ناصر عباس نیر کی میرا جی پر کتاب


Khalid jawed india

ناصر عباس نیر کی حیثیت اردو زبان و ادب میں ایک نابغۂ روزگار کی ہے۔ ہر زبان کو اس امر کا جشن منانا چاہیے جس میں ناصر عباس نیر جیسا اوریجنل اور بلند پایہ ناقد اور بڑا ادیب پیدا ہوا۔ فی زمانہ تو اس جشن کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ زبان و ادب پر بُرا وقت آن پڑا ہے۔ سیکنڈ ہینڈ تخلیقیت اور سستی شہرت کے حصول نے زیادہ تر ادیبوں کے علمی نیز تخلیقی کردار کو آلودہ کر رکھا ہے۔ مجھے اس زمانے میں کسی بھی تنقید نگار کی تحریر میں کوئی بصیرت یا علمی اور تحقیقی انکشاف نظر نہیں آتا اور اگر اب ایک آدھ تنقید نگار کے قلم کے کوئی علمی کارنامہ سامنے آتا بھی ہے تو ناصر عباس نیر جیسے دیو زاد ادیب اور تنقید نگار کی تحریروں کے سامنے اس کی حیثیت کمتر اور مشکوک ہو جاتی ہے۔

دراصل ناصر عباس نیر کی ہر تحریر میں بصیرت کی جو روشنی ہوتی ہے وہ اور کہیں پائی ہی نہیں جاتی۔ یہ ان اندھیروں کو بھی روشن کرتی ہے جہاں اس سے پہلے روشنی گئی ہی نہیں تھی۔ ناصر عباس نیر کی تنقید پڑھ کر ہم نہ صرف اپنے عہد کے علمیاتی ڈسکورس یا کسی ادبی متن کی معنی خیزی تک رسائی حاصل کرتے ہیں، بلکہ ماضی میں لکھی گئی اعلیٰ تنقید کو بھی اس کے تمام تر امکانات کے ساتھ اور ایک نئی علمی روشنی میں پڑھنے اور سمجھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

"میرا جی” پر لکھی گئی یہ عہد ساز کتاب اسی زمرے میں آتی ہے۔ اسے محض ایک اہم ادبی و تنقیدی کتاب کہنا ناانصافی پر محمول ہوگا۔ یہ ان تصانیف میں سے ایک ہے جو اپنے عہد اور اپنے عہد سے پہلے کے ادبی، علمی، ثقافتی اور تنقیدی و تحقیقی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیتی ہیں اور ہمارے وژن اور فکر میں اچانک حیرت انگیز طور پر اضافہ کرتی ہیں اور کبھی کبھی تو اسے پلٹ کر ہی رکھ دیتی ہیں۔ میرا جی پر لکھی گئی یہ کتاب ایسی ہی کتاب ہے جسے پڑھنے کے بعد ہماری اخلاقی سوچ اور فکر و کردار میں ایک تبدیلی آنا ناگزیر ہے۔ کوئی بھی کتاب اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں کر سکتی۔ آسمانی صحیفے بھی اس سے بڑھ کر اور کیا کر سکتے تھے؟

ناصر عباس نیر نے اس کتاب کا مقدمہ ’میرا جی کون تھے‘ کے عنوان سے لکھا ہے۔ یہ اتنا پر مغز اور وقیع مقدمہ ہے جس کی مثال دور دور تک نہ ملے گی۔ تقریباً بانوے صفحات پر مشتمل اس مقدمے کو میرا جی پر لکھی ہوئی ایک مکمل کتاب بھی کہا جا سکتا ہے۔ جب کہ باقاعدہ کتاب پانچ ابواب پر مبنی ہے۔ ناصر عباس نیر نے اس مقالے میں بصیرتوں کی نئی نئی روشنیاں بکھیری ہیں اور میرا جی کی شخصیت کے بارے میں جو مغالطے چلے آ رہے ہیں، ان کو اپنی خداداد علمی صلاحیت اور وسیع مطالعے کے باوصف اتنے منطقی مگر فطری انداز میں دور کیا ہے کہ بے اختیار دل سے واہ نکلتی ہے۔

میں واضح کر دوں کہ میں کسی بھی علمی، ادبی اور تنقیدی فن پارے کو تخلیقی فن پارے کے مقابلے میں دوسرے درجے کی ادبی سرگرمی نہیں سمجھتا ہوں، بلکہ میں تو اس قسم کی تحریروں کو ایک طرح کا Literary Activism سمجھتا ہوں۔ اس لیے ’واہ‘ میرے دل سے صرف کوئی عمدہ شعر پڑھ کر یا افسانہ پڑھ کر ہی نہیں نکلتی ہے، بلکہ کوئی اعلیٰ ادبی مضمون پڑھ کر بھی نکلتی ہے۔ ناصر عباس نیر کا یہ مقدمہ مجھے Literary Activism کی بہترین مثال نظر آتا ہے۔

یہ اصطلاح ہندوستان کے جدید اور نامور انگریزی ناول نگار امیت چودھری نے رائج کی ہے۔ ادیبوں کے بارے میں مختلف آرا اور مضامین چاہے وہ سوانحی ہوں یا تحقیقی اور تنقیدی، انٹرویوز، خاکے، خطوط اور ڈائریوں کا ایک دقیق مطالعہ اور اس سے منسلک دوسرے علمی ڈسکورس اور ان کے ذریعہ اخذ شدہ نتائج پر معروضی غور و خوض Literary Activism کے زمرے میں آتا ہے۔ یعنی کسی ادیب کو سمجھنے کے لیے محض اور محض اس کے متن پر موضوعی یا معروضی مضمون لکھ مارنا ہی کافی نہیں ہے۔

ادیب اور اس کی تحریروں کو بطور ایک ’’کُل‘‘ اس کی سالمیت میں گرفت میں لینا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ ناصر عباس نیر نے ’میرا جی کون تھے‘ میں میرا جی کو ان کی سالمیت میں سمجھا ہے اور اس سے پہلے اردو کے کسی نقاد نے یہ کوشش نہیں کی۔ یہ سہرا ناصر عباس نیر کے سر جاتا ہے کہ انھوں نے ہمارے سامنے پہلی بار ایک سچے میرا جی کی تصویر پیش کی ہے۔ یہ تصویر بالکل نئی ہے اور اس میں اتنی چمک ہے کہ آنکھیں چندھیا جائیں۔

ناصر عباس نیر، ثناء اللہ ڈار سے میرا جی بننے کے مراحل کو ایک کے بعد ایک جس تفصیل اور باریک بینی کے ساتھ بیان کرتے ہیں، وہ خاصے کی چیز ہے۔ میرا جی کو اب تک ہم صرف میرا سین کے حوالے سے جانتے تھے ، لیکن ناصر عباس نیر ہمیں پہلی بار یہ بتاتے ہیں کہ یہ نام ہندوستان کی مشہور کرشن بھگتی شاعرہ ’میرا بائی‘ سے ذہنی اور قلبی لگاؤ کے باعث اختیار کیا گیا تھا۔ اور ایک نسوانی نام رکھنے کا سبب میرا جی کے اندر Anima یعنی نسائی آرکی ٹائپ کا موجود ہونا تھا۔ یہ پوری بحث پڑھنے کے لائق ہے اور ہمیں ناصر عباس نیر کے علمی، تاریخی اور ثقافتی مطالعے کی داد دینی ہوتی ہے۔ فی زمانہ برصغیر کے کسی بھی اردو نقاد کے بس کی یہ بات نہیں۔ اس مقدمے کی ایک ایک سطر میں نئی روشنی ہے جو محض اندھیروں کو ہی نہیں روشن کرتی بلکہ پرانی روشنیوں کو بھی پھیکا کر دیتی ہے۔

ناصر عباس نیر کی یہ بات بھی درست ہے کہ میرا جی جسم و ذہن کی ثنویت (Dualism) میں یقین رکھتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ ذہنی زندگی جسمانی زندگی سے نہ صرف افضل ہے بلکہ جسم، ذہن کے عیشِ تخلیق کا متحمل ہو سکتا ہے۔ انھوں نے صوفیوں اور رشیوں کی مانند جسم کو تکلیفیں نہیں پہنچائیں تھیں، البتہ اسے بری طرح نظر انداز یا یوں کہیں کہ بے دریغ خرچ کیا تھا۔ اس روش کے نتیجے میں میراجی کو تباہ ہونا ہی تھا! ناصر عباس نیر وہ پہلے نقاد ہیں جنھوں نے اس امر پر بہت تفصیل سے گفتگو کی ہے۔

سرسری طور پر تو میرا جی کے بارے میں اس قسم کی باتیں کی ہی جاتی رہی ہیں۔ یہاں تک کہ بعض حضرات نے میرا جی کا رشتہ ملامتی صوفیوں سے بھی جوڑا ہے۔ اگر کسی کو محض اس کی سادگی اور سچائی اور ایمانداری کے سبب صوفی کہا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں، لیکن اگر کسی کو صوفیوں کے کسی باقاعدہ ادارے یا اسکول سے منسلک کرایا جائے تو یہ امر نہ صرف مضحکہ خیز ہوگا بلکہ خطرناک قسم کے مغالطے پیدا کرنے کا بھی سبب بنے گا۔ ناصر عباس نیر کا کمال ہی یہ ہے کہ میرا جی پر لکھتے وقت وہ نہ تو کہیں جذباتی ہوتے ہیں اور نہ ہی ایسا کوئی بھی جملہ لکھتے ہیں جس کے ڈانڈے رومانوی یا تاثراتی تنقید سے جا کر ملتے ہوں۔

میراجی کے حوالے سے روح اور جسم کی ثنویت پر انھوں نے جو نظریہ پیش کیا ہے وہ بے حد اہم ہے اور میرا جی کی شخصیت اور ان کی شاعری کو نئے سِرے سے سمجھنے کے لیے ایک نیا در وا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ میرا جی کی روح کی تنہائی کی بات کرتے ہیں اور پھر اس حوالے سے میرا جی کے جسم کی گندگی اور لاپرواہی ، صفائی کا خیال نہ رکھنا اور ان کے عجیب و غریب حلیے یا لباس وغیرہ کو ان کی روح کی ازلی تنہائی سے منسلک کر کے دیکھتے ہیں۔

یہ نکتہ بہت اہم ہے، مگر اس امر کی سچائی تک پہنچنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس لیے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ میرا جی کی روح کی بھیانک تنہائی اور اپنے وجود میں خلا کا دہشت آمیز وجودی احساس، ان کے جسم کو متاثر نہ کرتا۔ ناصر عباس نیر نے بجا طور پر جسم کو انسانی شخصیت کی اہم ترین حقیقت کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ قدیم ہندوستانی فلسفے میں ’چارورک‘ کا فلسفہ مکمل طور پر مادی ہے اور وہ خدا اور روح دونوں کے وجود سے انکار کرتا ہے۔

روح، ذہن، شعور، دل یا من یہ آپس میں مترادف ہیں۔ جدید نفسیات نے جب فلسفے کی مابعد الطبیعیات سے خود کو الگ کر لیا تو یہ چیزیں اور بھی صاف ہو کر سامنے آ گئیں۔ کہنے کا مطلب یہ کہ انسان روح اور جسم کا ملغوبہ ہے۔

میرا جی کے تخلیقی عمل میں ان کے پراسرار ذہن کی کارفرمائی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی تھی۔ اسی لیے جسم کے ظاہری تقاضے ان کے لیے غیر اہم بن گئے تھے۔ ناصر عباس نیر کا یہ نکتہ بھی بہت اہم ہے کہ جسم کے متعلق اخلاقی تصورات کا برصغیر کے مذاہب سے تعلق نہیں تھا اور یہ سب نو آبادیاتی حکمرانوں نے متعارف کروائے تھے۔

میرا جی اپنے نفسیاتی کومپلیکس سے واقف تھے۔ اسی لیے وہ سائیکو تھراپی شاک کے لیے راضی نہ تھے۔ انھیں معلوم تھا کہ اگر ان کے Complexes ختم ہو گئے تو ان کا تخلیقی سوتا بھی خشک ہو جائے گا اور وہ کچھ نہ لکھ سکیں گے۔ تخلیقی وفور و عمل کو اس درجہ اہمیت دینے والا شخص آخر شعوری طور پر جسم کو کیسے سنبھال سکتا تھا۔

ناصر عباس نیر نے میرا جی کے بارے میں سب سے بڑے مغالطے کو بھی دور کرنے کی کامیاب سعی کی ہے یعنی یہ کہ میرا جی کی شاعری جنس زدہ ہے۔ ناصر عباس نیر نے اس اہم امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ شاعری میں جنس کی نمائندگی اور شاعر کا جنس زدہ ہونا دو مختلف باتیں ہیں۔ دراصل ہمارے معاشرے میں اور خاص طور سے برصغیر میں نو آبادیاتی حکومت کے بعد سے جنس کو ہمیشہ ایک گندی اور ناپاک (Profane) چیز سمجھا گیا ہے۔ عیسائی مذہب اور دوسرے مذاہب نے بھی پاک اور ناپاک (Sacred and Profane) کی ایک فہرست بنا رکھی تھی۔ ممنوعہ حدود کو پار کرنا، ممنوع کی نفی کرنا نہیں ہے، نہ ہی اسے رد کرنا ہے، بلکہ ممنوع سے ماورا ہونا اور اسے مکمل کرنا ہے۔

میرے خیال میں میرا جی کی شخصیت، ان کی گندگی، ان کی جنسیت اور ان کی شاعری کو اس روشنی میں بھی دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ میرا جی کا کوئی تعلق ناپاک (profane) سے نہیں ہے، بلکہ وہ تو نام نہاد ’ممنوع‘ کے ماورا جا کر اسے تکمیل کی حد تک پہنچا رہے ہیں۔ ناصر عباس نیر کا موقف اور منشا بھی یہی ہے اور یہ بصیرت میرا جی کے حوالے سے پہلی بار اردو میں سامنے آئی ہے۔ میں ناصر عباس نیر کی جتنی بھی تعریف کروں، کم ہے۔

میراجی کی نام نہاد جنسیت بلکہ مریضانہ جنسیت اور جنسی کج روی کا ایک ثبوت یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ وہ جلق لگاتے تھے۔ ناصر عباس نیر نے اس کا بھی کرارا جواب دیا ہے جو پڑھنے اور سمجھنے کے لائق ہے۔ جہاں تک جلق کا سوال ہے تو اب یہ عمل فطری مانا جا چکا ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ Taboos توڑے جا چکے ہیں اور ’پاک‘، ’ناپاک‘ یا ’گندا‘ کے درمیان کی پرانی حدود ختم ہو گئی ہیں۔ اگرچہ یہ اپنے اپنے کلچر اور تہذیبی منظرنامے میں جگہ جگہ، کچھ معاملات میں ابھی بھی موجود ہو سکتی ہیں۔

بہرنوع اس بات سے قطع نظر کہ یہ اخلاقی فعل ہے یا غیراخلاقی، بقول ناصر عباس نیر میرا جی نے کبھی اپنے کسی بھی خط میں قریبی دوستوں سے جلق زنی کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی نمائش کی۔ ممکن ہے یہ محض افواہ ہو ، لیکن اگر سچ بھی ہو تو ان کے اس نجی عمل سے کبھی کسی دوسرے کو نقصان نہیں پہنچا۔

اس لیے اس قسم کے بے بنیاد الزامات جن کا کوئی تعلق نہ تو ان کی شاعری سے ہے اور نہ ہی ان کی شخصیت سے، سرے سے رد کیے جا سکتے ہیں۔ ناصر عباس نیر کا کمال یہی ہے کہ انھوں نے نام نہاد اخلاقی ٹھیکے داروں اور منافقوں کو ایک کے بعد ایک کرارا جواب دیا ہے اور ان کا ہر جواب مدلل ہے اور بھرپور ہے۔ اس مقدمے سے خود ناصر عباس نیر کی ذہنی آزادی، گہری علمی بصیرت اور بڑے وژن کا بھی سراغ ملتا ہے۔ ان کا ذہن ہر قسم کے اخلاقی، مذہبی اور علاقائی یا مسلکی تعصب سے پاک ہے اور ان کا قلم انصاف اور سچائی کو سامنے لانے کے لیے بہت بے باک ہے۔ یہ اوصاف موجودہ دور میں کسی ایک ہی ادیب اور مفکر میں جمع ہوتے میں نے اور کہیں نہیں دیکھے۔

میرا بائی کے بھگتی گیت اور بھجن کے علاوہ میرا جی ودّیا پتی اور چنڈی داس سے بھی متاثر تھے۔ ودّیا پتی چودھویں صدی کے سنسکرت شاعر تھے۔ کرشن اور رادھا کی راس لیلا پر انھوں نے جو گیت لکھے ہیں ان میں ارضیت اور جنسیت بہت ہے۔ محبت میں جسمانی قربتیں اور ان کے مختلف انداز ودّیا پتی کے گیتوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بنگال سے ذہنی قربت کا ایک سبب چودھویں صدی کے بنگالی شاعر چنڈی داس سے بھی میرا جی کی دلچسپی ہے۔ چنڈی داس نے بھی رادھا اور کرشن کی محبت پر گیت لکھے ہیں اور ان میں بھی کوئی خیالی محبت نہیں بلکہ جسمانی محبت کے نمایاں عناصر پائے جاتے ہیں۔

ودّیا پتی اور چنڈی داس، دونوں پر میرا جی نے عمدہ مضامین لکھے ہیں۔ میرے خیال میں میرا جی کے ذہن اور شاعری کے مزاج کو سمجھنے کے لیئے ان دونوں شاعروں کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ بقول ناصر عباس نیر ’میرا جی ان شاعروں کی ذہنی آزادی کے قائل نظر آتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں‘۔ ناصر عباس نیر نے بالکل ٹھیک لکھا ہے کہ اردو میں اگر میرا جی کا کوئی رشتہ کسی شاعر سے جوڑا جا سکتا ہے تو وہ میر تقی میرؔ ہیں ، بالخصوص میرؔ کی مثنویوں کے حوالے سے یا پھر سب سے زیادہ نظیر اکبر آبادی سے۔ اور ہاں بے شک غالبؔ کے تعقل سے بھی۔

ناصر عباس نیر نے جس وجودی تنہائی کی بات کی ہے وہ بھی بہت اہم ہے۔ ایڈگر ایلن پو سے متاثر ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پو کے یہاں ایک قسم کا دہشت آمیز اسرار پایا جاتا ہے جو کبھی کبھی Horror سے بھی اپنا رشتہ استوار کر لیتا ہے۔ یہ Horror کوئی عام سے بھوت پریت سے متعلق نہیں ہے، یہ وجود کے تاریک نہاں خانوں میں رینگتا ہوا خوف یا دہشت ہے۔ اسے وجودیت کی ایک اہم جہت کہا جاسکتا ہے۔ سنسکرت شاعری کے نظریہ رس میں تو ’’بھیانک‘‘ (Horror) کو ایک اہم رس کی حیثیت حاصل ہے۔

اسرار ہمیشہ ایک وجودی دہشت کو پیدا کرتا ہے۔ میرا جی کی شاعری میں یہ وجودی دہشت جو ان کی روح کی تنہائی کے بطن سے پیدا ہوتی ہے، جگہ جگہ اپنی جھلک دکھاتی ہے۔ میرا جی کی شخصیت میں بھی ایک قسم کا اسرار تھا، جس کے بھید پوری طرح شاید کبھی نہ کھل سکیں۔ مجھے تو بودلیئر کی شاعری میں بھی ایک پراسرار عنصر محسوس ہوتا آیا ہے، کوئی ایسی چیز جو ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی پھیلا دیتی ہے۔ بہرحال یہ تو ایک جملۂ معترضہ تھا۔

یہی اسرار میرا جی کی شاعری میں بطور ابہام موجود ہے۔ میرا جی ابہام جیسی جدید اصطلاح کا موازنہ کلاسیکی شاعری کی اصطلاح ’اغلاق‘ سے کرتے ہیں ۔ وہ اغلاق کا مفہوم (چیستاں) لیتے ہیں اور ارادی اور غیرارادی ابہام میں فرق کرتے ہیں اور ارادی ابہام کو مسترد کرتے ہیں ۔ شمیم حنفی نے میرا جی کے ایک مصرعے کی مثال دیتے ہوئے بہت عمدہ بات کہی ہے۔ میرا جی کا وہ مصرعہ یہ ہے:

پربت کو ایک نیلا بھید بنایا کس نے؟دوری نے

شمیم حنفی لکھتے ہیں:

’’انسان بجائے خود ایک بھید ہے اسی لیے شاعری بھی کبھی کبھی بھول بھلیاں بن جاتی ہے۔ تخلیقی عمل کے بھید کو پانے کے لیے قاری کو ذہنی لسانی اور وجدانی سطح پر شعری اظہار اور اپنے مابین دوریوں کو مٹانا پڑے گا۔ بہ صورتِ دیگر زندگی کا ایک اصول بہت واضح اور ’’ابہام‘‘ سے خالی ہے کہ دنیا کی ہر بات ہر شخص کے لیے نہیں ہوتی۔‘‘

ایڈگر ایلن پو نے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ قطعیت کا فقدان ہی سچی شاعرانہ موسیقی کا جزو ہے۔ میرا جی کے بارے میں ایک یہ الزام بھی گردش کرتا رہا ہے کہ ان کے یہاں اظہار میں قطعیت کا فقدان ہے، جسے اظہار کی ناکامی کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں بہت عمدہ اور اہم نکتہ شمس الرحمان فاروقی نے اٹھایا ہے۔ اپنے مضمون ’یٹس، اقبال اور ایلیٹ: مماثلت کے چند پہلو‘ میں وہ لکھتے ہیں:

’’ان تینوں کے یہاں اظہار کی ناکامی کے علاوہ فکر و فہم کی ناکامی کا بھی احساس ہے۔ اگر یہ احساس نہ ہوتا تو ان تینوں کی شاعری بہت کم قیمت ٹھہرتی۔ کم قیمت اس لیے کہ شاعری انسانی فکر و احساس کے مکمل مظہر کی حیثیت سے اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب شاعر ہم سے انسان کی سطح پر گفتگو کرے، پیغمبر یا دیوتا کی سطح پر نہیں۔‘‘

ناصر عباس نیر کی یہ کتاب پہلی بار ایک اصل میرا جی کی تصویر پیش کرتی ہے۔ اس سے بڑا کام میرا جی کے لیے اور کیا ہو سکتا تھا؟

آخر میں مجھے میرا جی اور ناصر عباس نیر کے بارے میں سوچتے ہوئے ایک بات یاد آ گئی۔ ظاہر ہے کہ یہ موازنہ بہت مناسب تو شاید نہیں ہے مگر میرے دل میں بے اختیار یہ خیال آیا کہ جس طرح ژاں پار سارتر نے ژاں ژینے کے حق اور مدافعت میں Saint Genet نام کی عہد آفریں کتاب لکھی تھی بالکل اسی طرح ناصر عباس نیر نے میرا جی پر ’اس کو ایک شخص کہنا تو مناسب ہی نہیں‘ جیسی عہد آفریں کتاب لکھی ہے۔ میرا جی اور ژاں ژینے میں یوں تو کوئی مماثلت تلاش کرنا دور کی کوڑی لانا ہوگا مگر ایک بات تو دونوں میں مجھے مشترک نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ یہ دونوں ایک طرح سے Out Casted تھے۔

ژاں ژینے بہت زیادہ، اور محدود اور ادبی معنی میں میرا جی۔ سارتر نے ژاں ژینے کو Saint کا خطاب اسی لیے دیا تھا کہ وہ Out Casted تھا اور اپنی بے راہ روی، چھوٹے موٹے جرائم اور ہم جنسیت نیز جنسی کج روی کے لیے اسے بہت ذلت اٹھانی پڑی تھی۔ مگر وہ جس پائے کا فکشن نگار اور ڈرامہ نویس تھا اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ سارتر نے جس طرح ژاں ژینے کے اندر چھپے ہوئے غیرمعمولی تخلیقی ذہن اور اس کی اداس اور تنہا روح کو محسوس کیا تھا، اسی طرح ناصر عباس نیر نے میرا جی کو محسوس کیا ہے۔

جس طرح ژاں ژینے کو سارتر مل گئے تھے، اسی طرح میرا جی کو ناصر عباس نیر مل گئے ہیں۔ بس افسوس یہ ہے کہ سارتر نے ژاں ژینے کی زندگی میں ہی ان پر یہ کتاب لکھی تھی مگر میرا جی کو یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوا کہ ان پر بھی ایک ایسی عہد ساز کتاب لکھی گئی ہے جو ادیب دیانت داری، معروضیت، انسان دوستی اور ایماندارانہ تنقید کی بہترین مثال ہے۔ یہ ایک ایسی غیرمعمولی کتاب ہے جو میرا جی کی شاعری اور شخصیت کی ایک نئی تشکیل پیش کرتی ہے اور ہمارے ذہنوں پر پڑے ہوئے مدتوں پرانے جالوں کو لمحے بھر میں ہی جھٹک کر صاف کر دیتی ہے۔ ایسی کتابیں روز روز نہیں لکھی جاتی ہیں۔ اس کتاب کا شائع ہونا ایک بڑا ادبی واقعہ ہے۔

میں عرشیہ پبلی کیشنز کے مالک اور اپنے عزیز دوست اظہار احمد ندیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور انھیں بھی مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے اس کتاب کا ہندوستانی ایڈیشن شائع کر کے ایک واقعتاً بڑا ادبی فریضہ انجام دیا ہے۔

(خالد جاوید جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے شعبۂ اردو سے وابستہ ہیں۔)

Facebook Comments HS

خالد جاوید، انڈیا

خالد جاوید صاحب جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں اردو کے پروفیسر اور ایک معروف ناول نویس ہیں جن کے ناول نعمت خانہ کو بھارت کا اعلیٰ ادبی اعزاز JCB Prize برائے ادب مل چکا ہے

khalid-jawed-india has 4 posts and counting.See all posts by khalid-jawed-india