بائیڈن کی دست برداری

جو بائیڈن صدارتی الیکشن میں امیدواری کے منصب سے دستبردار ہو گئے ہیں امریکی تاریخ میں پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے۔ اب یہ 55 سال کے بعد ہوا ہے کہ کسی صدر نے دوبارہ الیکشن میں حصہ نہ لیا ہو۔ امریکی صدارتی الیکشن کے لیے ڈیموکریٹس کے امیدوار اور موجودہ صدر جو بائیڈن ساتھیوں کے دباؤ اور تنقید کے پیش نظر صدارتی انتخاب کی دوڑ سے دستبردار ہوئے۔ آخری بار 1968 میں امریکی صدر لنڈن جانسن نے محض ایک سال صدر رہنے کے بعد عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا تھا۔ یہ امریکی تاریخ کا ایک مشکل سال تھا کیونکہ اس سال امریکا میں سیاسی بحران انتہا پر اور پرتشدد واقعات بھی تواتر کے ساتھ رونما ہو رہے تھے۔ جانسن کے بعد صدارت کے لیے اس وقت کے نامزد نائب صدر ہوبرٹ ہمفری کو رچرڈ نکسن کے ہاتھوں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ایسا لگتا ہے کہ تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرانے جا رہی ہے بائیڈن نے صدارت کے لیے اپنی نائب کملا ہیرس کی حمایت کی ہے۔ ابھی تک اس بات کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا کہ الیکشن میں ڈیموکریٹس کا صدارتی امیدوار کون ہو گا۔ اگر کملا ہیرس امیدوار بن گئیں تو دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا وہ ٹرمپ کو الیکشن میں 1968 کی تاریخ دہرانے سے روک پاتی ہیں یا نہیں۔ اس وقت ہوبرٹ ہمفری کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
بائیڈن کی دستبرداری کے بعد ٹرمپ نے سی این این سے گفتگو میں کہا کہ بائیڈن صدارت کے لیے فٹ نہیں، وہ تاریخ کے بدترین صدر ہیں۔ ہیرس کی تائید پر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں شکست دینا بائیڈن سے بھی زیادہ آسان ہو گا۔
ٹرمپ کو بائیڈن پر واضح برتری حاصل تھی لیکن کمالا ہیرس کے معاملے میں ٹرمپ کے دعوؤں کے برعکس ایک حالیہ سروے میں ٹرمپ اور ہیرس دونوں کو 44، 44 فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے۔ ہیرس 2016 میں ہلیری کلنٹن کے بعد الیکشن لڑنے والی دوسری اور پہلی سیاہ فام و ایشیائی نژاد خاتون ہوں گی۔
جوں ہی امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے صدارتی دوڑ سے دستبرداری اور کمالا ہیرس کے صدارتی امیدوار ہونے کا اعلان کیا گیا تو ”x“ پر میمز کی بھر مار ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں کی جانے لگیں کہ مستقبل کے واقعات دکھانے کے حوالے سے مشہور کارٹون اینی میٹڈ سیریز ’دی سمپسنز‘ کی ایک اور پیشگوئی جلد سچ ثابت ہوتی نظر آ رہی ہے، جس میں 20 برس قبل پہلی ایشیائی سیاہ فام خاتون کو بطور امریکی صدر کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ 2000 میں ’دی سمپسنز‘ کی 11 ویں سیریز کی 17 ویں قسط میں لیزا سمپسن نامی کارٹون کردار کو امریکی صدر کے طور پر دکھایا گیا تھا جس نے ہیرس کی طرح پینٹ سوٹ اور موتیوں کی مالا بھی پہنی ہوئی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ صدارتی مباحثے میں تباہ کن کارکردگی کے باوجود جو بائیڈن صدارتی دوڑ میں شمولیت پر مصر رہے تو بہت سے ڈیموکریٹس نے ان کے لیے اپنی حمایت واپس لے لی۔ ان میں ایوانِ نمائندگان کے سینئر ڈیموکریٹس بھی شامل تھے۔ ان کی ذہنی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ جو غیر حقیقی نہیں تھے کیونکہ جو بائیڈن نے 75 ویں نیٹو سمٹ کے اختتام پر اپنی پریس کانفرنس میں نہ صرف نائب صدر کمالا ہیرس کو غلطی سے ’نائب صدر ٹرمپ‘ کہا بلکہ ایک موقع پر یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کا تعارف روسی صدر ولادیمیر پوتن کے طور پر بھی کروا دیا۔ خود جو بائیڈن کے بقول ٹرمپ سے مباحثے کے دوران ’تقریباً سو گیا‘ تھا۔ بائیڈن سے جب پوچھا گیا کہ اگر آپ دوبارہ صدارتی الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو کیا کملا ہیرس ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دے سکتی ہیں، تو ان کا کہنا تھا: ’اگر مجھے نہ لگتا کہ وہ صدر بننے کی اہل ہیں تو میں نائب صدر ٹرمپ کو نائب صدر کے طور پر منتخب نہ کرتا۔ ہیرس کی جگہ ٹرمپ کا نام لینے کے بعد انہیں اپنی غلطی کا احساس بھی نہیں ہوا اور انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وہ نومبر کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کے لیے‘ سب سے زیادہ اہل ’ہیں۔ ایسی ہی کیفیت کے متعلق کہا گیا تھا:
مجھے اب دیکھتی ہے زندگی یوں بے نیازانہ
کہ جیسے پوچھتی ہو کون ہو تم جستجو کیا ہے
پریس کانفرنس میں امریکی صدر کی زبان پھسلنے کے بعد رپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے جو بائیڈن کا مذاق اڑایا اور اپنی ٹروتھ سوشل ویب سائٹ پر کہا کہ ’جو (بائیڈن) نے اپنی ’بگ بوائے‘ پریس کانفرنس کا آغاز اس بات سے کیا کہ‘ میں نائب صدر ٹرمپ کو نائب صدر کے طور پر منتخب نہ کرتا۔ بہت اچھا کام کیا، جو ! ’سوشل میڈیا پر امریکی صدر جو بائیڈن کی ایک وڈیو بھی وائرل ہوئی۔ جس میں وہ ایک خاتون سے گفتگو کر رہے ہیں۔ جس پر بعض صارفین نے دعویٰ کیا کہ بائیڈن غلطی سے اس خاتون کو اپنی اہلیہ سمجھ بیٹھے۔ اس موقع پر بہت سے صارفین نے امریکی صدر کی ذہنی حالت اور صحت کے متعلق سوالات اٹھائے۔
ڈیموکریٹک پرچم لے کر انتخابی دنگل میں صرف یہ افراد ہی ایسے ہیں جو معقول انداز میں چارج سنبھال سکتے ہیں۔
کملا ہیرس: سب سے پہلے نائب صدر کمالا ہیرس ہیں جو الیکشن جیت جاتی ہیں تو وہ پہلی خاتون، دوسری سیاہ فام اور پہلی ایشیائی امریکی صدر کے طور پر تاریخ رقم کریں گی۔ مبصرین کے مطابق بائیڈن کے منظر سے ہٹ جانے کے بعد سب سے زیادہ ممکنہ پوزیشن ہیرس کی ہے۔
جے بی پرٹزکر: الینوائے کے گورنر اور پرٹزکر خاندان کے ارب پتی رکن ’جے بی پرٹزکر‘ ایک اہم امیدوار ہیں، جن کا خاندان ایک ”ہوٹل چین“ کا مالک اور انسان دوستی کے لیے جانا جاتا ہے۔ وہ ڈیموکریٹک کے بڑے ڈونر ہیں۔ اور ان کے پارٹی میں گہرے تعلقات ہیں۔
گیون نیوزوم: کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوزوم ایک اینٹی ریپبلکن شخصیت اور قومی نام کا درجہ رکھتے ہیں۔ ممکنہ طور پر انہیں بھی صدارتی امیدوار بنایا جا سکتا ہے۔
گریچین وائٹمر: مشی گن کی گورنر گریچن وائٹمر بھی ایک ابھرتی ہوئی سٹار ہیں۔ وہ خواتین کے اہم مسائل پر بات کرنے سے نہیں ڈرتیں۔ البتہ انہوں نے دوڑ سے باہر رہنے کا اشارہ دیا ہے۔
گوش شاپیرو: پنسلوانیا کے گورنر گوش شاپیرو سیاست میں ایک ابھرتا ہوا نام ہیں، جو ریاست میں اپنی پارٹی کے صدارتی امیدواروں سے زیادہ ووٹ حاصل کر رہے ہیں۔
پیٹ بٹگیگ: پیٹ بٹگیگ ٹرانسپورٹیشن کے سب سے کم عمر سیکرٹری رہ چکے ہیں۔ وہ 2020 ء کے پرائمری امیدواروں میں سرکردہ امیدوار تھے۔ انہیں بھی اہم امیدوار قرار دیا جا سکتا ہے۔
بائیڈن کی عمر اس وقت 81 سال کے لگ بھگ ہے۔ وہ امریکہ کے معمر ترین صدر ہیں۔ پنسلوانیا میں پیدا ہوئے، 1953 میں اپنے خاندان کے ساتھ ڈیلاوئیر شفٹ ہوئے۔ ڈیلاویئر یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ 1970 ءمیں نیو کیسل کاؤنٹی کونسل اور 1972 ءمیں امریکی سینیٹر منتخب ہوئے۔ بائیڈن 1988 ء اور 2008 ء میں صدارتی نامزدگی کے لیے ناکام رہے۔ 2008 ء میں، اوباما نے بائیڈن کو اپنے رننگ میٹ کے طور پر منتخب کیا اور وہ نائب صدر کے طور پر دو مدتوں میں اوباما کے قریبی مشیر تھے۔ 2020 کے صدارتی انتخاب میں، بائیڈن اور ان کی رننگ ساتھی، کمالا ہیرس نے ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک پینس کو شکست دی۔ خارجہ پالیسی میں، بائیڈن نے پیرس معاہدے میں امریکی رکنیت بحال اور افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کی نگرانی کی جس سے افغانستان میں جنگ ختم ہوئی، یوکرین پر روسی حملے کے جواب میں روس پر پابندیاں لگائیں۔ یوکرین کو سویلین اور فوجی امداد دی اسرائیل، حماس جنگ میں بائیڈن نے اسرائیل کی حمایت کی حماس اور دیگر فلسطینی عسکریت پسندوں کے اقدامات کو دہشت گردی قرار دیا۔
کمالا ہیرس اوکلینڈ، کیلی فورنیا میں پیدا ہوئیں، ہیرس نے ہارورڈ، کیلیفورنیا یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی ہیسٹنگز کالج برائے قانون سے گریجویشن کیا۔ معاشی زندگی کا آغاز الامیدا کاؤنٹی، کیلیفورنیا کے ضلعی اٹارنی دفتر سے کیا۔ 2010 ء سے 2017 ء تک کیلیفورنیا کی اٹارنی جنرل رہیں 2017 ء سے 2021 ء تک رکن ایوان بالا رہیں اور جنوری 2021 ء میں صدر جو بائیڈن کے ہمراہ 2020 ء کے انتخابات میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر مائک پینس کو شکست دے کر نائب صدر بنیں۔

