کیا بیٹیاں پرایا دھن ہوتی ہیں؟
میری بیٹی نے ایف ایس سی پاس کیا تو خواہش ظاہر کی کہ وہ میڈیکل میں داخلہ لینا چاہتی ہے اور وہ بھی سیلف فنانس کے تحت کیونکہ میرٹ پر داخلہ مشکل تھا۔ اس وقت میرے مالی حالات بہت کمزور تھے۔ تنخواہ صرف بیس ہزار روپے اور پردیس میں سات بچوں کے ساتھ رزق حلال میں گزارا کر نا بے حد مشکل تھا۔ ایسے میں اس وقت ڈھائی لاکھ سالانہ کی فیس ادا کرنا جوے شیر لانے کے مترادف تھا۔ اکثر دوستوں اور عزیزوں نے مشورہ دیا کہ بھائی! بیٹا ہوتا تو کوئی اور بات تھی چلو بڑھاپے کا سہارا اور بازو تو بنتا۔ مگر بیٹیاں تو پرایا دھن ہوتی ہیں اتنا پیسہ لگا کر ڈاکٹر بناؤ گے اور پھر دوسروں کے حوالے کر دو گے؟ میرے والد صاحب تب حیات تھے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا بیٹے اور بیٹی میں کوئی فرق نہیں ہوتا ہے۔ بیٹی کا حق والدین پر بیٹے سے زیادہ ہے بیٹے شادیوں کے بعد تمہیں شاید چھوڑ دیں بیٹیاں قبر تک تمہارا ساتھ دیں گی۔ اور اگر ڈاکٹر بن گئی اور لوگوں کی خدمت کرتی رہیں تو مرنے کے بعد بھی یہ تمہارے لیے صدقہ جاریہ رہے گا۔
جس کا ثواب دنیا اور آخرت میں ملتا رہے گا۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ قیامت کے روز اللہ کے پیارے رسول ﷺ کے ساتھ کھڑے ہو؟ اور پھر اس بارے میں مجھے حضور پاک ﷺ کی حدیث مبارک بتائی تو میں لاجواب ہو گیا اور بیٹی کو اس کی خواہش پر میڈیکل کالج میں داخل کرا دیا۔ اس کے اخراجات کیسے پورے ہوئے یہ ایک الگ کہانی ہے۔ آج وہ ڈاکٹر ہے جس پر مجھے اور میرے خاندان کو فخر بھی ہے۔ اور شاید وہ بیٹوں سے زیادہ ہم والدین کا سہارا بھی ہے۔
پھر ابا جی نے فرمایا بیٹوں میں بازووں کی قوت اور سہارا ڈھونڈنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ کائنات کے عظیم ترین شخص کی وراثت ایک بیٹی کے دامن میں جلوہ افروز ہے اور نصیحت فرمائی کہ بیٹیاں انہیں عطا کی جاتی ہیں جن پر اللہ کی رحمت ہو اور رحمت بوجھ نہیں ہوتی کرم ہوتا ہے۔ اس لیے بیٹوں اور بیٹیوں میں کبھی فرق مت کرنا۔ بے شک بیٹے رب کی نعمت ہیں مگر بیٹیاں دنیا میں رحمت اور آخرت میں دوزخ سے نجات اور جنت کے حصول کا ذریعہ ہوتی ہیں۔
یہ فقرہ بچپن سے ہی بزرگوں اور لوگوں کی زبانی سنتے چلے آئے ہیں جو رفتہ رفتہ ہمارے ذہنوں میں بیٹھ چکا ہے۔ ہمارے معاشرے میں مردوں کے ساتھ ساتھ ہماری خواتین بھی اس فلسفے اور سوچ کی حامل ہیں اور بچی کی پیدائش سے ہی اسے احساس دلا دیا جاتا ہے کہ وہ اس گھر کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ کسی اور گھر جانے کے لیے وجود میں آئی ہے۔ یہاں تک کہ اس سے اظہار محبت کرتے ہوئے بھی یہی سوچ غالب رہتی ہے جو محبت سے زیادہ ہمدردی کا احساس دلاتی ہے کہ بیٹیاں پرائی ہیں اور دوسروں کی امانت ہیں اور ایک دن انہیں اپنے باپ کا عارضی گھر چھوڑ کر پرائے ُ اور مستقل گھر سدھارنا ہے۔ اردو زبان میں پرایا دھن سے مراد کسی دوسرے کا پیسہ یا جائیداد ہونا ہوتا ہے۔ یعنی وہ لڑکی ہے جو دوسرے کے گھر بیاہی جاتی ہے اسے پہلے دن سے ہی پرایا یا پھر مہمان سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ انہیں پرائی امانت اور بوجھ بھی تصور کیا جاتا ہے۔ آخر کیوں بیٹیوں کے بارے میں اس طرح کی باتیں لوگوں کی زبان اور ذہن میں آتی ہیں؟
کیوں ایسا سمجھا جاتا ہے؟ کیا ہم دین اسلام اور شریعت کے احکامات پر غور نہیں کرتے اور ایسی منفی سوچ رکھتے ہیں؟ جب کے ہم خود بھی کسی بیٹی کی اولاد ہیں۔ درحقیقت بیٹیاں نہ تو پرایا دھن ہیں نہ مہمان اور امانت ہیں وہ تو ہمارے کلیجے کا ٹکرا اور ہمارے جسم اور ہمارے گھر کا سب سے اہم حصہ ہوتی ہیں۔ ماں باپ کے لیے نور العین اور قلب کا سکون اور چین ہوتی ہیں۔ جو پیدائش سے اپنی زندگی کے اختتام تک ہمارے سے جڑی رہتی ہیں۔
اولاد اللہ پاک کی نعمت ہے خواہ بیٹا ہو یا بیٹی اصل اولاد کا نیک و صالح ہونا ہے۔ صرف اپنی صنف کی وجہ سے بیٹے کو بیٹی پر کسی قسم کی برتری اور ترجیح حاصل نہیں ہے بیٹوں کی طرح ہماری بیٹیاں بھی ہمارے دکھ سکھ کی ساتھی ہیں اور والدین کی آمدنی اور جائیداد کی شرعی حصہ دار ہوتی ہیں۔ ہمیں ان دونوں کی تعلیم و تربیت کا فرض برابری کی بنیادوں پر انجام دینا ہے۔ کسی کو نیچا یا کمتر دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ والدین کے گھر تو ماں باپ کی عزت ہوتی ہی ہیں بلکہ اپنے سسرال میں بھی جاکر بھی وہ اپنے ماں باپ اور خاندان کی نمائندہ ہوتی ہیں اور ہماری اور اپنے والدین اور خاندان کی عزت و فخر میں اضافہ کا باعث بنتی ہیں۔
ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ فرماتے ہیں کہ عورت کے لیے یہ بہت ہی مبارک ہے کہ اس کی پہلی اولاد لڑکی ہو۔ جس شخص کی بیٹیاں ہوں اسے برا مت کہو کیونکہ میں بھی بیٹی کا باپ ہوں۔ جب کوئی لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اے لڑکی تو زمین پر اتر میں تیرے باپ کی مدد کروں گا۔ جب اللہ تعالی خوش ہوتا ہے تو زمین پر بیٹی پیدا کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے بیٹیوں کو اللہ کی رحمت قرار دیا ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی بیٹیوں کی اس طرح پرورش کرے ان کی اچھی دیکھ بھال کرے اور ان کی شادیاں کریں۔ قیامت کے دن وہ میرے اس طرح قریب ہو گا جس طرح یہ دونوں انگلیاں ہیں۔ آمین! زمانہ جہالت میں بیٹی کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔ قبائلِ عرب میں عورت کے حقوق و احترام کا تصور بھی بے عزتی سمجھا جاتا تھا۔ انسانی تاریخ نے وہ ہولناک منظر بھی پیش کیا جب ایک باپ مفلسی اور کبھی شرمندگی کے خوف سے نومولود بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے اور اس عظیم گناہ پر عمل کرنے سے سکون اور اطمینان محسوس کرتے تھے۔
خاص طور پر قبیلہ مضر، خزاعہ اور بنوتیم کے قبائل میں یہ رواج عام تھا۔ کتنے بے حس اور پتھر دل انسان ہوں گے جو اس حد تک چلے جاتے تھے۔ لاکھوں کروڑوں درود و سلام سرکارِ دوعالم حضرت محمدﷺ جملہ کائنات کے لیے رحمۃ للعالمین ﷺ نے اس عمل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور قرآن کریم میں ان دل سوز واقعات کی منظر کشی یوں کی گئی ہے : اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی (پیدا ہونے ) کی خوشخبری ملتی ہے تو اس کا چہرہ (افسوس کی وجہ سے ) کالا پڑ جاتا ہے اور وہ دکھ سے بھر جاتا ہے۔ (سورۃ النحل 58 ) ۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی بیٹی کی پیدائش کی خبر سن کر مرد ہی نہیں خواتین بھی منہ لٹکا لیتی ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ پاک فرماتے ہیں آیت کا مفہوم ہے کہ ”بیٹی کا سن کر زمانہ جاہلیت کی طرح اپنے منہ سیاہ نہ کر لیا کرو“ میں نے آج کل بھی دیکھا ہے کہ والدین اپنے بیٹے کی شادی تو پورے دھوم دھام سے کرتے ہیں اور سارے ارمان نکالتے ہیں لیکن بیٹی کی شادی کو صرف فرض سمجھتے ہیں معاشرے میں بہت سے لوگ آج بھی بیٹوں کی تعلیم کو فوقیت دیتے ہیں اور اپنا وارث سمجھتے ہیں۔
جبکہ بیٹیوں کو پرایا دھن سمجھ کر جلد از جلد رخصت کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں کسی نہ کسی صورت بیٹیوں کی وراثتی حق تلفی کا سلسلہ جاری ہے جو اس جدید دور میں سوچ کا مقام ہے؟ آج بھی کچھ ماں باپ اپنی جائیداد اپنے بجائے بیٹوں کے نام اپنی زندگی میں ہی کرا دیتے ہیں تاکہ ان کے بعد ان کے بیٹوں کو اپنی بہنوں کو حصہ نہ دینا پڑے۔ اپنے اکاؤنٹ اپنے بیٹوں کے ساتھ مشترکہ کھول لیتے ہیں تاکہ ان کے بعد وہ رقم بیٹے ہی کو مل جائے بیٹیوں کو نہ دینا پڑے۔ نا جانے کیوں کسی کی بیٹی ہونے کے باوجود ماؤں کی ہمدردیاں بیٹوں کے ساتھ کیوں جڑی ہوتی ہیں؟
اب صرف فرق اتنا ہے کہ ہمارے اس معاشرے میں آج بھی کچھ گھرانے اس قسم کی روایتی اور دقیانوسی باتیں کر کے اپنی بیٹی کو اس کی نظروں میں ہی درگور کر دیتے ہیں۔ جس سے وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتیں ہیں۔ ہر قسم کی روک ٹوک ہر جگہ اور ہر طرف سے اسے احساس دلانا کہ تم بیٹی ہو بیٹی بن کے رہو یا تم تو پرایا دھن ہو تمہیں اپنے اصل گھر چلے جانا ہے۔ یہ کام مت کرو وہ کام مت کرو! دراصل ہمیں انہیں تمام شریعت کے احکامات دین دنیا کی تعلیم اور معاشرے کے بدلتے جدید رنگ ڈھنگ سے روشناس کرانا چاہیے۔
روک ٹوک ایسے کریں کہ ان کی ذہنی نشو و نما ہو۔ ایسا نا ہو وہ خود پر ہی اپنا اعتماد کھو دیں۔ بیٹیوں کو اپنے بیٹوں کی طرح اپنی طاقت اور بازو بنانا چاہیے نہ کہ اپنی کمزوری سمجھیں۔ اللہ ہمیں بیٹے اور بیٹیوں کے ساتھ برابری و مساوات کا سلوک روا رکھنے کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ بیٹیاں اللہ کی رحمت ہیں زحمت نہیں اور روز قیامت ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

