ناصر عباس نیر کی میرا جی پر کتاب

ناصر عباس نیر کی حیثیت اردو زبان و ادب میں ایک نابغۂ روزگار کی ہے۔ ہر زبان کو اس امر کا جشن منانا چاہیے جس میں ناصر عباس نیر جیسا اوریجنل اور بلند پایہ ناقد اور بڑا ادیب پیدا ہوا۔ فی زمانہ تو اس جشن کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ زبان و ادب پر بُرا وقت آن پڑا ہے۔ سیکنڈ ہینڈ تخلیقیت اور سستی شہرت کے حصول نے زیادہ تر ادیبوں کے علمی نیز تخلیقی کردار کو آلودہ

Read more

غروب شہر کا وقت: کتاب پر تبصرہ

اسامہ صدیق کا ناول ”غروب شہر کا وقت“ پڑھنے کے دوران مجھے بار بار یہ احساس ہوتا رہا جیسے میں بلندی سے نیچے جانے والی سیڑھیاں ایک کے بعد ایک طے کرتا جا رہا ہوں۔ سیڑھیاں جو جگمگاتی ہوئی زمین پر نہیں بلکہ کسی لامتناہی اندھیرے میں اتر رہی ہوں۔ زوال کے اصل معنی شاید یہی ہوتے ہیں۔ ایک شہر جو ثقافتی اور اخلاقی اعتبار سے ڈوبنے کے بعد اقدار کی ٹوٹی پھوٹی ہڈیوں پر تعمیر ہو رہا ہے۔ لاشیں

Read more

نئے نقاد کے نام خطوط (ایک غیر رسمی گفتگو)

ناصر عباس نیر کا شمار ہمارے عہد کے اہم ترین ناقدین میں ہوتا ہے۔ Literary تھیوری اور مابعد جدیدیت بالخصوص پوسٹ کلونیل ڈسکورس کو اردو میں باقاعدہ متعارف کرانے اور اسے وسیع پیمانے پر مقبول کرنے میں صرف ان کا ہی رول ہے اور کسی کا نہیں۔ ناصر عباس نیر بہت عمدہ افسانہ نگار ہیں اور میں ان کے افسانے ’اوراق‘ کے زمانے سے پڑھتا چلا آ رہا ہوں۔ ابھی حال ہی میں ان کے افسانوں کا مجموعہ ”راکھ سے

Read more

اس نے کہا تھا: اردو کا پہلا پوسٹ ماڈرن ناول

اشعر نجمی کے ناول ’اس نے کہا تھا‘ کو پڑھتے وقت مجھے بار بار شہرۂ آفاق چیک ناول نگار میلان کنڈیرا کی یاد آتی رہی۔ اس لیے نہیں کہ اس ناول کی مطابقت میلان کنڈیرا کے کسی ناول سے ہے بلکہ اس لیے کہ میلان کنڈیرا کے ناول پر لکھی اپنی تحریروں میں ناول کی فنی خوبیوں پر جو گفتگو کی ہے، اس کا عکس اشعر نجمی کے ناول میں حیرت انگیز طور پر نظر آتا ہے۔ میلان کنڈیرا کی

Read more