چھوٹی سی عورت بھی کبھی۔۔۔


آج کا یہ گنجان آباد، گندا مندا قصبہ، ابھی تیس سال قبل ایک خوبصورت گاؤں ہوا کرتا تھا۔ خیر اُس کی بات بعد میں۔ ابھی تو چلتے ہیں یہاں موجود بابا لکڑ شاہ کے مزار پر ۔ یہ بابا لکڑ شاہ کون تھا؟ اس بارے بھی کافی متضاد معلومات ملتی ہیں۔ کچھ زیادہ پرانے لوگوں کا کہنا ہے کہ پینتیس چالیس سال کا سرخ و سفید باریش آدمی کبھی کسی شمالی علاقوں سے یہاں آیا اور اُس نے جلانے والی لکڑی کا کام شروع کیا۔ اُس کا کاروبار جلد ہی چل نکلا۔ پھر وہ عمارتی اور فرنیچر کی لکڑی کا بزنس کرنے لگا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اُس لکڑی میں چھپا کر وہ منشیات بھی لاتا تھا اور یہاں فروخت کرتا تھا۔ لیکن یہ سب سُنی سنائی باتیں ہیں۔ اصل حقیقت کا دعویدار یہاں کوئی بھی نہیں ہے۔

آج اُس کا یہ مزار اس قصبہ کا سب سے بارونق مقام ہے۔ یہاں طرح طرح کی دکانیں ہیں اور سارا دن لوگوں کی آمدورفت رہتی ہے۔ چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں اور نذر نیاز بھی بٹتی ہے۔ رات کو یہاں فقیروں، بے گھر گداگروں اور اس مزار کے مجاوروں کا راج ہوتا ہے۔ ہر طرح کے نشے کیے جاتے ہیں اور بعد میں ڈھول کی تھاپ پر دیوانوں جیسا والہانہ رقص بھی ہوتا ہے۔ نجانے ان نشوں میں ایسی کون سی طاقت ہوتی ہے کہ یہ ناچنے والے گھنٹوں تک مسلسل رقص کرنے کے باوجود تھکتے نہیں۔

اسی مزار پر دیگر دیوانوں مستانوں کے درمیان ایک پچھہتر سال کا ٹوٹا پھوٹا بوڑھا بھی ہے۔ نحیف و نزار اتنا ہے کہ نوّے سے اوپر کا دِکھتا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہی بوڑھا دراصل اس قصبے کا سب سے پرانا آدمی ہے۔ اسی نے لمحہ لمحہ ایک سرسبز و شاداب گاؤں کو اس گندے مندے گنجان آباد قصبے میں ڈھلتے دیکھا ہے۔ لیکن یہ کسی سے کچھ بولتا ہی نہیں۔ یہیں کسی کونے میں چُپ چاپ بیٹھا یا لیٹا رہتا ہے۔ کوئی اسے کھانے کو کچھ دے دے تو کھا لیتا ہے، ورنہ پڑا رہتا ہے۔ یہ کسی سے بات کرے تو کچھ معلوم بھی ہو کیونکہ یہاں کے اور سب پرانے لوگ یا تو مر کھپ چکے ہیں یا کہیں اور جا بسے ہیں۔ چلیے اگر آگے ضرورت پڑی تو اس کی کہانی پر بعد میں بات کر لیں گے۔

***              ***

یہ اب سے پینتالیس پچاس سال پرانے زمانے کی بات ہے۔

ایک شام نوجوان چودھری عمر دراز، رنگین نواری کرسی پر ٹانگیں پسارے چوڑا ہو کر بیٹھا تھا اور چالیس سالہ ’بالو‘ اُس کی ٹانگیں دبانے کے ساتھ التجائیں بھی کر رہی تھی ”چودھری صاحب! میں آپ کی منّت کرتی ہوں آپ ایسا نہ کریں“

”کیوں؟ تُو نے کہیں اور اَٹی سٹّی لگائی ہوئی ہے اُس کی؟“ ۔
”نہیں چودھری جی! آپ کی رعایا ہیں تو ہماری یہ مجال کہاں کہ آپ کی مرضی کے خلاف پر بھی مار جائیں“ ۔
”تو پھر تُو منع کیوں کر رہی ہے؟“ ۔

”دیکھیں وہ ابھی بالڑی ہے۔ اُس نے تو ابھی کچھ دیکھا بھی نہیں اس لئے آپ سے ڈر رہی ہے۔ میں خود اُسے سمجھا پرچا کر آپ کے پاس لے آؤں گی۔ بس اگر اچھے سے دو جوڑے اور کچھ زیورات کا بندوبست ہو جائے تو ۔“ ۔

”تُو پاگل ہو گئی ہے؟ میں شیر ہوں شیر۔ میں پہلے اپنے شکار کو دوڑاتا ہوں، اُس کے پیچھے پیچھے دوڑتا ہوں، پھر زقند بھر کے اُسے گردن سے دبوچ لیتا ہوں۔ اگر ایسا نہ کروں تو مجھے چیرنے پھاڑنے میں مزہ ہی نہیں آتا“ ۔

”مگر خدا کے واسطے آپ میری اس ملوکڑی کو مت دوڑائیں۔ پہلے ہی آج مرتے مرتے بچی ہے۔ دوڑ دوڑ کر سانس تک اوپر نیچے ہو گئے تھے اُس کے“ ۔

”وہ تو شکر کرے آج میں جیپ پر سوار تھا اور وہ دوڑ کر ایک چھوٹی گلی میں گھس گئی ورنہ میرے ہاتھ سے کہاں بچ سکتی تھی؟ ویسے ایک بات ہے، دوڑتی خوب ہے تیری یہ نوری“ ۔

”لیکن ایسے تو دوڑتے دوڑتے وہ مر ہی جائے گی۔ پھر آپ کے ہاتھ کیا آئے گا؟“ ۔

”تُو فکر نہ کر ۔ کل میں گھوڑے پر آؤں گا اور اُسے بھرے بازار میں سے اُٹھا کر لے جاؤں گا۔ بعد میں کپڑے لتے اور زیورات بھی دے دوں گا۔ تُو اپنی بھی فکر نہ کر ۔ تیرا منہ بھی بند کر دوں گا اور تیرے فیقے کا بھی۔ پر پہلے ذرا یہ تو بتا، تُو نے اب تک اُسے چھُپا کر کہاں رکھا ہوا تھا اور کیوں؟“ ۔

”چھپانا کہاں تھا مالک اور کیوں چھپانا تھا؟ یہیں تھی پہلے بھی بس آپ کی نظر ہی نہیں پڑی“ ۔

”اب پڑ گئی ہے نا۔ اب میں اُسے چھوڑنے والا نہیں۔ اور تُو جانتی ہے نا جو لوگ میرے راستے کا روڑا بننے کی کوشش کرتے ہیں، میں اُن کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہوں۔ تھانے، کچہری اور جیلوں کے دھکے کھاتے کھاتے مر کھپ جاتے ہیں ایسے کتے کتورے“ ۔

”جی ایک بار تیلی گئے تھے اپنی کُڑی کے لئے تھانے، آپ نے اُلٹا اُن پر چوری کے کیس بنا کر سارے اندر کرا دیے تھے“ بالو بولی اور سر جھکائے چھوٹے چودھری کی ٹانگیں دباتی رہی۔

چودھری نے اپنی دھمکی جاری رکھی ”اور تم لوگ! ذات کے مراثی، تم تو لوگوں کی شادیوں پر ناچتے گاتے اور فوتگیوں پر بین ڈالتے ہی اچھے لگتے ہو۔ یاد رکھو جب تک میرے تلوے چاٹتے رہو گے، تمہاری چمڑی سلامت رہے گی۔ میری آنکھ میں آنکھ ڈال کر بھی بات کرنے کی کوشش کی تو کھال کھنچوا دوں گا“ ۔

بالو ابھی بھی سر جھکائے اُس کی ٹانگیں دبا رہی تھی۔

چودھری نے غصے سے ایک نظر دیکھا اور اپنی ٹانگ مار کر اُسے دور دھکیلا ”چل دفع ہو جا اب یہاں سے اور جا کے اپنی نوری کو سمجھا۔ اگر آئندہ اُس نے کسی گلی میں گھسنے کی کوشش کی تو میں وہ پوری گلی ہی جلا دوں گا“

بالو کپڑے جھاڑتی ہوئی اُٹھی اور بے چارگی سے اُسے دیکھتی ہوئی باہر نکل گئی۔

***              ***

بالو جب چودھری عمر دراز کی منّت سماجت میں ناکام ہو کر گھر واپس لوٹی تو اُس نے نوری کو پاس بٹھایا

”دیکھ میری بچی! تو ابھی پوری جوان بھی نہیں ہوئی اور چودھری عمر دراز جیسے بگھیاڑ اپنے خونی جبڑے کھولے، تجھ پر نشانہ لگائے بیٹھے ہیں۔ اوپر سے ہم فنکار لوگ، لڑنا بھڑنا تو دور کی بات، ہم تو تشدد بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ ہمارے ساتھ اب تک کیا کیا ہوتا رہا ہے اور آگے کیا کچھ ہو سکتا ہے، میں پہلے ہی تجھے سب بتا چکی ہوں۔ اب تیری مرضی ہے، تو اپنی ذلت برداشت کر کے ساری برادری کو بچا لے یا خود کو بچانے کی کوشش میں ساری برادری کو قبروں تک پہنچا دے ”۔

نوری، جو بچپن سے اپنے ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں کا حال دیکھتی آئی تھی، اُسے ماں کی بات سمجھنے میں زیادہ دیر نہ لگی۔ چند سال پہلے تک وہ بھی ماں کے ساتھ چودھری عمر دراز کی حویلی آتی جاتی رہی تھی اس لئے وہاں کے چپے چپے اور بندے بندے سے واقف تھی۔ حویلی کے حالات بھی اُس سے چھُپے ہوئے نہیں تھے۔

***              ***

چودھری عمر دراز رات کو اپنے دوستوں اور خوش آمدیوں سے گپ شپ کے بعد سونے کے لئے اپنے کمرے میں پہنچا۔ اُس نے لائٹ جلائی اور دروازہ بند کرنے لگا تو اُسے محسوس ہوا، وہاں کوئی اور بھی ہے۔ مُڑ کر دیکھا تو نوری وہاں کھڑی تھی۔ کپڑے تو وہی تھے جو اُس نے دن کے وقت پہنے ہوئے تھے مگر بال سنوار کر چُٹیا کی ہوئی تھی۔ آنکھوں میں کاجل کی لمبی لمبی لکیریں تھیں اور ہونٹوں پر کچھ عجیب سی سُرخی بھی چمک رہی تھی۔ سولہ سترہ سال کی عمر میں بھی اُس کا جوبن ایسا تھا جیسے دریا کا سیلابی ریلا۔ ٹھاٹھیں مارتا، پھنکارتا اور للکارتا ہوا۔

عمر دراز ایک لمحے کو تو بالکل حیران رہ گیا۔ پھر خود کو سنبھالتے ہوئے بولا
”تُو یہاں؟ اس وقت؟ کیوں؟“ ۔

”میں آپ کو یہ بتانے آئی ہوں کہ میرے پیچھے دوڑ دوڑ کر آپ مجھے نہیں پکڑ سکتے نہ اپنے بندوں کے ذریعے مجھے اُٹھوا کر آپ اپنے نام کو بٹّہ لگانا پسند کریں گے۔ میں یا تو اپنی مرضی سے آؤں گی یا مجھے پیار سے بلائیں گے تو حاضر ہو جاؤں گی“ ۔

”صاف کیوں نہیں کہتی کہ میرے ڈر سے آ گئی ہے کہ بھرے بازار سے اُٹھا لاؤں گا تو لوگوں کے سامنے تماشا بنے گی“ ۔

”ہمارا تماشا تو پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے چودھری صاحب۔ ہم تماشا بنیں یا بنائیں یا کسی کو تماشا بنا کر دکھائیں، ہمیں کچھ فرق نہیں پڑتا“ ۔

”تُو تو اپنی عمر سے بہت بڑی بڑی باتیں کرنے لگی ہے“ ۔
”یہ باتیں تجربے سے آتی ہیں صاحب۔ اور تجربہ عمر کا محتاج نہیں ہوتا“ ۔
”چل ابھی دیکھ لیتا ہوں تیرا تجربہ۔ آ۔ یہاں بیٹھ میرے پاس“ ۔ اُسے پلنگ پر بیٹھنے کا اشارہ کرتا ہے۔
نوری اُس کے قریب پلنگ پر ایک بے تکلف دوست کی طرح بیٹھ جاتی ہے۔

”اگر تُو اتنی ہی بہادر ہے تو پھر دن میں کیوں بھاگی تھی آگے آگے اور پھر اُس تنگ گلی میں گھس گئی تھی؟“ ۔

”آپ کی عزت رکھنے کے لئے“ ۔
”میری عزت رکھنے کے لئے؟ وہ کیسے؟“ ۔

”مرد کی عزت تبھی تک ہوتی ہے جب تک عورت اُس سے ڈرتی نظر آتی ہے ورنہ مرد کی حیثیت ہی کیا ہے عورت کے سامنے؟“ ۔

”کھلے ہاتھ کے دو تھپڑ مار دوں تو ابھی زمین میں گڑ جائے گی، کہتی ہے مرد کی حیثیت ہی کیا ہے! اتنی چھوٹی سی ہو کر اتنے بڑے بڑے دعوے کر رہی ہے۔ تجھے پتہ بھی ہے تو ُکیا کہہ رہی ہے؟“ ۔

”پتہ ہے صاحب اور خوب پتہ ہے۔ خبر آپ کو نہیں جو مرد کے بازو کی طاقت کو سب کچھ سمجھ رہے ہو۔ میں مرد کی اُس پھوں پھاں اور آکڑ کی بات کر رہی ہوں جو عورت سے واسطہ پڑے تو پانچ منٹ میں ٹھُس ہو جاتی ہے“ ۔

”اچھا! ذرا ٹھہر میں تجھے بتاتا ہوں میرے جیسا جوان تیرا حال کیا کرتا ہے“ ۔

چودھری عمر دراز اُٹھ کر فرج کی طرف بڑھا۔ اُس میں سے شراب کی ایک بوتل نکالی اور پھر برف کے کچھ ٹکڑے ایک پیالے میں ڈال کر قریبی تپائی پر رکھ دیے۔ نوری اُسے مسلسل دیکھ رہی تھی۔ چودھری نے ایک بڑا سا پیگ بنایا اور غٹاغٹ پی گیا۔

چند لمحوں بعد اُس نے نوری کی طرف دیکھا ”توُ بھی پیئے گی یہ شربت؟“ ۔
”نہ بابا نہ! یہ زہر جیسا کڑوا شربت میں تو نہیں پی سکتی۔ پتہ نہیں آپ لوگ یہ دھتورا کیوں پیتے ہو؟“ ۔
”یہ مردوں کی خوراک ہے، تُو نہیں سمجھ سکے گی“ ۔
”اچھا؟ کیا ہوتا ہے جب مرد پیتے ہیں اسے؟“ اُس نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
”ہمارا جوش و خروش بڑھ جاتا ہے۔ خون میں طوفان اٹھنے لگتے ہیں“ ۔

پھر نوری کا ہاتھ پکڑ کر اپنے بدن پر لگایا ”دیکھ میرا پنڈا کتنا گرم ہو گیا ہے؟“ ساتھ ہی ناف کے نچلے حصے کی طرف اشارہ کر کے بولا

”اور یہ جوش و خروش تو تجھے ایسے بھی نظر آ رہا ہو گا؟“ ۔

نوری نے اُس سے ہاتھ چھڑایا اور پیالے میں پڑے ہوئے کچھ برف کے ٹکڑے اتنی تیزی سے چودھری کے زیرجامہ میں ڈال دیے کہ چودھری اُس کی اس حرکت کا اندازہ بھی نہ کر سکا۔ لیکن جونہی برف کے ٹکڑے اُس کے زیرجامہ میں پہنچے تو وہ تڑپ اُٹھا۔ اُس نے برف کے یہ ٹکڑے باہر پھینکتے ہوئے نوری کو بڑی بڑی گالیاں دیں اور پھر اُسے بالوں سے پکڑ کر فرش پر دے مارا۔

”یہ کیا ہے حرام زادی؟“ ۔

نوری کا سر فرش سے ٹکرایا تھا۔ اُسے چوٹ بھی شدید آئی تھی اور درد سے اُس کا برا حال تھا مگر پھر بھی اُس نے آنکھوں میں ایک آنسو نہیں آنے دیا۔ تکلیف کو تو جیسے پی ہی گئی۔

چودھری، جس کی تڑپ ابھی ختم نہیں ہوئی تھی، پھر غصے سے بولا ”کُتے کی بچی! ایسا کیوں کیا تُونے؟“ ۔
”میں دیکھنا چاہتی تھی، برف کے چند ٹکڑوں سے، آپ کا جوش اور کتنا اونچا ہو جاتا ہے؟“ ۔

”حرام زادی! تُو خود میرے پاس چل کر آئی اور ایسی حرکتیں کر رہی ہے۔ میں تجھے وہ مزہ چکھاؤں گا کہ ساری عمر یاد رکھے گی“ ۔

نوری ابھی تک وہیں فرش پر بیٹھی ہوئی تھی

”آپ تو سُنا ہے، گُلی ڈنڈے کے وڈّے کھلاڑی ہو۔ گُلی اُڑاتے ہو تو ساتھ میں کھُتی بھی کھول دیتے ہو۔ تو صاحب! بے شک گُلیاں اُڑاؤ، کھُتیاں کھولو، لیکن پیار سے۔ آپ چودھری ہو، وڈّے کھلاڑی ہو تو میں بھی نوری مراثن ہوں۔ زور زبردستی نہیں چلنے دیتی“ ۔

چودھری اب تک کچھ سنبھل چکا تھا
”زور زبردستی تو اب ضرور ہو گی۔ چیر پھاڑ دوں گا تجھے۔ آج کی رات تُو کبھی بھول نہیں پائے گی“ ۔

چودھری اُٹھ کر اُس کی طرف بڑھنے لگا تو اُس نے تیزی سے واش روم میں گھس کر دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ اُس نے فوراً نلکا کھولا اور جتنا بھی جلدی جلدی ممکن ہو سکا خود پر پانی ڈال لیا۔ چودھری دروازے کے باہر کھڑا اُسے گالیاں دے رہا تھا جب وہ سر سے لے کر پاؤں تک پانی میں بھیگی ہوئی باہر نکلی۔ اُس کے بالوں اور کپڑوں سے پانی ابھی بھی ٹپک رہا تھا۔ وہ سیدھی جا کر چودھری کے بستر پر ایسے لیٹ گئی جیسے کوئی مردہ پڑا ہو۔

”آؤ چودھری! کر لو زبردستی، چیر پھاڑ لو۔“ اُس کے چہرے پر بے بسی کا شائبہ تک نہیں تھا۔

چودھری غصہ میں اُس کی طرف بڑھا مگر جیسے ہی اُس نے نوری کے جسم کو چھوا تو فوراً ہی ہاتھ کھینچ لیا۔ پانی شاید زیادہ ہی ٹھنڈا تھا اور نوری کا جسم بُری طرح سرد ہو رہا تھا۔ چودھری کے گرم جسم میں ایک ٹھنڈی لہر دوڑ گئی۔ وہ پیچھے ہٹ گیا

”تُو تو کوئی بہت ہی بڑی حرامی کُڑی ہے بھئی۔ اگر یہ سب ہی کرنا تھا تو آئی کیوں تھی؟ وہ بھی خود چل کر “ ۔

”اگر آپ زور زبردستی نہیں کرو گے۔ میرے ساتھ پیار سے پیش آؤ گے۔ مجھ پر ہاتھ نہیں اُٹھاؤ گے تو اب بھی سب ٹھیک ہو سکتا ہے“ ۔

چودھری کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کہے، پھر کچھ سوچ کر بولا ”تُو نے تو سارا بستر ہی گیلا کر دیا میرا“ ۔

”پھر کیا ہے؟ آپ کا کام تو زمین پر ایک چادر بچھا کر بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن پہلے وعدہ کرو، جو کچھ ہو گا میری مرضی سے ہو گا۔ پیار سے ہو گا۔ کچھ دیر کے لئے چودھری عمر دراز کی بجائے ایک اچھے دوست بن جاؤ“ ۔

چودھری جواب میں خاموش رہا۔ نوری اُٹھ کر پھر سے واش روم میں گئی۔ گیلے کپڑے اتارے۔ خود کو خشک کیا، ایک بڑا تولیہ لپیٹ کر باہر آئی اور دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ وہاں سے ایک بڑی چادر لا کر فرش پر بچھا دی۔

چودھری کرسی پر بیٹھا، اُس کی حرکتیں دیکھ کر حیران ہو رہا تھا
”تُو کہیں کچھ پاگل واگل تو نہیں؟ کوئی پیچ تو ڈھیلے نہیں ہیں تیرے دماغ کے؟“ ۔
”کیوں؟ آپ کو یہ کیوں لگا؟“ نوری نے نہایت بے تکلفی کے انداز میں پوچھا۔

”دوپہر کو تُو آگے آگے بھاگی اور پھر چھوٹی گلی میں گھس گئی۔ بعد میں تیری ماں آئی یہاں میرے پاس اور منتیں کرتی رہی کہ تجھے کچھ نہ کہوں۔ پھر تُو خود یہاں آ گئی اور یہ سب تماشا بھی کیا۔ اگر تُو خود ہی مجھے ملنا چاہتی تھی تو اپنی ماں کو بھی بتا دیتی۔ اس طرح رات کو چھُپ کر تو نہ آنا پڑتا“ ۔

” چھُپ کر تو اس لئے آئی ہوں کہ آپ کے ’ٹوَر‘ بنے رہیں ورنہ گاؤں میں میرے کئی عاشق ہیں۔ کسی کا بھی اور کبھی بھی دماغ پھر سکتا ہے۔ آپ کو ایسے لوگوں سے بچانے کے لئے رات کے وقت آنا پڑا ”۔

”توُ چیز کیا ہے؟ کبھی خود ہی تیار اور کبھی دھمکیاں۔ اور تُو کیا سمجھتی ہے، میں تیرے کمّی کمین عاشقوں سے ڈرتا ہوں؟“ ۔

”نہیں ڈرتے ہیں تو ڈرنا چاہیے۔ ہم کمی کمینوں کی اپنی تو کوئی عزت ہوتی نہیں اس لئے جب ہمارا دماغ خراب ہو جائے تو ہم وہ کچھ کر سکتے ہیں، جس کا کسی نے سوچا بھی نہیں ہوتا“ ۔

”تُو دیکھنا میں تیرے ایک ایک عاشق کو کیسے کتے کی موت مارتا ہوں“ ۔
”مار لینا، مار لینا۔ لیکن اب کچھ گرمی بچی ہے تو ادھر آ جاؤ ورنہ میں جا رہی ہوں“ ۔
چودھری اُٹھ کر اُس کے پاس آ گیا

”چودھری صاحب! میں آج سے پہلے کسی مرد کے ساتھ نہیں سوئی مگر جانتی سب کچھ ہوں۔ آپ کو پھر کہہ رہی ہوں دوستوں کی طرح پیار سے ملو گے تو میں وعدہ کرتی ہوں آپ کو مزہ آئے گا۔ بلکہ آپ بعد میں یاد کرتے رہو گے“ ۔

”اچھا آج زندگی میں پہلی بار یہ بھی کر کے دیکھ لیتا ہوں۔ لیکن یاد رکھ اگر میرا موڈ خراب کیا تو میں تیرا بھی بُرا حال کر دوں گا“ ۔

”آپ پہلے کہیں سے ایک صاف رومال یا کوئی چٹا کپڑا لاؤ“ ۔
”وہ کیوں؟“ ۔
”بعد میں اپنے پاس رکھنا، اپنے دوستوں کو دکھانے کے لئے۔ اپنی بہادری کی نشانی“ ۔
عمر دراز کو کچھ سمجھ تو نہ آئی مگر اُس نے کہیں سے ایک سفید رومال ڈھونڈ کر اُسے دے دیا۔

اپنے عمومی جنگلی پن سے باز رہنا اُس کے لئے نہایت مشکل کام تھا مگر وہ نوری کے دعووں سے اتنا متاثر ضرور ہو گیا تھا کہ اُس نے سوچا ایک بار یہ تجربہ بھی کر کے دیکھ لے۔ لہٰذا اُس کے بعد جیسے نوری کہتی رہی وہ کرتا رہا۔

***              ***

وہ خوب لطف اندوز ہوا۔ ہانپتا ہوا نقطہ ء عروج پر پہنچا اور پھر لیٹ کر سانس درست کرنے لگا۔
نوری نے بڑے پیار سے پوچھا ”کیا ہوا چودھری صاحب؟“ ۔

جواب میں چودھری خاموش رہا تو وہ پھر بولی ”بس اتنی ہی تھی آپ کی مردانگی؟ اتنے سے کام کے لئے میرے پیچھے گھوڑے دوڑانا چاہتے تھے؟ میرا تو ابھی نہ کچھ بنا ہے نہ بگڑا ہے“ ۔

(حالانکہ وہ سخت تکلیف میں تھی مگر چودھری کو زچ کرنے کے لئے، خود پر جبر کر کے ایسا کہہ رہی تھی)

چودھری ابھی بھی خاموش تھا۔ نوری نے بات جاری رکھی ”اُٹھو بھی، بڑے سورما بنے پھرتے ہو۔ اب میرے لئے بھی کچھ کرو“ ۔

”ٹھہر جا ذرا۔ ابھی کرتا ہوں تیرا بھی حساب کتاب۔ تھوڑا سانس لے لینے دے مجھے“ ۔

”اسی لئے تو سیانے کہتے ہیں، مرد کتنا بھی پھنے خاں کیوں نہ ہو، عورت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ عورت کا ساتھ پیار سے ہی اچھا نبھتا ہے۔ زور زبردستی سے کچھ نہیں ہوتا۔ نعرے مار کے دشمنوں کو تو ڈرایا جا سکتا ہے لیکن عورت کو زیر نہیں کیا جا سکتا“ ۔

”تُو تو کہتی ہے آج پہلی بار کسی مرد کے بستر میں آئی ہے اور باتیں ایسے کر رہی ہے جیسے ہزاروں مردوں کو بھگتا چکی ہو؟“ ۔

نوری نے وہ سفید رومال اپنے نیچے سے نکال کر اُسے دیا جس پر اب خون کا ایک بڑا سا دھبہ پڑا ہوا تھا اور ابھی خشک نہیں ہوا تھا۔

”میں نے کہا، پہلی بار ہے تو اس کا ثبوت یہ رومال ہے۔ سنبھال لو اور دوستوں کو اپنی مردانگی کی نشانی بتا کر دکھانا۔ چاہو تو ساتھ بہت سی بڑھکیں بھی مارنا۔ تم نے یہ تیر مارا، تم نے وہ وار کیا اور جو کچھ تمہارا جی چاہے۔ ہاں اور دوسری بات۔ ہم کمّی کمین لوگ، پیدا ہوتے ہی ظلم سے کھیلنے لگتے ہیں۔ ہماری بڑی بوڑھیاں ہمیں ہوش سنبھالتے ہی اپنے تجربے کی ساری باتیں سکھا دیتی ہیں۔ دیکھ لو تمہاری پھنے خانی تین منٹ بھی نہیں نکال سکی اور میں ایک کنواری ابھی تمہیں دس منٹ اور برداشت کر سکتی تھی۔ خود پر جبر کرتی تو کچھ اور زیادہ بھی“ ۔

”تُو شکر کر آج میں موڈ میں نہیں تھا ورنہ میں نے بڑی بڑی اتھری گھوڑیوں کے پسینے نکال چھوڑے ہیں۔ ویسے تم عورتوں نے کرنا ہی کیا ہوتا ہے۔ زور تو سارا مردوں کا لگتا ہے“ ۔

”تو پھر بڑھکیں بھی نہ مارا کرو۔ آپ جیسے چودھریوں کو تو بعد میں یہ بھی نہیں پتہ ہوتا کہ کس کس کمّی کے گھر آپ کی اولاد پل رہی ہے“ ۔

”ہم ایسا نہیں ہونے دیتے۔ جیسے ہی ہمارے نیچے سے گزر کر کوئی عورت حاملہ ہوتی ہے تو ہم اُس کا بندوبست کرا دیتے ہیں“ ۔

”جانتی ہوں، جانتی ہوں۔ لیکن سب کی خبر تو نہیں رکھ سکتے ہو نا؟ جن کا پتہ نہیں چلتا اُن کا کیا؟ چاہے پھر باپ، بیٹا، پوتا یا کوئی چاچا تایا اپنی ہی کسی اولاد کے ساتھ۔“ ۔

”کیا بکواس کر رہی ہو تم؟“ ۔
”چھوڑیں چھوڑیں۔ اپنے کپڑے سنبھالیں اور مجھے بھی کہیں سے کوئی سوکھے کپڑے لا دیں“ ۔
”تم اب جانا چاہتی ہو؟“ ۔
”آپ کا کام ہو گیا اور میری ماں بھی ابھی جاگ رہی ہو گی“ ۔
”تمہاری ماں کو پتہ ہے یہ سب؟“ ۔

”اُسی کو تو آپ کی شان بان کا زیادہ خیال تھا جو مجھے قربانی کا بکرا بنا کر بھیج دیا۔ ویسے وہ بھی آپ کے ابّے کو بہت پسند تھی“ ۔

”ہو گی ہوگی۔ میرا باپ بھی بڑا شوقین آدمی تھا۔ پھر یہ تو بڑے لوگوں کے شوق ہوتے ہیں۔ تُو بتا تجھے کیا دوں؟ پیسے کہ زیور یا پھر دونوں لینا چاہے گی؟“ ۔

”ابھی تو مجھے کہیں سے کوئی سوکھے کپڑے لا دو ۔ پھر اگر کچھ دینا ہو گا تو میری ماں کو دے دینا۔ ہاں! اور پھر سے میری ضرورت ہو تو گھوڑے نہ دوڑانا، پیغام بھیج دینا۔ میں آ جاؤں گی“ ۔

***              ***

نوری کا ابّا رفیق تو افیم بھری چلم کے سُوٹے لگا کر کبھی کا سو چکا تھا۔ نوری کے بھائی کی ڈیوٹی ہمیشہ سے چودھری کے ایک باڑے پر تھی۔ وہ وہیں ڈنگروں کے ساتھ والے کمرے میں پرالی پر سو جایا کرتا تھا۔ کوئی کتے مار شراب وہ روز ہی کہیں نہ کہیں سے حاصل کر لیتا، چاہے اس کے لئے اُسے کتنی ہی ذلّت کیوں نہ اُٹھانی پڑے۔ نشے میں ہوتا تھا اس لئے پرالی پر بھی گہری نیند سویا رہتا۔

بالو ابھی تک جاگ رہی تھی۔ اُس کے کان تو نوری کی چاپ پر لگے ہوئے تھے۔ دروازہ بھی اُس نے ایسے بند کیا ہوا تھا کہ بس دیکھنے میں ہی بند تھا۔ جب نوری واپس آئی تو اُسے دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت نہ پڑی۔

کواڑ بے شک بہت نرمی سے کھولا گیا تھا۔ بالو اس بے نام سی چاپ پر بھی اُٹھ بیٹھی۔ اُس نے بڑھ کر نوری کو بانہوں میں لے لیا اور دونوں ماں بیٹی کتنی دیر تک سسکیاں بھر بھر کے روتی رہیں۔ پھر بالو نے بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر اُسے چارپائی پر بٹھا لیا۔

نوری کی آنکھوں سے ابھی تک آنسُو رواں تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے اُس نے اب تک، خود پر جو ضبط کے بند باندھ رکھے تھے، سب ٹوٹ گئے تھے۔ اُس نے بولنا چاہا تو ابھی نطق و لب ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ پھر بھی اُس نے کوشش کی ”ماں! میں نے تیرے کہنے پر آج زندگی کی سب سے بڑی ذلّت بھی اٹھا لی اور سب کام تیرے بتائے ہوئے طریقے سے کر آئی ہوں“ ۔

”میری بہادر بیٹی! تُو نے بہت اچھا کیا۔ یہ ہم سب پر تیرا بہت بڑا احسان ہے۔ تُو نے ہمیں ایک آنے والے طوفان سے بچا لیا ہے“ ۔

”اب تو تیرے سب ڈر سارے وہم دُور ہو گئے ہیں نا؟“ ۔ اُس نے ماں سے ایسے سوال کیا، جیسے وہ اپنے کام کی داد بھی چاہ رہی ہو اور ساتھ گلہ بھی کر رہی ہو ”۔

”وہم کا سَپ تو ہماری زندگیوں سے کبھی نہیں جاتا بیٹی! سَو سَو کُنڈلیاں مارے ہر انجانے کونے میں بیٹھا رہتا ہے۔ کچھ پتہ نہیں چلتا، کب کہاں سے نکل کر ڈنگ مار دے۔ اس سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم ذلّت برداشت کرنے کی طاقت کو بڑھا بڑھا کر اپنی کَھل اتنی موٹی کر لیں کہ یہ کاٹے بھی تو اس کے دانت ہماری بے حس کھلڑی میں پھنس کر رہ جائیں“ ۔

”میں تو پہلے ہی اپنی کھلڑی اتنی موٹی کر کے گئی تھی کہ چودھری جیسا سانپ پورے کا پورا اِس میں پھنس گیا“ ۔

”کیوں؟ ایسا کیا کِیا تُونے؟“ ۔

”میں نے سوچا، اب جب میں اتنی ٹوٹ جاؤں گی کہ محبت کے خواب بھی نہیں دیکھ سکوں گی تو کیوں نہ چودھری کی ساری آکڑ بھی توڑ دوں! میں نے خود کو سمجھایا، دیکھ نوری! آج تیری زندگی کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ تُو نے اپنے بدن کی یا دماغ کی کسی تکلیف کو ظاہر نہیں ہونے دینا۔ کچھ بھی ہو جائے تیری آنکھ میں ایک آنسو بھی نہیں آنا چاہیے نہ تیری زبان پر کوئی منت ترلے کا لفظ۔ اور میں نے چودھری کی ساری آکڑ ساری مردانگی کا میدہ کر کے اُس کے ہاتھ میں پکڑا دیا“ ۔

”میں جانتی تھی، تُو بڑی ہشیار ہے۔ حوصلہ بھی بہت ہے تجھ میں اور ہماری مجبوریوں کے سارے سبق بھی تجھے یاد ہیں۔ لیکن کوئی بڑی غلطی تو نہیں کی تُو نے؟“ ۔

”نہیں ماں! میں نے بس اُسے کئی بار جلایا اور پھر کئی بار بجھایا مگر آخر میں، زبان کو دانتوں تلے دبا کر وہ ساری کاریگری بھی دکھا دی جو تُو نے اور ’ماسی پھاتو‘ نے مجھے سکھائی تھی ”۔

”مجھے ڈر ہے، تُونے کچھ زیادہ نہ کر دیا ہو۔ یہ چودھری لوگ! ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ہم جیسے ان سے ڈرتے رہیں۔ ان کی منتیں ترلے کرتے رہیں۔ اگر کوئی لڑکی ان کے بستر تک پہنچے تو وہ ڈری، سہمی اور آنے والی تکلیف سے گھبرائی ہوئی ہو۔ ان سے رو رو کر رحم کی بھیک مانگ رہی ہو۔ تبھی اُس پر ظلم کرتے ہوئے یہ زیادہ خوش ہوتے ہیں“ ۔

”اب مجھے جو سمجھ آئی میں کر آئی ہوں۔ ویسے بھی جو میرے ساتھ ہو گیا ہے، اس سے برا بھی کچھ ہو سکتا ہے کیا؟“ ۔

” تُو نہیں جانتی بیٹی! ان کے ظلم کی کوئی حد نہیں ہے“ ۔

نوری، ماں کی بات تو سن رہی تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ نجانے کیا سوچ رہی تھی۔ بھرائی ہوئی آواز میں بولی ”ماں! کیا ہماری لڑکیاں ایسے ہی تباہ ہوتی رہیں گی؟ کیا خدا ہم سے اتنا ناراض ہے کہ محبت ہماری قسمت سے بالکل نکال دی گئی ہے؟“ ۔

”محبت تو ہمیں بھی مل ہی جاتی ہے، جیسے مجھے تیرا باپ مل گیا۔ ہر دُکھ سکھ میں ساتھ دینے والا۔ تجھے بھی کوئی نہ کوئی ضرور مل جائے گا لیکن یاد رکھ میں نے تیری قسمت کا داؤ بغیر سوچے سمجھے یا صرف ڈر کے مارے نہیں کھیلا۔ اس کے پیچھے بدلہ لینے کی پوری تیاری ہے۔ تیرے

جیسی تمام لڑکیوں کا ، اس چودھری اور اس کے باپ دادا کے ظلموں کا بدلہ۔ سب حساب ایک ہی بار پورا کرنا ہے ”۔

”یہ سب کیسے ہو گا ماں؟“ ۔
”یہ تُو مجھ پر چھوڑ دے۔ لیکن قسم کھا تُو ابھی اس بارے میں کسی سے بھی کوئی بات نہیں کرے گی“ ۔
”ٹھیک ہے ماں نہیں کروں گی“ ۔

***              ***

چودھری عمر دراز زیادہ سے زیادہ تین گھنٹے سویا ہو گا جب اُسے احساس ہوا کہ وہ اپنے بستر پر نہیں ہے۔ اُس نے ٹٹولنے کے انداز میں ہاتھ بڑھایا تو وہ فرش سے مس ہوا۔ وہ ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھا۔ آہستہ آہستہ اُسے چند گھنٹے پہلے کے مناظر یاد آنے لگے۔ شرمندگی اُس کے اعصاب پر سوار ہو کر غصہ میں بدلنے لگی۔ ایک نیچ ذات کی لڑکی اُس پر حکم چلاتی رہی اور وہ مانتا رہا، یہ سوچ کر ہی اُس کا غصہ عروج پر پہنچ رہا تھا۔ وہ اُٹھ کر اپنے بستر کی طرف بڑھا۔ بستر ابھی تک گیلا تھا۔ وہ دوسرے کمرے میں گیا اور کچھ دیر میں سو گیا۔

دوسرے دن چودھری کی آنکھ ذرا دیر سے کھلی۔ وہ غسل سے فارغ ہو کر زنان خانے کی طرف گیا تو اُس نے دیکھا، بالو اُس کی ماں کے پاس بیٹھی، اُسے چودھری کی شادی کا مشورہ دے رہی تھی۔ چودھری نے اُسے مل کر جانے کو کہا۔ جب وہ چودھری کے کمرے میں پہنچی تو اُس نے پوچھا ”کیا کہہ رہی تھی تُو میری ماں کو ؟“ ۔

”کچھ نہیں چودھری صاحب! بس یہی کہ اب آپ کی شادی کر دیں“ ۔
”کوئی شکایت تو نہیں کی میری؟“ ۔

”نہیں چودھری صاحب، میری کیا مجال؟ اور پھر اگر آپ کے کھیلوں کی اُن کو خبر ہو بھی جائے تو کیا فرق پڑتا ہے! اُن کے نزدیک تو یہ آپ جیسے بڑے لوگوں کے شوق ہیں ”۔

”اچھا سن! میں نے کچھ پیسے رکھے ہیں تیری بیٹی کے لئے“ پیسے بالو کو پکڑاتے ہوئے ”تیری امید سے کچھ زیادہ ہی ہیں۔ اب چاہے تو اُسے اِن کے زیور اور کپڑے بنا دے یا پھر خود کھا پی جا، لیکن آج شام اُسے میرے پاس بھیج ضرور دینا“ ۔

بالو پیسے پکڑتے ہوئے ”آپ مائی باپ ہیں چودھری صاحب! آپ کا حکم سر آنکھوں پر “ ۔

***              ***

شام کو نوری ذرا دیر سے آئی۔

”تم آج دیر سے آئی ہو، اس کی سزا ملے گی۔ ایک بات اور دوسری بات، کل میں نے تمہاری بات مانی تھی، آج میرا حکم چلے گا“ چودھری نے جیسے اُسے اپنے ارادے سے خبردار کر دیا۔

”جیسی آپ کی مرضی چودھری صاحب! بس اتنا سوچ لیں کہ زور زبردستی کے بعد کہیں آپ کو پچھتانا نہ پڑے“ ۔
”وہ تیرا مسئلہ نہیں ہے۔ بس پہلے تُو سزا کے لئے تیار ہو جا“ ۔

جواب میں نوری کچھ نہ بولی۔ چودھری نے اُسے پکڑ کر بستر پر بٹھایا، اُس کے کپڑے اُتروائے۔ اُسے بستر پر اُلٹا لٹایا، اُس کے ہاتھ پاؤں پلنگ کے ساتھ باندھے اور اُس کی آنکھوں پر بھی پٹی باندھ دی۔ پھر اُس چابک سے، جو وہ گھڑ سواری کرتے وقت استعمال کرتا تھا، بے چاری کی پیٹھ اُدھیڑ ڈالی۔ وہ روتی، چیختی چلاتی اور منتیں کرتی رہی اور چودھری اُس کی بے بسی سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ شہر سے منگوائی ہوئی کوئی خاص دوائی تو وہ پہلے ہی استعمال کر چکا تھا۔ اس لئے اُسے جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر اُسے فریاد کرنے پر مجبور کر دیا۔

دو گھنٹے بعد اُسے گھر جانے کی اجازت دیتے ہوئے بولا
”یہ تمہاری آج دیر سے آنے کی سزا تھی۔ پھر جب بلاؤں تو وقت پر آجانا ورنہ سزا بڑھ بھی سکتی ہے“ ۔
”آپ نے آج جو میرے ساتھ کیا ہے۔ ایسا صرف بزدل مرد کرتے ہیں“ ۔
”منہ بند کر اپنا، نہیں تو زبان کاٹ کے ہاتھ میں پکڑا دوں گا“ ۔
”میں تو بے بس ہوں۔ چُپ کر جاؤں گی لیکن وہ جو آپ کے اندر سے آواز آتی ہے، اُس کا کیا کریں گے؟“ ۔
”غائب ہو جا میری آنکھوں کے سامنے سے، ورنہ تجھے دنیا سے ہی غائب کرا دوں گا“ ۔
”جا رہی ہوں چودھری صاحب! جا رہی ہوں“ ۔

وہ چلی گئی تو چودھری نے یہ سوچ کر ایک پُرجوش نعرہ لگایا کہ گزشتہ کل کا بدلہ چکا دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اُس کا یہ خیال بھی راسخ ہو گیا کہ وہ زور زبردستی اور تشدد کے ساتھ ہی اس کھیل کا صحیح لطف اُٹھا سکتا ہے۔

***              ***

اس دن کے بعد وہ پھر سے اپنی پرانی ڈگر پر چل نکلا۔ وہ اس علاقے کا سب سے بڑا زمیندار تھا۔ اس لئے بہت سے مزارع، کھیت مزدور اور کمّی بھی اُس کی رعایا کا حصہ تھے۔ اُن میں سے کسی کی بھی جوان ہوتی ہوئی لڑکی پر اُس کی نظر پڑ جاتی تو سمجھیں اُس لڑکی کی زندگی تباہ ہونا لازمی ٹھہرتی۔ وہ ایسے کسی مقصد کے لئے کبھی کوئی باعزت راہ اپنانا بھی اپنی شان کے خلاف سمجھتا تھا۔

جیپ پر سوار ہو یا گھوڑے کی کاٹھی پر، وہ ایسی بے چاری لڑکی کو دوڑنے پر مجبور کر دیتا۔ اگر وہ گاؤں کی کسی تنگ گلی میں داخل ہو کر غائب ہو جاتی تو سمجھیں وقتی طور پر بچ گئی ورنہ دوڑ دوڑ کر تھک جاتی، گر پڑتی تو سب کے سامنے اُٹھا کر حویلی میں سیدھا اپنے کمرے میں لے جاتا۔ وہ کمرہ جہاں سے کسی کی اونچی چیخیں بھی باہر سنائی نہیں دیتی تھیں۔ اُس کے ایسے مظالم کے خلاف کوئی آواز اُٹھا سکے، ایسی جرات وہاں کے کسی باسی میں تھی نہیں۔

نجانے اب تک اس انداز سے وہ کتنی لڑکیوں کی تباہی کا باعث بن چکا تھا۔ پھر اگر ایسی کسی لڑکی کے بارے بعد میں خبر ملتی کہ وہ حاملہ ہو چکی ہے تو اُس کا ابارشن بھی لازمی کرا دیتا۔ اس طرح کے ابارشنوں میں کئی بے چاریاں تو جان سے بھی جا چکی تھیں مگر ہر بار کفن دفن تک کچھ چہ مگوئیاں ہوتیں اور پھر ایسی خاموشی چھا جاتی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

حالانکہ اُس کا کئی بڑے شہروں میں بھی آنا جانا رہتا تھا کہ وہاں بھی اُس کی جائیدادیں تھیں مگر نجانے کیوں وہ کسی بھی شہر میں ایسی کوئی حرکت نہیں کرتا تھا۔

***              ***

نوری کو اُس نے بعد میں وقفے وقفے سے کئی بار اور بلایا۔ ہر بار اُس پر تشدد کرنا بھی ضروری سمجھا۔ بے شک ہمیشہ اُسے اِس پیغام کے ساتھ بلایا کہ اب ہر معاملہ پیار سے ہو گا، مگر اُس کو دیکھتے ہی اپنا وعدہ بھول گیا۔ نوری سمجھ گئی تھی کہ اُس نے اپنی بڑی بوڑھیوں سے جو ہنر سیکھے تھے وہ سب عام مردوں کے لئے تھے۔ ایسے وحشی اور شاید ذہنی بیمار پر اُن کا کوئی اثر نہیں تھا۔

نوری اور اُس کی ماں بالو نے مل کر کئی بار سوچا تھا کہ چودھری کے پاس پیسے کی تو کوئی کمی نہیں ہے۔ اگر وہ چاہے کہیں سے اپنے مطلب کی ایسی لڑکیاں خرید بھی سکتا ہے، جن کا پیشہ ہی دولت مند لوگوں کا دل بہلانا ہوتا ہے تو پھر وہ کیوں گاؤں کی بے بس اور بے چاری لڑکیوں کو ہی شکار کرتا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ اُن پیشہ ور لڑکیوں کو ایسے تشدد کا نشانہ نہیں بنا سکتا، اور لڑکیوں پر تشدد کیے بغیر وہ رہ نہیں سکتا۔ کہیں یہ اُس کی کوئی بیماری تو نہیں۔ مگر وہ پوچھتیں کس سے؟

عمر دراز کو اگلے دنوں میں نائیوں کی ایک لڑکی ”باگڑی“ پسند آ گئی۔ جب اُسے خبر ملی کہ باگڑی ابھی تک کنواری ہے تو اُس کا جوش اور بڑھ گیا۔ ایک دن اُس بے چاری کو بیچ بازار سے اُٹھا لایا۔ اُس سے جسمانی لذت اُٹھانے سے پہلے اُس کی آہ و بکا اور منتوں زاریوں سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ پھر کئی دن تک اُسے اپنے کمرے سے باہر جانے ہی نہیں دیا۔ باگڑی کے آنے کے بعد وہ نوری کو جیسے بھول ہی گیا۔ اس طرح کئی ہفتے گزر گئے۔

پھر ایک دن نوری کے ماں باپ اور دوسرے رشتہ دار روتے پیٹتے اُس کے پاس پہنچے۔ اُن کے کہنے کے مطابق وہ کچھ خریداری کے لئے شہر گئے تھے۔ بازار سے نکل کر سڑک پر آئے تو تیزی سے ایک کار اُن کے پاس آ کر رُکی۔ اُس میں سے تین آدمی پستول پکڑے ہوئے نکلے اور نوری کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔ وہ سب چیختے پکارتے رہ گئے مگر کسی نے اُن کی کوئی مدد نہیں کی۔ اب وہ عمر دراز سے التجائیں کر رہے تھے کہ وہ پولیس کی مدد حاصل کر کے نوری کو برآمد کرائے۔

عمر دراز نے اُن سے مدد کا وعدہ کیا اور شہر کے اُس علاقہ کے ایس ایچ او سے ملنے بھی گیا۔ واپس آ کر اُس نے نوری کے ماں باپ اور رشتہ داروں کو تسلی بھی دی۔ مگر اُس کی کسی کوشش کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ وہ لوگ وقفے وقفے سے اُس کے پاس آتے اور اُسے اُس کا وعدہ یاد دلاتے رہے۔ وہ ہر بار انہیں تسلی دے کر واپس بھیجتا رہا۔ کہنے کو تو وہ بار بار شہر جاتا اور نوری کو برآمد کرانے کی کوششیں کرتا رہا۔ لیکن اصل میں وہ کیا کر رہا تھا، کسی کو کوئی خبر نہ تھی۔

باگڑی تقریباً دو مہینے تک اُس کے زیرِ استعمال رہی۔ پھر ایک اور بدقسمت اُس کا نشانہ بن گئی۔ نئی لڑکی بھی کچھ ہفتوں بعد فارغ کر دی گئی اور اب ایک اور نئی لڑکی اُس کے ظلم کی تجربہ گاہ کا حصہ تھی۔ اسی دوران اُسے خبر ملی کہ باگڑی اپنے کسی عاشق کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ دونوں نے کسی دور دراز کے علاقہ میں جا کر شادی کر لی ہے۔ ایک اور لڑکی جو اُس کے بستر کی زینت رہ چکی تھی، اپنی ایک دور کی خالہ کی خبر لینے گئی تو سخت بیمار خالہ نے منت سماجت کر کے اُسے اپنے بیٹے سے نکاح دیا۔

چودھری عمر دراز کی ماں پہلے بھی اُس کی حرکتوں سے باخبر ہی رہتی تھی اور وہ اسے بڑے لوگوں کے شوق سمجھ کر بے پروا ہی برت رہی تھی۔ نوری کے اغوا پر اُسے تشویش ہوئی تھی۔ پھر باگڑی بھاگی تو اُس کے کان مزید کھڑے ہوئے مگر اس تیسری لڑکی کی یوں دور دراز کے علاقہ میں اس اچانک شادی پر وہ باقاعدہ فکرمند ہو گئی۔ اُس نے بیٹے کو اپنے کمرے میں طلب کیا۔ کافی دیر تک اپنے تجربے کی باتیں کیں اور ان تینوں لڑکیوں کے ضمن میں ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا۔

ماں کی اس گفتگو کے بعد عمر دراز میں ایک تبدیلی ضرور آئی۔ اُس نے لڑکیوں کو یوں بازار سے اُٹھانا بند کر دیا۔ اب وہ ایسی ہر لڑکی کے ماں باپ کو لالچ اور دھمکی سے مجبور کر نے لگا۔ صلاح صفائی سے لانے کے باوجود اُسے تشدد کا نشانہ ضرور بناتا۔ لڑکی کو ایک بار اپنے کمرے میں لے جاتا تو کئی کئی ہفتے اُسے وہاں سے نکلنے نہ دیتا۔ جب وہ بے چاری اگلے حیض سے ہمکنار ہوتی تو اُسے آزاد کر دیتا۔ اگر اس دوران وہ حاملہ ہو چکی ہوتی تو اُس کا ابارشن کرائے بغیر اُسے اپنی حویلی سے نکلنے کا موقع نہ دیتا۔

چودھری کی ماں ایک تجربہ کار عورت تھی۔ اُس نے گاؤں والوں کی خاموشی کے باوجود ایک ممکنہ خطرے کی بُو سونگھ لی تھی۔ عمر دراز نے ماں کی بات کو کسی حد تک سمجھ بھی لیا تھا۔ مگر اُس کی جنگلی انداز کی گھڑ سواری میں ابھی بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔

وہ سرسبز کھیتوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے کچے راستوں پر ، اپنا سیاہ چمکدار گھوڑا سرپٹ دوڑائے گاؤں کی طرف چلا آتا۔ گھوڑے کی رفتار ایسی ہوتی کہ ہر کوئی اُس کے راستے سے دُور ہونے کی کوشش کر تا۔ گاؤں میں داخل ہونے سے پہلے ہی تمام گلیاں ویران ہو چکی ہوتیں۔ مگر ماؤں کے شور مچانے کے باوجود گلیوں میں کھیلتے ہوئے کچھ بچے اپنا کھیل جاری رکھتے۔

بچوں کے قریب پہنچ کر وہ گھوڑے کی لگامیں اتنی زور سے کھینچتا کہ گھوڑا پچھلے پیروں پر کھڑا ہو جاتا۔ بچے بھاگ جاتے تو وہ گھوڑے سے اُتر کر بچوں کی ماؤں کو گالیاں دینے لگتا۔ اتنی دیر میں اُس کے کچھ کارندے بھی وہاں پہنچ جاتے۔ وہ مالک کا اشارہ پاتے ہی بچوں کی ماؤں پر لاٹھیاں برسانی شروع کر دیتے۔ جرم، یہ کہ اُس کے گھوڑے کی آمد کے باوجود بچوں کو گلی میں کھیلنے دیا۔

وہ ہر دو چار دن بعد ایسے ہی گھوڑا دوڑاتا ہوا گاؤں میں داخل ہوتا۔ لوگ یونہی سہم کر گھروں میں گھس جاتے۔ اگر کوئی غلطی سے بھی اُس کے گھوڑے کے راستے میں آ جاتا تو زخمی ہونے کے علاوہ اُسے مار پیٹ کی سزا بھی دی جاتی۔ یہ وہی تھا جس نے اب تک گھوڑے پال رکھے تھے۔ بے شک تین تین انتہائی مہنگی گاڑیاں اور دو دو جیپیں بھی اُس کے تصرف میں تھیں مگر اپنے قریبی دیہات میں گھومنے پھرنے کے لئے وہ گھوڑا ہی استعمال کرتا تھا۔

چھوٹی موٹی تبدیلیوں کے ساتھ اُس کا یہ معمول مزید پانچ سال چلتا رہا۔ پھر ماں کے سمجھانے بجھانے اور مجبور کرنے پر وہ شادی کے لئے رضامند ہو گیا۔ تلاشِ بسیار کے بعد دور کے ایک زمیندار کی بیٹی نفیسہ گوندل کے ساتھ رشتہ کی بات چل نکلی۔

نفیسہ کا باپ سردار محمد گوندل پورے تیس مربع اراضی کا مالک تھا۔ اولاد میں صرف ایک بیٹا مختار محمد گوندل اور ایک بیٹی نفیسہ گوندل تھی۔ بچوں کے جوان ہوتے ہی اُس نے زمین اور حویلی دونوں میں برابر برابر تقسیم کر دیے تھے۔ بیٹا تو زیادہ تر شہر میں رہتا اور زمین کے معاملے میں کم ہی دلچسپی لیتا تھا لیکن بیٹی اپنے حصہ کی زمین کے تمام معاملات کی نگرانی خود کرتی تھی۔

نفیسہ ایم بی کرنے کے بعد ابھی آئندہ کے پروگرام بنا ہی رہی تھی کہ چودھری عمر دراز کا رشتہ آ گیا۔ باپ کی طرف سے مکمل آزادی ہونے کے باوجود اُس نے اپنے لئے خود کسی لڑکے کا انتخاب نہیں کیا تھا۔ اب عمر دراز کا رشتہ آیا، جو اُن سے کہیں بڑا زمیندار تھا تو سردار محمد گوندل نے بیٹی کو غور کرنے کا مشورہ دیا۔ نفیسہ کے کہنے پر عمر دراز اور اُس کی ماں کو گھر آنے کی دعوت دی گئی۔

دعوت کے آخر میں نفیسہ نے دونوں ماں بیٹے کے سامنے کچھ شرائط رکھیں اور اُن پر غور کرنے کے لئے کہا۔ عمر دراز کے نزدیک تو یہ بہت کڑی شرائط تھیں لیکن جب ماں نے اُسے علیحدہ لے جا کر سمجھایا کہ ایک بار بیاہ کے بعد لڑکی سسرال آ جائے تو ایسی شرائط کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہتی، تو عمر دراز نے تمام شرائط مان لیں۔

ایک سال کے بعد جب شادی ہوئی تو نفیسہ کے مطالبہ پر تمام کی تمام شرائط نہ صرف نکاح نامہ میں لکھی گئیں بلکہ وکیلوں کے ذریعے عدالت کے سٹاپ پیپرز پر بھی لکھوائی گئیں۔ کئی معقول گواہان کے دستخط بھی ان پر لئے گئے۔ نکاح نامہ میں نفیسہ کو طلاق کا حق بھی دیا گیا تھا۔ طلاق چاہے دونوں میں سے کوئی بھی دے، عمر دراز کی ساری جائیداد میں سے نصف حصہ نفیسہ کو ملنا تھا۔ جبکہ نفیسہ کو باپ کی طرف سے ملی ہوئی جائیداد کا اِس طلاق سے کوئی واسطہ نہ تھا۔

عمر دراز کی ماں کا خیال جلد ہی غلط ثابت ہو گیا کہ نفیسہ کوئی عام سی لڑکی نہ تھی۔ زمین جائیداد کے بارے میں تو اُس نے کوئی بات نہ کی اور نا ہی کبھی طلاق کا ذکر کیا مگر اپنے حقوق کے بارے اُس کی جو شرائط تھیں، اُن سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ وہ ہر مہینے کے آخر میں باپ کے پاس جاتی۔ اپنی فصلوں کا جائزہ لیتی، آئندہ کے منصوبوں کے لئے اپنے لوگوں سے صلاح مشورے کرتی، اپنے حصے کی حویلی کی صفائی کرواتی، کچھ دن وہاں رہتی اور واپس لَوٹ آتی۔

نفیسہ نے یہاں کی حویلی کا ہر کام بھی اپنی نگرانی میں لے لیا تھا۔ وہ حویلی کے چپے چپے کی صفائی خود کراتی تھی۔ عمر دراز کو اب موقع ہی نہیں ملتا تھا کہ وہ کسی لڑکی کو اپنے کمرے تک لا کر تشدد کا نشانہ بنائے اور اُس کی منتیں زاریاں سن کر لطف اندوز ہو سکے۔ بے بس لڑکیوں کو اذیت دے کر اپنے اندر کے وحشی کی تسکین اب اُس کی دسترس سے باہر ہو چکی تھی۔ بے شک وہ شہر جا کر اپنے گاؤں جیسی بے بس لڑکیاں تلاش ضرور کرتا تھا مگر کامیاب نہ ہو پاتا تھا۔ شہر کی لڑکیاں اُس کی کسی ایسی کوشش پر اُس کا ہاتھ روک دیتی تھیں۔ اب وہ لمبے لمبے راستوں پر گھوڑے کو بے انتہا دوڑا کر خود کو خوش کرنے کی کوشش کرتا۔ اسی بدتمیزی میں اُس کے دو گھوڑے لنگڑے ہو کر ناکارہ ہو چکے تھے۔

اب اُس کی ماں اُسے اِس دلاسے پر لگائے ہوئے تھی کہ دو تین بچے ہو جانے دو ، نفیسہ کی سب اکڑ ختم ہو جائے گی۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ حویلی کی زندگی نفیسہ کے طے کیے ہوئے اصولوں پر چلتی رہی۔ اگلے چھ سال میں نفیسہ نے تین خوبصورت بیٹیوں کو جنم دیا۔ جب تیسری بیٹی کی پیدائش ہوئی تو عمر دراز نے پوری کوشش کر کے بچیوں اور گھر کے کاموں پر توجہ دینی شروع کی۔ عمر دراز کی ماں پوتے کی شکل دیکھنے کو ترستی ہوئی اگلے جہان سدھار گئی۔

***              ***

چودھری عمر دراز کی شادی کو سولہ سال ہو چکے تھے۔ اس عرصہ میں وہ اپنے نو گھوڑے ضائع کر چکا تھا۔ بے شک ابھی اُس کی عمر پینتالیس سال سے زیادہ نہیں ہوئی تھی مگر جوانی والا دم خم رُخصت ہو چکا تھا۔ زمینداری کے کام سنبھالنے بھی مشکل ہو رہے تھے۔ کچھ دیر پہلے ہی اُس کے گاؤں سے صرف پانچ کلو میٹر کے فاصلے سے موٹر وے گزاری گئی تھی۔ اب ایک چھوٹی سڑک اس موٹروے سے نکال کر اُس کے گاؤں کے قریب سے گزرنے کے لئے بنائی جا رہی تھی۔ اس نے آگے ایک بڑے قصبہ کو موٹروے سے ملانا تھا۔ عمر دراز اب اسی انتظار میں تھا کہ وہ سڑک بن جائے، اُس کی زمینوں کی قیمت بڑھے تو وہ انہیں بیچ کر شہر کا رُخ کرے۔

ایسے میں اُس پر حالات کا ایک بڑا بم گرا۔ ”نور پری“ نام کی ایک عورت نے دعویٰ کر دیا تھا کہ وہ عمر دراز کی منکوحہ ہے۔ عمر دراز سے اُس کا ایک بیٹا ہے جو کہ اب اٹھارہ سال سے زیادہ کا ہو چکا ہے۔ وہ عمر دراز کے تشدد سے تنگ آ کر اُسے چھوڑ آئی تھی مگر اب اُس کا مطالبہ ہے کہ عمر دراز اپنے بیٹے کو اپنا لے۔ نفیسہ کی تشویش پر عمر دراز نے اُسے بتایا کہ یہ یقیناً کوئی بلیک میلنگ کا معاملہ ہے کیونکہ اُس نے نفیسہ سے پہلے کوئی اور شادی کی ہی نہیں۔ دعویٰ چونکہ عدالت میں دائر کیا گیا تھا اس لئے اُس کے واقف پولیس والے تو بے خبر تھے۔ مگر اُس نے دوسرے ذرائع استعمال کیے تو انکشاف ہوا کہ یہ ”نور پری“ دراصل نوری ہے جو کبھی اُس کے بستر کی ساتھی رہ چکی تھی۔

اُس نے پولیس میں اپنے دوستوں سے مشورہ کیا کہ کیوں نہ اس عورت پر فراڈ اور بلیک میلنگ کا پرچہ درج کرا دیا جائے؟ مگر اس سے پہلے ہی نور پری کے وکیل نے عدالت سے حکم جاری کروا لیا کہ پہلے بچے اور عمر دراز کا ڈی این اے ٹیسٹ ہو گا۔ اگر عمر دراز اِس ٹیسٹ کے لئے راضی نہ ہوا تو اُسے اس بچے کا باپ سمجھا جائے گا۔ اور جب تک ایسے ٹیسٹ کا نتیجہ نہیں آ جاتا، نور پری کے خلاف کوئی دوسرا مقدمہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔ عمر دراز کے وکیلوں نے اُسے مشورہ دیا کہ اُسے فوراً یہ ٹیسٹ کرا لینا چاہیے۔ بصورتِ دیگر عدالت اُس کو قصوروار سمجھے گی اور اُس کے پاس بڑی عدالتوں میں جانے کا راستہ بھی نہیں بچے گا۔

نفیسہ نے بھی اُسے یہی مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹیسٹ تمہارے حق میں ہوا تو اُس عورت پر فراڈ، بلیک میلنگ اور زنا کا کیس بھی بن جائے گا۔ زانی خواہ عورت ہو یا مرد، اُسے ملکی اور شرعی دونوں قوانین کے تحت سخت سزا مل سکتی ہے۔ عمر دراز تو آج تک تھانے کچہریوں سے کھیلتا چلا آیا تھا۔ وہ ٹیسٹ کے لئے راضی ہو گیا۔

نور پری کا دعویٰ تھا کہ عمر دراز نے اپنے ہی چند لوگوں کی موجودگی میں اُس سے زبردستی نکاح پڑھوایا اور اُسے اپنے گھر میں ڈال لیا۔ نکاح نامہ کی کاپی بھی اُسے نہیں دی۔ جنسی تعلق تو وہ نکاح کے بعد قائم کرنے کا قانونی طور پر ہی مجاز ہو گیا تھا لیکن وہ اُس پر بہت بری طرح سے تشدد بھی کرتا تھا۔ اسی سخت ترین مار پیٹ سے تنگ آ کر وہ بھاگ نکلی۔ ماں باپ کے ذریعے اُس نے اغوا کا ڈرامہ رچایا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ عمر دراز اُسے ڈھونڈ نکالے اور پھر سے اپنے ظلم کا نشانہ بنائے۔

جب ٹیسٹ ہو گئے تو عمر دراز نے اُن ڈاکٹروں اور لیبارٹریوں کا پیچھا کرنا شروع کیا جہاں سے رزلٹ بن کر آنا تھا۔ مگر اُس کی ہر ایسی کوشش کے سامنے حقوقِ نسواں کی کئی مضبوط تنظیمیں دیوار بن کر کھڑی تھیں۔ وہ ایک ایک لمحہ اس سارے عمل کی نگرانی کر رہی تھیں۔ اُس کے تعلقات یا اُس کی دولت کسی کام نہ آئے اور نتیجہ اُس کے خلاف آ گیا۔ یہ تو ثابت ہو چکا تھا کہ بچہ اُسی کا ہے۔ اب فیصلہ اُس نے کرنا تھا کہ نور پری کے دعویٰ کے مطابق نکاح والی بات مان کر بچے کو اپنا لے یا بچے کو زنا کا نتیجہ کہہ کر سزا کے لئے تیار ہو جائے۔ سزا بے شک نور پری کو بھی ملتی لیکن بے عزتی کا شکار تو اُسے ہی بننا تھا۔ اخبارات اور ٹی وی پر پہلے ہی بہت شور شرابا ہو رہا تھا۔

اُس نے نور پری کے ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں سے مل کر تیسرا راستہ نکالنا چاہا تو اُسے خبر ہوئی کہ وہ سب تو کئی مہینے پہلے گاؤں چھوڑ کر ہی جا چکے ہیں۔ ابھی وہ اپنے وکیلوں سے کسی اگلی عدالت میں جانے کے لئے مشورہ ہی کر رہا تھا کہ اُس کے خلاف ویسا ہی ایک اور دعویٰ آ گیا۔ اس بار عورت کا نام ”نبیلہ بی بی“ تھا۔ جلد ہی یہ راز بھی کھل گیا کہ نبیلہ درحقیقت باگڑی کا اصلی نام تھا۔ دوسری بار ٹیسٹ دینا پڑا تو اُس نے رزلٹ کے پیچھے بھاگنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ دونوں عدالتوں کے تفصیلی فیصلے آنے اور فریقین کے درمیان فیصلوں پر عمل درآمد کا طریقہ طے پانے سے پہلے ایک تیسرا دعویٰ آ گیا۔ عورت کا نام خدیجہ تھا۔

اب تو نفیسہ کا ضبط جواب دے گیا۔ اُس نے عمر دراز کو صاف صاف کہہ دیا کہ اگر اُس کے گناہوں سے پیدا ہونے والوں کی تعداد تین سے زیادہ بھی ہے تو وہ انہیں اپنا کر ان سب کی عزت بچائے۔ اس طرح میڈیا پر تماشا بننے سے اُس کی بیٹیوں پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ اگر اُس نے ان جھگڑوں کو طول دینے کی کوشش کی تو وہ اسے طلاق دے دے گی اور اپنی بچیوں کو ساتھ لے کر چلی جائے گی۔ عمر دراز اب اتنا ٹوٹ چکا تھا کہ کسی قیمت پر بھی نفیسہ کو گنوانے کے لئے تیار نہیں تھا۔ اُس نے اُن تینوں عورتوں کے دعوے مان لئے اور تینوں لڑکوں کو اپنا نام بھی دے دیا۔

عمر دراز کی اس شکست سے چھیالیس سال پہلے، اسی گاؤں کی ایک سولہ سالہ لڑکی کو شہر کے ایک ہسپتال میں ابارشن کے لئے لایا گیا۔ حقوقِ نسواں کی ایک تنظیم کو اس کی خبر ملی تو اُن کی خواتین ہسپتال پہنچ گئیں۔ مگر تب تک وہ لڑکی ابارشن سے مرحلہ سے گزر چکی تھی۔ اُس تنظیم کی خواتین نے لڑکی کی بپتا سنی تو اُس سے وعدہ لیا کہ وہ آئندہ اُن سے رابطہ میں رہے گی۔ وہ لوگ ایسی ہر لڑکی کی مدد کرنے کو تیار تھے جسے ایسے ظلم کا نشانہ بنا کر ابارشن پر مجبور کیا جاتا ہے۔ چھیالیس سال پہلے وہ سولہ سالہ لڑکی ”نور پری“ کی ماں ”بالو“ تھی۔ اُسے حاملہ کرنے والا عمر دراز کا باپ تھا اور یہ ابارشن بھی اُسی نے کروایا تھا۔ بالو (مقبولاں) نے اس تنظیم سے پہلا رابطہ اپنی بیٹی کے لئے کیا تھا۔

جب چودھری عمر دراز نے تینوں لڑکوں کو اپنا کر ، اپنا نام بھی دے دیا، اُن کی معاشی حالت بھی بہتر ہو گئی تو وہ گاہے بگاہے حویلی میں آنے لگے۔ تینوں کے تینوں اپنی تعلیم میں مصروف تھے، اس لئے روز روز آ بھی نہیں سکتے تھے۔ اب تک وہ ہمیشہ اپنی ماؤں کے ساتھ ہی آ رہے تھے۔ ویسے بھی شاید اُن کی ماؤں کو ہی اپنی کھوئی ہوئی عزت حاصل کرنے کی جلدی تھی۔ نفیسہ نے اُن کے لئے حویلی کا ایک حصہ مختص کر دیا تھا۔ بے شک انہیں حویلی میں معقول عزت مل رہی تھی۔ مگر نفیسہ انہیں اپنی بیٹیوں سے ملنے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ عمر دراز کو ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اُسے آگے کیا کرنا ہے۔ اُس کی واحد تفریح اب گھڑسواری رہ گئی تھی۔

ایک دن عمر دراز گھڑ سواری کے لئے اکیلا ہی حویلی سے باہر نکل رہا تھا کہ اُسے وہاں بالو (مقبولاں ) مل گئی۔ وہ تو چُپ چاپ گزر جا نا چاہتا تھا مگر خود مقبولاں نے ہی اُسے مخاطب کر لیا ”سلام کہتی ہوں چودھری صاحب“ ۔ چودھری تو جواب میں سر ہلا کر گھوڑے پر سوار ہوجانا چاہتا تھا مگر مقبولاں آگے بول پڑی

”آپ کو کچھ یاد دلانا تھا چودھری صاحب!“ ۔
”مجھے کچھ یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں، تم جاؤ اپنا راستہ لو“ ۔
”نہیں نہیں، چودھری صاحب! یاد دلانا بہت ضروری ہے، کیونکہ بڑے لوگوں بہت جلدی بھول جاتے ہیں“ ۔
”کیا بکواس ہے جلدی جلدی بکو کیا بکنا ہے۔ مجھے دیر ہو رہی ہے“ ۔

”آج سے بائیس سال پہلے آپ نے کہا تھا کہ ہم تو ذات کے مراثی ہیں۔ ہم تو شادیوں پر ناچتے گاتے اور فوتگیوں پر بین ڈالتے ہی اچھے لگتے ہیں۔ اب شادی تو کسی کی ہو نہیں رہی کہ ہم ناچیں گائیں، تو پوچھنا یہ ہے کہ بین کس کی فوتگی پر ڈالنے ہیں؟“ ۔

چودھری اُس کی بات کا جواب دیے بغیر گھوڑے پر سوار ہونے لگا تو اُس نے جلدی سے بات آگے بڑھائی

”ابھی بات پوری نہیں ہوئی ہے چودھری صاحب! آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم لوگ جب تک آپ کے پاؤں چاٹتے رہیں گے ہماری چمڑی سلامت رہے گی ورنہ آپ ہماری کھال کھنچوا دیں گے۔ تو سوال یہ بھی ہے کہ آپ کے وہ پاؤں اب کہاں ہیں جو ہم نے چاٹنے تھے؟ ہم ذات کے مراثی تو اب آپ کی حویلی میں گھُس آئے ہیں۔ دو اور کمّی کمین عورتیں اور اُن کی اولادیں بھی اب آپ کی زمینوں کی وارث بن گئی ہیں اور آپ کچھ نہیں کر سکے۔“ ۔

”جلدی جلدی اپنی بکواس ختم کرو، ورنہ میں تمہیں گھوڑے کے سموں تلے روند کر گزر جاؤں گا“ ۔

”وہ وقت گزر گیا ہے چودھری صاحب! ہاں تو میں کہہ رہی تھی، میں صرف سولہ سال کی تھی جب بڑے چودھری یعنی آپ کے باپ کی زیادتی کا نشانہ بنی۔ میں نے اُسے بھی کہا تھا کہ مجھ کنواری پر ایک بڑا ظلم تو کر لیا ہے، اب دوسرا ظلم نہ کرو۔ مجھ غریب کی آہ مت لو۔ مجھ سے میرا بچہ مت چھینو۔ مگر وہ میرے بچے کا خون کرنے سے باز نہ آیا۔ تم نے تو اب دیکھ ہی لیا ہے کہ ہم کمی کمین، مراثی، جب کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو بڑے بڑے ظالموں کی پگڑیاں تک بازار میں اُچھال دیتے ہیں اور کوئی ہمارا ہاتھ نہیں روک پاتا“ ۔

چودھری نے اُس کی بات کا جواب نہیں دیا اور گھوڑے پر سوار ہو گیا

”تم نے بہت غریبوں کی زندگیاں تباہ کی ہیں۔ اب دیکھنا تم خود کیسے تباہ ہوتے ہو“ وہ اب ’آپ‘ سے ’تم‘ پر اتر آئی تھی۔

چودھری کے دماغ میں تو غصے کا لاوا کھول رہا تھا، مگر اُس نے کوئی جواب دینے کی بجائے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور آگے بڑھ گیا۔ مقبولاں کی باتیں اُس کے سر پر ہتھوڑے کی طرح ضربیں لگا رہی تھیں۔ اپنے غصے پر قابو پانا وہ ابھی تک نہیں سیکھ سکا تھا۔ اُس نے گھوڑا نئی زیر تعمیر سڑک کر طرف موڑ دیا۔ وہ اس نئے گھوڑے کو بھی دور تک دوڑانا چاہتا تھا۔ اُس نے گھوڑے پر لگاتار چابک برسائے۔ گھوڑا ہوا سے باتیں کرنے لگا۔ راستہ ابھی بہت ناہموار تھا۔ تیز رفتار گھوڑے کو ایک کھڈّے سے ٹھوکر لگی تو وہ اُچھل کر گرا۔ عمر دراز بھی ہوا میں قلابازیاں کھاتا ہوا دُور جا کر پڑا۔ زیر تعمیر سڑک پر کام کرتے ہوئے کچھ مزدوروں نے اُسے پہچان کر کسی طرح حویلی پہنچایا۔

نفیسہ نے بچیوں کو ملازمہ کے حوالے کیا اور خود عمر دراز کو جیپ میں ڈال کر ڈرائیور کے ساتھ شہر روانہ ہو گئی۔ ہسپتال میں ڈاکٹروں نے بہت سے ٹیسٹ کرائے تو سی ٹی سکین سے پتہ چلا کہ اُس کے دماغ پر گہری چوٹ آئی ہے۔ خون دماغ کے دوسرے حصوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسے روکنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ عین ممکن ہے کہ دس بارہ گھنٹے میں اُس کی یادداشت مکمل طور پر ختم ہو جائے۔ عمر دراز، جو ابھی کسی حد تک ہوش میں تھا، کے کہنے پر فوراً ایک مختار نامہ تیار کرایا گیا اور عمر دراز نے ہر نوع کی زمین جائیداد کے حقوق نفیسہ کے نام کر دیے۔ ڈاکٹروں کا اندازہ درست نکلا۔ عمر دراز دس گھنٹے کے بعد یادداشت سے مکمل طور پر محروم ہو گیا۔

عمر دراز ہسپتال سے فارغ ہو کر حویلی میں آیا تو وہ کسی کو پہچان ہی نہیں رہا تھا۔ سننے اور بولنے کی طاقت بھی ختم ہو چکی تھی۔ اُسے تو بھوک پیاس بھی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ کوئی کھانا لا دے تو کھا لیتا، پانی پلا دے تو پی لیتا، ورنہ پڑا چھت کو گھورتا رہتا۔ ڈاکٹروں نے تو صاف صاف بتا دیا تھا کہ اب وہ جتنی دیر بھی زندہ رہے گا، اسی حالت میں رہے گا۔

نور پری، نبیلہ اور خدیجہ کو فکر ہوئی کہ اب تمام اختیارات نفیسہ کے پاس آ گئے ہیں تو کہیں عمر دراز کی اس حالت میں وہ انہیں بالکل بے دخل ہی نہ کر دے۔ لیکن نفیسہ نے تینوں عورتوں اور اُن کے بیٹوں کو بلا کر حوصلہ دیا کہ اُنہیں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں، سب کے ساتھ انصاف ہو گا۔ اور انصاف ہوا بھی۔ نفیسہ نے آدھی حویلی اور نصف زمینیں اپنے پاس رکھیں اور باقی اُن تینوں لڑکوں میں تقسیم کر دیں۔

نور پری، نبیلہ اور خدیجہ تو تقریباً بیس بیس سال سے شہر کے چھوٹے چھوٹے فلیٹوں میں رہ رہی تھیں۔ انہوں نے فوراً اپنے حصے کی زمینیں بیچیں اور شہر میں گھر بنا لئے۔

اسی دوران لکڑ شاہ بھی کچھ دیر بیمار رہ کر فوت ہو گیا۔ اُس کے بچوں نے باپ کو اُس کے کاروباری احاطہ میں دفن کر کے وہاں لنگر جاری کر دیا اور وہاں ایک چھوٹی سی مسجد بھی بنا دی۔ لنگر کھانے والوں کے لئے قبر کے ساتھ ہی بیٹھنے کی جگہ مختص کر دی گئی۔

عمر دراز کو نفیسہ نے حویلی کے اپنے والے حصہ میں رکھا ہوا تھا۔ اُس کی دیکھ بھال کے لئے ہمہ وقت کئی کئی ملازم موجود رہتے تھے۔ پھر بھی ایک رات عمر دراز سب کی آنکھ بچا کر وہاں سے نکل گیا۔ وہ کب، کیسے اور کہاں چلا گیا، کسی کو کچھ خبر نہ تھی۔ نفیسہ نے اُسے ہر ممکنہ طریقے سے ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر بے سود۔ آخرکار مایوس ہو کر اُس نے تلاش ہی بند کردی۔

چند مہینوں میں وہ نئی سڑک مکمل ہو گئی تو دور دراز کے دیہات سے لوگوں نے یہاں آ کر رہائشیں اختیار کرنا شروع کر دیں۔ زمینوں کی قیمتیں ایک دم اوپر چلی گئیں۔ یہ سرسبز و شاداب گاؤں، اب چھوٹے چھوٹے کارخانوں اور فیکٹریوں میں تبدیل ہونا شروع ہو گیا۔ بڑے بڑے اور کھلے گھروں کی جگہ چھوٹے چھوٹے اور تنگ مکان سر اُٹھانے لگے۔ کھلی کھلی گلیاں ان کے دو نوں طرف کی چھوٹی چھوٹی دکانوں اور اُن کے آگے بنے ہوئے تھڑوں کی بدولت تنگ سے تنگ تر ہوتی چلی گئیں۔ گندے پانی کی نالیاں یوں تو اب پکی ہو چکیں تھیں مگر اُن میں سے بدبودار پانی ہر وقت باہر چھلکتا پھرتا تھا۔

نفیسہ نے بھاگ دوڑ کر کے، لڑکیوں کے مقامی پرائمری سکول کو ہائی سکول کا درجہ دلایا اور حویلی کا اپنا حصہ اس سکول کو دے دیا۔ خود اپنے حصے کی زمینیں فروخت کر کے پہلے شہر اور پھر بچیوں کو لے کر امریکہ چلی گئی۔ وہاں اُسے ایک معقول جاب مل گئی تھی۔ بچیوں نے وہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر وہیں کی ہو کر رہ گئیں۔

جیسے جیسے یہ گاؤں ایک قصبہ میں ڈھلتا گیا، پرانے لوگ اسے چھوڑ چھوڑ کے جاتے رہے۔ ایک صاف ستھرا، سرسبز و شاداب گاؤں ایک قصبہ میں ڈھل کر پھیلتا چلا گیا۔ لکڑ شاہ کا مزار وہاں مستقل بیٹھنے والوں کی وجہ سے ایک بارونق مقام بن گیا۔ انہی مستقل بیٹھنے والوں میں سے کچھ لوگ اس مزار کے مجاور بن گئے۔ یہاں تک کہ لکڑ شاہ کی اولادیں بھی اس قبر کو ان مجاوروں کے حوالے کر کے وہاں سے کوچ کر گئیں۔ مجاوروں کے پراپیگنڈہ سے یہاں نذرانے چڑھائے جانے لگے اور وہاں منشیات کا کاروبار بھی شروع ہو گیا۔ بے شک اب وہاں کی مسجد بھی آباد ہے لیکن اصل رونق رات کے بعد نشے میں مست ناچنے والوں کے دم سے ہے۔

ہم جس پچھہتر سالہ ٹوٹے پھوٹے بوڑھے کا ذکر شروع میں کر آئے ہیں، جو اپنی بری صحت کی وجہ سے نوے سال سے بھی زیادہ کا لگتا ہے، وہ اُس وقت یہاں آیا تھا جب لکڑ شاہ کی قبر ایک مزار میں بدل چکی تھی۔ یہ بوڑھا نہ تو بول سکتا ہے اور نا ہی شاید اُسے سنائی دیتا ہے۔ البتہ بہت سے لوگ متفق ہیں کہ یہی اس علاقے کا سب سے پرانا باسی ہے۔ جبکہ اُس کی عمر کے بارے میں بھی قیافہ ہی ہے۔ ایسا وہاں کوئی ہے ہی جو اس بارے کسی ثبوت کا حوالہ بھی دے سکتا ہو۔

Facebook Comments HS