باتیں مٹھو بھیا کی


یہ جو آپ ”رونق شیریں سویٹ مارٹ“ کی بارونق دکان دیکھ رہے ہیں، جہاں بڑی بڑی کڑھایوں سے گرم گرم جلیبیاں اور لذیذ نمک پارے اتر رہے ہیں۔ بس وہیں الٹے ہاتھ پہ، اس کے عین بغل میں ایک ننھی سی ”رضا اسٹیشنری اور فوٹو اسٹیٹ“ کی دکان ہے۔ جہاں فوٹو کاپی کی ایک کچھ بدہیئت سی پرانی مشین، چند مرتبانوں میں بھری رنگ برنگے مٹھائیاں اور دکان کے شیلف پہ پچھلی جانب رکھی بچوں کی کہانیاں اور اسٹیشنری کا سامان ہے۔ برابر کی دکان رونق شیریں کی گرم گرم شیرے سے تر جلیبیوں کے بر خلاف یہاں کاروبار بالکل ٹھنڈا ہے۔ اور یہ دکان ہے مٹھو بھیا کی۔

رضا اسٹیشنری پہ فوٹو اسٹیٹ کاپیوں، اسٹیشنری اور بچوں کی کہانی کی کتابوں جیسی خشک چیزوں کا تعلق پیٹ کی پوجا سے ہرگز نہیں۔ مین روڈ کے عین مقابل لوگ کھانے کی دکان پہ تو مکھیوں کی طرح بھنبھنا سکتے ہیں لیکن مٹھو بھیا کی دکان تو عموماً سنسان ہی رہتی ہے سوائے چند ضرورت مندوں اور ننھے بچوں کے جو کبھی مرتبان میں رکھی رنگ برنگے ٹافیاں دیکھ کے اپنی رال کے ساتھ ٹپک پڑتے ہیں۔

دکان کی محرومی مٹھو بھیا کی شکل سے اس طرح ٹپکتی رہتی جیسے سخت گرمی میں کام کرنے والے مزدور کے جسم سے پسینہ۔ اب مٹھو بھیا بھی کیا کرتے، ابا مرتے وقت یہی دکان پونجی کی صورت دے گیے تھے۔ مٹھو کے پاس اور کوئی ہنر نہیں تھا سوائے دکان پہ بھاگ بھاگ کے ابا کا کام کرنے کے۔ دسویں جماعت بھی تھرڈ ڈویژن میں پرائیویٹ پاس کی تھی۔ ابا کے ساتھ دکان پہ لگے رہنا ان کی اشد ضرورت تھی ورنہ گھر کی ضروریات کا پیٹ کیسے بھرتا۔

اب جبکہ مٹھو بھیا کی عمر چالیس سے تجاوز کر گئی ہے مگر کبھی اتنا حوصلہ اور عقل نہیں رہا کہ ریں ریں کرتی دکان کی تجارت کو چوکڑی بھرنے کی تراکیب کا خطرہ مول لیتے۔ حالانکہ تجارت تو نام ہی خطرہ مول لینے کا ہے۔ لیکن مٹھو اور خطرہ مولنا دو مخالف سمتوں میں چلتے ہیں۔ مگر یہ بات بھی ہے کہ اسی کام میں تین بہنوں کی شادیاں نپٹا دیں گو کم صورت بہنیں چوکھٹ پہ رشتوں کی منتظر ہی رہیں۔ اور جب بڑی بہنیں بیٹھی ہوں تو مٹھو بھیا شادی کا نام بھی کیونکر لیتے۔ شریف گھرانوں میں خواہشوں کو مارنے سے ہی اخلاقی بقا کی ضمانت ملتی ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اب مٹھو بھیا کی شکل پہ وقت سے پہلے بڑھاپا گویا ٹک سا گیا ہے۔ دبلا پتلا جسم اور اس پہ طرۂ یہ کہ کمر بھی کچھ جھکنے لگی ہے۔ بوڑھی ماں کی بیماری اور بڑی بہنوں کے طعنوں سے گھگھیانا مٹھو بھیا کی شخصیت کا گویا حصہ بن گیا ہے۔ دوسروں کی رضا پہ راضی اور ان کی باتوں پہ مسکرا کے اپنے پیلے دانت نکالنا ان کی شخصیت کو کچھ اور بے رونق کر دیتا ہے۔ شاید ان سے شادی کو ایک کم رو لڑکی بھی یہ کہہ کے آگے بڑھ جاتی ہو گی کہ ”اگر یہ اسٹیشن کی آخری ریل بھی ہو تو اس پہ نہ بیٹھوں۔“ لیکن کیا وہ ایسے ہی بے رونق پیدا ہوئے تھے؟ اسے جاننے کے لیے ہمیں چار دہائی ادھر جانا پڑے گا۔

جگت ”مٹھو بھیا“ کا نام ”مٹھو“ کیسے پڑا؟ ان کی اماں بتاتی تھیں کہ مٹھو بھیا کی پیدائش سے پہلے انہوں نے گھر میں بچوں کے جی بہلانے کو ایک توتا پالا تھا۔ پنجرہ میں بند چوری کھاتا اور سب کا دل بہلاتا ہنس مکھ مگر تنہا توتا۔ جب اماں کام کرتیں تو بچیاں توتے کو چوری کھلاتیں اور ڈھیروں باتیں کرتیں۔ جو وہ بولتیں وہی توتا دہراتا اور وہ خوشی سے نہال ہو جاتیں۔ ”اماں دیکھیں مٹھو ہمارا نام لے رہا ہے۔ اماں آج تو اس نے بسم اللہ کہا۔ اور اب تو پنجتن کے نام بھی دھرا رہا ہے۔“ اماں عقیدت اور محبت سے خدا کا شکر بجا لاتیں۔ بچوں کے ساتھ ساتھ وہ توتے کو بھی دعائیں دیتیں۔ ”امام زمانہ کی حفاظت میں دیا تم سب کو۔“ وہ یہی کہہ کے رہ جاتیں۔ ان کے پاس وقت ہی کہاں تھا کہ جو وہ بچوں کو دیتیں۔ سخت مزاج شوہر کا خیال اور گھرداری انہیں مصروف رکھتی۔ ایسے میں توتا ایک نعمت تھا۔ وہ بے فکری سے گھر کے کام نمٹاتیں۔ ساتھ ہی ان کا چھوٹی موٹی بیماریاں جھیلتا کمزور مگر زرخیز بطن میاں کی اولاد نرینہ کی خواہش کا بوجھ ڈھونے کے لیے چوکس رہتا۔ مگر ہر بار لڑکیاں ہی ٹپک پڑتیں اور ان کا کلیجہ کٹ جاتا۔ حمل سے ولادت تک وہ کیا کیا نہ دعائیں کرتیں۔ حج اور زیارت کی حیثیت نہ تھی تو گھر پہ ہی ماتھے ٹیک ٹیک کے دعاؤں کے سمندر میں غرق رہتیں۔ جب ساتویں ولادت پہ بیٹے کی چیخ سنی تو خوشی سے تقریباً بے ہوش ہو گئیں۔ اس دن تو ان کے میاں بھی جو بمشکل ہی کبھی مسکراتے تھے ان کے دانت بھی اندر نہیں ہو رہے تھے۔ بچیوں کی توجہ بھی مٹھو سے ہٹ کے ننھے بھیا پہ ہو گئی۔ کسی نے پوچھا ”ارے مٹھو نہیں یاد رہا؟ کسی نے اسے بھی دیکھا؟“ تو بچیاں کہتیں، ”اب ہمارا منا بھیا ہی ہمارا مٹھو بھیا ہے۔“ اور اس دن سے نومولود مہدی رضا کا نام ”مٹھو بھیا“ پڑ گیا۔ اس کے سارے خواص بھی مٹھو کے سے تھے۔ جو سب کرتے وہ بھی کرتا۔ بہنوں کی باتیں سیکھتا رہتا۔ وہی دہراتا اور سب کا جی خوش کرتا۔ خاندان کو نام و نسب کی ضمانت کے ساتھ ایک رونق ہاتھ آ گئی تھی۔

ادھر پنجرے میں بند ہری رنگت اور لال چونچ والا چونچال مٹھو توتا اکیلا اور اداس بیٹھا رہتا۔ اب کوئی اس کے ناز اٹھانے والا نہ رہا تھا۔ اس کی زندگی کا مقصد دوسروں کی باتیں دہرانا اور چوری کھانا تھا۔ لیکن اب اس زندگی میں کوئی معنی نہیں رہے تھے۔ بس وہ چوری کھاتا اور کونے پہ کسی سوچ میں غرق رہتا۔ لگتا تھا تنہائی اسے کھا رہی ہے۔ کچھ ہی عرصے میں اس کا جوان جسم ڈھ گیا۔ خواہشوں نے دم توڑ دیا۔ شاید اب اس کی ایک ہی تمنا تھی۔ موت کی شکل میں بے مزہ زندگی سے نجات کی۔ کئی دنوں تک وہ خاموش رہا۔ اس نے چوری بھی کھانا چھوڑ دیا تھا۔ ایک دن جب اس کے اردگرد کی دنیا مصروف تھی، اس کا منکا ڈھے گیا۔ اس کی روح ننھے سے جسم سے پرواز کر گئی۔ اس کی موت کا صدمہ اس طرح نہیں منایا گیا جو اس کا حق تھا۔ بس وہ کونہ صاف کر دیا گیا کہ جہاں وہ چپکے سے پڑا رہتا تھا۔ لیکن یہ بھی کیا کم ہے کہ اپنے ورثے کے طور پہ وہ مٹھو بھیا دے گیا تھا۔ ماں اور بہنوں کی آنکھوں کا تارا۔ مٹھو بھیا۔

بچپن میں گھر والوں سے لاڈ اٹھواتے مٹھو بھیا کو اماں کا سبق کیسے بھولتا۔ ”تم اکیلے بھائی ہو ان بہنوں کے۔ ہمارے اکیلے بیٹے، مولا تمھاری جان کی حفاظت کریں۔ بس سب کی ضروریات کو مقدم رکھنا۔ یاد رکھنا پہلے بہنوں کو اپنے اپنے گھروں کا کرنا ہے پھر ہی اپنی دلہن کو گھر لانا۔ یہی بہنیں تمھارے لیے چاند سی دلہن لائیں گی۔“ اپنی شرم سے گٹھری بنی دلہن کا سوچ کے ہی مٹھو بھیا من من میں نہال ہو جاتے۔ کوئی کام نمٹانے کے بہانے سے شرما کے مسکراتے ہوئے اٹھ جاتے۔ آخر ابا کے مرنے کے بعد ان پہ گھر کے کئی کاموں کا بوجھ جو آن پڑا تھا۔

آج مٹھو بھیا اپنے من کی خواہش دباتے، اماں کی نصیحت کا آموختہ دہراتے ہوئے تین بہنوں کے ہاتھ پیلے کر چکے ہیں۔ رشتوں کے بازار میں کم رو، بے ہنر اور ترش زبان لڑکیوں کے رشتوں کی ویسے ہی کوئی پوچھ نہیں ہے۔ لہٰذا ان کے گھر بسنے کے امکانات معدوم ہیں۔ تلخیوں میں ڈوبی لیکن کسی موہوم سی امید کے ساتھ یہ بہنیں اکثر اماں کے ساتھ جھنجھلاہٹ کے ساتھ باتیں کرتی ہیں جن کو نسیان کے مرض نے آن گھیرا ہے۔ وہ مٹھو بھیا کو سکھایا بیٹوں کی شادی کا سبق بھلا بیٹھی ہیں۔ لڑکیاں سمجھتی ہیں کہ اماں ہمارے بیاہ کا خیال تک نہیں رہا۔ لیکن جانے اتنے سال پہلے کونے میں پنجرے میں پڑا مٹھو کیوں یاد کرتی ہیں۔ ”لڑکیوں اس غریب مٹھو کو بھی تو دیکھ لو۔ اس کو چوری دی بھی کہ نہیں؟ ارے کیا اس کو بھوکا مارنا ہے“ اور پھر وہ بستر پہ لیٹے ہی لیٹے دور سے آواز لگاتی ہیں، ”مٹھو بیٹے، چوری کھائے گا۔ چوری کھائے گا ہمارا دل بہلائے گا۔ مولا تیری حفاظت کرے۔“

Facebook Comments HS