مگس، پروانہ اور امریکہ
مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو
کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا
سنا ہے آج کل یہ شعر امریکہ میں بچے بچے کی نوکِ زبان پر ہے۔ خاص طور پر واشنگٹن کے ایلیمنٹری اسکول کے اطفالِ گریزپا تو لہک لہک کر یہ شعر گنگناتے ہیں۔ ہم بھی لڑکپن سے یہ شعر سنتے آئے ہیں لیکن ایک مدت تک یہ معما حل نہ کر پائے کہ آخر مگس کو باغ میں جانے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ چلو، بچوں کی تو باغ میں داخلے پر ممانعت سمجھ میں آتی ہے کہ وہ وہاں کچے آموں کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور بعد ازاں پکڑے جانے پر مالی کے ہاتھوں زد و کوب کا نشانہ بنتے ہیں۔ ارے، ہم تو اپنے سینے کے داغوں کی نمائش کرنے لگے ہیں اور جو دل پر گزری ہے، رقم کرنے لگے ہیں۔
یادش بہ شر، ایک روز ہم دوستوں کے ہم راہ اسکول سے چھٹی کے بعد گھر واپس آ رہے تھے۔ ہم ہمیشہ راہِ راست پر سفر کرتے ہیں لیکن اس روز خیال آیا کہ چوتھی کھونٹ بھی جانا چاہیے، کب تک مینڈک کی طرح ایک ہی کنویں میں تیرتے رہیں گے، سمندروں کے بلاوے پر بھی کان دھرنا چاہیے۔ کچھ اس قسم کے خیالات تھے جو ہم سب دوستوں کے دلوں میں بیک وقت پیدا ہو رہے تھے۔ تبادلۂ خیال کے بعد یہ طے پایا کہ راستے میں جو باغ پڑتا ہے، وہاں سیرِ گل کرنی چاہیے۔
سو، ہم سب دیوار پھلانگ کر باغ میں داخل ہو گئے۔ وہاں کچھ اور ہی نظارہ تھا۔ رنگِ گل سے آگ لگ رہی تھی۔ سرو و صنوبر ساتھ ساتھ پھر رہے تھے۔ شمشاد سوچ میں گم کھڑا تھا۔ کہیں جامن اور شہتوت کے اشجار تھے۔ ایک جانب آم کے درختوں کا جھنڈ دکھائی دیا۔ قریب پہنچے تو ہر شاخ پر آم لٹکتا نظر آیا۔ یوں لگا جیسے وہ آم زبانِ حال سے کہہ رہے ہوں :ہم تھک بھی گئے لٹک لٹک کر۔ خدا کے لیے ہمیں نیچے اتارو، چناں چہ ہم سب ان آموں کو بحفاظت نیچے اتارنے کے لیے درختوں پر چڑھ دوڑے۔
ابھی ہم نے چند آم ہی توڑے تھے کہ زمیں سے آنے لگی صدا۔ معلوم ہوا کہ مالی کی صدا ہے اور وہ ہم سے نیچے اترنے کی گزارش کر رہا ہے۔ یہ آواز سن کر دوستوں نے تو درخت سے چھلانگیں لگا دیں اور بھاگ کھڑے ہوئے لیکن ہم نے ایسا ہرگز نہ کیا۔ ہم نہایت متانت سے درخت سے نیچے اترے اور مالی سے تشریف آوری کا سبب دریافت کیا۔ جواب میں اس کا رویہ کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہ تھا۔ اس نے نہ صرف ہماری شان میں گستاخی کی بلکہ دھول دھپا بھی شروع کر دیا۔
ہم نے بار بار درخواست کی: ”حضور آہستہ آہستہ، جناب آہستہ آہستہ“ مگر اس کی رفتارِ کار میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ پھر جانے کیا ہوا۔ ہمیں صرف اتنا یاد ہے کہ ہم باغ میں دوڑ رہے تھے اور وہ وحشی مالی ہمارے پیچھے بھاگ رہا تھا لیکن ایک ادھیڑ عمر کا مالی، ایک چاق و چوبند لڑکے کا آخر کب تک تعاقب کرتا۔ وہ ہماری گرد کو بھی نہ چھو سکا اور ہم دیوارِ گلستان سے نیچے اتر چکے تھے۔
اوّل اوّل ہم نے شعرِ مذکورہ استادِ رشید سے سنا تھا جب وہ میٹرک میں، اردو زبان و ادب کی تدریس کے لیے پہلی بار کمرۂ جماعت میں تشریف لائے تھے۔ انہوں نے چاک سے بلیک بورڈ پر یہ شعر لکھا اور سب طلبہ سے اس کا مفہوم دریافت کیا۔ یاں یہ شرم آن پڑی تھی کہ کسی کو ”مگس“ کے معنی تک معلوم نہ تھے۔ جب کافی دیر گزر گئی اور کہیں سے کوئی جواب موصول نہ ہوا تو ان کے چہرے پر عالمانہ وقار اور فاتحانہ شان کی مشترکہ چمک پیدا ہوئی اور انہوں نے کمال علم پروری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ”مگس“ کے معنی ارشاد کیے کہ شہد کی مکھی کو کہتے ہیں۔ شعر کا مفہوم پھر بھی واضح نہ ہوا اور وہ تمام سال روزانہ عالمانہ وقار اور فاتحانہ شان کے ساتھ ہمارا امتحان لیتے رہے۔ میٹرک میں جس روز ان کی آخری کلاس تھی، انہوں نے عقدۂ شعر کو حل کیا اور ہمیں ذہنی مخمصے سے آزاد کیا۔ جا تجھے ”کشمکشِ شعر“ سے آزاد کیا۔
اس بار گرمی کی لہر نے سب کو بھون کے رکھ دیا ہے۔ میاں نجار بھی چھیلے گئے ساتھ۔ ابراہام لنکن بھی پگھل کے رہ گئے ہیں۔ آپ ہم کس باغ کی مولی ہیں۔ ابراہام لنکن کوئی عام آدمی نہ تھے۔ اپنے زمانے کے مشہور پہلوان تھے۔ امریکہ کے صدر تو وہ بعد میں بنے اور آج تک ان جیسا طویل قامت صدر امریکہ میں نہیں آیا۔ واقعہ یہ ہے کہ واشنگٹن کے ایک ایلیمنٹری اسکول کے سبزہ زار میں ابراہام لنکن کا موم کا مجسمہ نصب کیا گیا تھا تاکہ طلبہ ”دیدۂ عظمت نگاہ“ سے اسے دیکھیں۔
یہ قدِ آدم مجسمہ جسے کرسیٔ صدارت پر جلوہ افروز دکھایا گیا تھا ایک مقامی فن کار سینڈی ولیمز نے تیار کیا تھا۔ ابھی یہ مجسمہ چند ماہ کا نوزائیدہ ہی تھا کہ موسم تبدیل ہو گیا۔ پالا اڑنت ہوا اور گرمی پڑنے لگی۔ اتنی گرمی پڑی کہ اکبر کے بقول کسی پر ”اپریل، مئی، جون“ کہہ کر پھونک دیں تو اس کے جسم پر آبلے پڑ جائیں۔ مجسمہ تو پھر موم کا تھا۔ پہلے ابراہام لنکن کا سرِ پر غرور ڈھلکا اور پھر ٹانگوں نے پگھلنا شروع کر دیا۔
فوری طور پر مجسّمے کو ابتدائی طبی امداد دی گئی ہے مگر مشکل ہے کہ وہ گرمی کی تاب لا سکے۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ پلاؤ کھائیں گے احباب، فاتحہ ہو گا یعنی آخرکار مجسّمے سے موم بتیاں بنائی جائیں گی اور کسی سوگوار موقعے پر جب انہیں روشن کیا جائے گا تو پروانے اڑتے چلے آئیں گے، شعلے میں جل کر خاک ہوں گے اور یوں ان پروانوں کا ناحق خون ہو گا۔ سنا ہے آج کل ایک شعر امریکہ میں بچے بچے کی نوکِ زبان پر ہے، خاص طور پر واشنگٹن کے ایلیمنٹری اسکول کے اطفالِ گریزپا تو لہک لہک کر وہ شعر گنگناتے ہیں۔ ہمیں حیرانی ہے اردو زبان کا یہ شعر امریکہ کے اسکول میں کیسے پہنچا۔ شعر مرا بہ مدرسہ کے برد؟ ہمیں تو یہ لگتا ہے کہ کسی نے گپ ہانکی ہے، افسانہ طرازی کی ہے، زیبِ داستاں کے لیے بڑھا دیا ہے۔

