روحانیت۔ ایک اٹل حقیقت


Farrukh saleem Canada

بظاہر روحانیت ہماری زندگی کی ناگزیر ضروریات کا حصہ نہیں ہے۔ خاص طور سے ان لوگوں کے لئے جو اس دنیا کو ایک ایسی جگہ سمجھتے ہیں جہاں انہیں ہر طرح کی آسانیاں میسر ہیں۔ نہ تو فی الحال انہیں کسی قسم کے مشکل مسائل کا سامنا ہے اور نہ ہی مستقبل میں وہ کسی قسم کے چیلنج کا خدشہ محسوس کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو وہی ملتا ہے جس کے لئے وہ محنت کرتے ہیں جس کے وہ جائز حقدار ہوتے ہیں۔ وہ ایک شانگریلہ میں رہ رہے ہوتے ہیں جہاں زندگی بہت حسین ہے۔

ان لوگوں کے لئے زندگی ایک کتاب ہے اور وہ عجلت میں اس کتاب کے اوراق کو پڑھے بغیر ہی پلٹتے جا رہے ہیں۔ وہ ایسے زندگی گزار رہے ہیں جیسے وہ نیند میں چل رہے ہوں۔ اگر ان کے آس پاس کوئی کسی حادثے یا صدمے سے دو چار ہوتا ہے تو وہ خود کو تسلی دے لیتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہو سکتا یوں وہ اسی عقیدے کے ساتھ اپنی زندگی رواں دواں رکھتے ہیں۔ لیکن اچانک جب وہ کسی جذباتی امتحان میں مبتلا ہو جاتے ہیں مثلاً وہ خود یا کوئی قریبی عزیز کسی مہلک بیماری کا شکار یا موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہو جائے یا اور کوئی اسی طرح کا حادثہ ہو جائے تو انہیں اپنے شانگریلہ سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اس طرح کی کسی بھی ناگہانی حادثہ یا نقصان کی صورت حال میں ایسے لوگوں کی ذہنی دنیا تہ و بالا ہو سکتی ہے اور وہ روحانی بحران میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ وہ چونک اٹھتے ہیں اور بعض اوقات خود سے سوال کرتے ہیں کہ میں کہاں ہوں؟ کیا کر رہا ہوں وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کے سوالوں کے جوابات روحانیت میں پوشیدہ ہیں۔

روحانیت کی تعریف

ایک عام فہم تعریف کے مطابق روحانیت کا مطلب خود کو اپنے سے کسی بڑی طاقت سے جوڑنے یا منسلک کرنے کا ایک احساس ہے، لیکن مغربی اندازِ فکر کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ اس بڑی یا طاقتور ذات کو خدا، بھگوان یا اسی طرح کا کوئی نام دیا جائے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ ہم ایک انسانی شخصیت کے ساتھ ساتھ ایک روحانی شخصیت بھی رکھتے ہیں۔ روحانیت ان تمام افراد کی زندگی کا ایک اہم جزو ہے جو اپنی زندگی میں مقصد، صداقت، عزت، قبولیت اور امن کے متلاشی ہیں۔ روحانیت ہمیں ہماری شناخت، ہماری حیثیت اور محبت سے روشناس کراتی ہے اور ہماری دماغی، جذباتی اور جسمانی صحت کا ایک ناگزیر جزو ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق روحانی عقیدے رکھنے والوں میں پریشانیوں اور غیر یقینی کیفیت کے عناصر کم ہوتے ہیں۔

روحانیت ہماری ذات کا وہ حصہ ہے جو وجودیت سے متعلق گمبھیر سوالوں کے جوابات کی تلاش میں رہتی ہے مثلاً ٰایک شخص کو کینسر تجویز ہوا ہے۔ وہ اب روحانی بحران کا شکار ہے اور خود کلامی میں مبتلا ہے

ڈاکٹر نے کینسر تشخیص کیا ہے میں کیا نتائج اخذ کر سکتا ہوں؟
میں اب تک کیا کرتا رہا اور کیوں کرتا رہا؟
مجھے کیا کرنا چاہیے؟ میرا مستقبل کیا ہے؟

جب لوگ اس قسم کے گمبھیر سوالوں سے نبرد آزما ہوتے ہیں تو وہ روحانیت کے بحران سے دو چار ہوتے ہیں اور خود کو مطمئن کرنے والے جوابات کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اگر ان سوالوں کے معقول اور مدلل جواب نہ ملیں تو لوگ دماغی امراض کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ماضی میں دماغی امراض سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور روحانیت میں مذہب کو شامل کرنے میں ہچکچاتے تھے لیکن موجودہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ وہ تمام لوگ جو کسی قسم کا مذہبی عقیدہ رکھتے ہیں ان کی دماغی صحت کہیں بہتر ہوتی ہے اور خاص طور سے کسی قسم کی ذہنی پریشانی یا حادثہ سے دو چار ہونے بعد خود کو سنبھالنے کی صلاحیت ان میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

روحانی بحران اور لوگوں کا ردِ عمل

روحانی بحران میں مختلف لوگوں کا مختلف ردعمل ہوتا ہے۔ بچے کی ناگہانی موت کو اس کے والدین کبھی بھی نہیں بھولتے اور ایسی اموات اکثر والدین کی زندگی کو یکسر تبدیل کر دیتی ہیں۔ ایسے والدین جن کا ایک ہی بچہ اور وہ بھی ایک اچانک حادثہ میں انتقال کر جاتا ہے وہ خود سے یا دوسروں سے سوال کرتے ہیں کہ خدا نے ان کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ کیا یہ میرے گناہوں کی سزا ہے، کسی کی بد دعا ہے یا کیا ہے؟ اس کا بظاہر کوئی ایسا منطقی یا تسلی بخش جواب نہیں ہے جس سے والدین مطمئن ہو جائیں، لیکن جیسے جیسے وہ اس پر غور کرتے ہیں ان کے اندر کا عقیدہ خود انہیں قائل کرتا ہے کہ یہ پیدا کرنے والے کی حکمتِ عملی ہے اور اس میں انسان کوئی دلیل پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اگر وہ اسے مانتے ہیں تو انہیں اسے تسلیم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

اس طرح کے حادثات کے بعد کچھ لوگ جو اپنے برتر ذات سے تعلق قائم کرنے میں ناکام رہتے ہیں، وہ اکثر انسانیت کی خدمت میں یا رفاہی کاموں میں لگ جاتے ہیں اور اس میں اپنی تسلی کا سامان ڈھونڈتے ہیں۔ امریکہ کا ایک بہت بڑا بزنس مین اور مخیر شخصیت جارج سورو اس کی ایک تابندہ مثال ہے۔ اس نے فلاحی کاموں کے لئے دو سو ملین ڈالر سے زیادہ عطیہ کیے ۔ اسے اپنے والدین سے دیوانہ وار محبت تھی۔ جب اس کے والد کا انتقال ہوا تو وہ موجود نہیں تھا۔ وہ حد درجہ افسردہ ہو گیا اور شاک میں چلا گیا۔ وہ اندر سے ٹوٹ چکا تھا۔ اس نے اس واقعے کے بارے میں لوگوں سے بات کرنی چھوڑ دی۔ ایک سال کے بعد اس کی ماں کا بھی انتقال ہو گیا لیکن وہ اس وقت اپنی ماں کے پاس موجود تھا۔ اس نے اپنی ماں کو یقین دلایا کہ وہ اس کی یاد کو بہتر طریقے اور مثبت انداز میں قبول کرے گا

موت کی آہٹ اور روحانیت

ایک ایسا مریض جو ایک محدود وقت کے لئے ہسپتال میں داخل ہو بہت حد تک خود کو دوسروں کے رحم و کرم پر سمجھتا ہے لیکن اسے یہ پتہ ہوتا ہے کہ یہ صورتِ حال عارضی ہے اور وہ بہت جلد ہسپتال سے فارغ ہو کر عام زندگی میں واپس ہو جائے گا۔ لیکن اس کے برعکس ایک ایسا شخص جو ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں ہو، اسے احساس ہوتا ہے کہ حالات اور زندگی پر اب اس کا کوئی کنٹرول نہیں رہ گیا ہے۔ وہ خود کو بے یارو مددگار سمجھتا ہے اور کسی ایسی برتر ہستی کی ضرورت محسوس کرتا ہے جو اسے اس کسمپرسی کی حالات میں جذباتی سہارا مہیا کرے اور یہاں سے اس کا روحانی سفر شروع ہوتا ہے۔

ابراہام مازلو کے ماڈل کے مطابق ہم اپنی جسمانی ضروریات مثلاً کھانے پینے کے بعد اپنے تحفظ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ ایک نومولود کے لئے مہربان آغوش، بڑوں کے لئے ایک چھت یہ تحفظ فراہم کرتی ہے۔ موت کی آہٹ سننے والے کے لئے روحانیت ایک برتر ہستی کے زیر سایہ آنے سے مکمل تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔

روحانیت کا صحت سے تعلق

بظاہر روحانیت کا ذہنی صحت سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا لیکن جیسے جیسے مغرب میں اس موضوع پر تحقیق ہو رہی ہے، ذہنی امراض کے ماہرین اس بات کے قائل ہوتے جا رہے ہیں کہ ان دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اس ضرورت کے پیشِ نظر بہت سارے لائسنس یافتہ تھراپسٹ اپنی پیشہ ورانہ کونسلنگ میں میں روحانیت اور مذہب کے اصولوں کو جگہ دے رہے ہیں۔ روحانیت اور مذہب کی اصطلاحات کسی بھی شخص کے اعتقادات کو بیان کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں جو اپنے سے برتر کسی ذات سے تعلق محسوس کرتا ہے۔ دونوں میں فرق کیا ہے؟

مذہب کے ماننے والے کسی مخصوص ذات یعنی خدا، شکتی اور شیوا کا تصور رکھتے ہیں جب کہ روحانیت کے ماننے والے قدرت کے قائل ہو سکتے ہیں جس کی کوئی مخصوص شکل نہیں یہ کائنات بھی ہو سکتی ہے۔ روحانی کونسلنگ ان لوگوں کے لئے بھی موثر ثابت ہو سکتی ہے جو ابھی خود کو قائل نہیں کر سکے ہیں کہ وہ مذہبی ہیں یا روحانیت سے تعلق محسوس کرتے ہیں۔ ہاں اس بات کے امکانات ہوتے ہیں کہ روحانی کونسلنگ کے مراحل سے گزرنے کے بعد وہ کسی قسم کے کے مذہبی اعتقادات کے قائل ہو جائیں۔

امریکن سائی کیسٹرک ایسوسی ایشن نے روحانی بحران یا روحانی ہنگامی حالت کو ایک نفسیاتی عارضہ تسلیم کیا ہے۔ اس عارضے کے ساتھ کئی دیگر عوامل مثلاً افسردگی، مایوسی، غیر معمولی حساسیت، دائمی تھکن، تنہائی، روزمرہ کے معمولات سے فرار اور دوستوں رشتہ داروں سے ملنے والوں سے گریز بھی شامل ہیں۔

ان لوگوں کی خصوصیات جو بہتر روحانی صحت کے حامل ہیں
پر امید اور مثبت سوچ، اس وقت بھی جب حالات بالکل بھی موافق نہ ہوں
دوسرے لوگوں کے لئے ہمدردی نرم گوشہ
اخلاقی آداب اور ان کی پاسداری
زندگی گزارنے کے رہنما اصول
خود کو اور دوسروں کو معاف کرنے میں فراخ دلی
خود کی اور زندگی کی اہمیت کا احساس
اپنی ذات، قدرت، زندگی اور دنیا کے ساتھ ہم آہنگی اور سکون کا احساس
بطور مجموعی ایک پر سکون اور متوازن شخصیت
اس کے مقابلے میں وہ لوگ جن کی روحانی صحت بہتر نہیں ہے
اندر سے کھوکھلے یا بے معنی زندگی کے حامل
اکثر بے سکون اور بے قراری کی کیفیت
نہ خود پر اور نہ کسی اور پر بھروسا
اکثر اوقات دوسروں کو موردِ الزام ٹھیرانا
روحانی کونسلنگ

ماہرین کی رائے میں کچھ لوگوں کی روحانی صحت بہتر نہیں ہوتی اور اگر وہ کسی بیماری کا شکار ہو جائیں تو یا تو انہیں مکمل صحتیابی میں کافی وقت لگتا ہے یا وہ پوری طرح صحتیاب نہیں ہو پاتے، انہیں ایک طرح سے روحانی کونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ اس طرح کے روحانی بحران جیسے معاملات نبٹنے کے کینیڈا کے کچھ ہسپتالوں نے روحانی کونسلنگ کی خدمات بھی فراہم کرنا شروع کر رکھی ہیں۔ لوگوں کی روحانی صحت کو جانچنے کے لئے ایک سادا سوالنامہ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ پتہ چلایا جا سکے کہ اس شخص کو کسی نہ کسی طور سے روحانی کونسلنگ کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ اس شخص کا تعلق کسی مذہب سے یا نہیں۔

بریمپٹن ہسپتال اپنے ایسے مریضوں کو جو ہسپتال میں اپنے قیام کے دوران روحانی کونسلنگ میں دلچسپی رکھتے ہیں یا ضرورت محسوس کرتے ہیں، انہیں سپرچوئل (روحانی) ہیلتھ تھراپی کی خدمات بلا معاوضہ پیش کرتا ہے۔ دلچسپی رکھنے والے مریضوں کو ایک خود تشخیصی سوالنامہ دیا جاتا ہے جس میں انسانی کیفیات سے متعلق مختلف مندرجات ہوتے ہیں۔ دائیں طرف کے الفاظ منفی اور بائیں طرف کے الفاظ مثبت صورتِ حال کی عکاسی کرتے ہیں۔

مایوسی امید
ٹوٹنا مکمل
خوف حوصلہ
بے یقینی یقین
تنہائی تعلق
بے معنی بامعنی
شرمندگی تمکنت
لاچاری، بے بسی طاقت۔ ہمت
بے حسی دیکھ بھال
احساس جرم اطمینان

مریض اپنی موجودہ کیفیت سے متعلق سوالنامے میں دیے ہوئے لفظوں کا انتخاب کرتا ہے۔ دائیں طرف سے ایک سے زیادہ الفاظ کے انتخاب کا مطلب ہے کہ مریض کو روحانی کونسلنگ کی ضرورت ہے۔ اگر مریض روحانی کونسلنگ کے لئے تیار ہے تو اسے یہ سہولت مہیاء کی جاتی ہے۔

وہ تمام مریض جو روحانی کونسلنگ کے لئے تیار ہوتے ہیں انہیں سند یافتہ روحانی کونسلر کی خدمات مفت مہیا کی جاتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کونسلر کینیڈین ایسوسی ایشن آف سپرچوئل کیئر سے سند یافتہ ہوتے ہیں اور ان کے پاس کلینکل پاسٹورل ایجوکیشن کی سند ہوتی ہے،

ہسپتال نے اپنی عمارت میں ایک ملٹی فیتھ عبادت گاہ کے لئے ایک کمرہ بھی مخصوص کر رکھا ہے جہاں دیگر عبادتوں کے علاوہ نمازوں کی ادائیگی کے لئے بھی جگہ مخصوص ہے۔ جائے نمازوں کے ساتھ ساتھ باقاعدہ وضو کا بھی بندوبست ہے۔ خواتین کے لئے ایک علیحدہ گوشہ بھی مخصوص ہے

روحانی کونسلنگ کی تمام مشق اس بات کی کوشش ہے کہ خدا کو مانے بغیر لوگوں کے لئے سکون کا راستہ تلاش کرنے میں مدد دی جائے۔ جب کہ سیدھی بات یہ ہے کہ سارے راستے ادھر ہی جاتے ہیں، بات صرف سوچنے اور سمجھنے کی ہے

Facebook Comments HS