گزشتہ چھ ماہ میں مسیحیوں کو دی جانے والی ایذائیں
( 182 دنوں میں 70 سے زائد واقعات اور 140 سے زائد متاثرہ خاندان)
”مجھ سے مل کر ایسے روئی، ملا ہو جیسے صدیوں بعد کوئی“ سعید گیلانی کی اس غزل کو ناہید اختر نے اپنے سُروں میں ایسا پرویا کہ اس غزل کو آنے والے زمانوں کے لئے امر کر دیا۔ اس غزل کا عملی اظہار ”مل کر ایسے روئی“ کچھ دن پہلے اُس وقت محسوس ہوا جب اُس جوان بیوہ سے سرِراہ اچانک مُلاقات ہو گئی، جس کے شوہر کو چند سال قبل اُس کی مذہبی شناخت کی اور مذہبی تعصب کی بنیاد پر چھُریوں کے وار کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ زندگی کے اُن تلخ دنوں کو یاد کرتے ہوئے وہ اب بھی ایسے روئے جاتی تھی گویا شوہر کا جسدِ خاکی صحن میں پڑا ہو اور جوانی بھری بیوگی پر اُس کے ہچکیوں بھرے بین جاری ہوں۔
ایک لمحے کے لئے اُس کے آنسو تھمے تو میں نے فوراً پوچھا ”کیسی ہے زندگی؟ یہ میرا انتہائی سادہ اور رسمی سا سوال تھا مگر اُس کے جواب نے زمین و آسمان تو نہیں مگر میرا جگر ضرور چیر ڈالا۔“ یہ ہے زندگی؟ وہ بولی، ”آگ لگے اس زندگی کو “ ۔ یہ اُس کے دل کی چیخ تھی نظام کو جگانے کے لئے یا سوال تھا کہ کیا سسک سسک کے جینے کا نام ہی زندگی ہے؟ کیونکہ زندگی تو ، پھلتی پھولتی اور معمور و مسرور کرتی ہے۔
میں اُس جوان بیوہ کو کیا جواب دیتا، اس لئے کہ میری سٹڈی ٹیبل پر اب بھی درجنوں ورق اُڑے پھرتے ہیں جن پر سالِ رواں کے پہلے چھ مہینوں میں مسیحیوں کو ایذا رسانیوں کا حساب کتاب درج ہے۔ اُن کاغذوں میں اُسی جیسی درجنوں جوان لڑکیوں کے اغوا اور جنسی زیادتی کا شکار ہونے کے بعد اپنا ایمان عقیدہ تک کھو دینے کی کہانیاں درج ہیں۔ درجن بھر خاندانوں کے بچے یتیم ہونے کا درد سہہ رہے ہیں۔ آگ لگے اس جیون کو کہنے والی وہ اکیلی تھوڑی ہے، یہ تو روز کی کہانی ہے، یہ تو روز کا دکھ ہے، یہ تو روز کی صلیب ہے اور یہ تو گھر گھر کا ماتم ہے۔ کس کس کو اور کتنوں کو تسلی دیں؟ ہم تو فقط فہرستیں مرتب کیے جاتے ہیں کہ شاید کہیں سے کوئی غیبی قوت آئے جو ”کلوری کی راہ“ چلتے چلتے ہمارے آنسوؤں کو بھی پونچھ ڈالے۔
انسانی حقوق کے ترویج اور تعلیم و تربیت سے وابستہ سماجی تنظیم ڈِگنٹی فرسٹ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 کے پہلے چھ ماہ میں ”پرسیکیوشن واچ“ نامی تحقیقی رپورٹ میں ملک میں بسنے والے ”دوسرے درجے“ کے مسیحی شہریوں اور عبادت گاہوں پر پُرتشدد حملوں، امتیازی سلوک کے واقعات، قتل، تشدد، اغوا، جنسی زیادتی، زمینوں پر قبضے، گھروں سے بے دخلی، عقیدے کی بنیاد پر جبری تبدیلی مذہب اور اہانتِ دین کے الزامات اور واقعات کو پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی (جنوری تا جون) میں مسیحیوں کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانے کا رجحان جاری رہا اور صرف صوبہ پنجاب میں مسیحیوں پر 5 پر تشدد حملے ہوئے جن میں سے 3 حملے مسیحی خاندانوں پر اور 2 گرجا گھروں پر تھے۔
مذہبی تعصب اُس وقت نمایاں طور پر نظر آیا جب گٹروں کی صفائی کرنے والے 8 مسیحی کارکن حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پنجاب میں ایسے واقعات میں 5 جبکہ سندھ میں 3 افراد ہلاک ہوئے۔ لاہور میں مسیحی میاں بیوی جو سڑک پر صفائی کے اپنے کام میں مصروف تھے کو ایک گاڑی نے ٹکر سے شدید زخمی کر دیا۔ فیصل آباد اور شیخوپورہ میں اسی پیشہ سے وابستہ افراد تین ماہ تک تنخواہ نہ ملنے پر در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے۔
صوبہ خیبرپختونخوا میں اخبارات میں ایک متعصبانہ اشتہار شائع ہوا جس میں صفائی کے کام کے لئے ”صرف مسیحی“ ہونا شرط تھی۔ ایک اور واقعہ میں لاہور میں ایک مسیحی طالب علم کو ایک نجی یونیورسٹی سے اپنی مذہبی شناخت اور ساتھی طلبا کی جانب سے بدسلوکی اور دھمکیوں کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی۔
تحقیقی رپورٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان چھ ماہ میں 15 مسیحی افراد کو اُن کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر قتل کر دیا گیا۔ اِن میں 13 پنجاب اور 2 افراد کو کوئٹہ بلوچستان میں قتل کیا گیا۔ قتل ہونے والے ان افراد میں 5 افراد 25 سال کی عمر سے بھی کم کے تھے۔ اس کے علاوہ پنجاب کے چھ شہروں میں مختلف واقعات میں 12 افراد کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ان متاثرہ افراد میں 6 مرد اور 6 خواتین شامل تھیں۔
علاوہ ازیں اس دوران 7 افراد کو اغوا کیا گیا جن میں 5 لڑکیاں 1 مرد (پاسٹر) اور ایک چار سالہ بچہ بھی شامل تھا۔ 3 لڑکیوں کو اغوا کے بعد جنسی زیادتی کی رپورٹس بھی سامنے آئیں۔ ان 5 لڑکیوں میں سے 4 پنجاب جبکہ 1 لڑکی خیبرپختونخوا سے اغوا اور جنسی زیادتی کا شکار ہوئی۔ پریشان کن نکتہ یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکیوں میں سے 2 کا ذہنی توازن درست نہیں تھا۔ پنجاب ہی میں ایک 4 سالہ لڑکے کا جنسی استحصال کیا گیا۔
زمینوں پر قبضے اور گھروں سے بے دخلی کے 4 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں پنجاب میں 3 اور سندھ میں 1 واقعہ منظر پر آیا۔ البتہ فقط 4 واقعات میں متاثرہ خاندانوں کی تعداد 70 سے زائد ہے۔
ڈگنٹی فرسٹ کے مرتب کردہ ڈیٹا سیٹ کے مطابق 8 مسیحی لڑکیاں جن کی عمریں 11 سے 16 سال کے درمیان تھیں کو اغوا اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے بعد زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا۔ ان 8 متاثرہ لڑکیوں میں 7 کا تعلق پنجاب اور 1 کا سندھ سے تھا۔ لاہور میں مذہب تبدیل کرنے سے انکار پر 13 سالہ مسیحی بچے کو زہریلا مواد پینے پر مجبور کیا گیا۔
صوبہ پنجاب میں 6 مسیحیوں پر تکفیر کے مقدمات درج ہوئے جن میں 2 خواتین بھی شامل تھیں اطلاعات کے مطابق ایک خاتون کا ذہنی توازن درست نہیں تھا جبکہ ایک مسیحی مشتعل ہجوم کے ہاتھوں تشدد کے بعد جان کی بازی ہار گیا۔
سالِ رواں کے پہلے چھ ماہ کے یہ اعداد و شمار تھانوں میں درج مقدمات اور سوشل میڈیا پر آنے والی خبروں کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں جبکہ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہونے کا احتمال باقی ہے کیونکہ متعدد واقعات منظرِ عام پر آتے ہی نہیں اور چند کی تصدیق میں رکاوٹ ہوتی ہے۔
جنوری سے جون کے دوران 182 دنوں میں مسیحیوں کے خلاف 70 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے جنہوں نے 140 سے زائد خاندانوں کو مذہبی شناخت پر متاثر کیا۔ یہ صورتحال انتہائی پریشان کُن ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف مذہبی اقلیتوں کے تحفظ پر سوال ہے بلکہ انسانی حقوق کا ”واویلا“ اور دعویداروں کے لئے بھی سوچنے کا مقام۔
ڈگنٹی فرسٹ کی حقائق پر مبنی یہ ششماہی تحقیقی رپورٹ اعلیٰ حکام کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ رپورٹ، پسماندہ طبقات کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ایسے واقعات کی جلد از جلد روک تھام، انتہا پسندی کے خاتمے، مذہبی رواداری کے فروغ، تمام شہریوں کی مساوی حیثیت اور وقار اور مذہبی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر عملی اقدامات اُٹھانے کا مطالبہ کرتی ہے۔


