افریقیات۔ 3
پہاڑی گوریلے اور ڈائیان فوسے
والکانو نیشنل پارک Volcanoes National Park پہاڑی گوریلوں کی افزائش اور پُر امن بقاء کے لئے مثالی جگہ تھی۔ اِس جگہ 1967 سے امریکی فطرت پسند ڈائیان فَوُسے نامی خاتون نے گوریلوں پر اپنا تحقیقی مرکز قائم کیا اور یہاں مسلسل 18 سال روزانہ اِن پر تحقیق کی۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے تیزی سے ختم ہوتی اُن کی نسل کو معدوم ہونے سے بچایا۔ اِس سلسلے میں اس خاتون نے بین الاقوامی سطح پر یہ مسئلہ اُٹھایا۔ ہمارے یونٹ کو بین الاقوامی شہرت کی حامِل ڈائیان فَوُسے، سے گوریلوں سے متعلق ان کی تحقیق پر بات چیت اور گوریلوں کی عکس/ صدا بندی کرنے کو کہا گیا۔
خاتون نے ہمارے یونٹ کو کوئی زیادہ وقت تو نہیں دیا لیکن میں نے پہلی مرتبہ کسی بین الاقوامی شخصیت کو قریب سے دیکھا۔ اُس وقت لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ، سیٹلائٹ فون وغیرہ کہاں تھے۔ اِس سب کے نہ ہونے کے باوجود وہ جنّات کی مانند اپنے صبح شام گزارتی تھیں۔ اِن کی سائنسی بنیادوں پر کی گئی تحقیق بعد میں آنے والوں کے لئے مشعلِ راہ بنی!
پہلے یہ تاثر تھا کہ پہاڑی گوریلے میدانی گوریلوں کے مقابلے میں قدرے چھوٹے قد کے ہوتے ہیں جن کا اوسط قد پانچ فٹ ہو تا ہے۔ ڈایئان فوسے کی تحقیق کے مطابق یہ قد میں چھ فٹ سے زیادہ ہیں۔ اُس بُلند مقام پر دھند اور بادلوں میں لپٹے پہاڑی جنگل میں خاکسار نے 10 فٹ کے فاصلے سے اِس جانور کو دیکھا۔ یونٹ کو بتلایا گیا کہ پہاڑی گوریلے شرمیلے اور تنگ نہ کرنے والے جانور ہیں۔ یہ گروپ میں کِس طرح سے رہتے ہیں، صبح شام کیسے بسر کرتے ہیں، یہ جاننے کے لئے ہمارا یونٹ ایک نسبتاً کم شرمیلے گروپ کی رضامندی سے نتھی ہو گیا۔ ہے تو بڑی عجیب سی بات! لیکن رضامندی اِن کے بڑے گوریلے کی حرکات اور اشاروں سے ظاہر ہو رہی تھی۔ یہ بات ہمیں ڈائیان فوسے نے بتلائی۔
ہم نے اِس گروپ کو غیر قانونی شکاریوں، تیندوے اور دوسرے گروپ کے گوریلوں کے ساتھ کسی قسم کی کشمکش میں مبتلا نہیں دیکھا، لیکن ہمیں بتایا گیا تھا کہ خطرہ کی صورت میں گروپ کا سردار گروپ کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان تک دے ڈالتا ہے۔ اِس خاتون نے پھر 1983 میں ایک کتاب۔ ”Gorillas in the Mist“ لکھی جِس میں سائنسی تحقیق کے ساتھ ساتھ اُس کی اپنی زندگی کی کہانی بھی تھی۔ فوسے کو 1985 میں اِسی کے کیمپ میں نامعلوم افراد نے قتل کر دیا۔ 1988 میں اِن کی کتاب پر فلم بھی بنائی گئی۔ ڈائیان فوسے کا کیس ابھی بند نہیں ہوا ہے۔
آنجہانی فوسے کے کیمپ اور قریبی بستی کے مقامی اِس خاتون کے بارے میں متضاد رائے رکھتے تھے جس کی ہمارے یونٹ نے عکس اور صدا بند کی اور یہ دستاویزی فلم نشر بھی ہوئی۔
لاہور چڑیا گھر کی ڈاکٹر ثمن بھٹی
ٹھیک ہے! ڈائیان فوسے نے اپنی پوری زندگی اِس کام میں لگا دی اور موت کے بعد بھی اِسی کیمپ میں دفن ہونا پسند کیا لیکن اُن کا ایک بین الاقوامی مقام اور نام تھا۔ روپے پیسے کی کوئی کمی نہیں تھی۔ ان کا کام صرف گوریلوں کی تحقیق تھا۔ خاکسار نے لاہور میں ایک نجی ٹیلی وژن چینل میں 2009 سے 2011 تک ذمہ دار عہدے پر کام کیا۔
اس دوران لاہور کے چڑیا گھر میں بچوں کے ایک پروگرام کے لئے میری وہاں ڈاکٹر ثمن بھٹی سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ہاتھی، ببر شیر، تیندوے، کالے ریچھ، چمپینزی اور چھوٹے بڑے جانوروں اور پرندوں کی ان سے عملاً محبت دیکھی۔ جی چاہتا ہے کہ ڈاکٹر ثمن بھٹی پر باقاعدہ مضمون لکھوں! بجائے اس کے کہ ان کی تعریف کی جاتی، ڈاکٹر صاحبہ کی اگلے گریڈ میں ترقی میں روڑے اٹکائے گئے جب کہ ان کی کارکردگی ایسی تھی کہ ڈیوٹی کے بعد بھی جانوروں کا گوشت، پھل، دودھ وغیرہ کی سپلائی کے وقت خود موجود ہوتیں تا کہ بے زبانوں کو اُن کی معیاری خوراک مل سکے۔
میں نے خود بار ہا ڈاکٹر صاحبہ کو اُن کی چھٹی والے دن بھی جانوروں کی خوراک کی سپلائی میں چڑیا گھر میں مستعد دیکھا! ڈاکٹر صاحبہ سے چڑیا گھر کے جانوروں اور پرندوں کا پیار تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ بیمار چمپنزی کو چڑیا گھر کے اسٹاف دوا پلا نے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں تب کسی نے آواز لگائی کہ ڈاکٹر ثمن کو بلاؤ۔ وہ آئیں تو چمپنزی نے اُن کے ہاتھ سے بچوں کی طرح چمچ سے دوا پی! افسوس کہ انتظامیہ نے اِس قابل شخصیت اور چڑیا گھر کے چھوٹے بڑے جانوروں سے پیار کرنے والی ڈاکٹر ثمن بھٹی کی کوئی قدر نہیں کی۔ دکھ کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے یہ قابلِ قدر جوہر مشرقِ وسطیٰ چلا گیا۔
دارالسلام کِگوما ریلوے لائن
ذکر ہو رہا تھا بُوجُونبُورا سے کِگوما جانے کا۔ مجھے جھیل ٹانگا نیکا میں اِس سے قبل بھی سفر کرنے کا تجربہ تھا۔ اصل مہم جوئی تو تنزانیہ کے ساحلی شہر کِگوما سے شروع ہونے والی تھی۔ کِگوما جھیل ٹانگا نیکا کی ساحلی بندرگاہ ہے۔ اُس زمانے میں یہ اِس جھیل کی سب سے زیادہ مصروف بندرگاہ تھی۔ یہاں سے تاریخی ریلوے لائن، تنزانیہ کی پوری چوڑائی کا 779 میل سفر طے کرتے ہوئے دارالحکومت / بندرگاہ دارالسلام تک جاتی ہے۔
یہ ریلوے لائن جرمن نوآبادیاتی دور میں بچھائی گئی۔ اسٹیشن پر لکھی عبارت کے مطابق یہ 1905 میں بننا شروع ہوئی۔ 1252 کلومیٹر طویل ریلوے لائن دارالسلام سے شروع ہو کر کِگوما تک جنگِ عظیم اول سے کچھ پہلے 1914 میں مکمل ہوئی۔ یہ اُس زمانے کی جرمن فنی مہارت کی سب سے بڑی مِثال مانی جاتی ہے۔ اِس کی تعمیر سے جھیل ٹانگانیکا سے تجارت کا نیا راستہ کھلا اور یوں ٹانگانیکا (تنزانیہ کا پرانا نام) کی ترقی کا سفر تیز تر ہوا۔ 1964 سے پہلے ٹانگانیکا اور زنجیبار دو الگ الگ ملک تھے اور دونوں مِل کر تنزانیہ کہلائے۔
بات ریلوے لائن کی ہو رہی تھی۔ برطانوی دور میں بھی مین لائن کے ساتھ کچھ برانچ لائنیں بچھائی گئیں۔ اِس ریلوے لائن سے متعلق کئی ایک پراسرار کہانیاں سُن رکھی تھیں۔ اب بھی سُننے میں آتا ہے کہ گرمی، دھوپ کی سختی، شدید بارشیں اور علا قائی پراسرار کہانیوں نے مِل کر اِس لائن کے بعض حصّوں کی تکمیل میں بہت دشواریاں پیدا کیں۔ اِس پر آگے چل کر بات ہو گی۔
یوگینڈا تنزانیہ جنگ اور اسمگلنگ
کِگوما میں جرمن دور کی کچھ نشانیاں دیکھیں۔ یہاں کا ریلوے اسٹیشن اپنے اندر دو مختلف ادوار کے نو آبادیاتی آثار لئے ہوئے ہے۔ بہت سی بنیادی معلومات یہاں کنندہ ہیں۔ میرے یہاں آنے کا زمانہ، یوگینڈا اور تنزانیہ کی جنگ کے اختتام کا دور بھی تھا ( 1978۔ 1979 ) لہٰذا یہاں کافی ہلچل محسوس ہوئی۔ صاف معلوم ہو رہا تھا کہ یوگینڈا میں ضرورت کی ہر چیز کی قِلت ہے۔ مختلف نوعیت کی اشیاء نہ جانے کہاں کہاں سے کِگوما میں منگوا کر چھوٹے ٹرکوں میں جنگ زدہ علاقے میں زیادہ منافع کے لئے لے جائی جاتیں۔ میں نے اندازہ لگایا کہ کِگوما کے رہنے والے اِس جنگ سے خوش تھے۔ اول وہ وہاں سے دور ہو رہی تھی۔ دوسرے یہ کہ جنگ زدہ علاقے میں صرف ڈبل روٹی سپلائی ( اسمگل) کرنے والے، دِنوں میں ترقی کر کے کہاں سے کہاں پہنچ گئے! جی ہاں ڈبل روٹی کی اسمگلنگ بھی اُس وقت کا بڑا آئٹم تھی۔
اگست 1972 میں یوگینڈا کے سر براہ عدی امین نے اپنے ہی ملک اور عوام کے خلاف ’اقتصادی جنگ‘ شروع کر دی۔ ایشیائی اور یورپی باشندے وہاں کی صنعت و تجارت ایک زمانے سے چلا رہے تھے۔ اُن کے باپ دادا برطانوی نو آبادیاتی دور میں ہندوستان اور یورپ سے بہتر مستقبل کے لئے افریقہ آئے تھے۔ اب اُن کی تجارتی کمپنیوں اور کارخانوں کو قومیا کر انہیں ملک سے ہی نکال دیا گیا۔ یہ چھوٹے بڑے صنعتی یونٹ یوگینڈا کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔
1973 میں جامعہ کراچی میں میرے ساتھ یوگینڈا سے نکالے گئے بہت سے آغا خانی طلباء بھی زیرِ تعلیم تھے۔ اِن ہی کے لئے پیر الٰہی بخش کالونی میں پرنس کریم آغا خان۔ نے ’امین آباد‘ نام کی بستی بسائی تھی۔ عدی امین نے تنزانیہ کے ساتھ جنگ شروع تو کر دی مگر اس کے نتیجے میں اُن کی حکومت بھی گئی اور باقی ماندہ زندگی جلا وطنی کی حالت میں سعودی عرب میں گُزری۔
عجیب و غریب تجربہ
میں نے اب تک کتابوں میں ہی پڑھا تھا کہ فلاں جگہ ریل کی لائن بچھائی جا رہی تھی لیکن کچھ نا قابلِ یقین پراسرار واقعات ہوئے کہ چند گز کام بھی ہفتوں نہ ہو سکا۔ عجیب و غریب حالات میں کئی ایک مزدور لقمۂ اجل بَن گئے۔ اور پھر بالآخر ’اُس‘ جگہ کو بائی پاس کر کے کام چلایا گیا۔ ایسی ایک روایت روہڑی کے آس پاس ریلوے لائن بچھائے جانے کی بھی سُننے میں آتی ہے۔ میرے کِگوما آنے کا اولین مقصد بھی ایک ایسے ہی مقام کو دیکھنا تھا۔
سینما والے عثمان بھائی نے کِگوما میں ایک مقام کی نشاندہی کرا دی تھی جِس کے بارے میں مشہور تھا کہ دارالسلام سے ریلوے لائن بچھاتے ہوئے جب جرمن کِگوما پہنچے تو ایک دم سب کام ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ پہلے تو محدود علاقے میں بِن موسم شدید بارشوں کا ہونا پھر اس کے ساتھ بیماریوں کا پھوٹ پڑنا۔ مقامی مزدور تو کام کرنے سے ہی انکاری ہو گئے، جو کھینچ تان کر تھوڑی بہت لائن بچھتی وہ نامعلوم وجوہ کی بِنا پر راتوں رات ٹیڑھی ہو جاتی۔
یہ قطعاً ممکن نہیں تھا لیکن پھر بھی یہ دن رات کے مستعد چوکیداروں اور جرمن سپاہیوں کی موجودگی میں عین اُن کی ناک کے نیچے ہو رہا تھا۔ مقامی لوگوں نے بہت کہا کہ لائن کا رُخ بدل دیا جائے تو امکان ہے سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن شاید لائن بنانے والے بھی اپنی ضِد کے پکے تھے۔ روایت ہے کہ جب پراسرار پس منظر میں کچھ مزدوروں کی اموات ہوئیں تب اُس مقام سے لائن کو ہلکا سا خم دے کربائی پاس کر دیا گیا اور یوں وہ کام مکمل ہوا۔
اسی شہر کِگوما میں خاکسار نے عثمان بھائی کے ایک واقف کار سے ملاقات کی اور اُس مقام کو دیکھنے اور رات ٹھہرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وہ یہ کہانی جانتے تھے لیکن ایسی کسی بات پر یقین کرنے والوں میں سے نہیں تھے۔ بہر حال ہم لوگ نکلے۔ شہر کے مضافات میں بتدریج آبادی کم ہوتی گئی حتیٰ کہ ایک جگہ بالکل ختم ہو گئی۔ یہاں سے تین اطراف میلوں کوئی آبادی نظر نہیں آتی تھی۔
البتہ جِس چیز پر آنکھ فوراً ٹکتی تھی وہ چند فٹ نشیب میں ریلوے لائن تھی۔ وہ حضرت کہنے لگے کہ توہم پرستی کی وجہ سے یہاں اِس ریلوے لائن کے خم کے آس پاس میلوں کوئی بھول کر بھی نہیں آتا۔ البتہ انہوں نے بتایا کہ یہیں، اِسی موضوع پر بننے والی کسی فِلم کی عکس بندی کے دوران بھی کوئی جان لیوا واقعہ پیش آیا جِس پر اب یہاں نہ آنے کی مہر ثبت ہو چکی ہے۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ کبھی اِس جگہ ایک کتبہ بھی تھا جِس پر یہاں ہونے والے واقعہ کے بارے میں مختصر عبارت درج تھی جو خود اُنہوں نے اپنے لڑکپن میں دیکھا تھا۔
اِن صاحب ( اب ذہن میں نہیں ہے کیا نام تھا بھلا سا) کے علاوہ میں نے یہاں کئی ایک لوگوں سے اِس موضوع پر گفتگو کی۔ گھوم پھر کر بات ایک جگہ آ جاتی تھی کہ یہاں ’کچھ‘ ہے ضرور!
میں اِس ’کچھ‘ ہی کی تو تلاش میں آیا تھا۔ طے ہوا کہ اِس مقام پر رات ٹھہر کر صبح میں خود اُن صاحب کے گھر آ جاؤں گا۔
” ہونا ہوانا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے! “ ۔ وہ صاحب ہنستے ہوئے کہنے لگے۔
میں یہ تو نہیں کہتا کہ مجھے ڈر و خوف محسوس نہیں ہوتا، بالکل ہوتا ہے ؛ لیکن خوفزدہ ہونے کے لئے کوئی و جہ بھی تو ہو؟
وہ عصر کا وقت تھا۔ نیچے چند فٹ کے فاصلے پر وسیع و عریض قطع تھا جہاں کچھ چوپائے چلتے پھرتے نظر آئے۔ یہ اِس بات کا ثبوت تھا کہ فی الحال ’سب ٹھیک ہے‘ ۔ جہاں میں بیٹھا تھا وہاں سے تیز رفتاری سے چلیں تو پانچ منٹ میں ریلوے لائن کے عین اُس مقام تک پہنچا جا سکتا تھا جہاں اُسے خم دیا گیا تھا۔ خاکسار نے اسٹاپ واچ سے اس فاصلہ اور وقت کا حساب لگایا تھا۔ میں نے جیبی ڈائری نکالی اور بسم اللہ پڑھ کر اُس روز کی تاریخ درج کی اور چند جملے لکھے کہ میں اِس جگہ کیوں آیا ہوں۔ اور اگر مجھے کچھ ہو جائے تو فُلاں سے رابطہ کیا جائے۔ ( یہ چیز میں نے اپنے یونٹ کے کیمرہ مین سے سیکھی تھی) ۔ چہار سو خاموشی تھی البتہ اِس دوران دو تین مال گاڑیاں ضرور گزریں۔ شاید تعظیماً انجن ڈرائیوروں نے عین خَم والے مقام پر ہارن بجائے۔
شام ہونے پر میں نے ہاتھ پیروں اور چہرے پر مچھروں سے بچنے کے لئے ایک لوشن لگا لیا۔ مغرب ہونے سے کچھ پہلے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ اپنے اپنے آشیانوں کی جانب جاتے نظر آئے۔ میں خاصی بہتر جگہ پر بیٹھا تھا۔ کوئی بہت زیادہ پیڑ، جھاڑیاں اور اونچی گھاس نہیں تھی۔ نظروں کے سامنے ایک وسیع علاقہ تھا۔ سورج غروب ہو گیا اور تھوڑی دیر بعد خاموشی چھا گئی۔ کبھی کسی پرندے یا جانور کی کوئی آواز آ جاتی۔ میں چونکہ عملاً جنگل سے آیا تھا اِس لئے یہاں پُر سکون تھا۔ کچھ وقت اور گزرا تب چند سیکنڈوں میں آسمان پر حدِ نگاہ دمکتے تارے نظر آنے لگے۔
اتنی تعداد میں روشن، چمک دار تارے دیکھنے کا پہلا تجربہ تھا۔ وہ بھی ہر طرف چھائی ہوئی خاموشی میں! بس یہی لمحہ تھا جب مجھے دور سے قدیم زمانے کی ریل گاڑی کے انجن کی سیٹی سُنائی دی۔ آواز کی سمت سے لگتا تھا کہ ریل گاڑی دارالسلام کی جانب سے آ رہی ہے۔ کچھ اور وقت بیتا تو ایک دفعہ وہ آواز دوبارہ سنائی دی۔ اب وہ کافی قریب سے آ رہی تھی۔ پھر ایک دم سامنے سفید دھواں اُڑتا ہوا نظر آیا۔ ایک ثانیہ کو میں پریشان ہو گیا کہ ریل گاڑی کے انجن کا دھواں سفید تو نہیں ہوتا! وہ واقعی سفید رنگ کا دھواں تھا اور انجن کی بناوٹ بھی عین اُسی طرح کی تھی جیسی 1919 میں ریل کے انجن! میں نے کِگوما کے ریلوے اسٹیشن میں لگائی ہوئی پرانی تصویروں میں ایسے انجن اور ٹرینیں دیکھی تھیں۔
میں اللہ کا نام لے کر تیز قدموں ریلوے لائن کے خم کی جانب بڑھا۔ گاڑی اب میری آنکھ کے سطح کے برابر مزید قریب آ گئی۔ یہ ٹر ین کون سی تھی؟ آج ہی کے دِن میں نے تین مال گاڑیوں کے انجن دیکھے جو آج کے جدید دور کے تھے۔ اُن کا دھواں سفید نہیں تھا۔
لیکن یہ کیا؟ انجن خم بناتی ہوئی ریلوے لائن کے بجائے کسی دیو ہیکل ٹرک کی طرح زمین پر آنے لگا۔ اور وہ تمام سفر جو خم میں ریل کی پٹڑی پر کرنا تھا وہ زمین پر سیدھ میں کر گیا۔ نہ وہ گاڑی اُلٹی نہ کوئی شور و غُل ہوا۔ صرف ایک دم سردی بڑھ گئی۔ یہ سب مجھ سے چند گز کے فاصلہ پر ہوا۔ نہ جانے گاڑی کے کتنے ڈبے تھے۔ آخری بھی گزر گیا جِس کے پیچھے ایک لالٹین جھول رہی تھی جس کی روشنی بھی سفید! پھر ایک سیٹی اور سُنائی دی اور پھر یہ گاڑی میرے دیکھتے ہی دیکھتے دھندلی ہو کر غائب ہو گئی۔
میری آنکھوں اور سر میں درد ہونے لگا۔ پانی کی بوتل سے میں نے اپنے منہ اور آنکھوں پر چھینٹے مارے۔ آنکھ میں چبھن قدرے کم ہوئی تو ریلوے لائن کی جانب بڑھا۔ آسمان بدستور دمکتے تاروں کی جگمگاہٹ سے بھرا ہوا تھا۔ زمین پر بغیر پٹڑی ریل گاڑی کے چلنے کے نشان دیکھنے کی کوشش کی جو نہیں مِلے۔ نزدیک سے کسی ڈرے ہوئے جانور کی گھٹی ہوئی آواز وقفے وقفے سے سُنائی دے جاتی۔ کاندھوں اور دماغ پر بہت بوجھ محسوس ہونے لگا۔ اللہ کا نام لے کر اور سونے سے قبل کے معمولات پڑھ کر زمین پر ہی دائیں کروٹ لیٹ گیا۔
صبح کے قریب پھوار پڑی جِس سے میں بیدار ہوا۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔ جب تھوڑی سی روشنی ہوئی تو غور سے سامنے ریلوے لائن کے خم کے متوازی دیکھا۔ مزید روشنی پر چل کر اُس مقام پر گیا جہاں رات والی ریل گاڑی پٹڑی سے اُتر کر زمین پر چلی تھی۔ اُدھر ایسا کوئی نشان، کوئی علامت نہیں دیکھی۔ وہاں کی سخت زمین اتنی بھی گیلی نہیں تھی کہ نشانات ہی مِٹ جاتے۔ ہاں دو چیزیں ایک دم نظروں کے سامنے آ گئیں! یہ قدیم طرز کے کوٹ کے دو عدد بٹن تھے جِن پر لکھی زبان سمجھ نہیں آ سکی۔
کچھ دیر پٹری کے خم کے پاس ایک ایک انچ غور سے دیکھا۔ کوئی خاص چیز نظر نہیں آئی۔ اب کی دفعہ پھر ریل گاڑی کی آواز آئی جو کِگوما کی جانب سے آ رہی تھی۔ میں اپنی پہلے والی جگہ بیٹھ گیا۔ وہ ایک مسافر ٹرین تھی۔ دور سے کالا دھواں دیکھ کر دِل بہت خوش ہوا۔ ٹرین ڈرائیور نے خم پر آ کر سیٹی بجائی۔ اور یوں میں بھی عثمان بھائی کے جاننے والے کے ہاں چلا۔
” اب آپ مانیں یا انکار کریں میں نے جو دیکھا وہ بیان کر دیا“ ۔ یہ کہہ کر میں نے رات والا ماجرا عثمان بھائی کے واقف کار کو سُنا دیا۔ جواباً وہ مسکرا دیے۔
” یہ دیکھئے! یہ رہے وہ دو عدد بٹن“ ۔ میں نے اُن کے طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔
” ہاں! یہ خاصے قدیم نظر آتے ہیں لیکن ایسی کئی ایک اشیاء اب بھی اِس خم کے آس پاس دستیاب ہوتی رہتی ہیں کیوں کہ اس مقام پر 1919 سے لے کر اب تک کوئی نئی تعمیر نہیں کی گئی۔ ریلوے لائن بناتے وقت ایسی کئی ایک اشیاء بیکار سمجھ کر وہیں کسی گڑھے میں پھینک دی جاتی ہوں گی۔ ویسے اگر تم چاہو تو میں تمہیں ایسی ایک اور پُر اسرار جگہ لے جاؤں جہاں تم ایسے منظر دیکھ سکتے ہو کہ جِن کی تصویر کیمرے سے لی جا سکتی ہیں مگر وہ دھندلی آتی ہیں“ ۔


