لندن تا برمنگھم ( 9 ) باتیں، جہانِ شرق و غرب کی
کبھی پنگا لیا ہے آپ نے؟ نہیں لیا؟ ہم نے لیا ہے، کیسے لیا کب اور کیوں لیا؟ یہ ہے پتّے کی بات جو ہم بعد میں بتائیں گے۔ پہلے لندن میں گوروں کے لیل و نہار کا احوال بتاتے ہیں۔ جہاں آنیاں کیا، جانیاں کیا؟ لطافتیں اور نزاکتیں کیا؟ عیش و نشاط کی رنگین محفلیں کیا؟ ’نو من تیل‘ اور رادھائیں کیا؟ سوچتے ہیں، اِس مست و مسرور ماحول میں ہم بے چارے معصومیت کے کھوپے پہنے، تماشائیوں کی صف میں تنہا کھڑے، خدا جانے، کیا کر رہے ہیں؟ رحیم شاہ ’بھئی صیب‘ کے دوستوں اور بہی خواہوں کی دعوتیں ہیں اور ہم ہیں۔ باقی اقوامِ عالم کا دن بھر گھومنا پھرنا اور شام بھر جھومنا پھرنا، یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لئے، واہ فیض۔
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اِس کے بعد آئے جو عذاب آئے
بامِ مینا سے ماہتاب اُترے
دستِ ساقی میں آفتاب آئے
بعد از دوپہر، خوش باش و خوش مزاج ساتھی عنایت خان کی معیت میں کافی پینے کے بہانے ریمفرڈ کاؤنٹی کی پَب نما ریستوران کی جانب ’پیش قدمی‘ کرتے ہیں، اندر جاتے ہی دور کارنر میں تشریف فرما دو خوبرو خواتین کے روبرو پڑی خالی نشستوں پر ’قابض‘ ہو جاتے ہیں۔ ہم نے سفید لٹّے کی گول آستینوں والی بابرکت شلوار قمیص کے اوپر کنٹراسٹ کلر واسکٹ زیب تن کیا ہوا ہے۔ نام نہاد داڑھی مبارکہ اور کھوپڑی کے وسیع سرحدات پر موجود چند بالوں کو زیتون کے تیل سے اتنا جھنجھوڑا ہے، اتنا جھنجھوڑا ہے کہ مستقبلِ بعید تک اُن کو ’سر اٹھانے کی جھنجھٹ‘ سے نجات دلائی ہے۔
ہم نے ننگے تڑنگے سر کے بحرِ بیکراں کو سفید چترالی پکول میں بڑے رکھ رکھاؤ سے ڈھانپا ہے۔ دائیں ہاتھ میں دائمی طور پر سفید میچنگ تسبیح بھی بہرحال ہماری انگلیوں کی آغوش میں رہتی ہے، جس کے چند دانے یکے بعد دیگرے ایک دوسرے کے اوپر گراتے ہوئے ہم اس نمائشی دکھاوے میں مصروف و مامون ہیں کہ ہم صرف پریکٹسنگ مسلم نہیں بلکہ چال ڈھال اور وضع قطع سے نزدیکی جامع مسجد کے پیشِ امام کی ’لوُک‘ دے رہے ہیں، خیر سے۔
ہاں جی، بات ہو رہی ہے پَب میں ساتھ بیٹھی نازنین خواتین کی، معذرت کہ بیچ میں پٹڑی سے اُتر گئے۔ دونوں خواتین آس پاس سے بے خبر و بے نیاز پالتو کتوں سے متعلق گرما گرم بحث میں مصروف ہیں۔ خاموش ماحول میں اُن کی باتیں ہم ایسے سن رہے ہیں جیسے وہ آپس میں نہیں ہم سے مخاطب ہوں۔ وہ بئیر کی چسکیاں لیتی لیتی پھونک مارتی ہے تو اُس کی خوش بو سے ہم بھی مستفید ہو جاتے ہیں، آرزو ہے کہ باتوں کی بہ جائے وہ، پھونکیں مارتی رہیں، ہم پیئے بِنا مدہوش ہوتے رہیں اور وہ عالمِ مدہوشی میں ہمیں مخاطب کر کے یہ اشعار گُنگناتی رہیں تو بھی، بات بن جائے!
میں دیکھنے کی چیز ہوں، حسین ہوں لاجواب ہوں
مہکتا بانکپن ہوں میں، چراغِ آفتاب ہوں
میں عاشقی کی آرزو، میں سوز ہوں میں ساز ہوں
میں درد کا مدار ہوں، چھیڑو تو میں رباب ہوں
مہکتا بانکپن ہوں میں، چراغِ آفتاب ہوں
لیکن وہ ہمیں کوئی چارہ ڈالے بغیر کُتّوں کے بارے میں اپنے طویل تجربات پر مبنی ایکسچینج آف تھاٹس میں یوں مگن ہیں گویا ان کا آپس میں کوئی مناظرہ ہو رہا ہو۔ نشست کا لُبِّ لُباب یہ تھا کہ پالتو کُتّا انسان کا قدیم ساتھی ہے۔ اِس کے رہن سہن کے لیے کتنا ٹمپریچر نارمل ہوتا ہے، کون سی خصوصی خوراک کتنا اور کب دینی چاہیے، اُس کے لئے تیار ہونے والے پیڑا میں بادام کاجو کشمش زعفران اور زیتون تیل کی متناسب مقدار کتنی ہو، صبح شام کتنے گلاس دودھ میں کون سے بسکٹ ملا کر کس قسم کے باؤل میں ’سرو‘ کرنا چاہیے، کون سا ہیئر ڈریسر کتے کے بال بنانے میں ماہر ہے، کون سا ڈاکٹر زیادہ ایکسپرٹ ہے اور یہ کہ کتنا ریشم و کم خواب درکار ہوتا ہے آن جناب کُتّے کو خوابِ استراحت کے مزوں میں جھونکنے کے لیے؟
آدھے گھنٹے بعد ٹاپک کتے ّ سے بلی کی ضروریات کی نشان دہی کی طرف کھسکی اور ہم سمجھے کہ ان تلوں میں تیل کوئی نہیں تو وہاں سے منہ موڑ کر دائیں طرف متوجہ ہو گئے، جہاں ایک میچوَر جوڑا بار کاؤنٹر کے نزدیک چھ فٹ اونچے سٹول پر تشریف فرما ’انگور کی بیٹی‘ کی چسکیاں لیتے ہوئے آنے والے تعطیلات کے دوران بیرونِ ملک سیاحت کے بارے بات کر رہے تھے۔ خاتون ترکی اور لبنان جانے پر بہ ضد، جہاں خوش اخلاق لوگ، ذائقہ دار میوے، صحت مند خوراک، تاریخی مقامات اور فیری میں دلِ خوش کن سفر کے علاوہ درجنوں اور بھی دلچسپیاں ہیں، جب کہ مرد امریکہ جانے کی ایڈووکیسی کرتا ہے جو ہمسایہ بھی ہے، لوگ ہم زبان بھی ہے اور جہاں امن و سکون، آزادی اور دیگر آسانیاں بھی ہیں۔
اک ذرا سوچئے، دنیا کے لوگ کس کھیل کود میں مصروف ہیں اور ہم کہاں کھڑے ہیں۔ وہ پالتو جانوروں، تفریح، موسم، خوراک، ٹیکنالوجی، ہنسی مذاق اور علاقائی معاملوں پر بات کرتے ہیں اور زندگی سے لطف اٹھاتے ہیں۔ اپنا احوال دیکھیں تو ہمارے دماغ کا کیڑا مذہب، سیاست، گروہ، طبقے، زرداری، نواز شریف اور عمران کی بحث میں الجھا ہے یا ’بجلی آئی بجلی گئی، گیس آیا گیس گیا‘ کے گردان میں۔ مہنگائی اور کرپشن کی یلغار پر بھی ’ایویں‘ غوغا کرتے رہتے ہیں، ہم۔
پینسٹھ فی صد جنتا بھوک سے مر رہی ہے، پھر بھی فلاں زندہ باد فلاں مردہ باد کے نعرے گھر گھر گلی گلی گاؤں گاؤں سے اُٹھ رہے ہیں۔ یہاں تین چوتھائی انسان روکھا سوکھا نوالہ پانی کے ساتھ معدے میں اُنڈیل کر روکھی سوکھی زندگی گزار رہے ہیں اور ریاست کے رکھوالے تیری باری میری باری میں یوں سرگرداں ہیں گویا فرض عبادت سرانجام دے رہے ہوں۔
باتوں باتوں میں یاد آیا، ریسٹورنٹ میں خواتین سیشن کے دوران ساتھی عنایت خان نے گوروں کے سماج، رواج اور اناج سے متعلق بہت کچھ بتایا اُس نے جتنی بھی باتیں کی، بڑی اہم تھی لیکن اُن میں سے زیادہ تر ہم جس کان سے سن رہے تھے اُسی سے واپس نکال بھی رہے تھے کہ دوسرا کان خواتین کے نازک بیانی سننے میں اینگیج تھا۔ کوہاٹ کے درسہ من گاؤں کے مرنجا مرنج عنایت خان گزشتہ بتیس سال سے برطانیہ میں مقیم ہے، تب کا نوخیز و نونہال اب پچاس سال کا مردِ آہن بن چکا ہے، اپنے بھئی صیب کا دوست ہے، اپنا بزنس کر رہا ہے اور زندگی خوب انجوائے کر رہا ہے۔
روز صبح سویرے گھر سے آنا، گاتے گاتے ہمیں جگانا، دنیا جہاں کی نعمتوں کو ناشتے کے دسترخوان پر سجانا اور ہمیں کھلانا، پلانا۔ شام کو برخوردار شکیل خان اور ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ’شامِ امیراں‘ کی محفل کا انتظام کروانا، دو بجے کہیں جا کر دَم لینا اور سویرے پانچ بجے پھر سے تازہ دم رواں دواں ہونا، یہی عنایت کی عنایات ہیں۔ یہاں کی معاشرتی اقدار اور رسم و رواج کے بارے میں وہ کیا کہہ رہے تھے، ہم آپ کو موٹے موٹے الفاظ میں بتاتے ہیں۔
یہاں کے خواتین و حضرات خود مختار ہیں، اُن کو اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار ہے۔ جس میں کسی کو مداخلت کا حق نہیں۔ تبدیلی جلد اپناتے ہیں۔ ٹیکنالوجی میں دل چسپی لیتے ہیں۔ قومیت اور مذاہب کے کھوپوں سے یکسر بے نیاز ہیں۔ مختلف ثقافتوں کو بلا حیل و حجت قبول کرتے ہیں۔ یہاں خواتین کے حقوق پر ’کمپرومائز‘ کی گنجائش نہیں۔ تاہم اکثر لوگ اپنی سماجی اور معاشرتی اقدار سے نالاں ہیں۔ مادر پدر آزادی کی وجہ سے خاندان بکھرے ہوئے ہیں۔
ہمسایہ ہمسائے سے سروکار نہیں رکھتا، لوگ تنہائی کے شکار ہیں، گھریلو زندگی میں کڑواہٹیں عام ہیں۔ زیادہ کام اور کم آرام کے باعث لوگ ذہنی دباؤ، تناؤ اور صحت کے مسائل کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں۔ ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال نے ذاتی روابط اور عام زندگی پر منفی اثر ڈالا ہے۔ بزرگ شہریوں کا واضح حصہ بال بچوں کی عدم توجہی کے باعث اولڈ ایج ہاؤسز میں زندگی کا مشکل ترین دَور حسرت و یاس کی کیفیت میں گزار رہا ہے۔
اگرچہ تمام مغربی ممالک کے مقابلے میں یہاں کا سوشل ویلفیئر سسٹم اور صحت کی دیکھ بھال کا نظام زیادہ مضبوط ہے، لیکن یورپی یونین سے برطانیہ کے انخلا کے بعد معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ یہ شعبے بھی بحرانی کیفیت میں ہیں۔ عمومی مہنگائی، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ٹیکسوں کی بھرمار سے لوگ دباؤ میں ہیں۔ ہمارا حال بھی لگ بھگ ایسا ہی ہے، تاہم اُن کے مقابلے میں ہماری اجتماعی زندگی، برادری اور خاندانی نظام جیسے بھی ہے، چل چلاؤ کی کیفیت میں ہے۔
والدین بچوں پر نظر رکھتے ہیں، وہ بڑوں کا احترام کرتے ہیں۔ دن میں پانچ وقت مساجد میں اکثر لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں، حال احوال پوچھتے ہیں اور بوقتِ ضرورت ایک دوسرے کی مقدور بھر مدد کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ شرق و غرب، دونوں، مختلف سماجی، معاشی و معاشرتی رجحانات رکھتے ہیں جو تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی پس منظر کی وجہ سے ہیں۔ تا ہم اتنا بھی اندھیر نہیں، دونوں خطے ایک دوسرے سے سیکھتے بھی ہیں اور ایک دوسرے پر اثرانداز بھی ہوتے ہیں جس سے عالمی سطح پر متوازن ترقی کی راہیں ہم وار ہوتی ہیں۔ آخر میں مہاتما بدھ کی بات، وہ کہتے ہیں۔ سفر کرو، سورج کی روشنی میں، سورج نہ ہو تو چاند اور ستاروں کی روشنی میں، گھپ اندھیرا ہو تو چراغ یا پھر جگنو کی روشنی میں اور یہ بھی میسر نہ ہو تو دل کی روشنی میں۔
بجھ گئے ہیں چراغ دیر و حرم
دل جلاؤ کہ روشنی کم ہے
ہم ابتدا میں بات کر رہے تھے پنگا لینے کی، جس کے لئے انتظار فرمائیے اگلی قسط کا، تب تک خدا حافظ۔


