رومان ساجد کے لیے نیویارک میں کشمیریوں کا مظاہرہ


نیویارک میں کشمیریوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد کی قیادت میں غزہ کے مظلوموں کے حق میں دھرنے کے ایک خادم نوجوان رومان ساجد کی مظلومانہ شہادت کے ملزم حساس ادارے کے حاضر سروس ملازم کے خلاف قانونی کارروائی کر کے اسے کیفر کردار تک پہچانا جائے۔

یہ مطالبات بروکلین نیو یارک میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران کیے گئے جس کی قیادت شہید کے دادا اور کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر خالد احمد مغل کر رہے تھے۔ اس مظاہرے سے پروفیسر محمد رفیق بھٹی (کشمیری تجزیہ کار) محمد اورنگزیب (میزبان پہاڑی رنگ میڈیا گروپ) خالد محمود مغل (صدر کشمیر فریڈم موومنٹ امریکہ) امام بلال خان (سرپرست اعلی البراک یو ایس اے) محمد داؤد مقصود (کمیونٹی لیڈر) محمد یاسین مغل (کشمیری رہنما) نے خطاب کیا۔

مظاہرین نے قاتل کے خلاف ابھی تک کارروائی نہ کرنے پر شدید احتجاج کیا اور کہا کہ اگر اس قاتل کے خلاف ایف آئی آر نہ کاٹی گئی اور اسے کیفر کردار تک نہ پہنچایا گیا تو وہ آئندہ ہفتے اقوام متحدہ میں پوری دنیا کے نمائندوں کی موجودگی میں مظاہرہ کریں گے۔ یہ احتجاج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس تک جاری رکھا جائے گا۔ تاکہ پوری دنیا پاکستان میں انسانی حقوق کی اصل صورت حال جان سکے۔

اگر حکومت اپنی ساکھ بچانا چاہتی ہے تو وہ قاتل کو قانون کے شکنجے میں لائے اور کھلے عام مقدمہ چلائے۔ یہ کشمیری نوجوان رومان ساجد باغ آزاد کشمیر کے ایک غریب خاندان کا سہارا تھا جو ظالم نے چھین لیا۔ اس مظاہرے میں شہید کا دادا خالد محمود مغل بھی موجود تھا جو کشمیر فریڈم موومنٹ کا بھی سربراہ ہے۔

خالد مغل اور دیگر کشمیری رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اس حادثے کی ہائی کورٹ کے کسی آزاد جج سے مکمل اور شفاف تحقیقات کرائی جائے۔ کشمیری لیڈروں نے کہا اگر ہماری دادرسی نہ کی گئی تو وہ اس معاملے کو اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن کے سامنے پیش کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر شدید احتجاج کیا کہ دو ماہ گزرنے کے باوجود نہ ایف آئی آر درج ہوئی اور نہ ادارے نے اس کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی کوئی اطلاع ہے۔

یہ نوجوان اس دھرنے کے شرکا کی خدمت پر مامور تھا اور اس وقت رات کو آرام کی غرض سے لیٹا ہوا تھا کہ ریاستی ادارے کے شقی القلب افسر نے تیز رفتار گاڑی اس پر چڑھا دی اور مار کر فرار ہو گیا۔ مظاہرین نے اس موقع پر ’ہم انصاف چاہتے ہیں، رومان ساجد کو انصاف دو، قاتل افسر کے خلاف مقدمہ چلایا جائے‘ کے نعرے بھی لگائے۔

Facebook Comments HS