سے ٹکٹ بنوا کر ٹرانزٹ یورپ سے رکھ لیتے تھے اور پھر یورپی ہوائی اڈے پر اتر کر سیاسی پناہ کی درخواست دے دیتے تھے، اس چکر کو روکنے کے لیے شینجن ٹرانزٹ ویزا لازمی کیا گیا۔

لندن سے آگے مانچسٹر جانا تھا مگر ہم ڈربی سے ہوتے ہوئے گئے، مقصد اپنے مرشد اور مربی عارف وقار سے ملاقات تھی۔ ڈربی ایک چھوٹا سا قصبہ نما شہر ہے، مگر برطانیہ کے ہر شہر کی طرح یہاں بھی تمام سہولتیں دستیاب ہیں۔ عارف صاحب کی خواہش تھی کہ ہم ان کے ساتھ کسی ترک ریستوران میں کھانا کھاتے مگر میری نام نہاد ڈائٹنگ رکاوٹ بن گئی۔ ویسے سفر میں ڈائٹنگ کی کوشش کرنا کار لاحاصل ہی ہوتا ہے، ہر کھانے کے بعد عہد کرتا ہوں کہ اب روزِ ابر و شب ِ مہتاب میں کھاؤں گا مگر مصیبت یہ ہے کہ ولایت میں روزِ ابر و شب ِ مہتاب ہی رہتا ہے۔ لیکن پہلے کچھ بات ڈربی کی ہو جائے۔ سچ پوچھیں تو حاصل سفر ڈربی میں عارف وقار سے ملاقات تھی۔ عارف صاحب جیسے بندے اب دو چار ہی رہ گئے ہیں، آپ ماہر لسانیات ہیں، استاد ہیں، لکھاری ہیں، ہدایتکار ہیں، دبئی چلو ڈرامہ انہی کی تخلیق تھا، آپ نے وائس آف امریکہ اور بی بی سی میں کئی دہائیوں تک کام کیا، اس کے علاوہ آپ فلم اور موسیقی کے نقاد ہیں اور عالمی ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ میں نے عارف صاحب جیسا عالم فاضل شخص کم ہی دیکھا ہے جو اس قدر منکسر المزاج ہو کہ محفل میں بیٹھے تو خاموشی سے دوسروں کی گفتگو سنتا رہے اور کبھی یہ نہ کہے کہ ٹھہریے صاحب میں نے یہ بات پڑھی ہے، میں جانتا ہوں، میں آپ کو بتاتا ہوں! کووڈ کے دنوں میں عارف صاحب نے مجھے دیوان غالب اور ہیر وارث شاہ کی مکمل شرح ”وٹس ایپ“ پر پڑھائی۔ ہفتے میں تین دن اس کام کے لیے مختص تھے اور عارف صاحب ایسی دلجمعی سے یہ سیشن لیتے تھے کہ وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا تھا۔ میری خواہش تھی کہ کسی دن میں ڈربی کی وہ ”یونیورسٹی“ دیکھوں جہاں بیٹھ کر عارف صاحب مجھے فون پر غالب اور وارث شاہ کے بارے میں درس دیتے تھے، خداکا کام دیکھیں، میری یہ خواہش گزشتہ ہفتے پوری ہو گئی جب میں عارف صاحب کو ڈربی میں ان کے مکان میں ملا۔ یہ ایک ایسا ناقابل بیان تجربہ تھا کہ میرے جیسا بندہ بھی جذباتی ہو گیا۔ احسان شاہد نے وہاں عارف صاحب کو اپنی غزل بھی سنائی جس کا ایک شعر دل کو چھونے والا ہے کہ ”اب اگر لوٹ کے آؤ بھی تو میں جانتا ہوں، پہلے جیسی مری حالت نہیں ہونے والی۔“

مانچسٹر پہنچے تو شام کے پانچ بج رہے تھے۔ یہ شہر لندن سے بالکل مختلف ہے، گزشتہ چند برسوں میں برطانیہ کی بڑی کمپنیوں اور ٹی وی چینلز نے اپنے دفاتر لندن سے مانچسٹر منتقل کیے ہیں اور اِس کی وجہ لندن کی مہنگائی ہے۔ بی بی سی کا صدر دفتر بھی اب مانچسٹر میں ہے۔ لندن کی طرح یہاں پارکنگ کا عذاب بھی نہیں ہے، چونکہ آبادی کم ہے اور یہ کوئی سیاحتی مقام بھی نہیں، اِس لیے یہاں رش کم ہوتا ہے۔ شہر میں جا بجا نئی عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں جن میں دفاتر اور رہائشی اپارٹمنٹس بنائے جا رہے ہیں۔ یہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد آباد ہے اور یوں لگتا ہے کہ ایک دن یہاں سے گورے نکل جائیں گے اور صرف پاکستانی رہ جائیں گے۔ ہمارے میزبان محمود اصغر چوہدری، جو کہ منفرد لکھاری اور سفر نامہ نگار ہیں، نے بتایا کہ یہاں 2017 میں بم دھماکہ ہوا جس میں بچوں سمیت 22 افراد جان بحق ہوئے۔ اُس موقع پر پاکستانیوں نے بہت کام کیا، زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر نوجوان بچے بچیاں تھیں، کسی کے پاس نہ کوئی فون تھا نہ پیسے، انہیں پاکستانیوں نے اپنی ٹیکسی میں فوراً اسپتال پہنچایا، اسپتال میں بھی پاکستانی ڈاکٹرز موجود تھے جنہوں نے تندہی سے اُن کا علاج کیا۔ اِس واقعے کے بعد یہاں پاکستانیوں کا تاثر بہت بہتر ہوا۔ محمود اصغر چوہدری کئی برس تک اٹلی میں بھی رہے ہیں جہاں وہ اطالوی حکومت کی امیگریشن کے معاملات میں معاونت کرتے تھے۔ یورپ اور برطانیہ کے امیگریشن قوانین انہیں ازبر ہیں، اٹلی میں انہوں نے سینکڑوں تارکین وطن افراد کی امیگریشن میں مدد کی جن میں پاکستان کے علاوہ کئی پسماندہ ممالک کے لوگ شامل تھے۔ پھر انہوں نے اٹلی سے ہجرت کی اور برطانیہ آ کر بس گئے۔ اُن کا کہنا ہے کہ لوگ خواہ مخواہ غیر قانونی طریقے سے یورپ اور برطانیہ آنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ اِن ممالک میں اگر آپ قانونی طریقے سے آئیں اور باقاعدہ اجازت لے کر کام کریں تو یہاں مواقع اتنے زیادہ ہیں کہ بندہ حیران ہوجاتا ہے کہ کیسے اِن ممالک کی حکومتیں اپنے شہریوں کے ساتھ واقعی ماں کی طرح برتاؤ کرتی ہیں۔

مانچسٹر سے دو گھنٹے کی مسافت پر لیک ڈسٹرکٹ ہے جو برطانیہ کے بہترین سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ پورا علاقہ ایک جھیل کے کنارے آباد ہے، جھیل کیا ہے گویا سمندر ہے، تا حد نگاہ پانی ہی پانی نظر آتا ہے۔ جھیل کے چاروں جانب خوبصورت مکانات اور ریستوران ہیں، امرا نے اپنے محل بھی تعمیر کر رکھے ہیں، سینکڑوں کشتیاں بھی جھیل میں کھڑی نظر آتی ہیں۔ ہم نے بھی ایک کشتی میں جھیل کا چکر لگایا، کپتان نے بتایا کہ ہر سال یہاں پانچ ہزار نئی کشتیاں رجسٹر ہوتی ہیں، اِس سے اندازہ لگائیں کہ یہاں سیاحت اور امارت کا کیاحجم ہو گا۔ وجہ اِس کی وہی ہے کہ جھیل کی قدرتی خوبصورتی کے علاوہ یہاں کی آبادی نے بھی اِس جگہ کو پُرکشش بنانے میں اپنا حصہ ڈالا ہے، ایسا نہیں ہے کہ لوگ یہاں صرف پکوڑے تل کر بیچ رہے ہیں بلکہ جھیل کے ارد گرد پورے علاقے میں جا بجا چھوٹی چھوٹی دکانیں اور صاف ستھرے ہوٹل ہیں، خواہ مخواہ بندے کا دل کرتا ہے کہ یہاں کی ”مال روڈ“ پر واک کی جائے۔ جیسے پوسٹ کارڈ پر کسی خوبصورت علاقے کی تصویر ہوتی ہے جو چاروں طرف سے چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے درمیان گھرا ہوتا ہے اور درمیان میں جھیل ہوتی ہے، یہ علاقہ اُس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت ہے، یوں لگتا ہے کہ جیسے مالک کائنات نے اپنی جنت کا ایک پلاٹ لیک ڈسٹرکٹ میں بھی رکھا ہوا ہے۔ ہم جتنی دیر یہاں رہے، اِس منظر کو دیکھ کر مبہوت ہوتے رہے۔ گو کہ مطلع صاف نہیں تھا اور ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی مگر اِس کے باوجود جھیل کا نظارہ ایسا تھا کہ ہم گھنٹوں بارش میں کھڑے ہو سکتے تھے۔ فضا میں مچھلی کے تلنے کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی، فِش اینڈ چپس ویسے بھی انگریزوں کی مرغوب غذا ہے، لیکن ہم ہوٹل سے بھرپور ناشتہ کر کے نکلے تھے اِس لیے صرف آئس کریم کھانے پر اکتفا کی۔ بقول مشتاق یوسفی ”آئس کریم قلب کو ٹھنڈک پہنچاتی اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتی ہے بشرطیکہ مقدار قلیل نہ ہو۔“ ہم نے لیک ڈسٹرکٹ کا منظر اپنی آنکھوں میں سمیٹنے کی کوشش کی مگر دو آنکھوں سے بندہ کیا کیا دیکھے، یہی سوچتے ہوئے ہم وہاں سے روانہ ہو گئے کہ اگر یہ دنیا ہے تو جنت کیا ہوگی!

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada