ہڑپا کا تانیثیتی مطالعہ


دور جدید میں اگر عورت کے حوالے سے بات کی جائے تو طاہرہ اقبال نے اپنے قلم کی تیز نوک کے نیچے عورت سے متعلقہ بہت سے پیچیدہ مسائل کو رکھا ہے یہ ایسے مسائل ہیں جو بظاہر ہمارے اس فرسودہ معاشرے میں بہت ہی عام یا معمولی ہوں گے لیکن عورت کے لئے یہ مسائل بہت اہم ہیں۔ طاہرہ اقبال نے بحیثیت ایک عورت ان مسائل کو سمجھا اور انہیں ”ہڑپا“ کا بنیادی موضوع بھی بنایا۔

زمانہ جاہلیت سے لے کر اب تک مرد کو معاشرے عورت پر فوقیت دی گئی لیکن حقیقت میں بطور انسان دونوں کی معاشرتی حیثیت برابر ہے اور کسی ایک انسان کو کسی دوسرے انسان سے برتری حاصل نہیں ہے۔ عورت پیدائش سے لے کر جوانی کے سفر پھر ازدواجی زندگی اور زندگی کے آخری لمحات تک مسائل کا ہی شکار رہی ہے۔ ہمارے معاشرے کے مرد نے عورت کو مخالف جنس کے طور پر تو قبول کیا لیکن جنسی اختلاف کے ساتھ عورت جن مسائل سے دوچار ہوتی ہے جن پیچیدگیوں کا سامنا اسے کرنا پڑتا ہے مرد اس سے بالکل غافل رہا۔

اس ناول میں عورت کے کئی روپ ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ان سب میں عورت کی ایک حقیقی جھلک دکھائی گئی ہے۔ بنیادی طور پر یہاں پنجاب کی دیہہ ثقافت اور تہذیب کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن طاہرہ اقبال نے پنجاب کے دیہی علاقوں میں عورت کی زندگی کو موضوع بنایا ہے خاص کر زمین دار گھرانوں کی عورتوں کا رکھ رکھاؤ ان کا مزاج ان کی زبان ان کا ماحول اور ان کی نفسیات کو بہت خوبصورت پیرائے میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔

ناول کے آغاز میں ایک عام گھریلو شادی شدہ عورت اور ایک عام طوائف کا ذکر کرتے ہوئے مصنفہ نے ایک عمدہ انداز میں عورت کی زندگی کے اہم مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے یہ ایسے مسائل ہے جو پنجاب میں کیا پورے پاکستان کیا جہان عورت ہے اس کی زندگی لگ بھگ ایسے ہی مسائل سے دو چار نظر آتی ہے۔ ناول سے چند اقتباسات ملاحظہ کیجئیے :

1۔ ”کتنی عزت تھی بالی کی۔ ان تمام مردوں کے لئے وہ کتنی خاص تھی۔ سب اسے دیکھ دیکھ کے خوش ہوتے تھے۔ جیسے ٹھنڈے شربت کی بوتل بدن میں انڈیل لی ہو۔“

(طاہرہ اقبال، ”ہڑپا“ ٫بک کارنر جہلم، 2003 ص 60 )

2۔ ”میں پہلے نوٹ رکھواتی ہوں پھر انگیہ کو چھونے دیتی ہوں۔ تم جس مرد سے دن رات پٹتی ہو اس کے ساتھ مفتی سوتی بھی ہو اور ہر سال اس کا بچہ بھی جنتی ہو۔ تمہارے پاس نہ کپڑے ہیں نہ نہانے دھونے کو ریل صابن نہ سک سرمہ کرنے کی جرآت۔ تجھ گندیوں، بو ماریوں کو کوئی دیکھتا ہی نہیں خریدے گا کیا۔ اسی لیے جب بھی بکتی ہو سستے میں بک جاتی ہو۔ میں تو من مرضی کو مول لیتی ہوں۔ مول بھرنے والا پہلے میری مشک لیتا ہے جیسے گلاب چنبے کو سونگھتا ہو۔ اور جب مست ہو جاتا ہے پھر سانڈ سا مرد بن جاتا ہے۔ تمہارے تو مرد بھی تمہاری بدبو سے نامرد ہو جاتے ہیں۔

(ایضاً، ص 61 )

3۔ ”نہ کوئی شوہر اسے روز نیلوں نیل کردے اور یہ ٹکوریں کرتے ہوئے اس کے لیے روٹیاں پکائے نہ ساس نند جو طعنوں تشنیعوں سے ادھ مویا کر دیں۔“ 8

(ایضاً)

4٫ ”اسے سجنے سنورنے بننے جملے اچھالنے مردوں کے حقے سے کش لینے اور ان کے گندے مذاق سننے اور منہ توڑ جواب دینے کی آزادی ہے کیونکہ وہ کنجری ہے۔“ 9

(ایضاً)

5۔ ”ایک اعلان سے کتنے زبردست فائدے حاصل ہو گئے تھے بالی کو اگر علانیہ کنجری نہ ہو جاتی تو گاؤں کہ دیگر جوان عورتوں کی طرح کس قدر خسارے میں رہتی۔ صرف ایک اعلان کی جرآت سے سب مسخر ہو گیا۔“ 10۔ (ایضاً، ص 62 )

ان اقتباسات میں جو اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ ایک عام عورت کی زندگی پر طوائف کی زندگی کو فوقیت دی گئی ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کا سفاک سچ ہے کہ اگر مرد اپنی من پسند محبوبہ کو بیوی کے رشتے میں جب باندھ لیتا ہے تو پھر وہ اس کے اختیار میں آجاتی ہے پھر وہ جیسے چاہے مرضی اس کے ساتھ سلوک کرے کوئی اسے نہیں پوچھتا۔ گھر کے عورت کو پاؤں تلے رکھتے ہیں اور باہر کی عورت کے تلوے چاٹتے نظر آتے ہیں۔ ایسی ہی صورتحال کو طاہرہ اقبال نے یہاں بہت خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔

اب یہاں جو قابل غور بات ہے وہ یہ ہے کہ طاہرہ اقبال نے یہاں نہ تو گھر کی عورت کی بے بسی کا رونا رویا اور نہ ہی ایک طوائف کو ظالم عورت دکھایا ہے یہاں دونوں عورتوں کو انسان دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہمارے معاشرت میں ایسی بینائی سے مرد محروم ہے کہ وہ عورت چاہے کسی بھی روپ میں ہو سب سے پہلے اسے انسان کے طور پر دیکھنا چاہیے اور سمجھنا بھی چاہیے لیکن ہمارا معاشرہ اس سے بے بہرہ ہے۔

عورت کی زندگی سے جڑے ایسے مسائل اس ناول میں سامنے لائے گئے ہیں جو آج سے پہلے کسی کے ہاں نہیں ملتے۔ طاہرہ اقبال نے بہت کھلے اور واضح الفاظ میں بات کی ہے۔ عموماً ہمارے معاشرے میں جب عورت کے جسمانی اور اندورنی مسائل پر بات کی جاتی تو اشاروں کنایوں سے ڈھکے چھپے لفظوں سے کی جاتی ہے لیکن اس کہانی میں اس کے برعکس ہے۔ طاہرہ اقبال نے بہت عمدہ انداز میں یہ واضح کیا ہے کہ ایک عورت اوائل جوانی میں کن مسائل سے دو چار ہوتی ہے اور اپنے اس قدرتی عمل کو وہ کیسے ایک مجرم بن کہ بھگت رہی ہوتی ہے کیونکہ جب آتک عورت جوان ہو رہی ہوتی ہے اس کے جسمانی خدو خال ہو رہے ہوتے ہیں اس کا جسم بہت سے تبدیلیوں سے گزر رہا ہوتا ہے ساتھ ساتھ ذہنی سطح پربھی تبدیلی آ رہی ہوتی ہے لیکن ہمارا معاشرہ اس قدرتی عمل کو بھی عورت کا نگاری تصور کر ہاً ہوتا ہے۔ اس کے چند مثالیں ملاحظہ کریں :

1۔ ”لیکن اس قلعے نما گھر میں بند شہزادی کو ان جسمانی تبدیلیوں کی، بلوغت کے اظہار کی اجازت نہ تھی۔ صنوبر کی بلوغت کسی عذاب کی طرح آئی اور عفریت کی طرح اس کے چرمڑ وجود کے ساتھ چپک گئی۔ بدن میں رونما ہونے والی تبدیلیاں اسے شدید خوف، شرمندگی اور کرب کا شکار کر گئی تھیں۔ اس کے بس میں ہوتا تو وہ اپنے وجود کی یہ بغاوت یہ فطرت کی دست درازیاں کہیں کاٹ چھانٹ کر کسی کالے کنویں میں پھینک دیتی یا ان سمیت ہی کسی قبر میں خود کو دفن کر دیتی۔“

، (ایضا، ص 6 7 )

2۔ ”گٹھ تے مٹھ بے حیا، قد دیکھو عمر دیکھو اور ممے نکال لیے ہیں۔ ارے ہم اتنی اونچی لمبی، قد کاٹھ والیاں تھیں۔ لیکن پتا بھی نہ تھا۔ سیدھا سینہ اور یہ گٹھ تے مٹھ۔ گندی سوچ گندے خیالوں کا نتیجہ گندا۔ بے حیا بے شرم کچھ کھا کے مر کیوں نہیں رہتی۔“

(ایضاً، 68 )

3۔ ”اسے یقین ہو گیا تھا کہ جسم میں آنے والی یہ تبدیلیاں اس کے کسی گناہ کا بھیانک نتیجہ ہیں۔ پتا نہیں یہ گندے خیالات اس کے اندر کب اور کہاں سے داخل ہو گئے جنھوں نے اس کا یہ حشر کر دیا تھا۔ اسے علم ہی نہ ہوا کہ کب وہ ان گندے خیالات کی آماجگاہ بن گئی۔“

(ایضاً)

4۔ ”اسے یقین ہو گیا کہ وہ کسی ایسے خوفناک گناہ کی مرتکب ٹھہری ہے جس کی سزا کے طور پر اللہ میاں نے اسے بدنما اور داغ دار کر دیا ہے۔

۔ (ایضاً، ص 69 )

5۔ ”جاہنگوں کے بیچ اگی بے ترتیب سیاہ گھاس بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ کئی بار سوچا آگ لگا دے پھر دامن کے گیر خوف ہو کہ دھواں نکلتے سب دیکھ لیں گے۔ اور ایک روز اچانک یہ سیاہ گھاس دھویں کی بجائے خون سے لتھڑ گئی۔ وہ بار بار دھوتی پھر لتھڑ جاتی اس سے کچھ ایسا ضرور سرزد ہو گیا تھا کہ اس کے اندر سے خون چھٹ پڑا تھا۔ کوئی گناہ کوئی بد کاری۔

(ایضاً، ص 70 )
6۔ ”گندے خیالات کا نتیجہ گندا، کتنا بکتی تھی نہ کھا گوشت نہ پی چائے۔ پر سور نی نے کر کے چھوڑا۔“
(ایضاً، ص 71 )
7۔ ”ممے نکالے گی ابھی سے۔“ یہ لفظ ”ممے“ بے شرمی کا کوئی غلیظ گڑھا جس میں وہ شرم سے گڑ جاتی، ”
(ایضاً، ص 72 )
8۔ ”بدذات یہ لے کپڑا رکھ، سورنی۔ عقل نہ شعور۔“

انھوں نے جھاڑ پونچھ والی غلیظ دھجی اس کے منہ پر مار دی۔ کوئی شرم نہ حیا۔ کرتوت گھول بیٹھی ہے تو پھر نمائش لگانے سے پہلے مر کیوں نہ گئی۔

(ایضاً، 18 )

9۔ ”چار روز کمرے میں بند رہنے کے بعد جب وہ برآمدے میں آ کر بیٹھی تو ایسے کہ کسی سنگین جرم کی سزا بھگت کرنیل خانے سے نکلی ہے۔

(ایضاً، ص 75 )

10۔ ”اب اسے سمجھ آ گئی تھی کہ یہ مصیبت سبھی کے ساتھ لگی ہوئی ہے حتیٰ کہ اس نے بڑی بی بی جی کو بھی نہیں چھوڑا لیکن ان کے لیے یہ کسی مشکل کا باعث نہ بنتی تھی۔“

(ایضاً، ص 76 )

یہاں ان دس اقتباسات کو پیش کرنے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ عورتوں کو اپنے دور بلوغت میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس پہ کوئی کھل کر بات نہیں کرتا حتیٰ کہ خواتین خود بھی ان معاملات میں خاموش رہتی ہیں بلکہ کوئی بات کرے بھی تو اسے بے حیا بے شرم کہہ کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔

طاہرہ اقبال نے اس مدعے پر بات کرنے ہمت کی اور انہوں نے بڑے واضح اور کھلے الفاظ میں اس مسئلے کا برما اظہار کیا ہے۔ ان سے پہلے اردو فکشن میں ایسا کوئی موضوع زیر بحث نہیں لایا گیا۔ ہاں عورتوں کے حقوق پر بات کی جاتی رہی اور مردو عورت یکساں کی آواز بہت سے ادیبوں نے بلند کی لیکن ایسے معاملوں میں کوئی نہیں بولا۔

اور پر دی گئی اقتباسات میں جو جملے اور الفاظ طاہرہ اقبال نے اپنی کہانی کے کردار صنوبر کے لیے بولے ہیں ایسے ہی جملے آئے روز تقریباً ہر دوسری عورت کو سننے پڑتے ہیں۔ ہمارا ماڈرن معاشرہ ہو کر بھی عورتوں کے ایسے مسائل پر کھل کے بات کرنے سے قاصر ہے کیونکہ جو بھی ایسے موضوعات کو ہوا دیتا ہے اسے بے غیرت اور بے شرم کیا جاتا ہے ایسے بدنام ہونے کے خوف سے اگر کوئی بات کرنا بھی چاہتا ہو تو چپ کر جاتا ہے۔ مرد ادیبوں نے تو کنارہ کشی کی ہی سہی ایسے موضوعات پہ خود خواتین بھی کتراتی ہیں۔

ہماری ہاں بڑی بوڑھی عورتوں اور ان کے ساتھ ماؤں کا بھی یہ فرض ہے کہ اپنی بیٹی کا ان فطری تبدیلیوں کے بارے میں تفصیلاً آگاہ کرے نہ کہ وہ سب بیٹی کے ان دنوں کے متعلق غلط بات کرے اور بیٹی کو بھی گمراہ کرے۔ بلوغت کے وقت ایک بچی ایک مکمل عورت کے روپ میں ڈھل رہی ہوتی ہے تو بچی کو ان سب باتوں کے بارے میں ماں کو بتانا چاہیے کہ یہ سب قدرتی عمل ہے جسمانی خدو خال کا بدلاؤ کسی خوف یا خطرے کی علامت نہیں ہے بلکہ اسے ہر عورت نے برداشت کرنا ہوتا ہے۔ اپنی بچیوں کو پہلے سے ہی ایسے معاملات کے بارے میں بتانا چاہیے اور ان کو ذہنی طور پر تیار بھی کرنا چاہیے تاکہ اگر کوئی ان کے جسمانی بدلاؤ کو لے کے کوئی منفی بات کرے تو وہ تسلی سے اسے جواب دے سکے نہ کے شرم اور حیا کے چکر میں خود کو ہی برا بھلا کہلاتی رہے۔

مرد اور عورت کے جنسی اختلاف کے متعلق بھی طاہرہ اقبال نے بڑے ہی خوب صورت انداز میں بات کی ہے اس کے علا وہ مرد کو عورت پر فوقیت اس معاشرے نے دی ہے حالانکہ اسلام میں مرد اور عورت دونوں انسانیت کے درجے میں برابر ہیں اس میں کسی کو کوئی برتری حاصل نہیں۔ ماسوائے اس کے کہ مرد گھر کا سربراہ ہوتا ہے مالک ہوتا اور اس کی ماتحت ہوتی ہے خاندانی لحاظ سے مرد کو عورت پر حاکم قرار دیا گیا ہے ورنہ باقی کسی سلسلے میں بھی عورت مرد سے پیچھے نہیں اسے برابری کا مقام دیا گیا ہے۔

اس فرسودہ معاشرے میں جب ایک عورت کسی مرد کے سہارے کی تلاش میں رہتی ہے اور جب وہ اس سہارے کے ساتھ اپنے گھریلو چھوڑ دیتی ہے تو اس پر طرح طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے گھر والے اسے گھر واپس لانے غیرت کے نام پر قتل کر چھوڑتے ہیں۔ ساتھ ہی عورت کو برا بھلا کہا جاتا ہے اسے سنگسار کر دیا جاتا ہے لیکن جس مرد کے ساتھ وہ بھاگی ہوتی ہے اسے کچھ نہیں کیا جاتا وہ مرد ذات ہو کر بچ جاتا ہے اور یہ عورت ہونے کی وجہ سے سزا وار ثابت ہوتی ہے۔ اس ناول میں بھی طاہرہ اقبال نے ایسے ہی ایک مسئلے کی طرف توجہ دی ہے جیسے وہ لکھتی ہیں کہ :

”ایک مرد کے ساتھ رہنے کی چاہ میں نامو موچی کے ساتھ بھاگی۔ گا موں چدھڑ کے ساتھ، صابو کچھی کے ساتھ، اور پتا نہیں کون کون۔ ہر ایک نے پنچایت کی ایک بڑھک کے بدلے مجھے ہار دیا۔ وہ نہائے دھوئے گھوڑا سوار اور میں ہر بار منہ کالا کروا کے گدھے پر بھائی گئی“ ۔

(ایضا، ص 109 )

یہاں عورت کے ساتھ نا انصافی کی حد دیکھیں کے جن مردوں کے ساتھ وہ گھر آر چھوڑ کر بھاگی پنچایت میں یہ مرد اسے سزا کے لئے چھوڑ کر خود اچھے ثابت ہو جاتے ہیں۔ کیا عورت ہونا اتنا سنگین جرم ہے کہ اسے اس کے ہر عمل پر بس سزا ہی سزا دی جائے۔ عورت کو اس معاشرے میں آزادانہ طور پر کب جینے کی آزادی ملے گی۔ ایسی ہی ایک اور مثال دیکھیں جس میں مصنفہ نے اس معاشرے کے انسانی تضاد کو بہت کھول کر بیان کیا ہے ملاحظہ کریں۔ :

”لیکن بنی کا باپ تو سب چھوڑ کر ایک عورت کے ساتھ منہ کالا کر گیا۔ لیکن منہ کالا کر کے گدھے پرتو صرف بالی ہی کو بٹھایا جاتا وہ کہیں اد ہل گیا لیکن یہ ادھلنے کی سزا صرف بالی کی کیے ہی کیوں۔ وہ بھی اپنی بیوی چھوڑ کر کسی کے ساتھ فرار ہوا ہے۔“

(ایضاً، ص 110 )

اس ناول میں طاہرہ اقبال میں عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہوئے ایک اور نکتہ بھی پیش کیا ہے کہ عورت کو ہمارے معاشرے میں کمتر درجے دیا گیا اور مرد کو اعلیٰ درجے پر رکھا گیا ہے مرد کو جائیداد کا وارث کہا گیا ہے اور عورتوں کو تو لوگ مارنے کے منصوبے بناتے رہتے کہ ان کا باپ کے گھر میں یہی حصہ ہے کہ وہ بس بیاہ دی جائیں اور جو جہیز اسے ملے بس وہی اس کا باپ کی وراثت میں حصہ ہے اس کے علاوہ باقی کسی بھی جائیداد میں عورت کو شریک نہیں کیا جاتا۔ اس کی ایک مثال ملاحظہ کریں :

”دس مربعے ملک افتخار کے آٹھ آپ کے، چھوٹی بی بی جی کو تو وراثت سے حصہ ملنا نہیں“ ۔ ۔ مستے کیا بکواس کر رہا ہے لڑکیوں کا کون سا حصہ؟ انھیں جہیز نہیں مل جاتا اتنی بڑی برات کو کھانا نہیں کھلایا جاتا۔ زیور نہیں چڑھایا جاتا۔ بس تو یہ بتا یہ مربعے میرے نام کیسے ہوسکتے ہیں۔ ”

(ایضاً، 238، 239 )

یہ روایت زمانہ جاہلیت سے ہی چلی آ رہی ہے پہلے وہ لوگ بیٹیوں کو زندگی درگور کر دیتے تھے اور آج کل بیٹیوں کے حقوق ضبط کر کے انہیں جیتے جی مار دیا جاتا ہے۔ اسی لئے تو اس ناول میں بھی جب بڑی بی بی جی کے جوان بیٹے فوت ہوئے تھے تو وہ دعا کرتی ہے کہ میرے بیٹوں کی جگہ بیٹی فوت ہو جاتی تو اچھا ہوتا۔ اسے طاہرہ اقبال نے یوں واضح کیا ہے کہ :

”لڑکیاں کا کلیں کبھی نہیں مرتیں، ان تک کبھی کوئی بددعا نہیں پہنچتی۔ ان کو تو مخاطب ہی مر جانیے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ لیکن وہ پھر بھی نہیں مرتیں۔ مرتے تو لڑکے ہیں جنھیں مخاطب ہی جیون جوگے کے خطاب کے ساتھ کیا جاتا ہے وہ پھر بھی مر جاتے ہیں۔“

(ایضاً، ص 295، 296 )

عورتوں کے حقوق کی پامالی روز اول سے ہی جاری ہے۔ اس دور جدید میں بھی خواتین کے حقوق کے حصول کے لئے بہت سے ادارے بھی بنائے گئے اور ان انجمنوں کا مقصد عورتوں کو عزت اور تحفظ دینا ہے لیکن جب عورت کو اس کے گھر میں ہی حقوق حاصل نہ ہوں تو معاشرتی حقوق کہاں ملیں گے۔ عورت کو مرد سے کم رکھنے کے چکر میں یہ معاشرہ بہت حد تک نیچے گر چکا ہے۔ گھر میں کھانے کی چیز کی تقسیم سے لے کر وراثتی جائیداد کی تقسیم تک بیٹے کا حق زیادہ رکھا گیا ہے اور بیٹی کو سرے سے ان معاملات سے ہی دور رکھا گیا۔ یہی تعلیم کے حصول کو ہی دیکھ لیں بیٹا اعلیٰ تعلیم کے لئے شہر سے کیا ملک سے بھی باہر جا سکتا ہے اور یہی زمین دار لوگ اپنی زمینیں بیچ کے بھی اپنے بیٹوں کی تعلیم پہ خرچ کرنے سے گریز نہیں کرتے لیکن بیٹی کو گھر سے باہر تک نکلنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

اس ناول میں طاہرہ اقبال نے تعلیم کے حوالے خواتین کے مسائل کو بھی بیان کیا ہے۔ جیسا کہ وہ لکھتی ہیں کہ :

”بے حیا، بے غیرت یہ جنا ڈھونڈنی منہ سے مدد مانگنے لگی ہے۔ یونیورسٹی تو بہانہ ہے وہاں یار ڈھونڈنے جا رہی ہے اور یہ بے غیرت بھیجے گا۔ ضرور بھیجے گا۔ ۔

ہائے قہر خدا کا یہ اب مردوں میں پڑھے گی تاکہ کسی کے ساتھ نکل جائے اد ہل جائے۔ ”
(ایضاً، 281، 289 )

ان اقتباسات سے یہ واضح ہے کہ خواتین کو تعلیم کے حوالے سے بھی بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہاں مخلوط تعلیم کو بھی طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ حالانکہ اصل معاملات اس کے بالکل ہی برعکس ہوتے ہیں۔ ایک پڑھیے لکھی عورت پورے معاشرے کی اچھی تربیت کر سکتی ہے۔ عورت کو گھر سے باہر نکلنے پر بہت سی باتیں سننا اور سہنا پڑتی ہیں لیکن تعلیم انسان کو بھارتی نہیں ہے اسے شعور دیتی ہے اور یہ معاشرہ کب سمجھ پائے گا کہ مرد جو کتابیں پڑھ کہ ڈاکٹر انجینئر بنتا ہے عورت بھی وہ کتابیں پڑھ کے وہی بنتی ہے۔

طاہرہ اقبال نے اس ناول میں ایک اور نکتہ بھی سامنے رکھا ہے کہ عورتوں کی عمر جب بڑھ جاتی تو ان کی شادی نہیں کی جاتی کہ اب انہوں نے بچے تو پیدا نہیں کرنے تو اب ان کی شادی کا کوئی دائرہ نہیں۔ ہمارے ہاں خصوصاً پنجاب کے دیہی علاقوں میں جاگیر دارانہ نظام میں عورتوں کی شادیاں اس لئے بھی نہیں کی جاتی کہ کہیں وراثتی جائیداد میں سے بہن بیٹی کو حصہ نہ دینا پڑ جائے اس لئے یہ لوگ بہن بیٹیوں کو اپنے گھروں میں ہی ایک قیدی بنا کے رکھ لیتے ہیں نہ ان کی تعلیم کی طرف توجہ دیتے نہ ہی ان کی شادیاں کرتے بس ان کے مرنے تک ان کو پالتے ہیں۔ اس کہانی میں بھی صنوبر ایک ایسا ہی کردار ہے جسے ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے جب اس کی عمر ڈھل جاتی ہے اور وہ یہ جان جاتی ہے کہ اب وہ بچے پیدا نہیں کر سکتی مگر شادی تو کر سکتی ہے۔ ایسی عورت کے جذبات کی عکاسی کچھ یوں کی گئی ہے کہ :

”کیا ساتھ رہنے کو کسی مقصد کی برآوری ضروری ہے۔ کسی طمع کسی توقع کسی نتیجے کے بنا محض اپنی خواہش پر مل کر نہیں رہا جاسکتا۔ محض ساتھ رہنے کو رہنا۔ اپنے لیے کسی نسل کی آبیاری کے لیے نہیں رہنا۔ نسلیں تو بہت بارآور ہو رہی ہیں۔ اگر ہم اپنا حصہ نہیں ڈالیں گے تو شاید نیکی کریں گے۔ اس بڑھتی دنیا پر ۔ ہم ساتھ رہیں گے ساتھ رہنے کو ۔ بے لوث جینا کسی لوبھ بناوٹ کسی لوازم کے بنا جینا۔ خود اپنے لئے جینا“

(ایضاً، ص، 412، 410 )

طاہرہ اقبال نے اس کہانی میں ہڑپا کی تہذیب و فطرت تو بیان کی ہی ہے لیکن ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں عورت کی زندگی کس طرح پامال کی جا رہی ہے اس کی طرف بھی نہ صرف اشارہ کیا بلکہ بہت سے معاملات کو کھول بیان کیا ہے۔ اگر عورت ماں، بہن، بیوی، بیٹی بن کے بھی مرد کے ہاتھوں محفوظ نہیں ہے تو اسے اپنی حفاظت خود کرنا ہوگی آج کی عورت کو اپنا محافظ خود بننا پڑے گا ورنہ یہ معاشرہ مرد کو اور طاقت ور بنا دے گا اور مرد ہمیشہ ایسے ہی عورت پر حاکم بن کے مسلط رہے گا۔

اس ناول میں بنیادی کرداروں میں بالی، چنی اور صنوبر قابل ذکر ہیں۔ ان عورتوں کی زندگی کو دیکھیں تو ہمارے معاشرے ہیں ایسی بیسیوں عورتیں ہمیں اپنے اردگرد نظر آئیں گی جو ایسے ہی مسائل کا سامنا کر رہی ہوں گی یہ مسائل بظاہر معمولی لگ رہے ہوں گے لیکن ان کا نقصان عورت کی زندگی میں کتنا زیادہ ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ شکریہ

Facebook Comments HS