آپ کو نہیں معلوم پاکستانی آم کتنے اچھے ہوتے ہیں


آم کے عشق میں لوگوں نے ہم ”عام“ انسانوں کو یہ تک کہا عجب! تمہیں آم پسند نہیں؟ مطلب تم جنت میں نہیں جاؤ گی۔ سچ میں پنجاب سے ہو؟ یقین نہیں آتا۔ غضب خدا کا تم انسان تو ہو نا؟ لیکن وہ مٹھاس جو کم ترین مدت حیات میں دل موہ لینے کا ہنر جانتی ہے وہی مٹھاس ہمارا دل نہ جیت پائی۔ غالب کی شاعری قلب و نظر کو مبہوت کر دینے کی صلاحیت سے مالا مال سہی لیکن آم کے بارے غالب کے قول زریں ”میٹھے ہوں اور بہت ہوں“ نے بھی دل کو نہیں چھوا۔

ایسا میٹھا کہ جب ایک ایرانی مداح نے ہندوستان میں پہلی مرتبہ اس زمینی ”من و سلوی“ کا تجربہ کیا اور اپنے ملک واپس جا کر اس کی توصیف کرنا چاہی اور کہا انتہائی میٹھا پھل ہوتا ہے۔ اور اپنے ہم وطنوں کے اصرار پر یہ کہا کہ بہت میٹھا پھل ہے۔ وہ بولے میٹھا تو سیب بھی ہوتا ہے۔ کہا نہیں ویسا نہیں۔ جب پوچھا گیا میٹھا تو خربوزہ بھی ہوتا ہے۔ کہنے لگا ارے نہیں بس یوں سمجھ لو جیسے مدحت علی حلق میں اترتی جا رہی ہو۔

ہماری تعلیم کا سلسلہ جب کچھ بڑھا اور اس کو مزید جاری رکھنے کے جذبے سے ہم ہمسایہ ملک ایران کی سرزمین پر پہنچے تو ہماری ناقص عقل کی دبیز تہوں میں یہ سنسناہٹ بھی ہوئی کہ بیرون ملک اپنی شناخت بنائے رکھنا خاصا اہم ہوتا ہے۔ لیکن یہ فضیلت شروع سے ہی ہمارے نصیب میں نہیں تھی۔ جب جب اچھی فارسی بولی ایران میں یہی سمجھا اور مانا گیا کہ ایرانی ہوں۔ ہاں کبھی لہجہ تہرانی لہجے سے مختلف ہوا تو یہ کہا گیا ایران کے کسی اور شہر سے ہو؟ لیکن جب لہجہ ہی بتا دے کہ یہ اپنا نہیں بلکہ غیر ملکی ہے ایسے میں بھی کبھی ہمیں پاکستانی سمجھا جائے یہ حسرت ہی رہی۔ پاکستانی ہوں تو پاکستانی کے عنوان سے شناخت اچھی تو لگے گی ہی لیکن وہ جو کہتے ہیں گرین پاسپورٹ کو دنیا میں وہ عزت نہیں ملتی تو ایسا ہمارے ہمسایہ ملک میں نہیں ہوتا جناب۔

ہم نے پڑھائی تو کیا خاک کرنی تھی بس خاک چھاننی تھی۔ اور جب خاک چھانی تو اپنائیت، احترام اور جذبہ خیر سگالی کے علاوہ کچھ نہ ملا۔ پیار کے معاملے میں بعض لوگوں کی قسمت ویسے بھی حضرت یوسف جیسی ہوتی ہے۔ خیر ہمیں کیا۔ کنعان سے ہمارے حصے میں تو بس ایک سہیلی آئی جو برادران یوسف سے کوئی شباہت نہیں رکھتی تھی۔ بہت خیال کرنے والی اور احترام سے پیش آنے والی۔ عرب مہمان نواز ہوتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں لہذا عادت سے مجبور وہ بھی مہمان نواز نکلی تو اس میں اس کی کیا خطا۔ لیکن اب بات اگر پیراہن یوسف کی مانند یوں کھینچ دی گئی کہ اصل موضوع سے بہت دور بٹ گئے تو بدنامی ہو جائے گی۔

ہمیں جب بھی سمجھا گیا عرب ہی سمجھا گیا۔ حالانکہ اپنی تنہائی پسند طبیعت کے سبب مہمان نواز تو دور کی بات مہمان آزار ہی ہوں گے۔ لیکن شاید ہمارا اوڑھنا پہننا کچھ ان جیسا ہو گا وگرنہ کہاں ہم کہاں عرب۔ باں جب کبھی پوچھنے پر بتایا کہ پاکستانی ہوں تو نہایت پرتپاک استقبال ہوا۔ کہیں سفر کے دوران میٹرو کارڈ ریچارج کرنے لگے اور وہ جان گئے ہم پاکستان سے تشریف لائے ہیں تو بے ساختہ بولے کہ ارے ”حاج خانم“ تب تو یہ سفر ”رائیگاں“ ہو گا۔ ارے جناب اردو والا رائیگاں نہیں جس کے بارے جگر مراد آبادی نے کہا: عشق کی بربادیوں کو رائیگاں سمجھا تھا میں

بستیاں نکلیں جنہیں ویرانیاں سمجھا تھا میں

یا منیر نیازی نے محبوب کے انکار کو جس شان بے نیازی سے رائیگاں مانا ہے اور یوں عرض پرداز ہے :
آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

اردو والا ضائع نہیں تھا ہمارا سفر بلکہ فارسی والا مفت تھا۔ اور ہم ٹھہرے لاہوری ہم میں ایرانیوں والا تعارف نہیں جسے فی الحال آپ ادب لحاظ سمجھ لیں کیونکہ دامن وقت میں کہاں اتنی گنجائش کہ فارسی پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ چل نکلے۔ سفر رائیگاں تو تھا لیکن ہمارے ”پاکستانی“ ہونے نے یہ سفر ہمیشہ دلچسپ بنا دیا۔ ہوا یوں کہ کسی آنلائن ٹیکسی میں سوار ہوئے اور نشست پر براجمان ہو کر گہرا سانس لیتے ہی خیال آیا کہ اگر مقصد یعنی منزل کا نشان غلط ہوا اور اطلاع دینے پر ڈرائیور صاحب برہم ہو گئے تو کیا ہو گا۔

تو ہر بار کا دہرایا ہوا جملہ نوک زباں پرا یسے آ جاتا جیسے گوگل یا چیٹ جی پی ٹی کو آٹو پریڈکشن کی عادت ہے۔ ”آقا من ایرانی نیستم شاید آدرس رو اشتباہ زدم۔“ ”جناب میں ایرانی نہیں ہوں شاید ایڈریس یا آنلائن لوکیشن ڈھونڈے میں کوئی غلطی نہ ہو گئی ہو؛ لہذا دھیان رکھئے گا۔ پھر یوں ہوتا کہ ڈرائیور صاحب منزل مقصود بھول کر اور یہ فراموش کر کے کہ ہم ٹیکسی میں سوار کس لئے ہوئے۔ یہ کھوجنے میں لگ جاتے کہ خطہ زمین کے کس ٹکڑے پر بستے ہیں ایسے لوگ۔ اور فوراً پوچھتے“ پس کجائی؟ ”کہاں سے ہو؟ ہم یک لفظی جواب پر اکتفا کرتے کہ وہ جان جائے کہ ہم اس کی پرواز فکر کے برعکس انتہائی کم گو ہیں۔ لیکن یہ یک لفظی جواب“ پاکستان ”گلے کا پھندا بن جاتا یا خار چشم۔ تب وہ فوراً بولتا ارے پاکستان سے ہو؟ اقبال لاہوری والا پاکستان، جی ہاں علامہ اقبال کا ایرانی نام یہی ہے، کیا عمدہ شاعر تھا، یا جملہ بولنے کے بعد ڈرائیور اقبال لاہوری کے قریب قریب پندرہ اشعار ازبر سنا دیتا اور ہم انگشت بہ دندان دبک کر بیٹھ جاتے کہ اگر ہم سے فرمائش ہوئی کہ اقبال سناؤ اور ہم اس روانی سے نہ سنا پائے تو خاکم بدہن ہمیں ٹیکسی سے اتار ہی نہ دیا جائے یا ہمارا پاکستانی ہونا مشکوک ہو گیا تو کیا خبر ہمارا پاسپورٹ ہی ضبط نہ ہو جائے۔ تب ہم کیسے اقبال لاہوری کے مزار پر بیٹھ کر آم سے تسکین کام و دہن کر پائیں گے۔

کیونکہ تصور ہی بہت جان لیوا تھا لہذا یہ خیال آتے ہی ہم موضوع کی سوئی گھما کر سیاست پر لے جاتے تو وہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہونے کے فخر کو بیان کرنے لگتے۔ گویا محترمہ بینظیر بھٹو کا ذکر سن کر ہمیں بھی اچھا لگتا۔ لیکن پھر بھی موضوع بدل دیتے یہاں تک کہ منزل آ جاتی۔ لیکن یہ طے ہے کہ پاکستان کا لفظ بولنے پر کبھی سفر مفت کیا تو کبھی مفتخر۔ لیکن دل میں احساس رہا کہ جیت ہماری ہی رہی۔

ہمیں بارہا عرب سمجھا گیا اور اس نژاد میں بھی خاص قبیلہ یمن۔ ایک دفعہ میں کالج پہنچی۔ کڑکتی دوپہر میں سنسان جگہ اور ایسے میں ایک انتہائی شریف النفس بلند قامت مرد جو بہترین لباس میں ملبوس تھا، کالج کے دروازے سے باہر آ رہا تھا وہ عربی میں کچھ بولا۔ میں نے نظروں کو گھما کر دیکھا تو کوئی دکھائی نہ دیا تو سوچا یہ صاحب کس سے محو کلام ہیں۔ احتیاطاً توجہ کی تو کان میں کوئی بلوٹوتھ بھی نہیں تھی۔ اندازہ ہو گیا کہ صاحب ہم سے ہمکلام ہیں۔

نہ جانے عقل کہاں محو ہو گئی تھی عربی پر تسلط نہ ہونے کے باوجود عربی میں کچھ بول دیا جو ہماری ڈکشنری میں یا مفہوم رکھتا تھا کہ مجھے عربی نہیں آتی۔ چونکہ وہ صاحب میرا مدعا سمجھ گئے تھے تو یعنی کچھ غلط نہیں کہا تھا۔ ویسے ہاسٹل پہنچنے پر اپنی عراقی روم میٹ سے تصدیق بھی کرائی تو جملہ معجزانہ طور پر صحیح نکلا۔

خیر جب ان صاحب نے دیکھا کہ ہم نے عربی میں کلام کیا ہے تو انہوں نے سلسلہ کلام توڑا نہیں اور جو جملہ بولا وہ کچھ یہ معنی رکھتا تھا کہ دراصل مجھے لگا آپ یمنی ہیں۔ آپ کے حجاب کا انداز اور چہرہ ان سے ملتا جلتا ہے۔ یہ سننے کے بعد یہی سوچ کر کہ ایک عربی جملہ بولنے پر یہ صاحب سمجھ لیں گے کہ رسما تجاہل عارفانہ برتا گیا ہے ورنہ عربی میں بات ہو سکتی ہے ہم تو کالج میں داخل ہو گئے لیکن دل نے کہا پہلے بھی کئی بار سنا ہے آج بھی تکرار ہوئی، کوئی بات تو ہے جو ہمیں عرب جانا جاتا ہے۔

ہم کہہ یہ رہے تھے بیرون ملک اپنی شناخت اور ملکیت سے پہچانے جانا بہت اچھا لگتا ہے اور ہمارے حصے میں یہ شرف کم رہا۔ ایسے مواقع بار ہا آئے جب ہمیں پاکستانی نہ ہونے کا احساس دلایا گیا لیکن ایک لمحہ تو ذہن میں ثبت ہی ہو گیا۔ ہوا یوں کہ ہم بازار سے گزر رہے تھے۔ اور جون جولائی کی سلگتی دوپہروں میں اگر ایران کے کسی شہر سے گزر رہے ہوں تو ایک بار آپ کا سر فخر سے بلند ضرور ہو گا کیونکہ جس عزت اور احترام سے ان بازاروں میں پاکستانی آم بک رہا ہوتا ہے وہ منظر اپنی ذات میں ایک فخر سمیٹے ہوتا ہے۔

ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا بازار سے گزرتے پاکستانی آم پر نظر پڑی اور قیمت کا موازنہ جیسے ہی پاکستان سے کیا تو آم کی مٹھاس بالکل پھیکی پڑ گئی۔ کچھ قدم واپس لوٹ کر دکاندار سے سوال کیا یہ آم اتنے مہنگے کیوں ہیں۔ تو فاتحانہ تبسم ہونٹوں پر سجائے قدرے تجاہل عارفانہ سے بولا ”آپ کو نہیں معلوم پاکستانی آم کتنے اچھے ہوتے ہیں“ ۔ اور ہم ضبط کر کے چل دیے اور سارے رستے یہی سوچتے رہے کہ جی بالکل ہم جنہیں یہ تک نہیں معلوم کہ پاکستان کس چڑیا کا نام ہے ہم کیا جانیں کہ پاکستانی آم کتنا اچھا ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS