’مائیکرو سافٹ نے اِن فلسطینیوں کی ڈیجیٹل زندگیاں ختم کر دیں جنھوں نے غزہ میں اپنے پیاروں کو کال ملائی‘


Getty Images
مائیکروسافٹ نے سکائپ کے ذریعے غزہ میں اپنے گھر والوں سے فون پر بات کرنے والے فلسطینیوں کے ای میل بِنا کسی وارننگ کے بند کر دیے ہیں جس سے ان کی ڈیجیٹل زندگیاں ختم ہو گئی ہیں۔

بی بی سی نے ملک سے باہر رہنے والے ایسے 20 فلسطینیوں سے بات کی ہے جن کا کہنا ہے کہ وائس اور ویڈیو چیٹ ایپ کی مالک کمپنح مائیکروسافٹ نے انھیں ان کے اکاؤنٹس سے لاگ آؤٹ کر دیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ متاثرین کی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔

کئی افراد کے ای میل اکاؤنٹس 15 سال سے زیادہ پرانے ہیں اور صارفین کے پاس ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے جس کے ذریعے وہ پرانی ای میلز، رابطوں کی تفصیلات یا یادوں کو ہی نکال کر کہیں محفوظ کر سکیں۔

مائیکرو سافٹ کا کہنا ہے کہ ان افراد نے ان کی سروس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔ تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائیں اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ حتمی ہے۔

غزہ سے تعلق رکھنے والے ان افراد کا کہنا ہے کہ ان کا حماس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یاد رہے امریکہ سمیت کچھ مغربی ممالک نے حماس کو دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کیا ہے اور مائیکروسافٹ کا ہیڈکوارٹر بھی امریکہ میں ہی ہے۔

غزہ سے تعلق رکھنے والے ان افراد نے دنیا کی سب سے اہم ٹیکنالوجی کمپنی پر ان سے تعصب برتنے کا الزام عائد کیا ہے۔

BBC

صلاح السادی ملازمت کی آفرز سے محروم ہو گئے ہیں اور اب وہ اپنے بینک اکاؤنٹس تک بھی رسائی حاصل نہیں کر پا رہے

فلسطینیوں کی ڈیجیٹل زندگیاں ختم کرنے کا الزام

صلاح السادی امریکہ میں مقیم ہیں اور بیرون ملک رہنے والے بہت سے فلسطینیوں کی طرح وہ بھی غزہ میں اپنی بیوی، بچوں اور والدین کو ان کے موبائل فون پر کال کرنے کے لیے سکائپ کا استعمال کر رہے تھے۔

اسرائیلی فوجی مہم کی وجہ سے انٹرنیٹ اکثر منقطع یا بند رہتا ہے اور بیرونِ ملک کالیں بہت مہنگی ہیں۔

سکائپ کی پیسوں والی سبسکرپشن کا استعمال کرتے ہوئے غزہ میں موبائل پر کال کرنا ممکن اور سستا پڑتا ہے۔ اور انٹرنیٹ کی بندش کی صورت میں یہ سروس بہت سے فلسطینیوں کے لیے لائف لائن بن گئی ہے۔

لیکن اپریل میں دوسروں کی طرح السادی کو بھی ان کے اکاؤنٹ سے نکال دیا گیا اور ان کے مائیکروسافٹ ہاٹ میل اکاؤنٹ سے منسلک تمام سروسز بھی ختم کر دی گئیں۔

وہ ملازمت کی آفرز سے محروم ہو گئے ہیں اور اب وہ اپنے بینک اکاؤنٹس تک بھی رسائی حاصل نہیں کر پا رہے جو ان کے ہاٹ میل اکاؤنٹ سے منسلک ہیں۔

اسادی کہتے ہیں کہ ’میں یہ ہاٹ میل اکاؤنٹ 15 سال سے استعمال کر رہا ہوں۔‘

’انھوں نے بغیر کسی وجہ کے مجھ پر یہ کہہ کر پابندی لگا دی کہ میں نے ان کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے‘ وہ پوچھتے ہیں ’مجھے بتائیں کون سی شرائط؟‘

’میں نے تقریباً 50 فارم بھرے ہیں اور انھیں کئی مرتبہ فون کیا ہے۔‘

کئی دوسرے افراد نے بھی سوشل میڈیا پر اسی طرح کے سلوک کی شکایت کی ہے۔

کچھ کو خدشہ ہے کہ ان پر حماس سے تعلق کا غلط الزام لگایا جا رہا ہے۔

غزہ

بیلجیم میں مقیم خالد عبید غزہ میں اپنی بیوی اور بچے سے بات کرنے کے لیے سکائپ کا استعمال کر رہے تھے۔

’مشتبہ سرگرمیاں‘

ایاد ہومیتو کا کہنا ہے کہ ’ہم عام شہری ہیں جن کا کوئی سیاسی پس منظر نہیں، ہم صرف اپنے گھر والوں کی خیریت پوچھنا چاہتے تھے۔‘

وہ سعودی عرب سے اپنے خاندان کو کال کر رہے تھے۔

’انھوں نے میرا وہ ای میل اکاؤنٹ بند کر دیا ہے جو میں تقریباً 20 سال سے استعمال کر رہا ہوں۔‘

’میرے سب کاموں میں یہی ای میل استعمال ہوتا تھا۔‘

’انھوں نے میری آن لائن زندگی ختم کر دی ہے۔‘

ان لوگوں پر حماس کا لیبل کیوں لگایا گیا ہے، مائیکرو سافٹ نے اس الزام کا براہ راست جواب نہیں دیا لیکن ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کال کرنے والے علاقے یا جس مقام پر وہ کال ملا رہے تھے اس کی بنیاد پر کالوں کو بلاک یا صارفین پر پابندی نہیں لگائی ہے۔

انھوں نے وضاحت کیے بغیر کہا کہ ’کسی مشتبہ سرگرمی کے شبے میں سکائپ میں بلاک کیا جا سکتا ہے‘ اور ایسی صورت میں صارفین اپیل کر سکتے ہیں۔

لیکن بی بی سی نے جن افراد سے بات کی، ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کئی بار اپیل کرنے کی کوشش کی ہے تاہم انھیں وہی رٹا رٹایا جواب مل رہا ہے۔

ایک صارف خالد عبید کا کہنا ہے کہ وہ مائیکروسافٹ پر اپنا اعتماد کھو چکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’میں اب ان پر بھروسہ نہیں کرتا۔‘

بیلجیم میں مقیم خالد عبید غزہ میں اپنی بیوی اور بچے سے بات کرنے کے لیے سکائپ کا استعمال کر رہے تھے۔

’میں نے فون کالز ککرنے کے لیے رقم ادا کی لیکن دس دن بعد انھوں نے بنا کسی وجہ کے مجھے بلاک کر دیا۔‘

’انھوں نے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔ اس کا یہی مطلب ہے کہ یہ اس لیے ہوا کیونکہ میں ایک فلسطینی ہوں جو غزہ کال کر رہا تھا۔‘

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp